افہام و تفہیم کا عمل مؤثر ذریعے کے طور پر اُبھر کرسامنے آرہا ہے: چیف جسٹس

 سری نگر// جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے میڈیشن اینڈ کنسی لیشن کمیٹی ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کے اشتراک سے کل یہاں ججوں اور وکلاء کے لئے ثالثی سے متعلق ایک تین روزہ تعارفی تربیتی پروگرام کاانعقاد کیا ۔تربیتی پروگرام جے اینڈ کے جوڈیشل اکاڈمی مومن آباد سرینگر میں سنیچروار کو اختتام پذیر ہوگا اور اس میں کئی جوڈیشل افسران ،ماہرین اور وکلاء افہام و تفہیم اور ثالثی کے عمل کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالیں گے۔ جوڈیشل افسروں نے اس موقعہ پر کہا کہ ثالثی کا عمل مسائل کو حل کرنے میںایک موثر ذریعے کے طور پر اُبھر کر سامنے آرہا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ اس عمل کو تقویت بخشی جاسکے۔اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جج اور وکلاء کو لازمی تربیت دی جائے تا کہ وہ ثالث کے طور پر اپنا رول ادا کرسکیں۔ریاستی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ،جسٹس گیتا متل نے اس موقعہ پر ثالثی کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کیا اور اسے معاملات کو حل کرنے کے لئے کافی اہم قرار دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیشن مراکز نہ صرف عدلیہ کے بوجھ کو کم کررہے ہیں بلکہ یہ سماج اور طبقوں کی ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں۔جموں وکشمیر میں ثالثی کے عمل میں ہورہی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کے میڈیشن مراکز کو ملک کے دیگر مراکز کے ہم پلہ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے تا کہ انصاف تک ہر ایک کی رسائی ممکن ہوسکے۔نہوں نے وکلاء اور جوڈیشل افسروں پر زور دیا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس تربیتی پروگرام میں شرکت کریں اور میڈیشن و افہام و تفہیم کے عمل کے تعلق سے اپنے علم میں اضافہ کرنے کو یقینی بنائیں۔چیئرمین میڈیشن اینڈ کنسی لیشن سینٹر جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر نے اپنے کلیدی خطبے میں موضوع کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیشن سینٹروں کی بدولت ایک طرف انصاف کی بروقت فراہمی ممکن ہوسکی ہے اور دوسری طرف عدالتوں کے معاملات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ثالثی کے عمل سے عرضی دہندگان کا وقت اور اخراجات بچ جاتے ہیں۔ جسٹس رشید علی ڈار نے اس تربیتی پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میڈیشن مراکز جج صاحبان کو تربیت دینے سے ہی کامیابی سے ہمکنار کرائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیشن اور افہام و تفہیم کسی بھی تہذیب کا ایک خاصا ہے اور یہ مسائل کو حل کرنے میں ایک اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج عبدالرشید ملک نے کہا کہ اس عمل سے لوگوں کو کم خرچے پر انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس کی رہنمائی کے لئے اُن کا شکریہ ادا کیا۔اس موقعہ پر ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ، سیکرٹری لاء اچل سیٹھی، رجسٹرار جنرل ہائی کورٹ سنجے دھر، ڈائریکٹر جے اینڈ کے سٹیٹ جوڈیشل اکاڈمی اور کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔جن ماہرین موضوع نے اس موقعہ پر شرکت کی اُن میں ایڈوکیٹ جے پی سینگھ، سینئر ایڈوکیٹ سدھانشو بترا، ایڈوکیٹ وینا رالی، ایڈوکیٹ انوج اگروال شامل ہیں۔