‘اسلامو فوبیا کا بڑھتا رُجحان تشویش ناک

عبدالخالق
’’اسلامو فوبیا‘‘ ایک ہمہ گیر اصطلاح ہے جو اسلام اور اس کے پیروکاروں سے نفرت، عدم اعتماد اور خوف پر محیط ہے۔ اگرچہ لفظی تحقیق کے طور پر اس لفظ کو 1877 میں وضع کیا گیا تھا، لیکن یہ دراصل ایک ایسے مظہر کو بیان کرتا ہے جو صلیبی جنگوں سے پہلے بھی صدیوں سے اسلام اور مغربی تعلقات کے درمیان موجود ہے۔ اسلامو فوبیا کے گفتگو کا دائرہ کار یقینی، غیر معمولی اور گہرے مسائل پر مبنی واقعاتی تعصب سے بھرا ہوا ہے جو مسلم مذہب، ثقافت اور روایت کو بدنام کرتی ہے۔ ڈانٹ اور اس کی ‘ڈیوائن کامیڈی ـ اے ڈی 1321سے لے کر والٹیئر، کارل مارکس اور میکس ویبر تک کے نظریات کی غیر مساوی اور غلبہ والے نظریات کی دنیا میں، مشرقیت کو بدترین سیاسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے ظالمانہ، جنسی اور جذباتی بنا کر پیش کیا گیا اور روشن خیال مغرب سے کمتردکھایا گیا ۔ اس سلسلے میں ایک عرب عیسائی نامور محقق ایڈورڈ سعید نے اپنی تصنیف ’’اورینٹلزم‘‘ میں، عربوں اور مسلمانوں کے خلاف صدیوں پرانے تعصب کو اُجاگر کیا ہے۔

 ہم یہ بھی نہ بھولیں کہ مغربی ممالک کا حقارت بھرا رویہ جو عرب اور دوسرے مشرقی ممالک کے ساتھ تھا ،اس میں ہندوستان میں نوآبادیاتی بھی شامل تھے، جن کے باشندوں کو ایک جنونی وطن پرست، روڈیارڈ کیپلنگ نے غیر مہذب ’’بدتمیز لوگ، آدھے شیطان اور آدھے بچے‘‘کے طور پر بیان کیا ہے۔ بہر حال اسلامو فوبیا ایک ایسی اصطلاح ہے، جس نے اب تک مشرق وسطیٰ کے مسلم معاشروں کے بارے میں مغرب کے رویے کی وضاحت کی ہے، یہ ایک ثقافتی بیماری ہے جس نے نہ صرف اقوام کے درمیان بلکہ کثیر النسلی قومیں، جس میں مسلمانوں کی نمایاں موجودگی ہے، آپسی بھائی چارہ اور تعلقات کو زہر آلود کر دیا ہے۔

چند سال پہلے تک، ہندوستانی مسلمانوں کا خیال تھا کہ ایک سابق کالونی کے شہری ہونے کے ناطے جس نے خود کو ایک متحرک سیکولر، جمہوری ملک کے طور پر آزادی کے بعد نئے سرے سے آغاز کیا تھا اور جو اسلامو فوبیا جیسے مہلک وبا سے بچ گئی تھی۔ بلاشبہ، تقسیم کا بوجھ اور مسلسل فرقہ وارانہ تنازعات کے پیش نظر، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد کی کمی کا ایک انڈرکرنٹ ہمیشہ رہا ہے لیکن یہ دشمنی برادریوں کے ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود تھی۔ یہ ایک بہت دور کی بُرائی تھی، جس کے بارے میں آپ نے سنا اور پڑھا تھا۔ لیکن گزشتہ سات برسوں میں اسلامو فوبیا ایک جان لیوا بحران بن چکا ہے جس کا ہر ہندوستانی مسلمان کو سامنا ہے۔ اُسے دو ٹوک الفاظ میں کہوں تو آج کا ہندوستان ایک اکثریتی ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے اب ایک محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔ آج اس ملک میں ہر جگہ اسلامو فوبیا پھیل رہا ہے۔ یہاں تک کہ بچے بھی نفرت کے اس بھنور میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

غیر دلچسپ خبریں عوام کی یادداشت میں پیوست ہو سکتی ہیں اور مٹ سکتی ہیں لیکن وہ بے خبر سچائی کے سب سے مستند سوداگر ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اسلامو فوبیا اب ہماری سیاست میں سب سے آگے ہے اور ہماری سیاست کا محور ہے۔گزشتہ ہفتے پے در پے شائع ہونے والی چند خبریں اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ مسلمان اس کے خلاف ہیں۔قومی روزناموں نے حال ہی میں جاری ہونے والی آر ایس ایس کی ۲۰۲۲ کی سالانہ رپورٹ کو اہمیت دی، جو کہ آر ایس ایس کے تھنک ٹینک نے تیار کی ہے اور جو موجودہ نظام کی نظریاتی اور ثقافتی پیشوا اور گرو ہیں۔ رپورٹ کے اندرونی تہوں میں مسلم کمیونٹی پر آگ لگانے والا حملہ ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب مسلمانوں کو دائیں بازو کے انتہا پسندوں، ہندوتوا کے حامیوں اور خاموش لیکن سبسکرائب کرنے والے متوسط طبقے کے ساتھیوں (ہمارے دوست بھی شامل ہیں) کی طرف سے مسلمانوں کا ہر طرف سے محاصرہ کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس نے ایک نصابی کتاب میں سائیکوپیتھک سیلف پروجیکشن کی مثال دی ہے اور اس میں مسلمانوں پر ’’بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت ‘‘اور فتنہ انگیزی کا الزام لگایا ہے۔جس میں مسلمانوں کے تفصیلاتی منصوبے ہیں۔ مسلمانوں کا حکومتی مشینری میں داخل ہونا، اس کے علاوہ مذہبی تبدیلی کی کوشش اور اس کے لئے نئی حکمت عملی وضع کرنا اور فرقہ وارانہ جنون کو بھڑکانا ہے۔ اس کا علاج، جیسا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، ہندو سماج کی سماجی اور مذہبی قیادت اور اداروں میں ہے کہ ’’اس خطرے کو شکست دینے کے لیے منظم طاقت کے ساتھ ہر ممکن کوششیں کریں‘‘۔ خوفناک بات یہ ہے کہ یہ کچھ دائیں بازو کے منحرف لوگوں کے بے ہودہ ریمارکس نہیں ہیں بلکہ آر ایس ایس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز تنظیم اکھل بھارتیہ پرتیندھی سبھا (اے بی پی ایس) کے ذریعہ پروپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ پوری مسلم قوم کو سماجی طور پر بالکل الگ تھلگ کرنے کی کوشش اور اس کو بدنام کر نے والی پروپیگنڈا رپورٹ، ۱۹۳۰ کی دہائی میں جرمنی میں یہودیوں کے خلاف پروپیگنڈہ پمفلٹ کے ساتھ ایک خوفناک رشتہ داری کا اشتراک کرتی ہے۔ 

اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پچھلے سات سال سے مذہب کے نام پر مسلمانوں کے خلاف جرائم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ رہا ہے، مسلمانوں پر مذہبی جنونیت کا الزام لگانا ایک متشابہ سچائی کو طلب کرنا ہے، اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف ہے ۔ لیکن آر ایس ایس کے پروپیگنڈے کے بارے میں حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر فتنہ انگیزی کا الزام لگانے والا ایک بڑا جھوٹ ہےاور یہ اشارہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند مسلمان دراصل معاشرے کو اندر سے تباہ کرنے کے ایک مکروہ، تخریبی منصوبے میں مصروف ہیں! درحقیقت، پیغام سخت ہے: مسلمان غدار ہیں، ہندوؤں کے دشمن، جنہیں ’’اس لعنت سے لڑنے‘‘ کے مقصد کے لیے اکٹھے ہونا چاہیے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آر ایس ایس کی سالانہ رپورٹ کے شائع ہونے کے اگلے ہی دن، ایک اور خبر شائع ہوئی جس نے اس مضحکہ خیز دعوے پر زور دیا کہ مسلمان حکمرانی کے اداروں میںبُرے ارادے سے گھس رہے ہیں۔ اس کے برعکس رپورٹ اس بدترین اندیشے کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے کہ زعفرانی لہر ہمارے معاشرے کے سب سے اہم شعبوں بشمول لاء اینڈ آرڈر کے آلات پر چھائی ہوئی ہے۔

اس خبر میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم کا خلاصہ کیا گیا ہے، جس میں دہلی پولیس سے فروری ۲۰۲۲ کے شمالی دہلی فسادات میں ۲۳سالہ فیضان کی موت کی تحقیقات ’’بغیر کسی خوف اور حمایت کے‘‘ مکمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس ہولناکی کو بیان کرنے کے لیے، فیضان کو زمین پر لڑھکتے ہوئے ویڈیو گراف کیا گیا ،یہاں تک کہ پولیس اہلکاروں نے اسے وندے ماترم اور قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا۔ سراسر دل دہلانے والی غیر انسانی حرکت وہاں موجود ہے، حقیقت میں کیمرے پر اور دن کی طرح واضح ہے، اور اس کے باوجود دو سال سے زائد عرصے بعد بھی اس کیس کی تحقیقات جاری ہے۔ ایک معزز ہائی کورٹ کے جج کے ہمدردانہ انداز سے متاثر ہوا، یہاں تک کہ اس نے استغاثہ کے وکیل کی طرف سے مارے جانے والے مردوں کو بیان کرنے کے لیے ’’مسلم نوجوان‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراض کیا، یہ کہتے ہوئے کہ پولیس مذاہب کے درمیان تفریق نہیں کرتی ہے، اس طرح واضح طور پر اس بات کو کم کیا جاتا ہے کہ یہ کیا تھا۔ مذہبی نفرت جرم!غیر متزلزل اکثریتی، اسلامو فوبک فریم ورک کو تقویت دیتے ہوئے جس کو منظم طریقے سے پورے بورڈ میں لاگو کیا جا رہا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے ۱۵؍مارچ کے حجاب کے بارے میں لمبے انتظار کے بعد آخری فیصلے نے پیشین گوئی کے طور پر اعلان کیا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری نہیں ہے اور اس لیے کلاس رومز میں اس پر پابندی ہے۔ عدالت کا یہ بنیادی اصول کہ ضروری مذہبی رسومات صرف اس صورت میں درست ہیں، جب وہ مذہب کے وجود میں آنے کے بعد وضع کیے گئے ہوں، سراسر مضحکہ خیز ہے اور جیسا کہ ایک مبصر نے واضح طور پر اشارہ کیا، اُچھوت کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو سوتروں، شاستروں اور سمریتوں کے ذریعے تقدیس کی گئی ہے۔ فیصلے میں دیگر بہت زیادہ مشہور ہونے والی کمزوریوں پر نظرثانی کیے بغیر، یہ کہا جائے کہ اسکول کے بچوں کے حجاب اُتارنے کے لیے قانون اور مذہب دونوں کی غلط تشریح کرتے ہوئے، تینوں ‘معززججوں نے درحقیقت فرقہ وارانہ عناد کو عدلیہ کی نافرمانی سے نوازا ہے اور اس ملک میں مسلمانوں کی دوسرے درجے کا شہری سمجھا ہے ۔

گویا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور واضح طور پر اس نکتے کو رام کرنے کے لئے کہ ہندو راشٹرا چل رہا ہے اور سیکولرازم کے لیے جہنم ہے۔ ۱۶مارچ کو گجرات حکومت نے ایک سرکلر جاری کیا، جس میں کلاس ۶سے ۱۲کے اسکول کے نصاب میں شریمد بھگواد گیتا کو متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ’’فخر کے احساس اور روایات سے تعلق کو فروغ دینا‘‘ ہے، جو ’’طلبہ کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سازگار ہوگا۔ ‘‘ کرناٹک حکومت اور دہلی کے میئر نے پہلے ہی اس کی پیروی کرنے کے اپنے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر ہندوتوا کے عقیدت مند ،جنہوں نے حجاب کیس میں آئین، سیکولرازم اور تعلیمی اداروں میں یکساں طریقوں کو مذہب سے بالاتر رکھنے کے لیے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعریف کی تھی، اب انہوں نے اس بنیاد پر اسکولی بچوں کو ہندو مذہبی تعلیمات کے تابع کرنے کا جواز پیش کیا ہے کہ گیتا کی اقدار آفاقی ہیں اور تمام مذاہب کی طرف سے اس کی توثیق کی گئی ہے، جو تمام مذاہب کی طرف سے ان کے مقدس متن کے بارے میں ایک قابل بحث دعویٰ ہے۔ جس طرح سے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، ہمیں فوری طور پر ہندو تعلیمی اداروں کے لئے مدرسہ کے مساوی ایک مناسب اصطلاح وضع کرنے کی ضرورت ہوگی، کیونکہ یہ مستقبل قریب میں ہمارے اسکولوں میں راج کرنے والا ہے!

حالیہ یوپی اسمبلی انتخابات سے پہلے، یوگی آدتیہ ناتھ نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ مقابلہ ۸۰فیصد اور ۲۰فیصد کے درمیان ہے، یہ ایک کھلم کھلا فرقہ وارانہ بیان ہے جسے انہوں نے اس وقت پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی ،جب بی جے پی کے تھنک ٹینک نے محسوس کیا کہ یہ مقابلہ ۸۰فیصد کے درمیان ہے اور یہ جملہ پارٹی کے انتخابی امکانات کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن پانچ صوبائی انتخابات میں سے چار میں بھگوا جیت نے زعفرانی کیمپ کے ویچارکوں کو اس بات پر قائل کر دیا ہے کہ راستہ ہموار کرنے کے لئے کہ تمام مسلمانوں کو مارنا ہی ٹھیک ہے۔مسلمانوں پر ہونے والے اس ہمہ جہتی حملے میں سیلولائیڈ سکرین (فلم بینی) کو بھی ہتھیار بنایا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری پنڈتوں نے ۱۹۸۹ سے ۱۹۹۱  کےدوران بہت سخت اذیتیں برداشت کیں، لیکن پوری اُمت مسلمہ کو بدنام کرنے اور فرقہ وارانہ جنون کو بھڑکانے کے واحد مقصد کے لیے اس سانحہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے نفرت انگیز سنیماکو نچلے درجے تک گرا دیا ہے۔ کشمیر کے اُس ہولناک دور کو تناظر میں رکھتے ہوئے، ٹیلی گراف (اخبار) کے ساتھ اپنے حالیہ بات چیت کے دوران، ریسرچ اینڈ اینیلیسس ونگ (اے اینڈ اے ڈبلیو)  کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے، آر ٹی آئی کے ایک سوال کے جواب میں  حوالہ دیا کہ اس عرصے کے دوران کشمیر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ۱1724فراد میں سے 89کشمیری پنڈت تھے اور پنڈتوں کی بڑی تعداد کو ریاست سے ہجرت کر کے محفوظ علاقوں تک جانا پڑا ۔ اس اعداد و شمار کو نقل کرنے کا مقصد پنڈتوں کی بے جا تکالیف کو کم شمار کرنا نہیں ہے بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس گھڑی میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ماری گئی۔1989-91 میں کشمیر میں ہونے والے سانحہ اور 2016 میں جے این یو میں طلبہ کا ہنگامہ کے سلسلے میں آر ایس ایس کی جانب سے ایک سنسنی خیز روداد سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے، لیکن بہت زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ایک گڑھی ہوئی حقیقت کو بھولی بھالی عوام کے ذریعے، لاکھوں کی تعداد میں سراہا جا رہا ہے۔ اور فلم کے ذریعہ یہ پیغامات عام کیا جاتاہے کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔ ہندومت خطرے سے دوچار ہے، شہری نکسل ملک دشمن ہیں۔ ہندو باباؤں نے کشمیر کی بنیاد رکھی اور مسلمان ظالموں نے اس کو اُجاڑ دیاہے۔ 

[email protected]