اردو زبان کو ختم کرنے کی ایک اور کوشش

  سرینگر// محکمہ مال میں زیر تربیت تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کے امتحانات اردو زبان میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے امیدواروں نے کہا کہ سرکاری زبان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں محکمہ مال کے تمام امتحانات اردو زبان میں لئے جاتے تھے،تاہم گرد ش ایام کے دوران جہاں اردو زبان کو ٹھنڈے بستے میں رکھا گیا،وہیں امتحانات کا طریقہ کار بھی تبدیل کیا گیا۔بیشترامیدواروں کا کہنا ہے کہ اردو ریاست کی سرکاری زبان ہے اور امتحانات بھی اردو میں ہی لئے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ کم از اکم ایسا ہونا چاہئے تھا کہ امتحانات میں امیدوار کو انگریزی اور اردو زباں کا انتخاب کرنے کا موقعہ فرہم کیا جاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ امتحانات دونوں زبانوں میں منعقد کرانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ادھر اردو کونسل نے بھی نائب تحصیلدار اور تحصیلدار کے امتحانات کو اردو زبان میں منعقد کرانے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت اردو کو ختم کیا جا رہا ہے۔ کونسل کے جنرل سیکریٹری جاوید ماٹجی نے بتایا کہ جن افسران اور وزراء کو آئین نے با اختیار بنایا ہے،اسی آئین نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے۔