تازہ ترین

گول کا الم ناک واقعہ!

سابق  وزیر اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کی جموں میں واقع رہائش گاہ پر مامور مسلح محافظین نے جس عام شہری کو گولی مار کر جان بحق کر دیا ،اسے سپرد لحد بھی نہیں کیا گیا تھا کہ صوبہ جموں کے ضلع رام بن کے علاقہ کوہلی میں 58؍آرآر کے فوجی اہلکاروں نے دو عام شہریوں محمد رفیق گوجرولد محمد شفیع اور شکیل احمد ولد محمد یوسف شیخ پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دئے ۔ اس کے نتیجے میں بر سرموقع محمد رفیق نامی شہری موقع اللہ کو پیارا ہوگیا جب کہ شکیل احمد شدید طور سے زخمی ہوا۔گول کے رہنے والے یہ دونوں نوجوان مال مویشی کا کاروبار کر تے ہیں ۔اسی غرض سے یہ دونوں کوہلی گئے تھے جہاں رات کو ایک گھر میں  باضابطہ قیام کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح صادق جب ان نوجوانوں نے اپنے مال مویشی کو چارہ ڈالنے کے لئے دروازہ کھولا تو ان پر یک بہ یک گولیوں کی بوچھاڑکی گئی جس میں ایک نوجوان کی زندگی کا چراغ گل

تحریکِ آزادیٔ ہند

گردش  لیل ونہار کے ساتھ ایک بار پھراگست کا مہینہ وارد ہو چکا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس کی ۱۵تاریخ کو ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی نصیب ہوئی ۔آزادی کسی بھی قوم وملک کے لئے ایک عظیم نعمت ہوتی ہے جس کی بدولت قوم  وملک ترقی کرتی ہے۔  آج تحریک آزادی ٔ ہند کی خوشگوار فضا کے برعکس ملک میں حالات کچھ اس طرح کے بنائے گئے ہیں کہ   پیار ومحبت اور بھائی چارگی والے اس دیس میں فرقہ پرست عناصر سرگرم ہوکر وطن عزیر کی عزت و عظمت خاک میں ملادینا چاہتے ہیں اوریہاں کی گنگاجمنی تہذیب کو ختم کردینا چاہتے ہیں۔ ملک میں وقفے وقفے سے رونما ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات صرف اور صرف فرقہ پرستوں کی زہریلی اور گندی سیاست کانتیجہ ہیں ،ان فرقہ پرستوں کی کارستانیوں سے ہی ملک میں حالات معمول پر نہیں آپاتے۔ موقع کی مناسبت سے ہم تاایخ آزادیٔ ہند کے اوراق کا سرسری مطالعہ کریں تاکہ یہ جان لیں کہ

شادی بیاہْ۔۔ تقدس نہ وقار!

رمضان  المبارک کے رخصت ہوتے ہی حسب ِ دستور وادی بھر میں پھر شادیوں اور منگنیوں کا سلسلہ چل پڑاہے اور جب تک اس کائنات ہست و بود میںانسانی تمدن کی گہماگہمی باقی ہے شادی بیاہ کا سلسلہ جاری و ساری رہے گاکیونکہ اسی سے نسل انسانی کی بقا ء اور نئے خاندانوں کا وجود وابستہ ہے ۔غور سے دیکھا جائے تو آدم ؑو حوا  ؑ کی تخلیق کے ساتھ ہی نظامِ تزویج عمل میں آیا اور جنت کی مبارک زمین پر ہی انہیں رشتہ ٔ ازدواج کی ڈوری میں باندھ کر نسل انسانی کے پھیلائو کا آغاز ہوا ۔گو جنت میں یہ مبارک عمل عملایا گیا لیکن آدم ؑ کی ذریت زمین پر آکر پیدا ہوئی۔اسلام نے نکاح کی اہمیت کو جابجا اُجاگر کیا ہے اور یہ تمام انبیا ئے کرامؑ کی سنت ِمتواترہ بھی رہی ہے ۔یہی بات قرآن کریم نے بیان کی ہے :(اے محمد ؐ)ہم نے آپ سے پہلے بھی یقیناً رسول بھیجے اور اُنہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا (الرعد۔۸۳)۔نبی رحمتؐ نے اپ

تہذیب وثقافت کا خاتمہ

ریاست  جموں و کشمیر عالمی سطح پر ایک جدا گانہ حیثیت اور منفردمقام کی حامل سرزمین ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔ سب سے اول یہ کہ اس مسلم اکثریتی ریاست میں دیگر مذاہب ماننے والے اور مختلف رنگ و نسل کے انسان عزت و آرام سے آباد ہیں کیونکہ یہاں کوئی بھید بھاؤ اور میںاورتُو کی لڑائی نہیں ۔ عملی طور یہی وہ جنت نظیر خطۂ ارض ہے جو کثرت میں وحدت کا قابل رشک مناظر جابجا پیش کرتی ہے ، یہاں اخلاقی قدروں کی بھر پور محافظت ہوتی ہے، یہاں کا سماجی تانا بانا دیگر قوموں کے بر عکس پیار محبت ،اخوت و روا داری، انسانیت کی رعایت و پاسداری کی اینٹ گارے پر اُٹھتا ہے۔ یہاں کا طرزِ بود و باش، رہن سہن ، لباس، ثقافت و تہذیب ،چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا پاس لحاظ ہماری اجتماعی تہذیب کے جزولاینفک ہیں۔ یہاں سماج میں بالعموم خواتین کی عزت وتکریم پائی جاتی ہے ،اس لئے دیگر اقوام کے مقابلے میں یہ خطہ عریانیت و فحاشی

دلِ کے ہاتھوں

جب  ولیؔ دکنی دہلیؔ میں تشریف آور ہوئے اور اہل دہلیؔ نے اُن کی غزلیں سنیں تو وہ چونک پڑے اور غزل کی ہیت ، ادائیگی اور مضمون دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اُن کلام ہر جگہ اور ہر محفل میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جانے لگا، نہ صرف یہ بلکہ اُس کی تقلید بھی شروع ہو گئی۔ دہلی کے شعراء نے ابتدا میں غزل کی بنیاد ایہام گوئی پر رکھی تھی اور عام طور پر یہی دستور مروج تھا۔ اُس دور کے مشہور شعراء میں حاتمؔ، آبروؔ، سراج الدینؔ،آرزوؔ وغیرہ اسی طرز پر مشق سخن کرتے تھے مگر ولیؔ دکنی کی شاعری کے اثر سے بعد میں ایہام گوئی کا زیادہ چرچانہ رہا۔ حقیقت میں اس طرز شاعری کے خلاف سب سے پہلے مظہر جانِ جاناں نے نہ صرف آواز ہی بلند کی بلکہ صحیح معنوں میں بغاوت کی۔ مرزا صاحب اصل میں فارسی کے شاعر تھے اور اُردو میں بہت کم شعر کہتے تھے۔ اُن کے عزیز ترین شاگردوں میں سے ایک شاگرد انعام اللہ خان یقینؔ تھے۔ یقینؔ ن ایہام گ