تازہ ترین

امریکا نے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کردیں

نیویارک// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے 3ماہ بعد خصوصی حکم جاری کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ایک بیان میں کہنا تھا کہ امریکا کی پالیسی ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالا جائے، سال 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیاں روکنے کے بدلے میں معاشی پابندیاں ہٹانا خوفناک یک طرفہ فیصلہ تھا کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات میں ایندھن استعمال کرنے کے لیے ایرانی حکومت کے پاس رقم کی ریل پیل ہوگئی تھی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام اقوام پر زور دیتے ہیں کہ اس قسم کے اقدامات کیے جائیں کہ ایرانی حکومت ان 2 شرائط میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے، یا تو وہ اپنا دھمکی آمیز، غیر مستحکم رویہ بدلتے ہوئے عالمی معیشت کا حصہ بن جائے یا پھر مستقبل میں

پابندیاں لگا کر امریکاپچھتائے گا: حسن روحانی

تہران// ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر پابندیاں لگا کر پچھتائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ پر کبھی اعتماد نہیں کرسکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا، حسن روحانی نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اعلان پر سخت موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات سے تنازع کا حل چاہتے ہیں، موجودہ حالات مذاکرات کے بجائے مزید تنازعات کو جنم دے رہے ہیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں چوقو ہو اور وہ چاقو کے ہمراہ مذاکرات کرنا چاہے تو یہ ممکن نہیں، پہلے اسے چاقو اپنی جیب رکھنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اقتصادی پابندیوں میں رہتے ہوئے مذاکرات نہیں کرسکتا، ٹرمپ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا گیا اس کے بعد سے ہی ان پر بھروسہ اور اعتماد نہیں رہا۔ح

یوروپی یونین کا امریکی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کا عزم

بروسیلز//یوروپی یونین نے گزشتہ روز ایران کے خلاف عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ جولائی 2015میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے اخراج کے بعد امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کر رہا ہے ، تاہم یوروپی یونین اس معاہدے کو بچانا چاہتی ہے ۔  دوسری جانب ان پابندیوں سے متعلق ایک انتظامی بل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کر دئیے ہیں۔ یوروپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد یوروپی یونین متفقہ حکمت عملی وضع کرے گی۔یو این آئی  

واشنگٹن میں امریکہ اور ترکی کے درمیان مذاکرات

انقرہ//امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے اور متنازعہ ایشوز کے حل کے لئے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں مذاکرات کا امکان ہے ۔ ترکی کا ایک وفد دو دن بعد واشنگٹن جاکر اس مذاکرات میں حصہ لے گا۔ٹیلی ویژن چینل سی این این ترک نے منگل کو سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی۔ چینل نے کہا کہ امریکہ اور ترکی کئی ایشوز پر پہلے ہی راضی ہو گیا ہے ۔ چینل نے اگرچہ اس کی تفصیلی وضاحت نہیں کی۔ترکی میں امریکی پادری اینڈریو برنسن پر دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ چلائے جانے اور شام کی پالیسی کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں۔جس کے سبب ملکی کرنسی لیرا بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنے سب سے کمترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔یو این آئی  

انڈونیشیامیں شدید زلزلہ، 100افراد ہلاک ، سینکڑوں زخمی، اب تک 120 سے زائد مابعد جھٹکے محسوس

زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں سے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات تاحال موصول ہو رہی ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔انڈونیشیا کے معروف سیاحتی جزیرے لومبوک پر اتوار کو آنے والے شدید زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے جب کہ جزیرے پر املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اس زلزلے کے بعد اس تفریحی جزیرے پر موجود ایک ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحیوں کو بحفاظت باہر نکانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ زلزلے میں ہلاکتوں کے علاوہ سینکڑوں شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 9ء 6 ریکارڈ کی گئی تھی جس کا مرکز لومبوک کے شمالی علاقے میں ساڑھے 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔زلزلے کے جھٹکے نزدیکی جزیروں بالی، سمباوا اور مشرقی جاوا کے بعض حصوں تک محسوس کیے گئے تھے۔انڈونیشیا میں قدرتی آفات سے نبٹنے کے ادارے کے ترجمان سوٹوپو پوروو نگروہو نے پیر کو صحافیوں کو بتایا

امام مسجد کی رقت آمیز تلاوت کی ویڈیو وائرل

جکارتہ//انڈونیشیا میں زلزے کے دوران جہاں ہر طرف افراتفری اور بھگڈر مچ گئی تھی اور اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، وہیں ایک مسجد کے امام زلزلے کے دوران بھی دیوار کا سہارا لیتے ہوئے سکون کے ساتھ نماز کی امامت کراتے رہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں ایک امام مسجد نے زلزے کے باعث مسجد کی در و دیوار ہلنے کے باجود امامت جاری رکھی۔ زلزلے کے جھٹکے 58 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے لیکن امام مسجد نے اپنی تلاوت جاری رکھی۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین نے امام مسجد کے جذبے کو سراہا اور اسے سچے ایمان اور یقین سے تعبیر کیا۔ امام مسجد نے سورہ فاتحہ ختم ہی کی تھی کہ زلزلے کے جھٹکے شروع ہوگئے تاہم امام مسجد نے آیتہ الکرسی کی رقت آمیز تلاوت جاری رکھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز انڈونیشیا کے جزیرے لومبوک میں 6.9 کی شدت کا زلزلہ آ

جمعہ تک 7 لاکھ 19 ہزار 385 عازمین حج کی حجاز آمد

دبئی//سعودی عرب کے ایمی گریشن وپاسپورٹس ڈائریکٹوریٹ جنرل نے جمعہ کے روز مملکت میں پہنچنے والے عازمین حج کی تعداد جاری کی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق جمعہ کی شام تک 7 لاکھ 19 ہزار 385 ہوگئی تھی جب عازمین کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ گذشتہ برس کی نسبت رواں سال اب تک سعودی عرب پہنچنے والے عازمین کی تعداد میں 6.5 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔ رواں سال 44 ہزار 157 عازمین حج زیادہ آئے ہیں۔پاسپورٹس ڈائریکٹوریٹ جنرل کے مطابق چھ لاکھ 98 ہزار 832 عازمین حج ہوائی جہازوں، 12 ہزار 159 خشکی اور 8 ہزار 394 سمندر کے راستے سے سعودی عرب پہنچے۔  

پاسپورٹ کا ظہور کب ہوا اور یہ سرکاری دستاویز میں کیسے تبدیل ہو گیا؟

تیونس//تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ دور کے پاسپورٹ سے ملتی جلتی دستاویز کا سب سے پہلا تذکرہ 450 قبل مسیح کے قریب ملتا ہے جب فارسی سلطنت کے شہنشاہ ارد شیر اوّل نے اپنے وزیر اور معاون نحمیا کو سوشہ شہر سے کوچ کر کے جنوبی فلسطین کے علاقے یہودیہ کا رخ کرنے کی اجازت دی۔فارس کے شہنشاہ نے اپنے معاون کو ایک خط دیا تھا جس میں دریائے فرات کے دوسرے کنارے پر واقع علاقوں کے حکمرانوں سے درخواست کی گئی تھی کہ نحمیا کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جائے۔کئی پرانی دستاویزات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ پاسپورٹ کا لفظ قرونِ وسطی سے وابستہ ہے۔ اْس زمانے میں اجنبی افراد کو شہروں کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کے لیے مقامی حکام سے ایک اجازت نامے کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ساحلی شہروں میں بھی بندرگاہوں میں داخلے کے وقت ملتی جلتی دستاویزات طلب کی جاتی تھیں۔اکثر تاریخی ذرائع کے نزدیک برطانیہ کا بادشاہ ہنری