تازہ ترین

بیٹیوں کے گھریلو تنازعات ، والدین کا رویہ کیسا ہو ؟

ریحانہ : بیٹا اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے ہمیں نہیں بتایا۔ اْف میری بچی دس سالوں سے یہ سب بھگت رہی تھی۔ نادیہ: امی… میں آپ کو دْکھ دینا نہیں چاہتی تھی اور میرا خیال تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا جائے گا لیکن یہ میری بھول تھی معاملہ مزید بگڑتا گیا اور… اب… ارقم اور اس کے گھر والے کسی سے بھی مجھے بھلائی کی اْمید نہیں، اب مجھے اپنی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کی فکر ہے اس کا مستقبل… امی میں اب اس جنونی شخص کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔  ارقم اور نادیہ دونوں کا تعلق خوشحال گھرانوں سے تھا، دونوں کی ارینجڈ میرج تھی لیکن دونوں کی رائے کے مطابق ان کی شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد نادیہ پر ارقم کی اصلیت واضح ہوگئی کہ نہ صرف وہ بے روزگار بلکہ اعلیٰ تعلیم سے محروم برگر فیملی کا ایک بگڑا بیٹا تھا۔ نادیہ کے لیے یہ سب قابل اذیت تھا لیکن وہ سمج

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا

ہر مرد کی ایک ہی خواہش

آج کے دور میں اکثر والدین کے منہ سے یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ ہماری بچیوں کے اچھے رشتے نہیں آ رہے۔ یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اچھے رشتے کیوں نہیں آرہے ؟ لڑکی پڑھی لکھی ہے، خوش شکل ہے مگر پھر بھی والدین بے چارے پریشان ہی دکھائی دیتے ہیں۔ دور حاضرمیں جہاں بہت سے مسائل نے انسانوں کو اپنے حصار میں لے رکھاہے، وہیں والدین کے لئے سب سے بڑی پریشانی ان کی بچیوں کے مناسب رشتے نہ ہونا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ والدین نہ صرف لڑکیوں کے رشتوں کے لئے فکر مند نظرآتے ہیں بلکہ وہ اپنے بیٹوں کے رشتوں کے لئے بھی اسی قدر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے کا ہر تیسرے گھرمیں لڑکے اور لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں اور ان کی عمریں ڈھل رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ والدین کو ہر لحاظ سے پرفیکٹ جوڑ نہیں ملتا یعنی لڑکے کے لئے پرفیکٹ بہو کی

پردہ جو اٹھ گیا تو ۔۔۔۔؟

  ہم بحیثیت مسلمان سب جانتے ہیں کہ اس پرفتن دور میں پردہ ہماری حفاظت کے لئے کس قدر ضروری ہے مگر صورت حال یہ ہے کہ ہم سے زیادہ تر بہنوں نے پردے کو بھی فیشن بنا دیا ہے۔ رنگین مِزین برقعے جو ان کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیں جو دیکھنا نہیں چاہتے، ہم اختیار کریں تو یہ کہاں کی پردہ داری ہے۔ ہم نے زیادہ تر عبایا پہننے کو رواج بنا لیا ہے مگر پردے کے اصل مقصد کو بھول گئے ہیں۔ پردے کا مقصد یہ ہے کہ ہم نامحرم کی نظروں اور بری نیتوں سے محفوظ رہ سکیں۔ جہاں سے کوئی باپردہ خاتون گزرے مردوں کی نظریں خود جھک جائیں۔  اس کے الٹ میں جب اتنے آرائشی مزین برقعے بنالئے گئے کہ ہر شخص بجائے سر جھکانے کے الٹا متوجہ ہو تو کیا مسلم خواتین نے خود اپنے پردے کے مقصد یا اپنے دین کے حکم کو پامال نہیں کردیا؟قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھی رہو اور زمانہ ج

ڈائٹنگ کے بغیر فِٹ ر ہنے کاراز

آپ اپنی ایسی کئی دوست، ساتھی اور رشتہ دار خواتین کو جانتی ہوں گی جو آئس کریم اس قدر مزے لے کر کھاتی ہیں، جیسے ’کوئی بات ہی نہیں‘۔ آپ نے ایسی خواتین کو کبھی کھانے کی جگہ سلاد کھاتے نہیں دیکھا ہوگا۔ ان کی ’فیملی ہسٹری‘ سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ ’ سپر وومن جینز‘ نہیں رکھتیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خواتین ہر چیز کھانے کے باوجود، زبردست فِٹ رہتی ہیں اور انہیں کبھی ڈائٹنگ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ذہن میں یہ سوال اْبھرتا ہے کہ یہ خواتین آخر ایسا کیا کرتی ہیں کہ ہمیشہ فٹ اور دْبلی پتلی رہتی ہیں؟ آئیے اس سوال کا جواب جانتے ہیں۔ خوب پانی پینا: ڈاکٹروں کا کہناہے کہ مجموعی طور پر صحت برقرار رکھنے کے لیے وافر مقدار میںباقاعدگی سے پانی پینا انتہائی ضروری ہے (خصوصاً جب آپ ایکسرسائز کرتی ہیں)۔ ہرچند کہ انتہائی شوگر کے حامل مشروبات جیسے سوڈا، جوس، ک

کامیاب شوہرخوشحال گھر

 ارے تم اتنی ڈری سہمی سی کیوں لگ رہی ہو؟ تمہیں کیا ہوا؟ تم تو بڑی شوخ وچنچل تھیں۔ تم سے تو بحث و مباحثے میں کوئی جیت ہی نہیں سکتا تھا‘ تم میں تو بلا کا اعتماد تھا‘ تم تو ہم دوستوں میں سب سے زیادہ بااعتماد تھیں میں ایک سال کے لیے باہر کیا گئی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ کہاں گئی تمہاری خوداعتماد اور شوخی؟؟؟ چھوڑو یار ماضی کی باتیں…! شادی کے بعد سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماضی میں اگر میں خود اعتماد تھی تو اس کی وجہ میرے والدین کا مجھ ر اعتماد کرنا تھا۔ شوخ چنچل تھی تو اس کی وجہ والدین کا تعاون تھا۔ کوئی مجھ سے غلط بات کہتا تو دو ٹوک جواب دے کر کہنے والے کا منہ بند کردیتی تھی‘ کسی کی ہمت نہ تھی کہ مجھ سے کوئی غلط بات کہتا مگر شادی کے بعد ساری خوداعتمادی ختم ہوگئی کیونکہ میرے شوہر مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔ مجھ میں خامیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر ایک کے آگے م

والد…… سایۂ شفقت !

باپ  دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لئے ہمہ وقت کوششوں، کاوشوں اور مشقتوں میں مصروف عمل رہ کر زندگی گزارتاہے ، اور ضرورت پڑنے پر جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔ پیارے مذہب اسلام میں باپ کوبڑارتبہ حاصل ہے جب کہ احادیث مبارکہ میں باپ کی ناراضگی کو اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی اور باپ کی خوشنودگی کو ربّ تعالیٰ کی خوشنودگی قراردیا گیا ہے۔ قرآن پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کے فرمودات کی روشنی میں والدین ( یعنی دونوں) کی خدمت و اطاعت کا حکم دیا گیاہے۔ اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت ، فرمان برداری ، خدمت اورتعظیم کرکے رضاح

بنتِ حوا۔۔۔ مقام ومرتبہ جانئے!

 ’’ اسلام اور عورت‘‘ دورِ حاضر کا ایک حساس موضوع ہے جس پر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔’’ اسلام اور عورت‘‘ کے موضوع کو لے ان دونوں پلیٹ فارمز پر ایک بحث شروع کر دی گئی ہے جس سے عورت ذات کے متعلق عصری تعلیم گاہوں سے فارغ التحصیل انسانوں کا ماڈرن طبقہ کئی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ عورت کی فطری حیثیت کو مدِ نظر رکھ کر اسلام نے عورت کو کچھ خصوصیات سے نوازا تھا ، لیکن عورت کی اس مخصوص حیثیت پر بعض لوگ کئی سوالات پیدا کر رہے ہیں اور عورت کااسلامی پردہ اختیار کرنا ، خود کو مردوں کی سرگرمیوں سے دور رکھنا، اپنے شوہروں کے تئیں وفاداری کا مظاہرہ کرنے جیسے اسلامی احکامات پر اعتراضات کرکے اِسے عورت طبقے پر ظلم و جبر اور تشدد سے تعبیر کر رہے ہیں۔انسانوں کے اس جدید طبقے کے مطابق اسلامی تعلیمات  دراصل عورت ذات پر ظلم و

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

 اکیسویں   صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں

اولاد کی تعلیم و تربیت

ہم میں سے اکثر لوگ جب والدین اور اولاد کی بات کرتے ہیں تو والدین کے حقوق اور اولاد کے فرائض تو ہماری انگلیوں کے پوروں پر ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اولاد کے حقوق فراموش کر دیتے ہیں۔ جب کہ ذمہ داری دینے والے نے جب والدین کو ذمہ دار بنایا ہے تو انہیں پوری پوری تاکید کی ہے۔ ایک مسئلہ بہت اہم ہے کہ بچوں کو والدین کی تربیت نہیں کرنا ہوتی ہے بلکہ والدین کو اولاد کی تربیت کرنی ہوتی ہے تو عموماََ وہ اپنے حقوق کی بات تو اولاد کو ازبر کروادیتے ہیں لیکن انھیں یہ شعور نہیں دیتے کہ بچوں کے کیا حقوق ہیں؟ بخاری ومسلم میں حضرت نعمان بن بشیر رضی ال عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد شیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک غلام ہبہ کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپؐ نے دریافت فرمایا: ـ’’کیا تو نے ہر بیٹے کو ایک ایک غلام ہبہ کیاہے؟‘‘  بشیر رضی اللہ عنہ کہنے ل

شوہر برائے نیلامی

میری بیگم مسکرائے چلی جارہی تھی۔ میں بھی مسکرارہا تھا۔ میری بیگم پتہ نہیں کیوں نہیں کیوں مسکرائے چلی جارہی تھی لیکن میں ریلوے کا ایک اشتہار جو اس روز اخبار میں چھپا تھا دیکھ رہا تھاا ور مسکرارہاتھا۔ اس میں ایک ریلوے لائن کی تصویر تھی کچھ فاصلے پر ریلوے کاایک انجن کھڑا تھا۔ ریلوے لائن کو چن دبھینسیں یا بھینسے عبورکررہے تھے اور اشتہار ہر لکھاتھا خبردار! ریلوے پھاٹک عبور کرتے وقت ہمیشہ رکیے۔ ریلوے پھاٹک کو عبور کرنے سے پہلے رک کر دونوں جانب دیکھیں کہ کہیں گاڑی تو نہیں آرہی۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد ہی پھاٹک عبورکریں۔ احتیاط کیجیے اور خطرناک حادثات سے بچئے ۔آپ کاتعاون‘ حفاظت کاضامن۔۔۔ ریلوے اور تصویر میں دورد ور تک کسی ریلوے پھاٹک کانام ونشان تک نہ تھا اور چند مویشی ریلوے لائن کو عبور کررہے تھے، شاید ریلوے والوں نے یہ اشتہار مویشیوں کے لئے ہی اچھایا تھا اور میرے لئے نہیں تھا۔ اب

جہیز۔۔۔۔حرص وہوس کی بیماری

 کہنے کو سبھی قومیں زندہ ہوتی ہیں لیکن بہ نظرغائر دیکھا جائے تو زندہ کہلانی والی قومیں بہت کم ہوتی ہیں۔قوموں کو بقا ء اور زندگی کے لیے اپنی اجتماعی اصلاح کرنی پڑتی ہے، حکومت ہو یا عوام ،فرد ہو یا قوم، بھیک یا محتاجی زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتی۔ہماری ریاست میں مسلمان تو بہت ہیں لیکن اسلام بہت کم نظر آتا ہے، اکثر لوگ شارٹ کٹ مار کر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں نفس کے ہاتھوں لٹتے ہیں تو کچھ کسی بھی حد کو پار کرنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی عزت تک بھی داو پرلگادیتے ہیں ۔ہماری معاشرتی خرابیوں میں بیٹی والو ں سے جہیز کامطالبہ کرنے جیسی روایت بھی ایک بہت بڑی لعنت ہے جس میں مال و زر کے حریص بڑی بے غیرتی سے جہیز کی بھیک لڑکی والوں سے مانگتے ہیں اور رشتہ منہ مانگے جہیز کی شرط پر طے کرتے ہیں۔ بعض اوقات سب کچھ طے ہوجانے کے بعد جب شادی کے کارڈ چھپ جاتے ہیں تو اپنے بھاری بھرکم جہیزی مطالبات سام

عو رت اسلام کی آغوش میں!

 تہذیب نے اب تک عورت کو کتنے ہی زاویوں سے دیکھنے کی سعی کی ہے اور  سچ تو یہی ہے کہ انسان عورت کی حقیقت سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔ مگر جب انسان عورت کی حقیقی ذات کو اس کی پاکیزہ سیرت اور فطرت کی روشنی میں کھوجتا ہے تو عورت صدیقہ   نظر آتی ہے، وہ حواؑ اور مریم  ؑکا روپ دھار لیتی ہے اور سارہ  ؑ،خدیجہؓ اور فاطمہ ؓبن کر انسانیت کے لیے سینکڑوں اسباق سیکھنے کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ دراصل عورت ذات کا مرتبۂ کمال ہے جہاں عورت عین اپنی فطرت اور قانونِ قدرت کے مطابق اعلیٰ کردار کا نمونہ پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کتابِ ماضی کو جب پلٹا جاتاہے تو دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں عورت کے ساتھ روا رکھے جارہے غلط رویے اور ظالمانہ سلوک کو دیکھ کر دل ملول ہوتا ہے۔یہ باطل وناکارہ تہذیبیں عورت ذات کو مختلف زمانوں میں مشکلات و مصائب میں مبتلا کرنے کا باعث بنی ہیں۔  د

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

اعداد و شمار کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں کم عمری کی شادی کا تناسب 29فی صد ، پنجاب 20فی صد، بلوچستان 22فی صد اور سندھ میں سب سے زیادہ یعنی 33فی صد تک ہے، یہاں تک کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی عمر رسیدہ مردوں کے ساتھ ہونا بھی عام ہے۔کم سِنی کی شادی کے خلاف قوانین پاس ہونے کے باوجود عملی طور پر عورت کی حالت نہیں بدل پائی، وہ آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ برطانوی حکومت اپنے ملک میں موجود جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن میں کم عمری کی شادی روکنے کے لیے قانون سازی پر غور کررہی ہے، جب کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ چھوٹی بچیوں کی شادیاں پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی نجی تنظیم وائٹ ربن کمپئن کے چیف ایگزیکٹیو آفیس

ہر بیماری کا علاج ہر مسئلے کاحل

 نماز ایک بہترین روحانی غذا اور جسمانی ورزش ہے ،سستی اور کاہلی کے اس وقت میں نماز واحد ایسا طریقہ ہے جس سے اگر قاعدے اور ترتیب سے پڑھا جائے تو انسان کے غم اور دکھوں کا ازالہ ہوسکتا ہے ۔نماز کا پڑھنا جہاں جسمانی اعضاء کو خوشنما اور خوبصورت بناتا ہے ،وہیں نمازانسان کے باطن دل کو سکون وراحت دیتی ہے۔ مزیدبراں نمازی کا گردہ ،دماغ ،جگر،معدے ،ریڑھ کی ہدی اور سارے بلوط دانہ (glands)کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ، غرض روح کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کو بھی نماز خوش وضع ،شائستہ اورحسین و جمیل بناتی ہے ۔نماز ایک ایساعمل ہے جس سے ہماری عمر بڑھتی ہے اور انسان مختلف النوع توانائیوں کا مالک بن جاتا ہے ۔انسان رات بھر سویا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اعضاء بے حس،الکس او ر سست ہوجاتے ہیں ۔اس وجہ سے خون کی گردش بھی بھی سست پڑجا تی ہے، اس لئے اب ہمارے جسم کو ایک ایسی ورزش کی ضرورت ہے کہ انسان کا جسم پ

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!۔۔۔ قسط:۲

والدینکی سات بیٹیوں میں سے اس کا چھٹا نمبر تھا۔وہ دس سال کی تھی جب اس کی بڑی پانچ بہنوں کو جب وہ تیسری‘ چوتھی اور پانچویں کلاس میں زیرتعلیم تھیں ،والدین بھارت چھوڑ آئےتھے۔یعنی وہاں لے جاکر ان کی شادی کردی۔ جسوندر‘ اپنی بہنوں کے بغیر اداس رہنے لگی، وہ ان کے پاس جانا چاہتی تھی۔ایک دن وہ اسکول سے واپس آئی، تو ماں نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا‘تم اپنی بہنوں سے ملنا چاہتی ہو ناں، ہم نے تمہاری خواہش پوری کردی ہے۔ آج میںنے تمہاری پسند کا کھانا بھی پکایا ہے، چلو جلدی سے کھانا کھالو، پھر چلنے کی تیاری کرتے ہیں۔ ماں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح محبت کااظہار نہیں کیا تھا۔وہ ان کے رویے پر حیران ہوئی لیکن جلدہی اس پر عقدہ کھل گیا، ماں نے‘اس کے سامنے ایک سکھ نوجوان کی تصویر رکھ کر کہا‘ جب تم 8 سال کی تھیں تو ہم نے اس سے تمہارا رشتہ طے کردیاتھا‘اب دو دن بعد تمہاری ش

شادی بیاہ کی تقاریب

  ایک طرف نیک جذبوں کاسیل رواں، تنگ طلبیاں،ستم کے تھپیڑے ،نالہ وفریاد،جوروجبرکے کوڑے ،زخم زخم وجود،آہنی قفس ،جیلیں،بے آبرویاں ،تذلیلیں ،ماریں ، بانام اور بے نام قبریں،آہیں اورسسکیاں،دوسری طرف وادی بھر میں شادیوں کی تقاریب میں اسراف وتبذیر ، رسومات و وفضولیات، نمودو نمائش، ناچ نغمے ، چراغاں و آتش بازیاں ، اختلاط مر د وزن ،اشیائے خوردنی کی ناقدریاں ، جہیزی لین دین جیسی طوفان بدتمیزی ہوںتو انہیں دیکھ کر آدمی کی زبان گنگ اور جگر پاش پاش ہونا فطری ردعمل ہے اور ہرایک باضمیر انسان کااس صورت حال پر انگشت بدنداں ہو جانا قابل فہم ۔سوال یہ ہے کہ آخریہ سب ہے کیا ؟ قوم کی اخلاقی زوال، دین سے بیزاری ،مقدس کاز سے بے گانگی یا فہم وشعور کی کمی اورکھلی جہالت ؟ آ پ یقین کرلیں کہ ایک غریب باپ ان حماقتوں کو خود پر طمانچے کہہ کر کہتا ہے کہ میں یہ سارا کچھ دیکھ کر پچھلے کئی سال سے اپنی جوان سال ب

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

پنج ستارہہوٹل کا خنک ایوان روشنیوں سے جگ مگ کر رہا تھا، بہ ظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں ’’برائیڈل شو‘‘ ہےلیکن ایسا نہیں تھا،ٹھنڈے ایوان میں کم سن بچیوں کی شادی کے موضوع پر ایک این جی او کی جانب سے ورک شاپ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسٹیج کے ارد گرد کم سن بچیاں عروسی ملبوسات میں کھڑی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں گڑیا تھی اور کسی کے ہاتھ میں اسکول کے بستے ، کسی کے ماتھے پر احتجاج کی پٹی بندھی تھی ، تو کسی کے ہونٹوں پر ٹیپ۔ ’’یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ٹھنڈے ماحول میں ایک گرم سوال گونجا، لیکن جواب ندارد ،یہ چہار سو خاموشی میں چھوٹا سا ماتم تھا، سوال بار بار دہرایا گیا، تو ایک ماں کی آواز ایسی ابھری کہ ہزاروں کوششوں کے بعد بھی کوئی اسے خاموش نہ کروا سکا۔سوال کرنے والے کو بھرپور جواب مل گیا تھا۔ دُکھیاری ماں کی زبان سے الفاظ نہیں نکلے تھے بلکہ تھری ناٹ تھری کی گول

مشہور ادیبہ وافسانہ نگارامرتا پریتم

 امرتا اس مٹی سے بنی ہوئی ہے، جس سے رومانی باغیوں کا خمیر اٹھتا ہے۔ ایک تنہا بچپن، ایک کرب زدہ جوانی اور پھر شدید جذباتی جھکڑوں سے مرتعش دل کی نسوانیت، ایک شاعرہ اور ناول نگار کی حیثیت سے امرتا پریتم ان تمام تجربات کو من وعن صفحۂ قرطاس پر اتارنے پر اعتقاد رکھتی ہے، جو اسے پیش آئے۔ وہ زندگی کے لئے شدید جذبات کے گہرے رنگوں میں سر سے پیر تک سرشار ہے۔ ایک عجب ساکرب ہر دم اس کے وجود کا احاطہ کئے رہتا ہے، اور جب یہی کرب پگھلے ہوئے لاوے کی طرح اس کی تحریروں میں اپنا راستہ تلاش کرلیتا ہے تو دل کا درد ذرا دیر کو تھمتا ہے، مگر پھر دوبارہ سر اٹھاتا ہے،مذہبی اقدرا پر اس کے بے لاگ تنقیدی نظریات کی وجہ سے اس پر غیر شائستہ ہونے کی مہر ثبت کی جاتی ہے۔ اس کی چیختی ہوئی دیانت کی وجہ سے اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے، مگر ان سب باتوں سے بے نیاز امرتا کی زندگی ایک ایسی کھلی کتاب کی طرح ہے، جس

ہنی ٹریپ!۔۔۔۔ بلیک میلروں سے ہوشیار باش

۔12؍جون 2018ء کو دہلی میں ایک خاتون کے بشمول تین افراد کو گرفتار کیا جو پانچ دولت مند افراد کو بلیک میل کرتے ہوئے ان سے رقم وصول کررہے تھے۔ ان پانچ بزنس مین پر بھیواڑی (راجستھان) میں ایک خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا الزام تھا۔ تاہم پولیس نے اس گینگ ریپ کے پس پردہ سازش کو بے نقاب کیا تو یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ گینگ ریپ کا الزام عائد کرنے والی خاتون اور اس کے دو ساتھی جن میں موہت گوئل بھی شامل ہے۔ یہ وہی موہت گوئل ہے جو نوئیڈا کی کمپنی Ringing Bells کا پارٹنر ہے جس نے صرف 251روپے میں 251 فریڈم اسمارٹ فونس فراہم کرنے کا اعلان کرکے تہلکہ مچادیا تھا۔ موہت گوئل اس گینگ ریپ کیس کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لئے رقم اینٹھنے میں ملوث پایا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بھیواڑی جو راجستھان کے ضلع آلور میں واقع ہے‘ یہاں 5مئی کی رات اُس وقت سنسی پھیل گئی تھی جب ایک خاتون نے پولیس میں شکایت درج کروا