تازہ ترین

شاہکار

یونیورسٹی کیمپس میرے تصور سے بڑا تھا۔ علم و دانش کے بڑے بڑے محل دیکھ کر میں مرعوب ہوا ۔ میں نے کار پارک کی ، میم صاحب کے لئے دروازہ کھولا ، وہ باہر آئیں ، جیب میں ہاتھ ڈالا ، پانچ سو کے دو نوٹ میری ہتھیلی پر رکھ دئے اور مسکرا کر کہا ’’فنکشن دو گھنٹوں تک چلے گا آرام سے کھانا پینا ، سامنے ہی کنٹین ہے۔‘‘ چلی گئیں۔ سامنے چناروں کے تناور درخت بھی تھے۔ آج دھوپ میں تمازت بھی کچھ زیادہ ہی تھی ، یا میں کسی انجانی آنچ سے تپ رہا تھا ، میں نے اپنی کاپی اور پین گاڑی کے ڈیش بورڈ سے نکالا اور ایک چنار کی چھاؤں میں آرام سے بیٹھ گیا۔ کوئی ایسا افسانہ جو شاہکار ہو۔ میں نے سوچا، لیکن ذہن کے پردوں پر پتہ نہیں کیوں آج میرے ماضی کے ریلے مسلسل فلم کی طرح منعکس ہورہے تھے اور جانے کیوں ایک انجان سا کرب دل و دماغ پر محیط ہورہا تھا۔ کہیں نہ کہیں شاید میرے وجود کے اندر سے ٹیسیں اٹھ

دُھواں

ابھی سگریٹ کے دو ایک کش ہی لیے تھے کہ کھڑکی سے نظریں اس چنار پہ تھم گئیں جس کے ساتھ بشیر میاں ٹیک لگائے تھکا ماندہ اور افسردہ بیٹھا تھا۔ اس کی مایوس نظریں سامنے جھونپڑی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس جھونپڑی سے اس کو بہت محبت اورعقیدت تھی لیکن چند ہی پل میں سگریٹ کے دھویں کی طرح اس نے اس کی ایک قیمتی چیز ہوا میں اڑا دی جو کبھی بھی قید نہیں ہوسکتی۔ جھونپڑی سے کوئی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ وہاں سکوت چھایا ہوا تھا۔ ایسا بھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس میں کوئی ہے بھی یا نہیں۔ صرف اگر بتیوں کا دھواں ٹوٹے ہوئے دروازے سے باہر آ رہا تھا ،جس نے آس پڑوس کو معطر کیا تھا۔بشیر میاں کو صرف دھواں محسوس ہو رہا تھا جو اس کے جلتے ہوئے دل سے بھی اٹھ رہا تھا۔ بشیر میاں گاؤں کا ایک شریف ترین مزدور تھا۔ لوگ اُسے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس کی بیوی بہت پہلے انتقال کر چکی تھی مگر ایک بیٹی پیچھے چھوڑگئی تھ

افسانچے

عید  السلامُ علیکم چاچا، عید مبارک  و علیکم السلام آپ کو بھی عید مبارک ہو۔ نسیم ، اتنی صبح کہاں جا رہے ہو؟، چلو گھر۔۔ تھوڑی دیر بیٹھ کے میرے ساتھ گاڑی میں عیدگاہ چلنا۔  بات ایسی ہے چاچا وہ ہمارے پڑوس میں جو بیوہ عورت رہتی ہے وہ کل سے کچھ زیادہ بیمار ہے، اس کے لئے آپ سے صدقہ ٔ  فطر لینے آیا تھا۔۔  ارے اس ٹائم میں صدقہ کہاں سے دوں؟  بچوں کو لے کر عید گاہ جانا ہے۔ وہاں بچوں کو ڈھیر ساری عیدی دینی پڑتی ہے اور آج کل تو مٹھائی خریدنے اور کھلونے خریدنے کا رواج بھی ہے نا۔۔  چاچا کم از کم اپنا صدقہ فطر تو دے دو۔  چاچا۔۔۔۔۔وہ تو میں نے چار روز پہلے ہی جامع مسجد میں جمع کرا لیا ہے۔۔  نسیم۔۔۔تو آپ کو پہلے اپنے پڑوسی کو دینا تھا یہ آپ پر اسکا حق ہے ۔۔ چاچا۔۔۔۔ارے بھائی حق و ناحق کیا ہے،وہ میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔تم م

افسانچے

وفا رئیس کالج پارک کے بڑے چنار کے سائے تلے یادوں کے سمندر میں ہچکولے کھا رہا تھا ۔ اسے کالج کے دنوں کی حسین اور خوبصورت یادیں تسکین بخش رہی تھیں ۔ تبھی اسے ادیفہ کی مذاق میں کہی ہوئی وہ بات یاد آئی کہ " دس سال بعد ہم اسی موسم میں یہیں ملیں گے "  وہ ہنس دیا " گردش ایام میں ایسی باتیں یاد نہیں رہتیں "  دو پہر کی دھوپ میں چنار کے سائے میں نیند کا غلبہ ہوا اور وہ سو گیا ۔ کچھ ہی دیر ہوئی کہ کسی کی پکار نے اسے جگا دیا ۔ اُس نے آنکھیں موندھیں اور کچھ سنبھلا کہ سامنے ایک حسین اور خوبصورت عورت کو دیکھ کر چونک گیا ۔ اسکے حلق سے صرف ایک لفظ نکل سکا۔  " ادیفہ"    ڈیتھ سرٹیفکیٹ وہ اب تک بہت ساری اموات کے صداقت نامے پر دستخط کر چکا تھا اور یہ اس کیلئے کوئی مشکل کا کام نہیں تھا کیونکہ یہ اسکا پیشہ تھا ۔ علاقے میں ڈا

حقیقی کامیابی

آدھی رات کا وقت تھا۔ جب چاند اپنے چہرے سے نقاب مکمل طور پر اُتار چکا تھا۔ چاند سے لاکھوں میل دور زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر ،ایک بڑی سی حویلی کے چھوٹے سے کمرے میں لیٹا ہوا ایک شخص۔ہر اُس چیز کو پانے میں کامیاب ہو چُکا تھا جس کی خواہش کبھی اُس کے دل کے کسی گوشے میں ابُھری تھی۔  لوگ اسے دنیا کا ایک کامیاب ترین شخص مانتے تھے۔ جب رات کے پہلے پہر اس کی آنکھ لگ جاتی تو صبح کی روشنی آنے سے پہلے اُس کی آنکھ کھُلنے کا تصوّر کرنا ایسا تھا جیسا رات کو سورج نکل آئے۔  مگر آج نہ جانے کیوں؟  نہ جانےکیوں اور کیسے رات کے دوسرے پہر میں اُس کی آنکھ اچانک کھل گئی ۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے کہ وہ کسی دوسری ہی دنیا میں آ چکا تھاجیسے وہ خود کو بھی نہیں جانتا۔  اور پھر کامیابی !!  کامیابی کا لفظ تو جیسے اُس نے کبھی سُنا ہی نہیں تھا۔ یہ عالیشان حویلی 

نئی دنیا…سہانے خواب

کوئیل کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ اپنا شہر چھوڑ کر سات سمندر پار انگلستان پہنچ جائے گی۔ اُس کی کئی پشتوں میں شائد ہی کوئی اپنے شہر سے باہر نکلا تھا۔ لیکن قدرت نے اُس کی زندگی کے آب و دانے دُور دُور تک پھیلا رکھے تھے۔ اُسے یاد آرہا تھا کہ اگر ماں نے اُس دن بہت مجبور نہ کیا ہوتا اور میرے بچپن کے خیالات کی پرواہ کی ہوتی تو شائد میں آج یہاں نہ ہوتی۔ کلثوم آنٹی کے اصرار کے آگے ماں کی ایک نہ چلی اور وہ مجھے یہاں بھیجنے کیلئے مجبور ہوگئی۔ اب کئی سال بیت جانے کے بعد میں جوان ہوچکی ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ اچھا ہوا ماں نے زبردستی مجھے یہاں بھیج دیا۔ کوئیل مہرن موسی کی اکلوتی اولاد تھی۔ جب وہ سات سال کی تھی تو باپ ایک موزی مرض کا شکار ہوکے اللہ کو پیارا ہوگیا۔ مہرن جسے سب مہرن موسی کہہ کے پکارتے تھے سردار سکندر خان کے گھرمیں آیا تھی۔ وہ چھوٹی عمر سے ہی سکندر خانصاحب ک

’’علماء کرام‘‘ اور نیوز چینل اسٹوڈیوز

اس منظم سازش کا انکشاف عرصہ ٔ دراز سے ہوچلا ہے کہ کسی بھی ملّی و ملکی موضوع پر بحث ومباحثہ کے لئے ملک کی بیشتر فرقہ پرست ٹی وی چینلز پر باریش مولوی صاحبان کو محض ٹی آر پی کا لالچ دے کر سنگھی اسٹودیوز میں ذلیل و خوار کرنے کے لئے مدعو کرتے رہتے ہیںمگر یہ دیکھنے کے باوجود کہ انہیں اپنی بات اور موقف کہنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا، یہ مولوی صاحبان چینلز کی دعوت بلا تکلف قبولتے ہیں اور دوبارہ ملت کی تذلیل و تحقیر کا باعث بن کر لوٹتے ہیں۔ یہ ایک عام خام انسان بھی  ان مباحثوں سے اخذ کر سکتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر مولوی صاحبان کیوں ان چنلوں کا رُخ کر تے ہیں؟حالانکہ شرعی رہنما اصول سننے سنانے کے لئے منبر ومحراب اور مجالس کافی ہوتی ہیں اور کوئی شرعی بات کہنے اور سننے کے اپنے آداب ہوتے ہیں اور اپنی ایک تمیز و تہذیب ضروری ہوتی ہے ۔ یہ چیزیں ایسی جگہوں کیمروں کی تشہیر اور اسٹوڈٰیوز کی چکا چون

طنزومزاح کاعہد یوسفیؔ

’’اردو زبان وادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت پرانی ہے۔ اپنے اپنے دور میں سبھی مزاح نگاروں نے اپنے انداز بیان و اسلوب کابھرپور مظاہرہ کیا اور اپنا سکّہ جمایا۔ سب نے کچھ نہ کچھ اس زبان کو دیااور کسی نہ کسی پہلو سے نمایاں رہے، مگر مشتاق احمد یوسفیؔ نے نہ صرف پچھلی تمام خوبیوں کا احاطہ کیا بلکہ اسے اپنی جدت طرازی سے ایک نیا رنگ و روپ بخشا اوراس فن کو ایسی بلندی پر پہنچایا کہ اس حسن یوسفی کا شہرہ چہار دانگ عالم میں ہوا، جس کے سبب طنز و مزاح نگاری کا ایک پورا عہد ان سے منسوب ہوگیا۔‘‘ان خیالات کا اظہار دنیائے اردو کے معروف انشائیہ نگار جناب ڈاکٹر محمد اسداللہ نے انجمن ضیاء الاسلام پبلک لائبریری کامٹی میں ۲۲؍ جولائی ۲۰۱۸ء کوشہرکامٹی کے ایک شاندار پروگرام میں کیا ۔ ممتازومنفردطنزومزاح نگارمشتاق احمد یوسفی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ تقریب اردو ماہنامہ ’’

دستاویز

میں اُس دنِ بلک بلک کر رویا تھا جب مُجھے معلوم ہوا کہ میری ماں کی دستاویز چند کھوٹے سکوں کے عوض نیلام ہوئی ہے! ’’کسِ نے کیایہ ؟۔ کیوں کیا؟۔ یہ سوال اکثر میرے ادراک کے دریچے پر سیاہ بالوں کی طرح منڈلاتے رہتے تھے۔ یہ ماں کی عزت کا سوال تھا۔ میں ہر دربار میں گھُس کر اس دستاویز کا تقاضا کرتا تھا۔ میں در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا، یہاں تک کہ میرے پیروں میں چھالے پڑ گئے۔ آخر کار ایک بُزرگ کو میری حالت زار پر ترس آیا۔ اُس نے مُجھے اُس شخص کے بارے میں جانکاری دی جو والیٔ شہر تھا اور جس نے اس دستاویز کو حقیر دام کے عوض خریدا تھا۔ اُس بزرگ کی مدد سے ہی اُس شخص کے پاس پہنچا۔ ’’کیسے آنا ہوا؟۔‘‘ والیٔ شہر نے پوچھا ’’جناب مُجھے دستاویز چاہئے۔‘‘ میں نے عاجزی کے ساتھ کہا۔ ’’ٹھیک ہے تمہیں دستاویز ملے گی۔ لیکن ا

سنہرا پھندا

’’میں زندہ کیوں ہوں ؟مجھے مرنے کیوں نہیںدیا۔۔۔۔۔۔؟‘‘ ہوش میں آکر ارد گرد کا جائیزہ لینے کے بعد راحیلہ جب سمجھ گئی کہ وہ کسی اسپتال میں زیر علاج ہے تو حواس باختگی کی حالت میںاپنے بال نوچتے ہوئے زور زور سے چلانے لگی۔ ’’ایسا نہیں کہتے راحیلہ ۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو سنبھالو پلیز ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ راحیلہ کو ہوش میں آتے دیکھ کر مشتاق،جو اس کے سرہانے موجود تھا،کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔وہ راحیلہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کراُسے پیار سے سمجھانے لگالیکن وہ بدستور چلاتی رہی۔اسی وقت نرس نے آ کر راحیلہ کو انجکشن دیااور کچھ دوائیاں کھلائیں،جن سے اس کی بے قراری آہستہ آہستہ دور ہونے لگی۔ ’’ راحیلہ ۔۔۔۔۔ ۔ تم پر ایسی کیا بیتی جو تم یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئی؟ مجھے اتنی بڑی سزا کیوںدینا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ اس

باغی

سگریٹ پہ سگریٹ پینے سے کیا کسی مسئلے کا حل نکلے گا شبنم نے امجد کے ہاتھ سے سگریٹ چھین کر باہر پھینک دیا۔شبنم  یہ سگریٹ ہی تو ہے جو کچھ پل مجھے راحت کی سانسیں فراہم کرتے ہیں۔مجھے افسوس ہے اس بات پہ کہ اس نئی نئی شادی پہ میں تم کو وہ آرام ،وہ سکون نہ دے پارہا ہوں جس کا وعدہ شادی سے پہلے میں نے کیا تھا۔ شبنم نے امجد کا جھکا ہوا سر دھیرے دھیرے اوپر اُٹھایا اور نہایت پیار بھرے لہجے میں کہا  مجھے نہ تمہاری دولت چا ہیئے نہ مجھے کچھ پل کا وہ سکون چاہئے جو دولت سے لوگ خریدتے ہیں۔ اگر میری کوئی چاہ ہے تو وہ یہ ہے کہ مجھے بس مرتے دم تک تمہاراساتھ اور پیار ملے۔میں عمر بھر روکھی سوکھی پہ گزارا کروں گی اور ہر سختی برداشت کروں گی ، مگر تم اگر ایسے ہی پریشان رہوگے اور رات کو آرام کرنے کے بجائے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکوگے تو میں۔۔۔شبنم اب کیا بولنے والی تھی امجد نے اندازہ کر لیا تھا، اسلئے

بھوت کی حقیقت

میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ اچانک میری نواسی نے مجھ سے سوال کیا ۔ دادا جان۔ پہلے زمانے میں بھوت پریت زیادہ تعداد میں نظر آتے تھے اب کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ میرے پاس اس معصوم بچی کے سوال کا جواب نہیں تھا ۔ حالانکہ میں نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال گذارے تھے اور اس طویل عرصہ کا تجربہ میرے پاس تھا ۔ میرے پہلے بیس سال اسکول میں گذرے تھے۔ میں نے بہترین اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ میں نے کئی ملکوں کی سیر کی تھی اور دُنیا کے اعلیٰ اوربہترین مفکروں سے ملاقات کر چُکا تھا ۔ میں نے دُنیا کی بہترین کتابیں پڑھ لی تھیں ۔ میں نے بہت ہی مشہور اور قابل علماء سے ملاقات کی تھی ۔ میں اپنے علاقے میں ایک قابل اور عقل مندآدمی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ میں اپنے دوستوں کے حلقے میں بہت ہی حاضر جواب تھا ۔لیکن آج یہ کیا ہوا آج اس معصوم بچی کے سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا ۔ میں نے پہلے سوچا کہ بچی کو کوئ

معاصر اردو افسانہ

مصنف  :     ڈاکٹر ریاض توحیدی،7006544358 پبلیشر   :  ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی   ’’معاصر اردو افسانہ ۔۔۔تفہیم وتجزیہ‘‘ڈاکٹر ریاض توحیدی ؔ کی تازہ تنقیدی تصنیف ہے ‘جو رواں سال جون کے مہینے میں شائع ہوکر آئی ہے۔اس سے پہلے  تحقیق و تنقید اور فکشن کے تعلق سے ڈاکٹر صاحب کی حسب ِ ترتیب چار کتابیں ‘جہانِ اقبالؔ(2010)‘کالے پیڑوں کا جنگل(2011)‘ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم بحیثیت اقبالؔ شناس(2013)‘اس کادوسرا ایڈیشن حال ہی میں عکس پبلکیشن پاکستان سے شائع ہوا ہے‘اور کالے دیوؤں کا سایہ(2015)شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔ پیش نظر کتاب ’’معاصر اردو افسانہ ‘تفہیم و تجزیہ ‘‘کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ اردو افسانے کے عصری منظر نامے کو موضوع گفتگو بنانے کی عکاسی

نیکی کردریا میں ڈال

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب فتح کدل تھرڈ برج کہلاتا تھا۔ شہرئہ آفاق تھرڈ برج یورپ ، امریکہ ، آسٹریلیا ، افریقہ ، ایشیاء میں اس لئے مشہور تھا کہ یہاں کشمیر کی دست کاریوں کے خزانے مثلاً رفل ، پشمینہ اور شاہ توس کے شال،ہاتھوں سے بنے ہوئے نہایت باریک اورعمدہ قالین ، اخروٹ کی لکڑی سے بنی شاہکار چیزیں، تانبے پر نقش کئے ہوئے برتن ، پیپر ماشی کی چیزوں پر رنگوں سے لکھی ہوئی ہزار داستان کی دنیا ۔ ۔ اور نہ جانے کیا کیا کچھ تھا۔   دست کاریوںکے یہ خزانے جہلم کے دونوں کناروں پر عالی شان عمارتوں میںبنے ہوئے بڑے بڑے شوروموں میںدستیاب تھے۔ ان شوروموں کے آگے جہلم کو چھوتے ہوئے شکارہ گھاٹ تھے۔ ہر شوروم کا اپنا ایک علیحدہ گھاٹ ہوا کرتا تھا اور وہ شکارے، جن میں جہلم اورڈل جھیل کے ہائوس بوٹوں میں قیام کرنے والے سیاح وارد ہوتے تھے، ان گھاٹوں پر رُک جاتے تھے اورشوروموں کی زینت بڑھاتے تھے۔ تھ

آئی لَو یُو۔۔۔پاپا

اس دن میں نے خود کو بہت کم زور محسوس کیا کیونکہ تنگ دستی نے میرے گرد گھیرا سخت کردیا تھا اور بیٹا مجھ سے ہفتہ وار جیب خرچ کا تقاضاکررہا تھا۔ پچھلا ہفتہ بہت خرا ب گزرا تھا۔کارخانوں میں کھالوں کی صفائی پر بندش کی وجہ سے کام بند پڑا تھا۔میرا کام بھی ٹھیکے کا تھا۔ یعنی کام جتنا کرلیتا اتنی اجرت مل جاتی ۔کوئی تنخواہ یا لگی بندھی آمدنی نہ تھی۔اگر کام مستقل چلتا تو خرچ کے علاوہ بچت بھی ہوجاتی تھی۔میرا چھوٹا بیٹا پانچ سال کا تھا۔ظاہر ہے وہ ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتا مگر بڑا وامق نویں جماعت میں پڑھتا تھا اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں ذہین اور سمجھ دار تھا ۔گھر کے حالات اس کے سامنے تھے ۔اس دن جب اس نے معمول کے مطابق اپناہفتہ وار خرچ مانگا تو مجھے حیرت ہوئی بلکہ قدرے دکھ ہو ا کہ میرا سمجھ دار بیٹا گھر کے حالات کومحسوس نہیں کر رہا ۔۔۔میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ وامق بڑا ہو کر میرا دست بازو بنے گا

فیشن

ٹرن ٹرن ٹرن ٹرن۔ مولانا ساجد صاحب کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ مولانا نے اپنا موبائل اٹھایا تو دیکھا کہ واٹس اپ کال ہے۔ انہوں نے اپنے انگوٹھے سے اس کے گرین بٹن کو پش کیا اور بولے۔ السلام علیکم جی حضرت وعلیکم السلام۔میں محمد اکرم عرض کررہا ہوں سعودی عرب مکہ مکرمہ سے۔ جی جی! جانتا ہوں۔ آپ کا نام میرے موبائل میں سیو ہے۔مولانا ساجد نے کہا۔ کیسے ہیں آپ؟ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ محمد اکرم نے پوچھا  الحمد للہ میں بخیر ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟ مولانا ساجد نے جواباً پوچھا اور کہا اچھاہوا آپ نے فون کرلیا۔ آپ سے بات کرنے کی طبیعت چاہ رہی تھی۔ الحمدللہ ، اللہ کا شکر واحسان ہے۔ میں بھی بعافیت ہوں۔میں بھی کافی دنوں سے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر فرصت نہیں مل پارہی تھی۔ محمد اکرم نے کہافرصت نہیں مل پارہی تھی۔ مولانا ساجد نے تعجب سے پوچھا۔ اور فرمایا۔ میں تو جب بھی فیس بک کھولتا ہوں تو

احساس

ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کر کے جب جاذب علی گڑھ سے واپس آ رہا تھا تو اس نے دل ہی دل میں یہ طے کر لیا تھا کہ کچھ عرصہ آرام کرنے کے بعد اپنا کریر شہر میں شروع کرے گا اور اس کے بعد شادی کے بارے میں سوچے گا۔ گھر آ کر اسے پتا چلا کہ اس کے ابو نے اس کے لئے ایک لڑکی پسند کرلی ہے۔ وہ جاذب کی جلد از جلد شادی کرنا چاہتے تھے۔ جب جاذب کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے اپنی امی سے کہہ دیا کہ وہ ابھی شادی کے بندھن میں نہیں بندھنا چاہتا۔ شادی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ میں پہلے اپنا کام شروع کرنا چاہتا ہوں پھر شادی کے بارے میں سوچ لوں گا آپ لوگوں کو کیوں اتنی جلدی ہے۔جاذب نے اپنی امی کی بہت منتیں کہ وہ ابو کو اس بات کے لئے منع کرے، مگر اس کی امی نے کہا۔ دیکھو بیٹا، تمہارے ابو کی طبعیت اکثر خراب رہتی ہے۔ زندگی کا کیا بھروسہ ۔ وہ اپنی زندگی میں ہی تمہاری شادی کے فرض کی ادائیگی سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ تم

افسانچے

  قول جبار کاکا کو جب لگا کہ وہ اب بستر سے دوبارہ اٹھ نہیں سکے گا تو اس نے بیوی سے کہا ’’میرا آخری وقت آگیا ہے ذرا ماجد کو پیغام بھیجو کہ وہ آئے۔ میں اس سے کچھ کہنا چاہتا ہوں‘‘۔ جبار کاکا کی بیوی بہت ذہین، نڈراور بہادر عورت تھی۔ اس نے شوہر کی باتیں سنیں مگر جواب دینے کی بجائے خاموش رہی۔ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ اس کا باپ بستر مرگ پر ہے اور اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ ماجد اسی گاؤں میں الگ مکان میں رہتا تھا۔ جب اسے باپ کا سندیسہ ملا تو وہ سارے کام چھوڑ کر باپ سے ملنے آیا۔ باپ نے کسی تمہید کے بغیر بیٹے سے کہا۔ ’’ماجد بیٹا میرا آخری وقت آگیا ہے۔ اس سامنے والی الماری میں اسی ہزار روپے ہیں وہ نکال کر اپنے پاس رکھو اور میری موت کے بعد میری تجہیز و تکفین اور دیگر رسومات پرخرچ کرنا۔‘‘ بیٹے

منزل

 سامنے حد نگاہ تک گھاس کے میدان ہیں۔ پیچھے بلند و بالا پہاڑ پر ہرا بھرا گھنا جنگل، جس میں تناور دیودار آسمان کی طرف سر اٹھائے اللہ کی وحدانیت یاد دلاتے ہیں۔ اس جنگل میں کائرو، بدلو  اور دوسرے  اقسام کے درخت بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان فضاؤں میں ہمیشہ سوندھی سوندھی سی خوشبو بسی رہتی ہے  اور ہم اس خوشبو سے بچپن ہی سے مانوس ہوجاتے ہیں ۔جنگل کے دامن میں ایک چھوٹی سی صاف و شفاف ندی ہے  جو نغمے گاتی ، اٹھلاتی اور کسی الھڑ دوشیزہ کی طرح لہراتی ہوئی نامعلوم منزلوں کی جانب رواں دواں ہے ۔ جنگل کے دامن میں ہی میرا یہ چھوٹا سا  گاؤںہے جس میں اب پچیس چھوٹے چھوٹے کوٹھے ہیں کیونکہ پچھلے سال ہی صمد ا لدین کے دو بیٹے اور محمد الدین کے تین بیٹے اپنے باپ سے الگ ہوئے تھے اور انہوں نے بھی اپنے اپنے کوٹھے بنالئے تھے اس طرح ان ناہنجار اولاد کی وجہ سے تعداد پچیس ہوگئی،

افسانچے

  پروفیسر دوست  ڈگری کالج کے مین گیٹ پر پہنچتے ہی میں نے اسے دیکھ لیا وہ بہت ہی خوش تھا اور اپنے ساتھی اساتذہ کے ساتھ کالج کینٹین میں چائے پی رہا تھا۔میں نے اپنی بائیسکل سائیڈ میں لگائی اور ایک کار کے پیچھے چھپ کر اسے فون لگا یا ۔فون لگتے ہی بغیر کسی سلیک علیک کے کہا، باسط سر کہاں ہیں آپ، میں آپ سے ملنے کالج آرہا ہوں ،وہ بھی ابھی۔ اس وقت میں کافی بزی ہوں ،اس وقت مت آنا۔ دوسری طرف سے کافی بے رخی کا مظاہرہ تھا۔ سر تھوڑی ہی دیر تو لگے گی۔ ویسے بھی آپ اس وقت کہاں ہیں ؟ میں اس وقت ایک سمینار میں ہوں اور بہت مشغول ہوں ،شام کو ملیں گے ۔ اس وقت مجھے پانی پینے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ شام کو تجھے لینے میں خود اپنی گاڑی لے کر آوں گا ۔ تو آپ نے گاڑی بھی لے لی جناب ۔ وہ تجھے بتانا بھول گیا تھا، اوکے شام کو ملیں گے ابھی بیزی ہوں، بس تیری کال آگئی تو باہر آیا تھا۔ اس کا جھوٹ و