تازہ ترین

می ٹو مہم

’’ می ٹو مہم‘‘ کے چلتےمو دی سرکار کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر پر کئیخاتون صحافیوں نے جنسی زیادتی کے الزامات عائد کئے تو وہ کسی کو منہ دکھا نے کے قابل نہ رہے ۔ وزیراعظم مودی پر رائے عامہ کا دباؤ بڑھا کہ وہ انہیں اپنے منصب سے فارغ کریں۔ نائجریا سے واپس وطن لوٹتے ہی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا ۔اللہ کی پناہ، کیا دبدبہ تھا ایم جے اکبر کا! اکبر جو لکھ دیں وہ پتھر کی لکیر، حرف آخر۔ جس سیاستدان کے حق میں اکبر وہ بس پارا اور اکبر جس کے مخالف وہ مٹی۔ جی ہاں،اکبر ہندوستان کے غالباً واحد صحافی رہے ہیں جن کی شہرت محض ہندوستان اور پاکستان ہی تک نہیں محدود تھی بلکہ موصوف دنیا بھر کے چند مشہور ترین صحافیوں میں سے ایک رہے ہیں۔ پھر یکایک اکبر کو سیاست کا شوق ہوا اور وہ کچھ دن کانگریس میں رہے، بعدازاں واپس میدان صحافت میں آئے اور اپنے جوہر دکھائے اور آخر مودی کی ق

خواتین ۔۔۔تحفظ صرف ا سلام میں!

ایک  زمانہ تھا جب معاشرہ میں لڑکیوں کی حیثیت منقولہ جائیداد سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس کی مثال قدیم متمدن روم میں جاری شادی کے طریقہ سے سمجھی جاسکتی ہے۔ وہاں شادی کے وقت مرد اپنے لئے لڑکی کو عام اشیاء کی طرح خرید کر لاتا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ5 گواہ کے ساتھ وہ ایک ترازو لیکر بیٹھ جاتا اور لڑکی کے بارے میں اعلان کرتاکہ یہ میری ملک ہے،میں نے اس کو ترازو اور سکہ کے ذریعہ خریدا ہے۔ اس تقریب کے بعد لڑکی اس کی زرخرید جائیداد تصور کی جاتی۔وہ کسی عوامی عہدہ پر نہیں رہ سکتی تھی، نہ اسے سماج میںگواہ بننے اور ولی مقرر کرنے کا حق حاصل تھا۔ برطانیہ میں تو ماضیٔ قریب تک لڑکی شادی ہونے کے بعد اپنی ہستی کھودیتی تھی۔قانون کے مطابق وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی تھی، یہاںتک کہ بیوی کی کمائی اور تنخواہ بھی خاوند کی ہوجاتی تھی۔ قانونی نظریہ  یہ تھا کہ شادی کے بعد عورت کی اپنی کوئی شخصیت نہیں

کامیاب شوہر، خوشحال گھر

 ارے تم اتنی ڈری سہمی سی کیوں لگ رہی ہو؟ تمہیں کیا ہوا؟ تم تو بڑی شوخ وچنچل تھیں۔ تم سے تو بحث و مباحثے میں کوئی جیت ہی نہیں سکتا تھا‘ تم میں تو بلا کا اعتماد تھا‘ تم تو ہم دوستوں میں سب سے زیادہ بااعتماد تھیں میں ایک سال کے لیے باہر کیا گئی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ کہاں گئی تمہاری خوداعتماد اور شوخی؟؟؟ چھوڑو یار ماضی کی باتیں…! شادی کے بعد سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔ ماضی میں اگر میں خود اعتماد تھی تو اس کی وجہ میرے والدین کا مجھ ر اعتماد کرنا تھا۔ شوخ چنچل تھی تو اس کی وجہ والدین کا تعاون تھا۔ کوئی مجھ سے غلط بات کہتا تو دو ٹوک جواب دے کر کہنے والے کا منہ بند کردیتی تھی‘ کسی کی ہمت نہ تھی کہ مجھ سے کوئی غلط بات کہتا مگر شادی کے بعد ساری خوداعتمادی ختم ہوگئی کیونکہ میرے شوہر مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔ مجھ میں خامیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر ایک کے آگے م

گنا ہ ہر حال میں گنا ہ!

27 ستمبر ۲۰۱۸ء کو ملکی عدلیہ نے پہلی بار ایک حیران کن فیصلہ سنایا، یہ فیصلہ میرعدل کے زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے باتفاق رائے صادر کیا۔ اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ۱۸۶۰ء کے قانون تعزیرات کی دفعہ ۴۹۷؍ کی تحت ایک شخص اپنی بیوی کے رہتے ہوئے دوسری عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو یہ جرم ہے، اسی طرح اگر منکوحہ عورت کسی اور مرد سے تعلق قائم کرے تو یہ بھی جرم ہے، اس صورت میں وہ عورت بھی مجرم سمجھی جاتی تھی اور وہ دوسرا مرد بھی، جس نے اس حرکت کا ارتکاب کیا ہے، اس دفعہ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ یہ شخصی آزادی میں مداخلت ہے؛ چنانچہ معزز جج صاحبان نے درخواست گزار کی بات کو قبول کرتے ہوئے اس عمل کو جرم کے دائرے سے باہر نکال دیا، غیر شادی شدہ بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو باہمی رضا مندی سے جنسی فعل کو انجام دینا تو قانوناً پہلے ہی سے جرم نہیں ہے، اسی طرح اگر بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی

بچوں کا روشن مستقبل

انسان  کو اللّٰہ تعالیٰ نے بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم نعمت اولاد بھی ہے۔نکاح کے بعد مرد و عورت ہر ایک کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے، اس کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اُسے اس نعمت سے نواز دیتا ہے، کسی کو لڑکا، کسی کو لڑکی اور کسی کو دونوں، جب کہ بعضوںکو اپنی کسی حکمت بالغہ کی بنا پر اولاد ہی نہیں دیتا۔جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:   ترجمہ:جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ بیٹے عطا فرماتا ہے یا ان کو جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جس کو چاہے بے اولاد رکھتا ہے۔ (الشوریٰ49-50)      اولاد کے متعلق شریعت نے ماں باپ پر کئی ذمہ داریاں عائد کی ہیں:ارشاد الہٰی ہے:ترجمہ:اے ایمان والوں تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی)اس آگ سے بچاؤ۔‘‘  (التحریم6)     اس

حئی علی ا لصلوٰۃ

میں میں جموں سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ اُڑان بھرنے کے تھوڑی دیر بعد جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ’’ جہاز میںایک حاملہ خاتون کو شدید پیٹ درد ہو رہا ہے اور اگر کوئی ڈاکٹر موجود ہو تو وہ برائے مہربانی اس اکیلی خاتون کی مدد کرے۔‘‘ وہ جھٹ سے اپنی سیٹ سے اُٹھ کر خاتون کے پاس گیا۔خاتون دردِزہ میں مبتلا تھی،اس نے مریضہ کو تسلی دی اور کہا’’ صبر۔۔۔میں اور جہاز کا عملہ خاص کر ائرہوسٹس آپ کی ہر طرح کی مدد کریں گے،اگرڈیلیوری بھی کرنی ہو تو یہ بھی کوئی مشکل نہیں،مگرکس ڈاکٹر نے اس حالت میں جہاز کا سفر کرنے کی اجازت دی؟ خیر!کوئی بات نہیں،آپ بالکل بھی پریشان نہ ہوں۔‘‘   اس نے ائر ہوسٹس کی مدد سے پردے کا انتظام کرایا۔خاتون کسی قدر پردہ میں تھی۔اُسے یہ دیکھ کر بڑی مسّرت ہوئی کہ آج جب بے حجابی عام ہے، جموں سے دہلی جانے والی

ماں کا خط بیٹی کے نام

سوشل  میڈیا پر ایک امریکی خاتون کا اپنی بیٹی کے نام لکھا گیا آخری خط آج کل گردش کر رہا ہے۔ ٹوئٹر پر ہزاروں لوگوں نے اس دل کو چھو لینے والے خط کو شیئر کیا۔ پیگی سمرس (Peggy Summers)گردے کے کینسر میں مبتلا تھیں، انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیٹی ہینا کے نام ایک خط لکھا، جو اُسے ان کی موت کے بعد ملنا تھا۔ درحقیقت پیگی نے اپنی فیملی کے ہر رکن کے نام الگ الگ خط لکھا۔ ہینا نے ماں کے محبت میں ڈوبے خط کو پڑھا تو وہ مسحور رہ گئی، اس نے بار بار اسے پڑھا اور آخر فیصلہ کیا کہ یہ محض ایک ذاتی خط نہیں، اس میں جو پیغام پوشیدہ ہے اور جس متاثرکن دلکش انداز میں محبت کا اظہار کیا گیا، اُسے دوسرے لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس خط کو ہینا نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو غیر معمولی ردعمل ملا۔ بےشمار لوگوں کو خط پڑھ کر اپنے دنیا سے چلے جانے والے والدین یاد آئے اور انہوں نے دل گداز الفاظ میں اپنے خیالات رقم کئ

لتا منگیشکر

دلیپ  کمار نے ایک بار کہا تھا کہ قدرت نے ہندوستان کو ایک خاص تحفہ دیا ہے اور اس تحفہ کا نام لتا منگیشکر ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ تحفہ ابھی ہمارے بیچ موجود ہے۔ جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، ملکہ کی آواز اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی۔ کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تشریح کرنا کسی زبان میں ممکن نہیں ہو پاتا، ایسی ہی ایک چیز لتا کی گائیکی ہے، اس کی تشریح کوئی ایک زبان نہیں کر سکتی۔28 ستمبرکو لتا منگیشکر کی یوم پیدائش پر وہ 89 سال کی ہو گئی ہیں۔ یو ں تو وہ برسوں قبل فعال گائیکی سے علیحدہ ہو چکی ہیں لیکن ان کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ موسیقی کے پرستاروں کی ہر نسل انہیں اپنے ہی دور

۔10 عادتیں : اپنا یئے توامیر بنئے

آپ   کی موجودہ اور آنے والی دولت کا انحصار چند بہت ہی بنیادی اور بظاہر غیر اہم عادات پر ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی موجودہ اور آنے والی دولت کا انحصار چند بہت ہی بنیادی اور بظاہر غیر اہم عادات پر ہوتا ہے ۔جی ہاں، اپنی روز مرہ کی ذاتی اور پیشہ ورانہ مصروفیا ت سے کچھ وقت نکال کر اگر ان دس عادات کو معمول بنا لیا جائے تو مستقبل قریب میں آپ کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوگا۔ گھبرائیے نہیں یہ کوئی ایسی ویسی عادات نہیں ہیں بلکہ یہ عادات انتہائی مثبت اور مفید ہیں ایسی روش اختیار کرنے سے آپ کی پیشہ ورانہ مہارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا، دنیا کے امیر ترین افراد کے معمولات زندگی پر کی جانے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مندرجہ ذیل 10 ؍عادات ایسی ہیں جو اگر آپ بھی اپنا لیں تو آپ کی جیبیں نوٹوں سے بھری رہیں گی۔  اہداف طے کریں: یاد رکھئے صرف طویل المد تی من

بنتِ حوا ۔۔۔ عزت و انفرادیت کی بار گاہ میں

عورت  کے مرتبے، مقام ،فضیلت ،عزت و تکریم اور احترام کے حوالے سے اسلام نے روز اول ہی دنیا پر واضح کیاکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کے بعد حضرت حواؑ کو آدمؑ کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواؑ کی پیدا ئش پردے میں کی۔اس ایک رموزِ خداوندی میں ہمارے لئے کئی اہم ہدایات پنہاں ہیں۔پہلی ہدایت یہ کہ پردہ عورت کی فطرت ہے ، لہٰذا اُس کا ہر صورت پردہ کیا جائے ، اُ س کی عفت کی حفاظت کی جائے ،اُسے کچھ اس طرح رکھا جائے جس طرح کسی قیمتی شئے کو سب کی للچائی نظروں سے چھپا کے رکھاجاتاہے، یا کوئی انمول چیز کھو دینے کے ڈر سے پورے اہتمام کے ساتھ سنبھال سنبھال کے رکھی جاتی ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ انسان کے بائیں طرف چونکہ دل ہوتا ہے، اس لئے عورت چاہیے ماں ہو، بہن ہو،بیوی ہویا بیٹی ہو،ا ُس کا مقام دل میں ہونا چاہئے۔          تیسری ہدایت یہ کہ اپ

سہ طلاق آرڈی نینس!

 سہ طلاق کو قابل سزا جرم بنانے میںمودی حکومت نے جو آرڈی ننس جاری کیا وہ صرف ہندوتو ووٹ بنک کو رجھانے کا ایک سیاسی moveہےلیکن اسے مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی کا نام دیا گیا ہے  جوکہ محض ایک بے دلیل دعویٰ ہے ۔ یہ قانونی داؤ پیچ اور آئینی حقو سے چھیڑچھاڑ ملک میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مسلمان تو مسلمان ہر وہ شخص جس کا ملکی آئین اور جمہوریت پر بھروسہ ہے ،جو ملک کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے، جوامن اور بھائی چارہ چاہتا ہے ، جو محب وطن ہونے کو اپنے ایمان کا حصہ مانتا ہے ،اس کی نظر میں یہ قانون ملک کے آئین و دستور کے ساتھ بھونڈا مذاق اور ایک غیر جمہوری اقدام ہے ۔ ایک طرف تو مرکزی حکومت عورتوں سے ہمدردی کا دعویٰ کرتی ہے، حقوق نسواں کی دہائی دیتی ہے ، وومنز ایمپاورمنٹ کی قسمیں کھاتی ہےاور دوسری طرف لاکھوں مسلم خواتین کے جذبات کو مجروح

ایس ایس اے ٹیچر

 تاریخ  عالم گواہ ہے کہ نسل نو کی تعمیر و ترقی ،دنیا ئے انسانیت کی نشو نما ،معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور فرد ِبشر کی فلاح و بہبود کے پیچھے ہمیشہ کسی  کامیاب معلم اور باکمال استاد ہوتا ہے، لہٰذا اُس کا مقام ومرتبہ جتنا بڑا ہوتا ہے شاید ہی کوئی اوراس کو پا سکتا ۔ آپ ﷺ کو اسی مناسبت سے معلم ِانسانیت اور استاد ِکُل کے ناموںسے پکارا گیاکیوں کہ آپ نے عالم ِانسانیت کو درس انسانیت دیا اور انہیںحیوانیت سے بچنے کے طور طریقوں سے آشنا کیا ۔ اس میں دوائے نہیں حقیقی استاد باپ سے زیادہ درجے کاحامل اور عزت و شرف میں ممتاز ہوتا ہے ،جسے قوم و ملت کا حقیقی رہنما اور نسل انسانی کا کامل پیشوا مانا جاتا ہے ،جس سے علم کا دریا بہتا ہے ،عمدہ اخلاق کی فضا ہموار ہوتی ہے اورامن و امان کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ یہ ایک فرض شناس استاد ہی ہوتا ہے جو انسانیت کو سجا سنوار کر ملک وقوم کی ترقی و فلاح کے لئے

مسکان بیٹی

تاریخ ایک ننھی سی پری جنوبی کشمیر کے گاؤں ترکانجن میں دوسری عید کو چلی ہزاروں خوشیوں کو منانے اپنی سہیلوں کے سنگ ،ننھے اَرمان ننھی خوشیاں سہیلیوں کے ساتھ دن بھر خوشیاں منانے کے بعد رات کے اندھیرے تک گھر نہ آئی  اماں نے لذیذ پکوان بنا کے رکھے، بیٹی آئے گی، بھوک محسوس کر رہی ہوگی، پر بیٹی کو نہ آنا تھا نہیں آئی  اماں نے آس پڑوس میں معلوم کیا ، وہ کہیں نہ ملی، دو دن گزرگئے، چار دن بیت گئے ، ہفتہ گزرا، دل وجگر کی طمانیت نظروں سے دور رہی ، کہیں نہ ملی اس معصوم پری کا نام مسکان جان بنت مشتاق احمد گنائی ساکن لڑی ترکانجن تحصیل بونیار  معصومہ اسکول جاتی تھی، عید تھی نانہیں گئی پڑھنے لکھنے ۔ ورنہ یہ پری روزاسکول جاتی تھی ۔ پانچویں جماعت کی ایک ہونہار طالبہ تھی، اس کی اماں گر چہ غیر ریاستی خاتون تھی مگر تھی نا ایک مامتا بھری ماں ہی۔ اپنی پری کے لئے

مقدس ماں وردھ آشرم میں؟؟؟

مجھے   لگاکہ یہ بڑھیا اُس کی ماں ہے مگر اس کے رکھ رکھائوسے وہ کوئی نوکرانی لگتی تھی، اس لیے میں نے پوچھا:’’ بہن جی کیایہ آپ کی ماں ہے؟‘‘ ’’نہیںیہ میری ساس ہے‘‘ ۔اس نے جواب دیا۔ ’’ساس بھی توماں ہی ہوتی ہے ‘‘۔میں نے جواباً کہا۔ ’’ان کوکیاتکلیف ہے ؟‘‘میں نے پھرپوچھا۔ ’’کھاناہضم نہیں ہوتاہے ،ہروقت جوکھاتی رہتی ہے ۔ڈکاریں آتی رہتی ہیں ۔اُلٹیاں کرنے کودِل کرتاہے وغیرہ وغیرہ ‘‘۔وہ لڑکی بولی  ’’یہ بہت زیادہ کمزوراورلاغر ہیں‘‘۔میں نے کہا ’’یہ کھاتی توبہت ہیں اورکام بھی کچھ نہیں ہے،ان کامنہ ہی چھوٹا ہے،پیٹ بہت بڑا ہے‘‘ ۔ اتنے میں ڈاکٹرمہیش نے اندرسے آوازدے کربلایا۔ ’’اندراد

جینے کی راہ دھوپ چھاؤں پھول کانٹے زندگی کا نام ہے

ہی ہم زندگی گزارنے اور جینے کی راہیں ڈھونڈنے کے لئے طرح طرح سے خیالات کی کھیتی میں بیج ڈال کر سوچ سے آ بیاری کرتے ہیں ۔ زمین کو ہموار کرنے کا عمل مستقبل کی اچھی فصل کی امید میں آنکھوں میں لہلاتے کھیت کا منظر بسا لیتے ہیں ۔ماضی بنجر اور سخت زمین کی طرح پہلی فصل کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔کوشش میں اگر کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنے کی حتی الوسع سعی کی جاتی ہے،مگر قدرتی آفات یا نا گہانی آفت سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا ۔بیج سے پیدا ہونے والا پودا دو بار جینے کے لیے لڑتا ہے ۔ پہلے بیج سے اور پھر زمین سے نکلتے وقت ، اس کے بعد وہ حالات کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے ۔بارش کی کمی بیشی اور دھوپ چھاؤں میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے میں محتاج دعا ہو جاتا ہے ، وہاں وہ کسی کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے تو کسی کو مایوسی ۔اسی طرح انسان بھی دو طرح سے جینے کی جنگ کرتا ہ

برہنگی برائیون کی جڑ

 تاریخ  اسلام کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے۔مدینہ منورہ میں ایک خاتون تھیں جنہیں اُمِّ خلاد رضی اللہ عنہا کہا جاتا تھا۔ غزوئہ خندق کے فوراً بعد جب غزوئہ بنو قریظہ پیش آیا تو ان کے صاحبزادے حضرت خلاد ؓ نے اس غزوہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کا پتہ چلا تو یہ اپنے گھر سے ان کی میت دیکھنے کے لیے روانہ ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ دل میں ہو گا لیکن ایسے موقع پر بھی یہ اپنا نقاب کرنا، جو پردے کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے، نہ بھولیں۔ جب یہ اُس جگہ پہنچیں جہاں ان کے صاحبزادے کی میت رکھی ہوئی تھی، تو کئی ایک لوگوں کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ ’’اپنے بیٹے کی میت پر آئی ہیں اور اس حال میں بھی نقاب کر رکھا ہے‘‘ یعنی ایسے غم کے وقت پردے کے اہتمام کی بھلا کیا ضرورت ہے؟؟؟ حضرت ام خلاد رضی اللہ عنہا نے اس با

اللہ کی نعمتیں

  کون ہے جو بیمار ہونا چاہتا ہے؟بیماری تو نہ صرف اِنسان کا جینا دوبھر کرتی ہے بلکہ یہ جیبیں بھی خالی کر دیتی ہے۔ اِس کی وجہ سے آپ کی طبیعت بیزار رہتی ہے، آپ کام پر یا سکول نہیں جا سکتے، کمائی نہیں کر سکتے اور اپنے گھر والوں کی دیکھ‌بھال بھی نہیں کر سکتے۔ اُلٹا دوسروں کو آپ کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو علاج اور دوائیوں پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑے۔‏ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے۔‏‘‘کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہم بچ نہیں سکتے۔ پھر بھی آپ کچھ ایسی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں جن سے بعض بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان یا تو کم ہو سکتا ہے یا پھر بالکل ختم ہو سکتا ہے۔ آیئے، پانچ ایسے طریقوں پر غور کریں جن پر عمل کرنے سے آپ اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‏ 1 ہاتھ اچھی طرح دھوئیں جسم اور دا

لباس ہو تو کیسا؟

 ڈریس  کوڈ ایک وسیع المعنی اصطلاح ہے جس سے کسی قوم یا معاشرے کی تہذیب اور اس کے تمدنی احوال کا اظہار ہوتا ہے ۔اسلام بھی بہ حیثیت مکمل دین ِانسانیت اپنے پیرو کاروں میں منفرد ڈریس کوڈ یا مخصوص لباس کا تصور متعارف کرتاہے ،جس کا لب لباب انسانی ستر کا اہتمام ، شخصیت کاتزئین اور موسمی حالات وکوائف کا پاس ولحاظ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا اصل تعلق پہناوے کے طور طریقوں سے نہیں بلکہ دل کی دنیا سے ہے اور یہ چاہتا ہے کہ دلوں کی زمین پہ صرف اور صرف اللہ اور رسول ؐکا راج تاج ہو۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دین کا تعلق روح سے ہے ظاہری جسم سے نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم یہ بات ذہن نشین کریں کہ دین اسلام کے احکام ہمارے جسم پر بھی نافذ ہوتے ہیں اور روح پر بھی لاگو ہوتے ہیں ، ظاہر پر بھی اور باطن پر بھی ۔ قرآن مجید کی تعلیم ہے کہ ہم ظاہر کی آلائش اور باطن کے گناہ کلی طور چھوڑ دیں۔ ایک بزرگ

حیاء حیات ہے!

قرآن   پاک میں اللہ فرماتے ہیں:’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا ، احسان کا، اور رشتہ داروں کو دینے کا اور وہ روکتا ہے بے حیائی سے ، برائی سے اور زیادتی سے وہ تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، سبق سیکھو۔‘‘اس آیت میں کچھ چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے او رکچھ چیزوں سے روکا گیاہے ۔ ممانعت جن چیزوں کی گئی ،ان میں ایک چیز بے حیائی ہے جس کے لئے یہاں لفظ فحشاء استعمال ہوا ہے۔ فحشاء سے مراد بے حیائی اور بے شرمی کی باتیں ہیں اور ایسے اعمال جو حیاء کے منافی ہوں۔ جو شخص شرم و حیاء سے کام لیتا ہے وہ اپنے ایمان کو مکمل کرتا ہے اور بے حیائی ایمان کی دشمن ہے۔ حیاء ہی وہ چیز ہے جس سے انسان اور حیوان میںفرق ہوتا ہے۔ انسان جانوروں سے مختلف ہے۔ انسان کو اللہ نے عقل او رشعور عطاء کیا ہے۔ اس عقل و شعور کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیاء سے کام لے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ’’

لکھنا ایک فن ہے

فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہےاپنے خیالات قلم بند کریں، تخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔ایک لکھاری بھی دیگر فن کاروں اور ہنرمندوں کی طرح تخلیق کارہوتا ہے، جو معاشرے کی تصویرکو اپنے خیالات، نظریات اور فکر کے ذریعے قلم کی زبان عطا کر کے الفاظ کے روپ میں ڈھالتا ہے۔ وہ جو دیکھتا اور سوچتا ہے، اسے الفاظ کے ذریعے دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے ایسا کرنے پر اس کا احساس مجبورکرتا ہے۔ لکھنے کا تعلق جبر سے نہیں، بلکہ تخلیق کار کی تمنا، آرزو، خواہش، مرضی و منشا، شوق اور اس کے جذبات و احساسات سے ہوتا ہے۔ ایک لکھاری کسی بھی معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے، جو مشاہدے کی طاقت سے معاشرے اور اس میں ہونے والے تمام افعال کو الفاظ کی تصویر پہناتا ہے۔ لکھاریوں کی اکثریت خود کو بے لوث معاشرے کے لیے وقف کیے رکھتی ہے، جس بنا پر یقینا ان کو بہت ہی معزز اور قوم کا فخر سمجھا جاتا ہے۔لکھنا ای