حوّا کی بیٹی!

مرد  جب کمانے کے قابل ہوتا ہے تو سہولیات اور آسائشیں گھر میں قدم رکھ دیتی ہیں، اگر کچھ نہیں تو کم از کم مشکلوں کا خاتمہ ضرور ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس جب ایک عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو مشکلات کا آغاز تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔آج کل بہت سی عورتیںگھر سے باہر جاکر مردوں کے برابر ہنر مندانہ طریقے سے کام کرتی ہیں ۔ کامگار خواتین مرد کے کاندھے سے کاندھا ملا کر دس سے چار تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ وقت کام کرتی ہے۔جب کام سے واپس لوٹتی ہے تو اس کو گھر کا، بچوں کا ،گھر کے ہر فرد کا ، رشتہ داروں کا، ہمسایوں کا اس طرح خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کا وجود روبرٹ(ROBOT ( کی طرح ہر وقت کام کرتا رہتا ہے۔اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ا پنے شوہر کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو اس کا جیون ساتھی ہو ، میاں بیوی کی جوڑی ہی اس لیے بنتی ہے کہ زندگی کے سفر میں یہ ایک دوسرے کو ہر چھوٹے بڑے کام میںساتھ دینے والے ہم سفر ہ

ویلنٹینا ٹرشکورا

 چاند پر سب سے پہلا قدم کس نے رکھا تھا، یہ تو سب ہی جانتے ہیں۔ تاہم زمین سے باہر خلا میں جانے والا پہلا شخص اور پہلی خاتون کون تھی، اس کے بارے میں بہت کم افراد جانتے ہیں۔سنہ 1969 میں جب چاند پر پہلے انسان نے قدم رکھا، اس سے 8 سال قبل ہی روس اپنے پہلے خلا نورد کو خلا میں بھیج چکا تھا۔ یوری گگارین کو خلا میں جانے والے پہلے شخص کا اعزاز حاصل ہے۔اس کے صرف 2 سال بعد 1963 میں ایک باہمت خاتون ویلینٹیا ٹرشکوا خلا میں جانے والی پہلی خاتون کاا عزاز حاصل کر کے تاریخ میں اپنا نام درج کروا چکی تھیں۔سنہ 1937 میں سوویت یونین کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والی ویلینٹینا کے والد ٹریکٹر ڈرائیور تھے ،جب کہ والدہ ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں ملازمت کرتی تھیں۔ویلینٹینا کی عمر صرف 2 سال تھی جب ان کے والد فوج کی ملازمت کے دوران مارے گئے۔ والد کی موت کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ فیکٹری میں کام کرنے لگیں۔

روسی حسینہ کا قبولِ اسلام

 اوکسانا ووئی ووڈینا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ریحانہ رکھ لیا ہے اور ملائیشیا کے بادشاہ شاہ محمد پنجم سے شادی رچائی۔ ریحانہ کو ملکہ اور ملک کی خاتونِ اول ہونےکا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ملائیشیا کے 49 ؍سالہ بادشاہ نے 25 سالہ سابق ’’مس ماسکو‘‘ سے روس میں یہ شادی ماسکو مینروایتی جوش وخروش سے کرلی ۔ 25 ؍سالہ ریحانہ ( سابقہ اوکسانا ووئی ووڈینا )کی شاہ محمد پنجم سے شادی ماسکو میں ہوئی ۔ اس سے قبل وہ باضابطہ طور اسلام قبول کرکے اپنا نام ریحانہ رکھ چکی تھیں۔ میڈیا تفاصیل میں میںیہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ماسکو کے ایک بہت بڑے ہال میں پرتکلف اور شاندار تقریبِ نکاح منعقد ہوئی جس میں مہمانوںحلال کھانا پیش کیا گیا ۔اس تقریب کی خاص یہ تھی کہ روایت سے ہٹ کر اس میں شراب نوشی کی اجازت نہیں تھی۔ اس مو

پروفیسر رفیع العماد فینان

بچوں  سے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نئے نئے الفاظ اور ان کے معنی پر دھیان دو۔روزانہ انگریزی اور عربی کے اخبار پڑھو۔ ٹی وی یا ریڈیو پر انگریزی اور عربی خبریں سنو۔جو نئے الفاظ پردۂ سماعت سے ٹکرائیںان کے معنی یاد کرلیا کرو۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب نہ تو ہر گھرمیں ٹی وی ہوتا تھا۔ نہ ہر کس و ناکس کو عربی اخبار میسر تھے۔ کبھی کوئی سینئراستاد کسی عرب ایمبسی سے یا کسی عرب شیخ سے عربی اخبار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا تویہ معجزہ ہی ہوتا تھا۔آج کے زمانے میں انٹر نیٹ اور یو ٹیوب نے ساری مشکل حل کردی ہے۔ عالم عرب کے اخبارات اور عرب وعجم کے ٹی وی چینل انگلیوں کی گرفت میں سمٹ گئے ہیں۔اب وہ معذرت قابل قبول نہیں کہ عجم میں بیٹھ کر عربوں سے استفادہ ممکن نہیں۔ عجمیوں کے لیے عربوں کی طرح لکھنے اور بولنے کی استطاعت کا تصور مشکل ہے۔مجھے یاد ہے فینان صاحب نے بتایا کہ وہ آج بھی نئے نئے الفاظ کے معنی یاد ک

فہمیدہ ریاض

ممتاز  شاعرہ فہمیدہ ریاض ۲۸جوئی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔وہ ایک ترقی پسند شاعرہ تھیں۔وہ حقوق انسانی کے لیے لکھتی رہیں اور بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے انھوں نے شاعری کی۔پہلی نظم فنون لاہور میں شائع ہوئی۔پہلا مجموعہ’’ پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میںسامنے آیا۔’’بدن دریدہ ‘‘۱۹۷۳ء میں ،’’امرتا پریتم کی شاعری ‘‘۱۹۸۴ء میں،’’ادھورا آدمی‘‘ ۱۹۸۶ء میں،’’آدمی کی زندگی‘‘ ۱۹۹۹ء میں،’’ان کی کتابوں میں گوداوری‘‘، ’’خطِ مرموز‘‘۲۰۰۲ء میں،’’خانۂ آب وگل‘‘،’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘، ’’ہم رکاب‘‘،’’اپنا جرم ثابت ہے‘‘،’’میں مٹی کی م

آہ! فہمیدہ ریاض

شام میں کچھ مدیران حضرات نے تازہ رسالے عنایت کئے تھے۔ ایک کی جلد پر شائع تصویر میں فہمیدہ ریاض کی بھی ایک تازہ تصویر تھی، جیسے دیکھ کر ہم حیران رہ گئے تھے، اُن کی آنکھوں کے گرد گہرے گہرے سیاہ دائرے تھے۔ مشاعرے میں فاطمہ حسن صاحبہ بھی تھیں۔ انہوں نے تانیثیت کے موضوع پر اپنی کتا ب عنایت کی تھی۔( دیباچے میں ہماری کتاب’’بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب‘‘ کا اعتراف تھا ،اس موضوع پر ہم سے پہلے کسی نے تفصیلی کام ہی کیا تھا،نہ کوئی جامع حوالہ کہیں موجود تھا۔ ہمارے چھ برس لے لئے تھے اس فریضے کی ادائیگی نے) فاطمہ صاحبہ نے بتایا کہ فہمیدہ ریاض کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے۔ سانحہ بھی ایسا کہ جینا ناممکن سا ہو جائے اور غم کم ہونے کا نا م ہی نہ لے۔ بہرحال فہمیدہ ریاض کی ممتا کا درد لئے ہم دلی آگئے۔ ایک نظم ہوئی’’ ایک تصویر ‘‘جو ایوانِ اردو میں

اے قوم! غیرت تمہاری کیا ہوئی؟

میرا  پیارا وطن کشمیر کب سے جل رہاہے، مجھے پتہ نہیں ۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا، چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا۔  یہاں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ لفظوں بیان نہیں ہوسکتا۔ میں نے کوئی دن ایسا نہ پایا کہ خوشی سے دل پاگل ہوجاتا۔ نامساعدحالات کا ایک غم ابھی تازہ ہوتا ہے ، دوسر ا غم بے دھڑک دل کے دروازے سے سیدھے جگر میں پیوست ہو جاتا ہے۔  میں شہر خاص کی بیٹی ہوں۔میری ہمسائیگی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ زیادہ تر غریب ہیں، کوئی کوئی ان میں امیر بھی ماناتا ہے ۔ ان بڑے لوگوں کے زیادہ تر بچے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں ، کہیو ں  کے بیٹے اور بیٹیاں انڈیا اور انڈیا سے باہر کئی ملکوں میں لاکھوں کے ڈونیشن پرڈاکٹری ، انجنیئرنگ، ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن(ایم بی اے ) وغیرہ کی ڈگریاں کر تے ہیں ۔ کشمیر کے بیٹے گھر سے باہر تعلیم کے لئے جاتے تو کسی کے ماتھے پر شکن نہیں پڑتی مگر ب

ترقی وکمال

یہ   زندگی کی بہت بڑی حقیقت ہے کہ عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی کے رشتوں میں محدود نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی قوم یا معاشرے میں عورت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ دراصل قوم کو بنانے کے لئے صرف ماں ہی اپناکردار ادا نہیں کرتی بلکہ بیٹی ، بہن اور بیوی جیسے عظیم رشتوں میں ڈھل کر بھی اس کا کردار وہی ہوتا ہے جو قدرت اور فطرت نے اسے ازل سے ابدتک عطا کیا ہوا ہے ۔ عورت اپنے ہر رنگ اور ہر رشتے میں صبر ، برداشت ، قربانی ، محبت اور سچائی کی ضامن ہوتی ہے ۔‌کسی مفکر کا قول ہے کہ کسی قوم کی حالت دیکھنی ہو اس ملک کی ٹریفک کا انتظام دیکھو۔ سوچئے جو قوم ابتری اور افراتفری کی شکار ہو ، جو لوگ کسی کو رستہ دینا نہ جانتے ہوں ، اس قوم کی عورت پر کتنی بھاری ذمہ داری ہوگی کہ قوم کو تحمل ، برداشت ، محبت اور رواداری شائستگی کیسے سکھائے ۔ مجھے‌نپولین کا قول یاد آتاہے ’’تم مجھے اچھ

اپنی شناخت بچائیں

 زمانہ بدل گیاہے، اپنے زمانے میں جب ہم انگریزی پڑھتےتھے تو ہمیں اردو میں ا س کا مطالب و معانی سمجھائے جاتے تھےا ور بے محاورہ ترجمہ کرکے ہمیں سمجھایا جاتاتھا۔ اب ہمارے بچے اردو میں کچھ بھی پڑھتے ہیں تو انہیں انگریزی میں ترجمہ کرکے سمجھایا جاتاہے اور وہ سمجھ بھی جاتے ہیں کیونکہ آج کل انگلش میڈیم اسکولوں میں بچوںکو پڑھانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ بچے فر فر انگریزی بولیں اور ہمارے سر فخرسے بلند کریں۔ یہ کوئی معیوب بات بھی نہیں کیونکہ زمانے کی روش ہی ایسی ہے ،تاہم انگریزی میں آگے نکلنے میں ہماری سرکاری، تہذیبی اور مذہبی زبان اردو کہیں پیچھے نہ رہ جائے، اسی لئے بچوں کو اردو سکھانے میں بھی اتنی ہی محنت کریں جتنی کہ دیگر مضامین یا زبانیں سکھانے میں کرتے ہین۔ بچوں کو اردو سکھانے سے پہلے ہم کچھ اردو کے بارے میں سیکھ لیتے ہیں۔ اردو زبان کی تاریخ: اُردو ترکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی لش

اسمارٹ فون ایک جنون!

طالب  علم اسمارٹ فون کا استعمال کیسے محدود کرسکتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں طالب علموں سمیت ہر مرد و زن جنون کی حد تک اسمارٹ فون کی عادت میں مبتلا ہے۔ سڑکوں پر چلتے، کسی کا انتظار کرتے، مسافر گاڑیوں،کاروں، حتیٰ کہ بائیک پر سفر کرتے ہر عمر کے لڑکے اور لڑکیاں آپ کو موبائل پر سرفنگ کرتے نظر آئیں گے، جو کسی بھی طرح دانش مندانہ رویہ نہیں ہے۔ تازہ ترین سروے کے مطابق لوگ دن بھر میں 80 سے 150 بار موبائل سے رجوع کرتے ہیں۔کچھ اس عادت میں اس بری طرح گرفتار ہیں کہ رات بھر ویڈیو گیمز یا چیٹنگ میں مصروف رہتے ہیں۔ طالب علمی کا دور زندگی کا بہت خوبصورت اوربیش قیمت وقت ہوتا ہے، جب آپ اپنے کیریئر کو کامیابی پر گامزن کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ وقت موبائل کی نذر کردینے سے تاعمر آپ کو یہ ملال ستاتا رہے گا کہ کاش قیمتی وقت ی

حقوق ِنسواں کی دہائی دینے والو!

  یاد رکھئےعورت کوئی چیز یا جسم محض نہیں ہے بلکہ ایک آزاد اورزندہ سماجی اکائی ہے جس کوعزت کے ساتھ زندگی جینے کا مساویانہ حق حاصل ہے مگریہ کیسا سماج ہے جہاں زندہ انسان کی کوئی قیمت نہیں لیکن مردہ انسان کی عزت کی حفاظت کے نام پر لوگ سڑک پر اُتر آتے ہیں، توڑپھوڑ کرتے ہیں، یہاں تک کہ تشدد کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں اور عورت کی عزت کے ساتھ کوئی چھیڑچھاڑ برداشت نہیں کی جائے‌گی، کا نعرہ بلند کیا جاتا ہےلیکن جب راجستھان کے جھالاواڑ میں7؍سالہ نابالغ کے ساتھ اس کے ہی باپ نے بدکاری کی تو کہیں کوئی شور نہیں ہوا۔گڑگاؤں میں16؍سال کی لڑکی جو ایک ہسپتال میں علاج کے دوران بستر پر لاچار پڑی تھی، اس سے دو مرد نرسوں نے بدکاری کی کوشش کی ،دہلی کے میکس ہسپتال نے وقت سے پہلے پیدا ہوئے دو جڑواں بچّوں کو مردہ بتاکر پالی تھین  بیگ میں ڈال‌کر ان کے سرپرستوں کو سونپ دیا،

ماں: جاں میری قرباں تجھ پہ میری ماں

  اللہ کے رسول ﷺ کا فر مان مبارک ہے : ’’جنت ماں کے قدمو ں تلے ہے۔‘‘ یہ ماں کا مامتا بھرا وجو د ہے جو استقرارِ حمل سے وضع ِحمل تک جا ں گسل اور پُردرد مراحل طے کر تا ہے ۔ یہ ما ں کا ہی وجو د عالی ہے جو وضع ِحمل سے دودھ چھڑانے تک کے مشکل مرا حل کو بڑی خندہ پیشانی سے انگیز کر تا ہے ۔ یہ ماں کا ہی وجو د ِ ملکوتی ہے جو ہر دم ہر آن بچے کے آرام کے لئے دنیا بھر کی کلفتیں اور تکلیفیں نہایت ہی مسرت اورمصابرت سے سہہ لیتا ہے ۔ یہ ماں ہی ہے جو بچے کو صرف دینا چا ہتی ہے ، اُس سے لینے کے خیا ل سے بے نیاز ہو تی ہے۔ یہ ما ں کا ہی قلب ِاطہر ہے جس پر خا لق کائنات اپنی اَتھاہ رحمت ومحبت کا پرتو ڈال کر اسے بچے کے لئے سراسر رحمت و مودت کا پیکر بنا دیتا ہے ۔ یہ شفیق و رفیق ما ں ہی ہے جو جُوئے شیِر کی ہمہ وقت روانی سے بچے کا سفر حیات سہل و آسان بنا دیتی ہے ۔ ماں اگر اللہ کی نیک

حوا کی بیٹی غور سے سنے

  عورت ایک ایسی معطر خوشبو ہے جس کے بغیر دنیا ئے چمن کی خوبصورتی نا مکمل ہے۔عورت ایک ایسے مقدس رشتے کا نام ہے جس کے سرسے اگردوپٹہ سرک جائے تو اہل بریں کا سر شرم سے اور آنکھیں  تعظیم سے جھک جاتی ہیںلیکن جدت پسند معاشرتی بگاڑ اور ترقی کی ڈور میں کوشاں خود ساختہ معاشرتی اقدار نے عورت کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔اس نئی معاشرتی لغت نے عورت کے مقام و منزلت کے معانی و مفہوم کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے۔گھر جسے عورت کا مسکن کہا جاتا ہے،اسے آج کل کے جدیدمعاشرے کی عورت نے خیر آباد کہہ دیا ہے۔وہی گھر جو عورت کے لئے راحت وسکون عزت کی علامت اور امن کا گہوراہ ہے،آج اسی گھر میں عورت کا دم گھٹ رہا ہے،اسے بوریت محسوس ہوتی ہے،احساس کمتری ڈستاہے۔گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے جدید معاشریت،معاشرتی رجحان اور نئے طرز معاشرت نے حوا کی بیٹی کے ذہین سے انگار آبرو کو کھرچ ڈالا ہے۔ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔شرم

آزادیٔ نسواں کی اصلیت

آج کل ہمارے معاشرے کے ذی ہوش طبقے کو یہ سوال بار بار ذہن وقلب کو کریدتا رہتا ہے کہ ہم مغرب سے کیوں شکست کھا ئے جار ہے ہیں ۔ مغربی تمدن جو کوئی بھی سحرسامری ایجاد کرتا ہے ،وہ ہمارے یہاں نمودار ہو تو ہم اس پر کیوں آگے بڑھ کر لپک پڑتے ہیں اور بے ساختہ بول اُٹھتے ہیں واہ کیا بات ہے ۔ کیاہمای مثال اس بچہ کی سی ہے جو ہر کھلونے کو دیکھ کر ضد کرتا ہے کہ یہ مجھے دے دو؟یہ طرزعمل ہمارے احسا س کم تری خود اعتمادی کا غماز ہونے میں دورائے نہیں۔ اب کیاہمیں اپنی ذات ،اپنے دین ،اپنے عقائد،اپنی خداداد صلاحیتوں اور اپنی صحت مند تہذیب وتمدن پر اعتماد نہیں رہا ہے؟مغربی تہذیب کی مرعوبیت سے ہم نے اپنی حقیقت اور اپنی قدرت واختیار کو بھولی بسری کہانی بناڈالا ہے ۔چاہئے تو یہ تھا کہ ہم مغرب سے اپنے مطلب کی نفع مند اور کار آمد چیزیں اختیار کرتے ہوئے صرف اُن صاف ستھرے اقدار کو اپناتے جو ہمارے عقائد ،اخلاق و اقدا

اپنے بالوں کی حفا ظت کریں

بال مرد کے ہوں یا عورت کے، وقار اور خوبصورتی سے ان کا خاص تعلق ہے۔ بلاشبہ یہ قدرت کا بیش بہا عطیہ ہیں جو انسانی جسم کو خوبصورتی عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی گھنے اور سیاہ بال پسند کرتا ہے اور سب سے زیادہ توجہ انسان انہی پر دیتا ہے۔ شیو بناتا اور اصلاح گیسو سب اسی فطری خواہش اور توجہ کے مظاہر ہیں۔ ہمارے جسم پر تقریباً پانچ لاکھ بال ہوتے ہیں۔ صرف پاؤں کے تلوؤں اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں ہی ایسی جگہ ہیں جن پر بال نہیں اُگتے۔ جسم میں سب سے زیادہ بال سر پر ہوتے ہیں اور ان کی تعداد تقریباً سوا لاکھ ہوتی ہے۔ بالوں کی لمبائی ایک انچ سے ایک گز تک ہوتی ہے اور عمر دو سے چھ سال تک ہوتی ہے۔ چھ سال بعد پرانا بال گر کر نیاآجاتا ہے۔ گرم آب و ہوا والے مقامات پر بال زیادہ بڑھتے ہیں۔ ظاہری طور پر بال بہت نرم معلوم ہوتے ہیں مگر بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ بالوں کی لمبائی رنگت اور ساخت کا تعلق عموماً کافی ح

حجاب نسوانی حُسن کی علامت

میں  اُن وجوہات کاذکر لازم سمجھتا ہوں جن سے معاشرہ اور ہماری تہذیب دونوںمتاثر ہوتے ہیں اور ہر روز کبیرہ گناہوں کے شمار میں اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے۔لفظ حجاب(عربی)اور لفظ پردہ(فارسی) زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور تقریباً ہم معنی ہیں ان جیسے کئی اور الفاظ بھی مثلاََبرقع ، گھونگٹ،پردہ،آڑ،حیا،شرم ،نقاب اور حجاب لغت میں ملتے ہیں۔مستورات کے لئے لفظ پردہ غیرمحرم مردوں سے اپنے اجسام کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تا کہ وہ مردشیطانی اوہام سے محفوظ رہیں اور ان عورتوں کی عزت و عصمت محفوظ رہے۔حجاب ایک وسیع المعنٰی لفظ ہے اور اس کی ضِد کشف ہے۔لفظ حجاب قرآنِ کریم میں سات بار استعمال ہوا اور (سورۃ احزاب،59)کا مفہوم ہے کہ اے نبیؐ!اپنی بیویوں ،صاحب زادی اور مسلمان عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنی چہروں پر ڈالے رہیں۔یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ عورت کے لئے اپنے سر اور چہرہ کو چادر

ایک اَبھاگن قیدی!

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپنے وطن مالوف میں گمشدگی، پھر بگرام ائر بیس کابل میں ان کاقید وبند ،امریکہ میں عمر بھر کی جیل سزا ملنے کے نکات نے اس ہائی پروفائل کیس کو روزاول سے ہی بحث طلب بنا رکھا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی شہر سے ہے۔ والدین اسلامی ذہن کے ہیں اور سابق صدر ضیا الحق کے حامی گنے جاتے ہیں۔ عافیہ ایک ذہین طالبہ رہیں اور سن نوے میں امریکہ چلی گئیں جہاں ان کا بھائی پہلے ہی موجود تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ میں نیورو سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ سن پچانوے میں ڈاکٹر امجد خان سے عافیہ کی شادی ہوئی۔ عافیہ دوران قیام اسلامی موومنٹس اور فلسطین، بوسنیا اور کشمیر کاز کے ساتھ منسلک تھیں اور بہت ایکٹو سپورٹر تھیں۔ سن چھیانوے میں عافیہ کا پہلا بیٹا احمد پیدا ہوا۔ اگست۲۰۰۲  میں کراچی میں دونوں کی طلاق ہو گئی جب کہ عافیہ تیسرے بچے سلیمان سے حاملہ تھی جو طلاق کے دو ہفتے بعد پید

خواتین میں چھاتی کا کینسر

کینسر کی سب سے عام قسم چھاتی کا کینسر ہے اور خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات میں دوسری بڑی وجہ بھی ہے۔ اگرچہ حالیہ تحقیق اور تشخیص اور علاج معالجے میں جدید تبدیلیوں سے اموات میں کمی آئی ہے، لیکن ان علاج و معالجے تک رسائی حاصل کرنا اب بھی کئی خواتین کے لیے چیلنج سے کم نہیں، بالخصوص وہ خواتین جو کم آمدن والے ممالک اور دیہی اور دُور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔ اگر ایشیا کی بات کی جائے تو برصغیر میں سب سے زیادہ چھاتی کے کینسر کی شرح پائی جاتی ہے۔ ہر سال ہزار ہا کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جب کہ ہزاروں خواتین اس مہلک بیماری کے ہاتھوں جان کھو بیٹھتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر آٹھویں خاتون کو اس بیماری سے خطرہ لاحق ہے۔ ماہ اکتو بر کو چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چھاتی کے کینسر کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور علامات کی آگاہی جہاں اس بیماری سے خود کو بچانے اور اب

حوا کی بیٹی!

وہ  دل دہلا دینے والی نسوانی چیخ تھی ، جس سے ہڑبڑا کر میری آنکھ کھلی تھی۔آواز میں بہت درد تھا۔ ابھی میںآوازکی سمت کا تعین کر رہا تھا کہ ایک مردانہ دھاڑتی ہوئی آواز آئی، جس سے معاملہ کچھ سمجھ میں آیا۔ آواز سامنے والے فلیٹ سے آرہی تھی، جہاں اکثر گھریلو جھگڑے ہوتے رہتے تھے لیکن اس دن معاملہ تو تکار سے بڑھ کر شاید مار پیٹ تک اتر آیا تھا، جس کا اندازہ مسلسل دردانگیز نسوانیچیخوںسے بخوبی ہو رہا تھا۔ چند لمحات کے بعد ہی آوازیں اتنی بلند ہو گئیں کہ نیچے مجمع جمع ہو گیا۔ خاتون کی آواز میں اتنا درد تھا اور وہ ’’بچاؤ بچاؤ‘‘ کی ایسی صدا لگا رہی تھی کہ میرا چھوٹا بچہ رونے لگااور میرے دل کو بھی کچھ ہونے لگا۔ میں گھر سے نکلا تو کچھ اور لوگ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ اب تو یوں لگ رہا تھا کہ وہ جاہل شخص اپنی بیوی کو شاید مار ہی دے گا۔ ہمارے بیل بجانے پر کوئی رسپانس نہ

می ٹو مہم

’’ می ٹو مہم‘‘ کے چلتےمو دی سرکار کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ایم جے اکبر پر کئیخاتون صحافیوں نے جنسی زیادتی کے الزامات عائد کئے تو وہ کسی کو منہ دکھا نے کے قابل نہ رہے ۔ وزیراعظم مودی پر رائے عامہ کا دباؤ بڑھا کہ وہ انہیں اپنے منصب سے فارغ کریں۔ نائجریا سے واپس وطن لوٹتے ہی انہوں نے استعفیٰ پیش کیا ۔اللہ کی پناہ، کیا دبدبہ تھا ایم جے اکبر کا! اکبر جو لکھ دیں وہ پتھر کی لکیر، حرف آخر۔ جس سیاستدان کے حق میں اکبر وہ بس پارا اور اکبر جس کے مخالف وہ مٹی۔ جی ہاں،اکبر ہندوستان کے غالباً واحد صحافی رہے ہیں جن کی شہرت محض ہندوستان اور پاکستان ہی تک نہیں محدود تھی بلکہ موصوف دنیا بھر کے چند مشہور ترین صحافیوں میں سے ایک رہے ہیں۔ پھر یکایک اکبر کو سیاست کا شوق ہوا اور وہ کچھ دن کانگریس میں رہے، بعدازاں واپس میدان صحافت میں آئے اور اپنے جوہر دکھائے اور آخر مودی کی ق

تازہ ترین