تازہ ترین

زرین دورکی خواتین کا بے مثال کردار

�حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا: آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام برؔکہ تھا۔باپ کا نام ثعلبہ بن عمرو تھا۔بعض روایات میں ہے کہ آپ کا وطن مالوف حبشہ تھا۔کنیت اُم ایمن رضی اللہ عنہا مشہور تھی۔ حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کی کنیز تھیں اور بچپن سے ان کے پاس ہی رہتی تھیں۔ جب حضرت عبداللہ انتقال کر گئے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہنے لگیں۔ جب وہ بھی فوت ہو گئیں تو حضرت اُم ایمن رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگیں۔پہلا نکاح عبید بن زید سے ہوامگر جب وہ انتقال کر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی ہوتے ہی آپ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔حضرت اُم ایمن

عورت کا میدانِ عمل اس کا گھر

        عورت کا میدان کار اس کا گھر ہے البتہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائرہ کار جدا جدا ہے۔ عورت کا میدان عمل اس کا گھر ہے اور گھر سے باہر کی دنیا مرد کی آماجگاہ ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم ؐکی ازواجِ مطہرات کو قرآن نے ہدایت کی اور یہی ہدایت ان تمام عورتوں کے لئے ہے جو خدا اور رسولؐ پر ایمان رکھتی ہیں۔ ’’اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو‘‘ اسلام نے دو وجوہ سے عورت اور مرد کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت ہوتی ہے۔ جب بھی دونوں ایک میدان میں کام کریں گے با عفت زندگی گزارنا ان کے لیے دشوار ہو گا۔  موجودہ دور میں جہاں کہیں اختلاط مرد و زن کی اجازت دی گئی وہاں اس کا بڑا بھیانک تجربہ ہوا ہے۔ عفت و عصمت اجڑ گئی اوربے راہ روی وبائے عام کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب اس کی اصلاح بھی اتنی دشوار بن

معاشرے میں عورت کا کردار

 عورت نرمی، شفقت ،وفا ، ممتا کی جذبات سے گندھی ربِ کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے اور اسلام وہ واحد مذہب ہے، جس نے عورت کو خاص مقام ومرتبہ عطاکیا ہے۔ کبھی اس کی قدموں تلے جنت رکھ کر اس کی عظمت کو چارچاند لگائی تو کبھی نازک آبگینہ کا لقب دے کر اس کی لطافت کوسراہا گیا اوراس کے ساتھ نرمی کی برتاؤ کی تلقین کی گئی۔ لیکن عورت کو اس کی اصل مقام ومرتبہ پر فائز رکھنے کے لئے مردکو قوّام کی صورت میںاس پر ایک درجہ زیادہ عطا کیا گیا جو اس کی محافظت اورمعیثت کاذمہ دار ہے۔ مر دکو اپنی اس ذمہ داری کا احساس دِلانابھی ایک عورت ہی کی ذمہ داری ہے کیونکہ مرد عورت ہی کی زیر تربیت ہوتا ہے۔ یوں ایک عورت معاشرے کوبگاڑ نے یاسنوارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ بچے کی پہلی درس گاہ اس کے ماں کی گود ہے، بچہ جو کچھ وہاں سے سیکھتا ہے وہی اسکی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے اور معاشرہ اس کاعکس پیش کرتا ہے لہٰذا معاشر

جہیز کی روایت ایک بڑی لعنت

قومیں سب ہی زندہ ہوتی ہے لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ زندہ رہنے والی قومیں کون سی ہیں؟قوموں کو بقا ء اور زندگی کے لیے اپنی اجتماعی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ حکومت ہو یا عوام ،فرد ہو یا قوم، بھیک یا محتاجی زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتی۔ہمارے یہاں تو مسلمان بہت ہیں لیکن اسلام بہت کم نظر آتا ہے۔ اکثر لوگ شارٹ کٹ مار کر راتوں رات امیر بننے کے چکر میں کبھی ڈبل شاہ کے ہاتھوں لٹتے ہیں تو کچھ کسی بھی حد کو پار کرنے پر تل جاتے ہیں اور اپنی عزت تک بھی داو پرلگادیتے ہیں ۔ہماری معاشرتی خرابیوں میں بیٹی والو ں سے جہیز کامطالبہ کرنے جیسی روایت بھی ایک بڑی لعنت ہے، جس میں مال و زر کے حریص بڑی ستم ظریفی سے جہیز کی بھیک مانگتے ہیں اور رشتہ منہ مانگے جہیز کی شرط پر طے کرتے ہیں۔ بعض اوقات سب کچھ طے ہوجانے کے بعد جب شادی کے کارڈ چھپ جاتے ہیں تو اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کے معیادر دوہرے ہوتے ہیں

لباس کو اپنی شخصیت کا آئینہ بناو

خوبصورت لگنا اور نظر آنا ہر عورت کی اولین خواہش ہوتی ہے ،اگر اس میں انفرادیت کا پہلو نمایاں ہو تو آپ دوسروں سے الگ یا اسٹائلش کہلائیں گی ،یوں تو حسن اور پیرہن دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ لباس کو شخصیت کا آئینہ بھی کہا جاتا ہے ،لہٰذا لباس پر بھر پور توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ایسا لباس جو آپ کی شخصیت سے مطابقت نہ رکھتا ہو ،غیر تہذیب یافتہ ہو یا آپ پر جچتا نہ ہو ،اسے استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔اکثر خواتین کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے لئے کون سا لباس منتخب کریں ،جبکہ زیادہ تر خواتین اپنے لئے جدید اور فیشن ایبل لباس کا انتخاب محض اس لئے کررہی ہیں تاکہ وہ فیشن کی دوڑ میں شامل ہوسکیں او روہ اس بات کو یکسر نظر انداز کردیتی ہیں کہ آیا وہ لباس ان پر جچ بھی رہا ہے یا نہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشیدہ کاری ایک ایسا فن ہے جو لباس کی خوبصورتی کو چار چاند لگادیتا ہے لیکن اگر ی

کیا عورت میں خامیاں نہیں ہوسکتیں؟

کیا عورت انسان نہیں؟ آج یہ سوال اس لیے اْٹھا رہاہوں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ دور میں عورت کو انسان سمجھا جارہاہے۔مشرق ہو یا مغرب ہر طرف مردوں کی اجارداری قائم ہے۔عوت تو بس ایک جسم بن کررہ گئی ہے۔ عورت کی اس حالت کی ذمہ داری کہیں نہ کہیں عورت پر بھی عائدہوتی ہے ۔مرد کایہ سوچنا کہ وہ عورت کو سب کچھ دے رہا ہے، انتہائی غلط ہے۔ وہ مرد جو پیدا ہوتے ہی عورت کے سامنے رونے لگتا ہے ۔وہ مردعورت کو کیا حقوق دے گا،جسے اس دنیا میں آنے کے لیے ایک عورت کے ہی دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ مرد جسے اپنی نسل آگے چلانے کے لیے کبھی کبھی ایک سے بھی زیادہ عورتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرد کیوں یہ بات بھول جاتا ہے کہ جس نے اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں پالااور پھر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اسے جنم دیا۔ وہ عورت ہی ہے جو اپنی تمام تر خواہشات کو زندہ دفن کرکے رات دن مرد کی بے لوث خدمت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عو

اُمت کی مائیں

جناب ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔آپؓ کی تعلیم و تربیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی کے ذریعہ ہوئی۔آپؓحضرت عائشہؓ کی پیدائش سے چار سال قبل ہی اسلام قبول کرچکے تھے ۔چھوٹی عمر میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود ِاقدس سے منسلک ہوکر حضرت عائشہ ؓ کا وجود ایک با برکت وجود بن گیا اور آپ مجسم نور بن گئیںاور دنیائے جہاں کا چاند آپؓ کی زندگی کی رونق بن گیا ۔ آپؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت و سکون کو غور سے دیکھا اور اُن انمول ہستی کی قربت سے بھرپور فایدہ اٹھایا ۔اپنے آپ کو رسول اللہ ؐ کے رنگ میں رنگین کرلیا ۔تقویٰ و طہارت ،نیکی اور علم میں سب سے اعلیٰ مقام حاصل کیا ،یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،نصف دین عائشہؓ سے سیکھو۔ آنحضر

عورت نسل نو کی معمار

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں اِس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ـ‘‘۔(قران ۳: ۳۴)  ایک زمانہ تھا جب لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زمین میں گاڑدیا جاتا تھا ، لیکن ظہور اسلام کے بعدجسطرح عورت کو مقام دیا گیا، اس سے عورت کے رتبے اور تقدس میں اضافہ ہوا، درجات بلند ہوئے اور عورتوں کے پیروں تلے جنت رکھ دی گئی۔  چونکہ اللہ تعالی مصنف ہے اور وہ اپنے بندوں کے عمل اور ان کے کرب کی نوعیت کو بھی جانتا ہے۔ اس لئے عورت کو وہ مقام دے کر ان کی تکریم میں اضافہ کیا۔ عورت نسلِ نوکی معمار ہے۔ اس کے ذمہ معاشی اور اقتصادیات کی ترقی کا بوجھ نہیں ہے بلکہ نسلوں کو صحیح تربیت کرکے انہیں تہذیب اور ا

خواتین کا وقار۔۔۔ عروج عالم کی دلیل

ہر برس8مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔رواں سال بھی منایا گیا اور عالمی سطح پر بڑی تعداد میں  سمینار ،کانفرنسیں ،ٹاک شو ز،اور دیگر کئی پروگراموں کا اہتمام ہوا۔ صبح سے شام گئے تک ان پروگرامز کی گہماگہمی میںخواتین کی صورت حال پیش کی گئی۔خواتین کے باوقار وجود کا اعتراف کیا گیا ،ان کی قابلیت کے چرچے کئے گئے، ان کے حقوق کی باتیں زور و شور کے ساتھ کی گئیں اور ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا گیا۔اس کے بعد پھرایک اور برس تک ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قدیم زمانے سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے لئے طرح طرح کے بدترین ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں،انہیں مارا پیٹا جاتا ہے ، یہاں تک کہ انہیں قتل بھی کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ الفاظ کی کاٹ تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے ۔ہاں! تلوار پھر بھی تلوار ہے جوایک پل میںگردن کو جسم سے جدا کردیتی ہے اور انسان کو ہم

بچوں کو عزت دو!

 یہ آرٹیکل بچوں کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے بارے میں ہے جس کا ارتکاب کہیں دانستہ اور کہیں غیر دانستہ طورعلم وآگہی کے علمبردار کررہے ہیں۔تعلیمی اخراجات اور فیس وغیرہ کا تقاضا اسکولوں میں معصوم بچوں سے کر نا ایک گھمبیر مسئلہ ہے ۔ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں سے فیس وغیرہ کا مطالبہ کر نا بےشک اسکول انتظامیہ کا حق ہے لیکن کسی وجہ سے ادائیگی نہ کر نے پر یا تاخیر ہونے پر بچوں کی تذلیل کر نا یا انہیں سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ایسے بچوں کو دوسرے بچوں اور اساتدہ کے سامنے بےعزت کیا جانا ایک مجر مانہ حرکت قرار پاتی ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کے اس بات کے حق میں اپنے معاشرے میں رائے عامہ منظم کیجئے کہ تمام تعلیمی ادارے ایسے جاہلانہ طرزعمل کو ترک کر یں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ برائے مہربانی اپنے بچے کے واجبات( اسکول فیس) بروقت ادا کیا کریں ، بصورت دیگر ان کے معصوم بچوں کو اسکول انتظامی

نکاح میں تاخیر!

 نکاح  انسان کی فطری و طبعی ضرورت کی تکمیل ہے اور یہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت اور افزائش نسل کا حلال و پاکیزہ ذریعہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر مرد و عورت کے دل میں دوسرے جنس کی طرف رغبت و میلان کو پیدا کیا ہے ۔ یہ ایک فطری امر ہے۔ اس طبعی و فطری ضرورت کی تکمیل کے لئے نکاح کو مقرر کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طورپر نکاح فرمایا اور اپنے فرامین کے ذریعہ بھی اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ سے نہیں‘‘۔ (حدیث) دین اسلام کی تعلیمات میں اعتدال و توازن سب سے نمایاں خوبی اور خصوصیت ہے۔ اسی سے دین اسلام کی تعلیمات کو دنیا کے دیگر مذاہب و ادیان کی تعلیمات سے ممتاز بناتی ہیں۔ اسلام میں جس طرح مردوزن کے باہمی اختلاط و امتزاج کی ممانعت ہے، وہیں ایک دوسرے سے بالکل یہ علیح

جانئے اسلام کو

 چند  سال قبل میں اپنے علاج ومعالجہ کی خاطر بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ، راستے میں مجھے حوضِ رانی گاندھی پارک کے متصل کافی گہما گہمی دیکھنے کو ملی ۔ لوگوں کی بھیڑ میں چند افراد کچھ پمپلٹ تقسیم کررہے تھے، جو اُردو زبان میں شائع کئے گئے تھے۔ جی للچایا اور میں نے رکشا ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا۔ دل جمعی کی خاطر ایک بندے نے دو چار پمفلٹ میرے ہاتھ میں تھمادئے اور میں دُزدیدہ نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے اپنے منزل کی طرف رواں دواں ہوئی۔ میں نے پمفلٹ کھول کے دیکھا ، یہ اسلامک ریسرچ سنٹر نئی دہلی سے شائع ہوا تھا اور اس کا مصنف ڈاکٹر امجد خان صاحب تھے۔اس کا موضوعِ تحقیق’’جانئے اسلام کو اور جگائیے ایمان کو‘‘ ۔ اس میںمسلم سماج کے اشیائے خوردنی پر مکمل اور مدلل تحقیق تھی اور جس کی تقسیم کاری میں ڈاکٹر موصوف خود بھی عارضی سٹیج پر براجمان تھے۔ اس کتابچے کو

’’مصحف‘‘

 اد ب  سماج کی عکاسی کرتا ہے، ادب گزشتہ تہذیبوں پر پڑے پردوں کوواکرکے اُن کے اندر موجود سماجی تانے بانے کوہمارے سامنے عریاں کرتا ہے، ادب زمانے کے رنگ ڈھنگ اور لوگوں کی سوچ سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے سماج میں ادبی دنیا کو ہر دور میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ انسانی سماج کے ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ادیبوں کے قلم نے سوئی اور ادب کی ڈور نے دھاگے کا کام کیا ہے۔تاریخ انسانیت شاہد ہے کہ جس کسی بھی سماج نے ادبی ذوق و شوق کو کھو دیا تھا اُن کی تہذیب اور تاریخ پھر آنے والے زمانے میں قصۂ پارینہ بن گئی۔ہر زمانے میں ادبی دنیا کے ذریعے سے مختلف الخیال لوگوں نے اپنی سوچ اور فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ماضی میں بھی اور آج کے دور میں بھی تاریخ سازی، افسانہ نگاری، اسفار نگاری،سیرت، سماجیات وغیرہ موضوعات پر علماء، دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروںنے اپنی تخلیقی صلاحیت

آج کی خاتون

آج   کی عورت کے لیئے اپنا گھر بار زیادہ ضروری ہے یا اپنا کیرئیر؟؟؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے مجھے چکر ا کر رکھ دیا۔ دور جدید کی عورت اپنے آپ کے مرد ہی سمجھتی ہے۔ وہ بھی چاہتی ہے کہ جس طرح مرد اپنا کیرئیر بنا سکتا ہے وہ کیوں نہیں بنا سکتی۔جب اس کے اندر موجود یہی جذبہ جنون کی حد تک چلا جاتا ہے تو پھر وہ کسی کو بھی اہمیت نہیں دیتی۔اس کیر ئیر کے آڑھے اس کے والدین آتے ہیں یا بہن بھائی آتے ہیں۔اس کے رشتہ دار یا اس کا اپنا شوہر یا بچے ۔ وہ سب کو قربان کرنے کو تیار ہوجاتی ہے۔ ان میں سے اکثر تو اپنے اس کیرئیر کو کبھی بھی نہیں پا سکتیں۔ اور بعد میں ان کو ان کے اپنے رشتے بھی قبول نہیں کرتے۔ نہ خد ا ہی ملا نہ وصال صنم۔اگر ان کو ان کا کیر ئیر مل بھی جاتا ہے اور وہ اپنے تمام خواب شرمندۂ تعبیر کر لیتی ہیں تو بھی ان کے نصیب میں اپنے رشتے نہیں ہوتے۔اﷲ کا بنا یا ہوا قانون کیسے غلط ہو سک

یہ کیساآیا زمانہ !

 ’’عورت باپ بھی بن سکتی ہے ‘‘آپ کو اس عنوان پر حیرانگی ہو گی لیکن مغرب میں یہ ڈسکشن جاری ہے کہ ایک عورت کا یہ بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی سکون اور اطمینان کے لیے سرجری کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروا لے۔ اسے میڈیکل کی اصطلاح میں سیکس ری اسائنمنٹ سرجری (sex reassignment surgery) کہتے ہیں۔ باقی ڈیوڈ ریمر نے جنس تبدیل کروا کے ڈپریشن کے مارے خودکشی کر لی تھی تو خودکشی بھی تو اس کا بنیادی انسانی حق تھا نا۔ اس کی زندگی ہے، ہمیں کیا حق کہ مرے یا جیئے، مرد بن کر یا عورت ہو کر۔ ہمارے ہاں کے کندہ ٔ ناتراشوں کو ابھی یہی اعتراض ہے کہ عورت امام مسجد اور موذن کیوں نہیں بن رہی اور مغرب میں عورت، باپ بھی بن رہی ہے۔اسے کہتے ہیں ’’حقیقی مساوات‘‘۔ بس مرد کے برابر حقوق تو تبھی پورے مل سکتے ہیں نا جب عورت مرد ہی بن جائے۔ لبرل، سیکولر، ترقی پسند اور

بچے کا روشن مستقبل کس کے ہاتھ؟

ایک  مسلم گھرانے کی بہو اسماء افتخار کے ہاں ماشاء اللہ خوشی آنے والی تھی۔ شادی سے پہلے ہی ان کی ساس نے کہہ دیا تھا کہ نوکری تو بہو کو کرنی پڑے گی کیونکہ میری بیٹیاں اور بڑی بہو بھی نوکری کرتی ہیں۔ شادی کی 15 دن کی چھٹیوں کے بعد ہی کپڑے دھونے کی ذمے داری اسماء پر ڈال دی گئی۔ گھر میں تین نندیں تھیں جو شادی کے انتظار میں بوڑھی اور چڑچڑی ہوچکی تھیں، ایک جیٹھ، ان کی بیوی اور چار بچے تھے۔ ساس، سسر، اسماء اور اس کا شوہر۔ گویا 13 لوگوں کے اندر باہر کے سب کپڑے دھونا اسماء کی ذمے داری تھی۔ بڑی بہو کھانا پکاتی تھیں، ایک نند صفائی کرتیں، ایک برتن دھوتیں، اور سب سے بڑی نند بیمار تھیں، پہلے کپڑے دھوتی تھیں، اب اُن پر سے ہر ذمے داری ہٹا لی گئی تھی۔اسماء نے اپنے شوہر سے کہا کہ مجھے کچھ فروٹ وغیرہ لادیا کریں، ان دنوں میں ذرا صحت بنے گی، میری تنخواہ تو آپ کی امی لے لیتی ہیں… بس یہ کہنا تھا

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

 اکیسویں صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں شمار ہوتے ہی

موسم گرما اور چہرے کی حفاظت

سب سے پہلے اپنے چہرے کو دھوئیے۔ پھر ہاتھ سے ہلکے ہلکے تھپ تھپا کے خشک کیجیے۔ اس کے بعد ایک ٹشو پیپر اپنے چہرے کے مختلف حصوں پر رکھ کر دبائیے۔ اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو ٹشو پیپر پر روغنی دھبے آجائیں گے۔ اگر ٹشو پیپر چہرے کے کسی حصے پر نہ چپکے اور نہ ہی اس پر چکنے دھبے نظر آئیں تو آپ کی جلد خشک ہے۔ اگر یہ آپ کی پیشانی، ناک یا ٹھوڑی پر چپک جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جلد نارمل یا ملی جلی ہے۔ تقریباً 70 فیصد خواتین کی جلد نارمل یا ملی جلی ہوتی ہے۔ چکنی جلد: ایسی جلد دیکھنے میں کسی حد تک چمک دار معلوم ہوتی ہے اور یہ بلیک ہیڈز اور کیل مہاسوں کا اکثر شکار بنتی ہے۔ کبھی کبھی جلد میں کھنچاؤ اور سختی بھی محسوس ہوتی ہے۔ نارمل یا ملی جلی جلد: ایسی جلد کے مسام درمیانے ہوتے ہیں۔ سطح ہم وار اور ساخت اچھی ہوتی ہے اور یہ صحت مند رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ملی جلی یا نارمل جلد میں دونوں

بنتِ حوا | تقدیر بدلنے کی ہے تدبیر اپنے پاس

اللہ  تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات میں بے شمار مخلوقات پیدا فرمائے ہیں اور ان سب مخلوقات میںسے انسان کو سب سے بلند مقام پر فائز کیا ہے۔اسی لیے انسان کو اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا گیا۔اشرف المخلوقات میں مرد اور عورت کے جنس میں عورت کو جو حیثیت اسلام نے عطا کی ہے ،دوسرے ادیان میں دور دور تک اس کا تصور بھی نہیں ملتاہے۔جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں ہمارا سابقہ جاہلیت کے مختلف پیرائیوں کے ساتھ بھی پڑ تا ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میںخواتین کوکیسے کیسے ناقابل برداشت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔صنف نازک کے ساتھ جو استحصال ہورہا تھااس کو محسوس کر کے درد دلِ رکھنے والے انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔بچیوں کی پیدائش کو ہی عار سمجھا جاتا تھا اور اُنہیں زندہ در گور کرنے میں لوگ فخر محسوس کرتے تھے، تعددِ ازدواج کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، فحاشی و عریانی کے عجیب و غ

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

خوف  وہراس میں مبتلا مسلم اقلیت کے لئے آرام وسکون کا ایک لمحہ بھی نصیب ہو نا اب خواب وگمان بنتا جارہا ہے۔ ۴۷ء سے آج تک جرم بے گناہی کی پاداش میں مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھائے گئے ،اس کا کوئی حد وحساب ہی نہیں ۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب  سیاسی قائدین ، حکو متی وزراء اور دیگر صلاح کار تک حکومت ِوقت سے کھلم کھلا مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کاحق رائے دہی سلب کیا جانا چاہئے ، یا جو شخص گائے کو ذبح کرتا ہے، اس کو بھی ذبح کیا جانا چاہئے۔یاد رہے کہ یوپی کے اخلاق احمد جیسے ادھیڑ عمر والے شخص ، کمسن طالب علم حافظ جنید ، مزدور افروزل کی بہیمانہ ہلاکت ، جواہر لال یونیورسٹی کے ایک طالب علم محمد نجیب کا لاپتہ کیا جانا، راجستھان میں پہلو خان کی جان لینا ، جھارکھنڈ میں متشدد ہجوم کا علیم الدین نامی شخص کا ابدی نیند سلا دینا اور اب تبریز انصاری کی ہجومی ہلاکت وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کے دلوں