تازہ ترین

ماں تجھے سلام!

گرمیوں کی ایک دوپہر بچہ اسکول سے گھر لوٹا۔ ماں بچے کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا! جلدی سے کپڑے بدل لو، میں کھانا لاتی ہوں، میرے بیٹے کو بھوک لگی ہوگی۔ بیٹا جلدی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے ہر روز کی طرح سبزی یا دال کی جگہ آج اس کی پسندیدہ ڈش تھی۔ بیٹے نے پوچھا امی! آج یہ سب کچھ کیسے؟ ماں نے کہا، بیٹا! یہ سب کچھ میں نے تمہارے لیے بنایا ہے۔ بچے نے کہا: آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھالیں ۔ بچے کی پسند کا کھانا چونکہ کم تھا اس لیے ماں نے کہا :’’بیٹا میں نے تو کھانا کھا لیا ہے، اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں رہی ، تم اکیلے ہی کھانا کھاؤ ، تمہیں بھوک لگی ہوگی‘‘۔ یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔ بیٹا روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کرگیا۔ بیٹا برتن اٹھا کر جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو

آزادیٔ نسواں ایک فریب

 زمانہ جاہلیت میں عورت ذات پوری دنیا میں بالعموم اور عرب معاشرہ میں بالخصوص کس آزمائش سے گزر رہی تھی؟ ہند میں عورتوں کی کیا حالت تھی؟ عیسائیت میں عورت کے حقوق کی کیا کتر بیونت  ہوئی تھی ؟ یہودیت میں عورت کا کیا بُراحال تھا؟ اس کی تفصیل تاریخ کتابوں میں موجود ہے۔ اس سب کا منصفانہ جائزہ لیجئے تو نظر یہ آئے گا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا میں عورت کو بے وقعتی و ناقدری ، زبوں حالی وکسمپرسی ، ذلت ورسوائی کی پستیوں سے اٹھاکر عزت و تکریم کا وہ مقام دیا جس کی مثال نہ کسی اور مذہب میں اور نہ ہی کسی قانون اور نہ کسی مفکورے میں مل سکتی ہے۔اس موضوع پر دفتر در دفتر  کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے کی چند موٹی موٹی مثالیں پیش خد مت جو یہ بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو آزادی اس سے صنف ِ نازک نے کیسے کیسے فائدہ اٹھایا۔ اسلام کے زیر سایہ اورحیا و پردے کی  زیب وزینت وا

معمولی حادثے کے غیر معمولی نتائج

 ڈاکٹر  خالد الشافعی مصری ہیں اور مصر کے نیشل اکنامکس سٹڈی سنٹر میں منیجر ہیں ۔ ان کی یہ تحریر عربی زبان میں ہے جس کا ارود ترجمہ پیش خدمت ہے تاکہ ا لشافعی کے ایک حادثاتی تجربے سے ہم بھی کچھ سبق لیں۔لکھتے ہیں : اسی گزرے اٹھارہ مارچ کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل تھا کہ میرا توازن بگڑا، گرا اور پاؤں ٹوٹ گیا۔ ہسپتال گیا، ایکسرے کرایا، ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ پاؤں میں ٹخنے اور انگلیوں کو آپس میں جوڑنے والی ہڈی (پانچویں میٹیٹسل بیس) ٹوٹ گئی ہے۔پاؤں پر پلستر ٹانگ اور گھٹنے کو ملا کر چڑھا دیا گیا۔ ڈاکٹر نے نوید سنائی کہ پلستر ڈیڑھ سے دو مہینے تک چڑھا رہے گا۔ میں بڑا حیران۔ یہ ڈاکٹر کہتا کیا ہے؟ بس ایک چھوٹا سا کنکر میرے پیر کے نیچے آیا تھا۔ نہ کسی گاڑی نے مجھے ٹکر ماری ہے اور نہ ہی میں کسی اونچائی سے گرا ہوں۔ اس دن شام کو گھر واپس پہنچنے پر مجھ پر بہت ساری حقیقتیں کھلنا شر