عورت کیا ہے ؟

 عورت کیا ہے ؟اس سوال کا جواب ہر کوئی اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق پیش کرتاہے۔کوئی عورت کو بے وفا کہتا ہے ، کسی کے لئے یہ سراپا حسن ہے، کسی کے لئے عورت کبھی نہ سلجھنے والی پہیلی ہے۔ ہماری نظر میں عورت کے معنی ایک نایاب احساس کے ہیں جو دنیوی مطلب سے پاک ہے، وفا ہے، محبت ہے، دُعا ہے، جذبۂ ایثار ہے، خود کو بھلا کر اپنوں کے خاطر جینے والی ہستی ہے، جس کے لئے اپنی خواہشات اور اپنی خوشیوں سے بڑھ کر اپنوں کی خوشیاں اور خواہشات اہمیت رکھتی ہیں، جو اپنے وجود سے بڑھ کر اوروں کی فکر کرتی ہے۔ویسے تو دنیا میں عورت کی پہچان کئی رشتوں اور کئی ناموں سے کی جاتی ہے:ماں،بیوی، بیٹی، بہن،اور ایک باوفا دوست لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ دوستی والے رشتے کو قبول نہیں کرتے جب کہ نفسانی خواہشات سے پرے کچھ ایسے بےنام سے پاکیزہ رشتے ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں شرائط وحدود کےساتھ قابل احترام ہیں۔ اللہ سبحانہ و

حقوقِ نسواں اور آزادی ٔ نسواں

 دورِ  جاہلیت میں انسان درندوں سے بھی پست تر سفلی زندگی گزارتے تھے ۔انسانیت نام کی چیز خواب وخیال تھی۔اس گھور اندھیرمیں عورت سب سے زیادہ محکوم و مجبور تھی،اسے جنسی تسکین کا سامان سمجھا جاتا تھا، اس کے صنفی حقوق سلب اور شخصی آزادیاں مفقود تھیں، لوگ بیٹی پیدا ہونے کو اپنے لیے ذلت و رسوائی تصور کرتے تھے۔ چنانچہ سورہ نحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :جب ان میں کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پرکلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گونٹ پی کر رہ جاتا ہے، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبا دے دیکھو کیسے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگا تے ہیں‘‘ تاریکی کےاس دور کو اسلام کی روشنی سے بدلتے ہوئے زندگی کی کایا پلٹ ہونے کے ساتھ ساتھ عورت کو اپنا مقام ومرتبہ ملا کہ&nb

بنت ِحوا

 قدیم  جاہلیت کے دوران عورت کو غلامی، بے توقیری اور پستی کی گہرائیوں میں دھکیلاتھا، لیکن عورت کی آزادی کے نام پر جدید دور نے عورت کو جو کچھ بھی دیا، وہ بھی کاورباری امور ، فیشن کی دنیا ، آرٹ اور کلچر کے شعبے میں اس کا استحصال اور جنسی نمود ونمائش ہی ہے۔ گویا کل اگر عورت کو قدیم جاہلیت کی زنجیروں میں ا پنی ذات اور شخصیت کے ساتھ ہر ظلم وشرمندگی کو سہنا پڑتا تھا، آج اُسے جدید جاہلیت کے ساتھ ویسی ہی بے قدری سے سابقہ ہے۔ اگرچہ عورت کو مرد کی مانند اپنے فکری اور تخلیقی ارتقاء میں خالق کائنات اور کاتبِ ازل نے آزاد اور کامل  وجود بخشا ہے، لیکن جس انداز سے جدیدیت کی بے راہ رو  نے اُسے گھر کی چار دیوار ی سے نکال کر شمعِ محفل بناکے رکھ دیا ہے ، وہ واقعی ایسا بدترین استحصال ہے جو بدقسمتی سے خواتین سمجھنے میں مساوات کے نام پر ٹھوکر کھارہی ہے اور خال خال ہی اس کو محسوس ہورہا

امن کے لئے جنگ ؟؟؟

 جنگ  دو فریقوں، قبیلوں، قوموں یا ملکوں کے درمیان تنازعے کے نتیجے میں ہونے والے تصادم کو کہا جاتا ہے۔ جنگ کی بھی کئی اقسام ہیں۔ جنگ گرم بھی ہوتی ہے اور سرد جنگ بھی۔ گرم جنگوں کے دوران متحارب فریق، قبائل، قوموں یا ملکوں کی مسلح افواج اپنے ملک و قوم کے دفاع کے لیے آگے آتے ہیں اور اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے بچاتے ہیں ۔جنگ ایسی چیز ہے جس میں ہتھیار قلم کی جگہ لے لیتے ہیں اور جس کا نتیجہ صرف خون خرابہ ہوتا ہے۔ جنگ کو ہم سیاسی حصول اور سفارتی مقاصد کو حاصل کرنا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں بے دریغ انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے، لاکھوں افراد مارے جاتے ہیں، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوجاتے ہیں۔ملکوں میں قحط پیدا ہو جاتا ہے اور صدیوں تک پسماندگی اُن کا مقدر بن جاتی ہے۔جنگ میں فتح جس کسی کی بھی ہو،ہر جگہ نقصان انسانیت کا ہی ہوتا ہے۔   &nb

تربیتِ اطفال

 عمیمہ: علی بیٹا آخر کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ! آپ تو خوشی خوشی اسکول جاتے تھے۔ آج کل حریم بیٹا اسکول وین میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟ حریم: نہیں مما… میں تو اس کا وین میں بھی بہت خیال رکھتی ہوں۔ مما: پھر کیا بات ہے کہ وہ اسکول سے اتنا بیزار ہوگیا ہے! کہیں کلاس میں تو کوئی بچہ اسے تنگ نہیں کرتا؟ خیر مجھے ضرور اسکول جانا چاہیے، اس کی میڈم اور کلاس ٹیچر سے بات کرنی چاہیے۔ ٭٭٭ عمیمہ خود ایک پڑھی لکھی اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ماں تھی، وہ جانتی تھی کہ آج کل علی اسکول جانے سے جس طرح کترا رہا ہے اور صبح کو اسکول جاتے ہوئے روتا اور مچلتا ہے اس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہوگی۔ علی کا ہوم ورک وہ خود اسے کرواتی ہے، علی ذہین بچہ بھی ہے، اپنا سبق بھی اچھی طرح یاد کرکے جاتا ہے، پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے! وین میں بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ٭٭٭ اگلے دن وہ اپنے اسکول س

ریما:شاہ فیصل مرحوم کی پوتی

شہزادی  ریما بنت بندر بن سلطان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ واشنگٹن میں سعودی عرب کی جانب سے ایک بڑے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی بنی خاتون ہیں۔ ان کی تقرری اس بات کی عکاسی بھی ہے کہ اب سعودی عرب میں تبدیلی کے خواشگوار جھونکے محسوس کئے جانے لگے ہیں۔ شہزادی ریما کی واشنگٹن میں بطور سفیر تقرری اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب نے اپنے اہم ترین حلیف اور سب سے  اہم ملک امر یکہ میں جس شخصیت کا تقرر کیا ہے، وہ انتہائی سوچا سمجھا اقدام ہے۔ اس سے ان سینکڑوں باصلاحیت سعودی خواتین کے سامنے بھی سرکاری عہدوں کے دروازے کھل گئے ہیںجن کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قابلیتوں سے محض اس لئے فائدہ اٹھایا نہیں جارہا تھا کہ وہ خواتین ہیں ۔شہزادی ریما ماضی قریب تک دیگر باصلاحیت خواتین کی طرح گمنامی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں بھی ان کا ستارہ چمکنے لگا ۔ وہ

خواتینِ کشمیر

تاریخ  گواہ ہے کہ مرد جنگیں لڑتے ہیں اور دنیا اُجاڑتے ہیں لیکن خواتین گھر بسا دیتی اور بکھری ہوئی زندگیوں کو اکٹھا کرتی ہیں۔کشمیر کی خواتین بھی یہ بھاری ذمہ داریاں بخوبی انجام دیتی جا رہی ہیں ۔اس سر زمین میںجوں جوں سیاسی ہلچل بڑھتی گئی توں توں خواتین بھی خاص کر نامساعدحالات کی چکی میں پستی رہیں۔ یوںبہ حیثیت ایک ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے کشمیری خواتین معمول کی خوشیوں سے محروم ر ہیں  اوروہ ذہنی اورنفسیاتی تشدد سب کچھ برداشت کر تی رہیں اور لگاتار برداشت کرتی جارہی ہیں۔وہ اپنے عزیزوں کو خون و خرابہ کے بھینٹ چڑھتی پا تی رہیں ،اپنی دنیا کواُجڑتے دیکھتی رہیں ، اپنے حقوق کی خلاف ورزیاں سہتی رہیں، آبرداؤ پر لگتی پاتی ر ہیں مگر پھر بھی انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی منہ نہ موڑا ۔وہ بدترین مصائب کا منہ دیکھتے ہوئے بیوہ اورنیم بیوہ اور بیوہ بنتی ر ہیں ، اور اپنے دردوکرب کاعلاج صرف ا

چہرے کی دلکشی کا سامان کچن میں ہے

خوب صورت نظر آنا ہر عورت کا بنیادی حق ہے اور ایک عورت کے خوب صورت نظر آنے ہی سے اس کی سلیقہ مندی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ آج کل کے جدید دور میں یوں تو کئی ذرائع ایسے دستیاب ہیں۔ جو خواتین کے حسین نظر آنے کے شوق کی تکمیل کر سکتے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین ایسے کون سے طریقے استعمال کریں جن سے کم وقت اور کم خرچ میں وہ جاذب نظر دکھائی د یں۔ آج کل بیوٹی پارلرز بھی بہ کثرت موجود ہیں اور بازار میں کئی مہنگی، حسن افزا اشیاء دستیاب ہیں لیکن کیا کسی خاتون کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے یقینا نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھریلو اور کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی کچھ اس طر ح رہنمائی کی جائے کہ وہ بھی خوب صورت نظر آسکیں۔ ہر بل طریقے نہ صرف خواتین بلکہ مہنگے ترین بیوٹی پارلرز میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ مثلاً دودھ، لیموں، شہد اور انڈے جیسی اشیا ء خواتین کے چہرے، جلد او

ماں باپ کی اہم ذمہ داری

ایک    گھروں میںحیا مندی کے حوالے سے ہمیں کیا کیا کرنا چاہیے،اس کی ایک اجمالی تصویر یوں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے : بچوں سے حقیقی تعلق: والدین بچوں سے اپنے تعلق کو یقینی بنائیں۔بچوں کو کہانیاں سنانا سب سے اہم سرگرمی ہے۔یہ کام مائیں سب سے بہتر سر انجام دے سکتی ہیں۔ کہانیاں سناناچاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوری—اپنے بچے کے ساتھ گھلنے ملنے کا ایک تفریحی طریقہ ہے۔کہانی سنانا جادوئی عمل ہو سکتا ہے۔ کہانیوں سے آپ کے بچے کی تخلیقی اور تخیلاتی نشو و نماکے ساتھ ساتھ اردگردکی دنیاکو سمجھنے میں مددملتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بچے کی افسردگی کم کرنے اور ان کی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ مزید راحت کا احساس پیدا کرنے میں مدد دینے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ اچھی کہانیاں سنانا ایک طاقت ور طریقہ ہے جس سے آپ کے بچے کو آپ کی گھریلو زبان بہتر طور پر سمجھنے میں اور بولنے میں مدد ملتی

خدمتِ خلق

ایک   مشہور مقولہ ہے کہ ـــــ’’عبادت سے صرف جنت ملتی ہے مگر خدمت سے خدا ملتا ہے‘‘۔کہتے ہیں کہ خدمت میںعظمت پنہاںہے ۔جب تک دل میں جذبہ ٔ ایثاراور خدمت ِخلق نہ بسا ہو،کوئی عبادت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔خدمت خلق کا جذبہ دل سے جڑا ہو تا ہے۔ یہ جذبہ اسی دل میں اُگتا اور اسی جگر میںبرگ وبار لاتا ہے جو دل وجگر صاف و شفاف ہوــ،خدا کے خوف سے بھرا ہو ،انسانیت کے درد سے سرشار ہو ۔لوگوں کی خدمت کرنے کے مختلف طریقے اور سلیقے ہوتے ہیں ۔ہر فرد اپنی ایک سوچ اور اپنا ایک اندازِ فکر رکھتا ہے ،اور اسی کے مطابق وہ خدمتِ خلق کا کا م بھی انجا م دے سکتا ہے۔یوں تو خدمتِ خلق کا انمول جذبہ بھی اللہ کی ہی دین ہوتا ہے ۔کتنے ہی لوگ ہیںجو اپنی پوری زندگی کو خدمت ِخلق کے لئے وقف کرتے ہیں ۔  اسلام کی رُوسے اللہ تعالیٰ کے بندوںکی بے لوث خدمت کرنے والا خدمت گار ہی نہیں بلکہ عبا

۔14؍ فروری کا’’ویلنٹائن ڈے‘‘

 ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘کے نام پر ہر سال کھلے عام اور بلا روک ٹوک سماج میں بےحیائی اور جنسی بھوک کا ننگا ناچ چلتا ہے ۔ یہ میلہ اخلاق سے عاری مغربی کلچر کا ایک جزولاینفک ہے۔ہمارے لئے اس بات کو جاننا بے حد ضروری ہے کہ آخر یہ ویلنٹائن ہے کون سی بلا ۔ مغربی تہذیب کے سنڈاس میں پیدا شدہ اس خباثت اور بےحیائی کی شروعات کہاں سے، کس وجہ سے اور کس کے ذریعے عام ہوئی ہے۔دراصل ’’ویلنٹائن‘‘ ایک یہودی پادری کا نام تھا جس نے انگلینڈ میں شادی سے پہلے لڑکے لڑکیوں کے بیچ ناجائز تعلقات اور بدکاری کو جائز قرار دے دیا تھا۔ا س وجہ سے انگلینڈ کی حکومت نے ویلنٹائن کو 14 فروری کو بد اخلاقی پھیلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا دے دی۔ اس مردود کے مرنے کے بعد اس کے ہم خیال مریداور انگریزوں کی نئی نسل نے اسے اپنا ’’لَو گرو ‘‘مانتے ہوئے ا س کی خبیث یا

خاندانی نظام

معاشرہ اور خاندان افراد سے بنتے ہیں۔ ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کا آپس میں خون کا رشتہ ہوتا ہے مثلاً ماں، باپ، بہن، بھائی، چچا، پھوپھی، دادا، دادی، ماموں، خالہ، نانا، نانی مل کر ایک خاندان تشکیل کرتے ہیں۔ پھر ان سے وابستہ اور لوگ بھی اس میں شامل ہوتے جاتے ہیں اور خاندان کے افراد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔مشترکہ خاندانی نظام مشرقی روایات کا ایک ثبوت ہے۔ اس کی مضبوطی کو روایات کی مضبوطی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔پرانے زمانے میں خاندان سے الگ رہنا ایک طرح سے گناہ سمجھا جاتا تھا اور الگ رہنے والے یا علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے کو ایک طرح سے مجرم۔ اس بات کا کوئی تصوّر نہیں تھا کہ الگ رہ کر بھی انسان اپنے رشتے داروں سے اچھے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ علیحدگی کا مطلب تعلقات ختم کرنا تھا۔ جیسے جیسے معاشرے نے ترقی کی لوگوں کے خیالات اور سوچ تبدیل ہوئی لوگوں نے علیحدہ رہنے کو جائز اور وقت کی ضر

باپو اور گوڈسے

 میں  نتھو رام گوڈسے ہوں، ہندوستان کا وہ دہشت گرد و غدار جس نے بابائے ہند کہلانے والے گاندھی کو گولیاں مارکر ایک ناقابل معافی جرم کیااور ہندوستان کے گلستان میں نفرت کا زہر گھول دیا ،میرے اس کام میں میرا ساتھ دینے والے میرے ہی ہم خیال، ہمسایہ میرے گرو ساورکر اور ہندوتوا کے وہ سارے دلال تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کی مخبری کیا کرتے تھے۔قدم قدم پر انہی کی حوصلہ افزائی نے مجھ میں ایسی سیاہ روح پھونک دی جس نے مجھے ایک نہتے اور اَہنساوادی انسان ۔۔۔باپو۔۔۔ پر گولیاں چلانے کی ترغیب دی ۔ یہ جرم کر تے ہوئے ایک پل کے لئے بھی میرے ہاتھ کانپ نہ اُٹھے۔ میری پرورش بھی ایک حد تک میری شخصیت کی ذمہ دار تھی۔میری پیدائش 1910 میں ہوئی، میں اپنے ماں باپ کا پہلا بیٹا تھا جو زندہ رہا، مجھ سے پہلے میرے تین بھائی بچپن ہی میں مرگئے ۔اس وجہ سے میرے والدین نے میری پرورش لڑکیوں کی طرح کی کیونکہ ان کااَن

روزانہ ورزش حسن و جمال کی حفاظت کا راز

بل   کھاتی نازک سی کمر کو صدیوں سے شاعری کا حصہ بنا یا جا تا رہا ہے۔کیونکہ چہرے کی دلکشی کے ساتھ جسمانی ساخت اور کشش بھی اہمیت کی حامل سمجھی جا تی ہے۔بے ڈول اوربھدی جسامت کے باعث بعض اوقات خوبصورت چہرے کا حسن ماند پڑ جاتا ہے لیکن اگر جسامت متناسب ہو تو عام سا چہرہ بھی خاص ہو جا تا ہے۔جسمانی ساخت کو متناسب بنا نے اور کمر کر پتلی رکھنے کے لیے خواتین بہت جتن کرتی ہیں اور اس کے لیے ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں لیکن اصل حقیقت نظر انداز کر دی جا تی ہے کہ ڈائٹنگ سے جلد کی چمک اور رونق جا تی رہتی ہے مگر جسمانی ساخت میں تبدیلی نہیں آتی۔خوبصورت کمر کے لیے ضروری ہے کہ جہاں آپ اپنی خوراک کو کنٹرول میں رکھیں وہاں ورزش کو بھی اپنا شعار بنا ئیں تاکہ پیٹ اور کمر پر چربی کی تہہ سےآپ کی جسامت بے ڈھنگی نہ ہو نے پا ئے۔سوتے وقت چار انچ اونچائی کا تکیہ استعمال کریں جو نرم بھی ہو۔ میٹریس اسی وقت استعمال

کتھا دیش کی!

 انگریزکی غلامی سے ہندوستان کی آزادی کے بعد ہمارے رہنماؤں نے برطانوی پارلیمانی نظام کی تقلید میں جمہوری سسٹم نافذ کیا۔ ا س کے لئے ایک ضخیم آئین مر تب کیا گیا ۔ دستور ہند میں ہندوستان کے ہر شہری کو برابری کے حقوق فراہم کئے گئے، اُسے اپنی من مرضی کےمطابق زندگی گزارنے کی آزادی ملی، اُسے ہر طرح کے استحصال سے نجات دی گئی، اُسے تعلیمی و ثقافتی حقوق انجوائے کر نے کا حق ملا، اُسے بلا کسی روک ٹوک کے اپنے مذہبی قانون پر چلنے اور سماجی رسومات کی پیروی کرنے کی آزادی سے سرفراز کیا گیا۔ آئین کی ان عنایات کے برعکس موجودہ حالات کوئی اور ہی رام کہانی سنا رہے ہیں ۔ بی جے پی اقتدار کے پونے پانچ سال میں جمہوری نظام کی ان عنایات اور نعمتوں کوبہت بُری طریقے سے گھائل کر تی جا رہی ہے۔ اس کےجیتےجاگتے ثبوت ہر جانب بکھرے پڑے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 2017-18میں ڈیموکریسی انڈیکس کی گرتی ہوئی رینکنگ میں انڈیا

مطلوبہ رشتے غیر مطلوبہ رشتے!

’’ لڑکے کی تنخواہ محض بیس ہزار ہے۔گھر ذاتی سہی لیکن میں اتنی تنخواہ میں گزارہ نہیں کر سکتی۔ بعد میں پھر بھی خود ہی کمانا ہے تو ابھی کماتی بری ہوں؟‘‘وہ سپاٹ لہجے میں کہہ رہی تھی۔ ام سمیرہ سخت پریشان تھیں۔یہ رشتہ بھی دوسرے بیسویں رشتوں کی طرح مسترد ہونے کو تھا۔کہیں سمیرہ مسترد کر دی جاتی تھی اور کہیں سمیرہ مسترد کر دیتی تھی۔عمر 28 ،29 کے قریب، خوش شکل لیکن قد واجبی تھا۔تعلیم ماسٹرز ، پرائیویٹ سکول میں جاب کر رہی تھی۔ ’’پڑھا لکھا،خوش شکل ،امیر لڑکا۔۔۔‘‘بس یہی اس کی ڈیمانڈ تھی۔ایک جملے میں پوری ہوتی ہوئی تو دوسری جانب ’’پڑھی لکھی،اونچی لمبی خوب صورت ‘‘ لڑکی کی خواہش۔لڑکا بھی کامل چاہیے اور لڑکی بھی!! ’’دعا کیجیے گا!! لڑکے والوں نے آنا ہے‘‘اُم ماریہ فون بند کرتے ہوئے آہستگی سے بولیں

زمانے کے طوفانوں میں گھرے!

 بیٹیاں   کی عظمت سے نابلد لوگ فی زماننا بیٹی کی پیدایش سے ہی کبیدہ خاطر ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے جہاں بیٹیاں اچھی تربیت اور صالح ماحول میں پروان چڑھ جائیں ، وہاں رسولِ رحمت ﷺ کے فرمان کے مطابق بیٹیاں سراسر رحمت بن جاتی ہیں ۔ اس کے برعکس اعلیٰ اخلاقی اقدار سے عاری اور شرم و حیا سے بے نیاز ماحول و معاشرہ میں پلنے بڑھنے والی لڑکیاں اورلڑکے اپنے والدین کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرہ کے لیے زحمت ہی زحمت بن جاتے ہیں۔آج کے سا ئنسی دور میں موبائل فون، ٹی وی اور نیٹ نے سماج کو بہت سارے فوائد پہنچا ئے مگر ساتھ ہی انہوں نے انسانوں کو شتربے مہار بھی بنا کے رکھ دیا ہے۔ اُن مفید بھی نفع رساں بھی ایجادات کے غلط استعمال نے سماج میں جلتی پر آگ کا کام کر دیا ہے۔ عام گھرانوں کی بات ہی نہیں بلکہ شرم و حیا کے پاسدار خانوادوں کی بیٹیاں بھی بہ استثنائے چند اپنے خاندان کے عزت ووقار کو دا غ دار

یہ کیساآیا زمانہ !

 ’’عورت باپ بھی بن سکتی ہے ‘‘ آپ کو اس عنوان پر حیرانگی ہو گی لیکن مغرب میں یہ ڈسکشن جاری ہے کہ ایک عورت کا یہ بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنے ذہنی سکون اور اطمینان کے لیے سرجری کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کروا لے۔ اسے میڈیکل کی اصطلاح میں سیکس ری اسائنمنٹ سرجری (sex reassignment surgery) کہتے ہیں۔ باقی ڈیوڈ ریمر نے جنس تبدیل کروا کے ڈپریشن کے مارے خودکشی کر لی تھی تو خودکشی بھی تو اس کا بنیادی انسانی حق تھا نا۔ اس کی زندگی ہے، ہمیں کیا حق کہ مرے یا جیئے، مرد بن کر یا عورت ہو کر۔ ہمارے ہاں کے کندہ ٔ ناتراشوں کو ابھی یہی اعتراض ہے کہ عورت امام مسجد اور موذن کیوں نہیں بن رہی اور مغرب میں عورت، باپ بھی بن رہی ہے۔اسے کہتے ہیں ’’حقیقی مساوات‘‘۔ بس مرد کے برابر حقوق تو تبھی پورے مل سکتے ہیں نا جب عورت مرد ہی بن جائے۔ لبرل، سیکولر، ترقی پسند او

ماں بہن بیٹی

میں   یونیورسٹی سے باہر آیا تو سڑک پر ایک پژمردہ خاتون کو دیکھاجو کسی کو غمگینی کی حالت میں اپنا دُکھڑا سنارہی تھی۔جب میں  ذرا سا قریب آیاتو خاتون زور زور سے رونے لگی اور سننے والا شخض اسے تسلی دیتا رہا۔خاتون نے اپنی دبی آواز میں کچھ لفظ بولے جو میرے دل کو چھو گئے۔اُس نے اپنے اندورنی جذبات بیان کئے:’’ میری چار بیٹیاں ہیں،جس کی وجہ سے نہ تو ان کی عزت کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی میرا احترام کرتا ہے۔وہ ہمیں مناسب دیکھ بھال نہیں کر رہے ہیں۔وہ ہم پر دبائو ڈالتے ہیں۔وہ کبھی بھی ہماری نہیں سنتے ۔اگر میں اور میری بیٹیاںکچھ کہتی ہیںہماری اَن سنی کردی جاتی ہے‘‘۔   ان دردبھرے لفظوں کو سنتے ہو ئے اُس نے اپنے آنسو کسی طرح روکے رکھے۔ اس واقعہ نے مجھے کافی جھنجھوڑ لیااور میرے ذہن میںباربار یہی سوال گونج رہاتھا کہ آخر لوگ کب خواتین کے ساتھ جان لیوا ام

سہ طلاق: نان اِیشو کیوں بنا یااِیشو؟

 دکنی  زبان میں ایک کہاوت بڑی مشہور ہےجب بھی کوئی بے کار بےمطلب دکھاوے کی جھوٹی فکر جتاتا ہے تو لوگ اُس کی شان میں یہی کہاوت کہتے ہیں ’’کی جی میاں دُبلے، دنیا کی فکر زیادہ‘‘ کچھ یہی حال  ہمارے وزیراعظم مودی جی کا بھی ہے۔ کوئی وکاس سے متعلق سوال کرتا ہے تو جواب یہی ملتا ہے کہ فی الحال مسلم خواتین کی فکر زیادہ ہے۔ مودی جی کو نہ جانے مسلم خواتین سے کیوں اتنی ہمدردی ہے کہ ہندوستان کے تمام اہم مسائل نظرانداز کر خود کو صرف مسلم خواتین کا مسیحا بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہیں اگر کوئی فکر ہونی بھی چاہیے تو جشودہ بین کی ہونی چاہیے ۔دراصل جب سے یہ اقتدار میں آئے ہیں اُس دن سے لے کر انہوں نے صرف بھاشن دئے ، فارن ٹور کئے ، دعوؤں کی مالاجپی ، جب کہ ملک میں لوٹ کھسوٹ ، مہنگائی ، بے روزگاری ، افراتفری ، ہجومی تشدد، فرقہ واریت کا بول بالا ہو ۔انہی’’ ا

تازہ ترین