بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ، شہر میں سرگرمیاں متاثر،پولنگ علاقوں میں کڑی سیکورٹی

 سرینگر//مزاحمتی قیادت کی جانب سے ’جہاں پولنگ وہاں ہڑتال ‘ کی کال کے نتیجے میں سرینگر میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر پولنگ علاقوں کے ساتھ ساتھ حساس غیر پولنگ علاقوں میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ۔شہر کے سولنہ، آلوچی باغ، ایس ڈی کالونی بٹہ مالو، زیارت بٹہ مالو، شہید گنج، کرن نگر، چھتہ بل، قمرواری، بمنہ ایسٹ، بمنہ ویسٹ، نندریشی کالونی، پارمپورہ، زینہ کوٹ، لاوے پورہ، مجہ گنڈ، ٹنکی پورہ، حبہ کدل، بربرشاہ، فتح کدل، منور آبادعلاقوں میں پرامن پولنگ کویقینی بنانے کیلئے پولیس وفورسزکے اضافی دستے تعینات کئے گئے تھے ۔اگر تجارتی مرکز لالچوک میں بازار کھلے تھے ،تاہم یہاں عام دنوں کے مقابلے میں لوگوں کا انتہائی کم رش دیکھا گیا جبکہ شہر کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور کارو باری ادارے بند رہے اور ٹرانسپورٹ بھی معطل رہا تا

ٹنکی پورہ اورسید علی اکبر پولنگ مراکز میں سناٹا

سرینگر//سرینگر میں دوسرے مرحلے میں جہاں مجموعی شرح3فیصد سے کم رہی اور دن بھر پولنگ مراکز میں خاموشی چھائی رہی جبکہ شہر کے3انتخابی وارڈوں،ٹنکی پورہ،چھتہ بل اور سید علی اکبر کے پولنگ مرکز میں دن بھر سناٹا رہا اور فورسز اور پولنگ عملہ ہی نظر آیا۔ شہر خاص میں ہڑتال کے بیچ وارڈ نمبر24چھتہ بل،وارڈ نمبر33ٹنکی پورہ اور وارڈ نمبر34سید علی اکبر میں بھی بدھ کو دیگر وارڈوں کی طرح ہی صبح6 بجے سے انتخابی عمل شروع ہوا،تاہم دیگر وارڈوں کے برعکس ان وارڈوں میں دن بھر پولنگ عملہ جہاں رائے دہندگان کے انتظار میں رہا۔مجموعی طور پر ان وارڈوں میں ووٹوں کی تعداد26ہزار875ہے،جس میں سے دن بھر انتظار کرنے کے بعد صرف16ووٹ ڈالے گئے۔انتظامیہ نے ان وارڈوں کیلئے11مقامات پر33پولنگ مراکز قائم کئے تھے،تاہم ان پولنگ مراکز پر صحرائی مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے۔ہڑتال کے بیچ ان پولنگ مراکز کے ارد گرد سخت سیکورٹی کا انتظام کیا

جوونائیل جسٹس ایکٹ کی عمل آوری

سرینگر //سماجی بہبود کے سیکرٹری ڈاکٹر فاروق احمد لون نے کل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے میڈیا کمپلیکس میںجموں اینڈ کشمیر جوونائیل جسٹس ایکٹ کی عمل آوری پر تین روزہ ورکشاپ کا افتتاح کیا ۔ ورکشاپ کا اہتمام  این آئی پی سی سی ڈی نے سماجی بہبود کے سٹیٹ چائیلڈ پروٹیکشن سوسائیٹی کے اشتراک سے کیا تھا ۔ افتتاحی سیشن پر چئیر مین ایس سی او سی جسٹس (ریٹائیرڈ )حسنین مسعودی ، ایم ڈی آئی سی پی ایس جی اے صوفی ، ڈائریکٹر فائنانس ، ڈپٹی ڈائریکٹر این آئی پی سی سی ڈی ڈاکٹر سنگھا مترا بھارک ، ویسورس پرسن اور محکمہ سماجی بہبود کے افسران موجود تھے ۔ ڈاکٹر لون جو اس موقعہ پر مہمانِ خصوصی کی حثیت سے موجود تھے نے تمام محکموں  اور سول سوسائیٹی پر زور دیا کہ وہ جوونائیل جسٹس کی طرف خصوصی توجہ دیں ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے اس ایکٹ کی عمل آوری کیلئے مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔ انہوں نے کہا

ووجے کمار کا دورہ شہر ، انتخابی وارڈوں میں انتظامات کا جائیزہ لیا

 سرینگر// گورنر کے مشیر کے وجے کمار نے کل علی الصبح سرینگر شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور سرینگر میونسپل کارپوریشن کے دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 18 سے 37 وارڈوں میں کئے گئے انتظامات کا جائیزہ لیا ۔ڈی جی پی جے اینڈ کے دلباغ سنگھ اور آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی دورے کے دوران مشیر کے ہمراہ تھے ۔  بعد میں مشیر موصوف نے پولیس کنٹرول روم سرینگر میں اعلیٰ پولیس افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی اور انتخابات کے سلسلے میں کئے گئے سلامتی انتظامات کا تفصیلی جائیزہ لیا ۔ آئی جی پی کشمیر نے ایس ایم سی کے تحت آنے والے دوسرے مرحلے کے انتخابی علاقوں کیلئے عمل میں لائے گئے انتظامات کے بارے میں مشیر موصوف کو جانکاری دی ۔مشیر موصوف نے افسروں پر زور دیا کہ وہ آپسی تال میل کے ساتھ ان انتخابات کو پُر امن اور احسن طریقے پر انجام دیں ۔ دریں اثناء وِجے کمار نے کل محکمہ جنگلات اور اس سے منسل

پٹاخوں کی خریدوفروخت پر پابندی عائد

سرینگر//ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے ایک حکمنامے میں ضلع کی حدود میں پٹاخوں کی خریدوفروخت اورپٹاخے پھوڑنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔یہ حکمنامہ عوامی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے جاری کیا گیا ہے۔حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پٹاخوں کی خریدوفروخت اورپٹاخے پھوڑنے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ایس ایس پی سرینگر کو اس حکمانے پر من وعن عملدر آمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔  

پرائم کالونی اپر ہمہامہ حکومتی نظروں سے اوجھل

سرینگر // ریان انکلیو پرائم کالونی اپر ہمہامہ کے مکین پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔اس جدید کالونی، جس کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے، میں رہنے والے لوگ حکومتی لاپرواہی پر ماتم کررہے ہیں۔یہاں نہ پینے کے پانی کا کوئی معقول بندوبست ہے اور نہ یہاں رہنے والے سینکڑوں لوگ محکمہ پبلک ہیلتھ کیلئے کوئی اہمیت رکھتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہاں ٹینکروں کے ذریعے بھی لوگوں کو پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔اس کالونی کے مکین اب مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ ہر گھر میں ٹیوب ویل لگائیں۔لیکن اونچائی پر واقع اس کالونی میں کھودے گئے ٹیوب ویلوں میں سبھی میں پانی نہیں آتا ہے۔ محکمہ ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کے ایک ریٹائرڈ آفیسربشیر احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مجبور ہو کر اب انہوں نے بھی ٹیوب ویل کھود کر پانی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پانی کے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ پانی پینے ک

تازہ ترین