مصائب کے طوفان میں خیمہ زن انسانیت!

پلوامہ فدائین حملہ پر15فروری کو جموں بند کے دوران بلوائیوں کی طرف سے پولیس کی موجودگی میں پریم نگر، جوگی گیٹ ، گوجر نگر،وزارت روڈ، شہیدی چوک ، گمٹ ،بس اڈہ اور دیگر مقامات پر توڑ پھوڑ اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور اس کے بعد 16اور17فروری کوجانی پور، مٹھی ، توپ شیرخان آباد و دیگر علاقوں میں پتھرائو اور پٹرول بموں کے ذریعہ حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے خائف کشمیری و مقامی مسلم آبادی کیلئے مسجد کمیٹیوں او ردیگر سماجیتنظیموں کا سامنے آناواضح ثبوت ہے کہ ہمارے سماج میں انسانیت کے اقدار کا علم بلند رکھنے والے موجود ہیں اور اگر یہ کمیٹیاں اس مشکل وقت پر حالات کے ماروں کو پناہ نہ دیتی تویقینی طور پر مسائل بڑھ جاتے ۔اگرچہ پولیس نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اجمیر شریف اور ملک کے دیگر مقامات سے واپس آنے والے مسافروں کو بلوائیوں کے نشانہ سے بچانے کیلئے نروال اور دیگر علاقوں سے بٹھنڈی منت

بیرونِ ریاست کشمیری طلاب کی پریشانیاں۔۔۔ انتظامی تحرّک کی ضرورت!

لیتہ پورہ سانحہ کے بعد جموں میں پیدا کئے گئے خوف و دہشت کے حالات کے نتیجہ میں جانبدارانہ طرز فکر کے حامل میڈیائی اداروں اور سوشل میڈیا کی مہربانی سے ملک کی کئی ریاستوں میں کشمیری طلاب اور تجار کےخلاف جذبات بھڑکا کر عوام کو مشتعل کرنے کی جو مہم برپا کی گئی، اُس نے سیاسی ونظریاتی صف بندیوں کے آر پار سنجیدہ فکر حلقوں کو حیران و ششدر کرکے رکھ دیا ہے کہ، کیا ایک جمہوری نظام میں مخصوص لیبل چسپان کرکے بے یارومددگار اور بے گناہ شہریوںکو فکری و عملی تشدد کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہے تو کیا یہ جمہوری اصولوں کے اقداروا صولوں کا کھو کھلا پن ہےیا پھر انہیں زمینی سطح پر نافذ کرنے والوں، جن میں سیاسی جماعتیں اور انتظامی صیغے شامل ہیں، کی بےبسی اور ناکامی کا مظہر ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ متعدد ریاستوں خاص کر اُترا کھنڈ، راجستھان، ہماچل پردیش، ہریانہ اور کرناٹک وغیرہ میں نہ ص

! جموں میں تشدد۔۔۔۔۔انتظامیہ کی ناکامی افسوسناک

لیتہ پورہ فدائین حملے کے بعد جس طرح سے ریاست بھر میں صورتحال تبدیل ہوئی وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔اس تباہ کن حملے پر رد عمل سامنے آنا فطری عملہے لیکن صورتحال کے تئیں انتظامیہ و پولیس کی غفلت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوائیوں نے جموں میں چن چن کر مخصوص طبقہ کی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچایا اور مسلسل چا ر گھنٹوں تک لاقانونیت کا ننگا ناچ  برپا کر دیا، جس سے نہ صرف ریاست کے اندر تاریخی اور روایتی فرقہ وارانہ بھائی چارےکو شدید نقصان پہنچا نے کی کوشش کرکے امن و قانون کا مسئلہ کھڑ اکر دیا گیا،بلکہ اسی طرح سے ملک بھر میں بھی کشمیری طلباء اور تاجروں کو نشانہ بنانے کی جو مہم شروع کر دی گئی، وہ انتہائی خطرناک عواقب کی حامل ہے۔واضح رہے کہ جمعرات کو پیش آئے پلوامہ واقعہ کےخلاف جموں چیمبر آف کامرس اور بار ایسو سی ایشن جموں کی طرف سے جمعہ کے روز جموں بند کی کال دی گئی تھی ،جس دوران جموں

انسانیت کے محسنو مرحبا !

  ریاست میں موسم کی نامہربانی کانزلہ اکثرو بیش تر جموں سری نگر شاہراہ کی بندش کی صورت میں نکلتا رہتا ہے ۔ یہ ہمارے لئے معمول کا قصہ ہے کہ کبھی برف باری سے اور کبھی بارشوں سے اس شاہراہ پر پسیاں گر آتی ہیں اور یہ دفعتاً ناقابل عبورومرور ہوجاتی ہیں ۔ بارہا یہ سڑک دھنس کر بھی ٹریفک کی آمدورفت کے قابل ہی نہیں رہتی ۔ یہ ایک لمبی داستان ہے جو روزا ول سے ریاستی عوام سنتے اور سہتے رہے ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ وادی ٔ کشمیر کا دنیا سے رابطہ بنانے والی ا س واحد شاہراہ پر جب بھی آمدورفت مسدود ہو جاتی ہے تو عوام الناس کو بیک وقت کئی قیامت خیز مسائل کا منہ دیکھنا پڑتا ہے : مثلاً شاہراہ بند ہو تو سرراہ رُکے پڑے مسافر مشکلات کی چکی میں پس جاتے ہیں ، اُن کے عزیزواقارب نفسیاتی اضطراب میں اس قدر ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں کہ مانئے اُن کی نبضیں تھم جاتی ہیں ۔  درماندہ مسافروں کے لئے یہ بات خصوصاً

بیرونِ ریاست کشمیری ۔۔۔۔۔ تشدد کا نشانہ کیوں؟

چھتیس گڑھ صوبہ کے رائے پور علاقہ میں زیر تربیت کشمیری طلبہ پر مبینہ تشدد کی کاروائی کےخلاف عوامی حلقوں میں زبردست برہمی پائی جارہی ہے، کیونکہ یہ اُس سلسلہ کا ایک تسلسل نظر آرہا ہے، جو گزرے مہینوں میں دیگر کئی ریاستوں میں کشمیری طلبہ اور تاجروں کے ساتھ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالانکہ موجوہ واقعہ میں مذکورہ ، طلبہ مرکزی سرکار کی سکیم حمایت کے تحت تربیت حاصل کرنے کےلئے چھتیس گڑھ گئے تھے، جہاں معمولی چپقلش کی بنا پر دو طلبہ کے درمیان ہاتھاپائی کی نوبت آئی اور اور جس پر غیر ریاستی طلبہ نے ہوسٹل میں جاکر انکی مارپیٹ کی ۔مقامی پولیس نے اگر چہ واقعہ کی تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے مگر یہ بات باعث حیرت ہے کہ ایسے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آرہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بیرون ریاست کشمیریوں کے لئے ماحول مکدر بنایا جا رہاہے۔ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ہریانہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے بعد

ٹریفک ہفتوں کی رسمیں۔۔۔۔ زمینی صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت

 ریاست بھر میں ٹریفک ہفتہ منایا گیا ہے اور اس میں نہ صرف محکمہ ٹریفک پیش پیش رہا بلکہ متعدد محکمہ جات خاص کر ضلعی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے صیغے جا بجا روڑ ریلیوں، معلوماتی تقاریب ، مباحثوں اور ہمچکو قسم کے پروگراموں کا اہتمام کرنے میں پیش پیش رہے۔ ان تقاریب میں ماہرین نے عوام الناس کو ٹریفک قواعد پر عملدرآمد کی اہمیت اور انکی خلاف ورزیوں سے متوقع نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا۔ ظاہر بات ہے کہ اس قسم کے پروگراموں کی زبردست اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ مقررہ ایام گزرجانے کے بعد وہ جوش اور جذبہ ، جو ایسے مواقع پر دیکھنے کو ملتا ہے، ایسے مفقود ہو جاتا ہے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ حالانکہ ٹریفک کی موجودہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ٹریفک قواعد کے بارے میں آگاہی پروگراموں کو ایک مستقل صورت عطا کی جانی چاہئے۔ کیونکہ آج کوئی بھی ایساد ن نہیں گزرتا جب کہیں ن

جموںسرینگر رابطہ۔۔۔۔متبادل شاہراہ پر توجہ کیوں نہیں؟

برفباری اور خراب موسمی صورتحال کے باعث جموں ۔سرینگر شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے ہر ایک شخص کے ذہن میں یہ سوال ابھرکر سامنے آرہاہے کہ بالآخر اس شاہراہ کا متبادل کیاہے اور کیوں مغل شاہراہ پر ٹنل تعمیر کرکے اسے سال بھر چالو رکھنے کے اقدامات نہیں کئے جارہے ۔ہر سال موسم سرمایا برسات کے ایام میں اس طرح کی صورتحال کاسامنارہتاہے لیکن گرمیوں میں چونکہ مغل شاہراہ کھلی ہوتی ہے لہٰذا مسافروں کے پاس سفر کیلئے ایک بہترین متبادل موجودہوتاہے اور انہیں اس طرح سے درماندگی کاسامنا نہیںکرناپڑالیکن موسم سرما میں مغل روڈ بند رہنے کی وجہ سے عبور ومرور کا سارادارومدار جموں سرینگر شاہراہ پر ہی رہتاہے ،جس کے بند ہونے سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے بلکہ کشمیر کو جانے والی اشیائے ضروریہ کی رسد بھی بری طرح سے متاثر ہوتی ہے ۔یہ ایک معمول بن گیاہے کہ بارش یا برفباری ہونے پر جموں سرینگر شاہراہ

درماندگان کے مصائب۔۔ ۔ حکومت سنجیدہ کیوں نہیں؟

سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمد ور فت بند ہونے کے بہ سبب ہزاروں کی تعداد میں جموں اور دہلی میں درماندہ مسافروں کی حالت ِ زار دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ سڑک بند ہونے کی صورت میں مسافروں کے پاس ہوائی سفر کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا لیکن فضائی کمپنیوں نے موقع کا ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کی چمڑی اُدھیڑنے میں کوئی کسر اُٹھائے نہیں رکھی ہے، کیونکہ سفر کے کرایہ میں جس عنوان سے متواتر اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، اُسکے چلتے ایک عام شخص کے لئے ہوائی سفر کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہے۔ دوسری جانب حکومت نے فضائی کمپنیوں کی طرف سے لوگوں کو دن دہاڑے لوٹنے کی کاروائی پر کسی قسم کی قدغن لگانے کے حوالےسے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں، حالانکہ گزشتہ کئی دنوں سے عام لوگوں اور سماجی اداروں کی جانب سے ریاستی انتظامیہ پر بار بار یہ بات باور کی جارہی ہے کہ فضائی کمپنیوں کی طرف سے مچائی جانے والی لوٹ پر قدغن لگانے

لداخ کو صوبائی درجہ ، پیر پنچال اور چناب نظرانداز کیوں؟

گورنر انتظامیہ کی طرف سے لداخ کو ریاست کا تیسرا صوبہ بنایاگیاہے اور اس سلسلے میں تین روز قبل حکمنامہ جاری ہونے کے ساتھ ہی جہاں لداخ خطے کے عوام کو مبارکباد پیش کی جانے لگی وہیں خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب سے شدید رد عمل سامنے آرہاہے اور عوامی و سیاسی حلقے یہ سوال کررہے ہیں کہ ان دونوں خطوں کو کس بنیاد پر نظرانداز کیاگیاہے ۔اس فیصلہ پر ریاست کی مین اسٹریم جماعتیں بھی خاموش نہیں رہیں اور نیشنل کانفرنس و پی ڈی پی دونوں نے گورنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیر پنچال اور چناب خطوں کے عوام کی حمایت کا اعلان کیاہے جبکہ کرگل کے لوگوں نے احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔اسی طرح سے دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے تاہم بھارتیہ جنتاپارٹی واحد ایسی جماعت ہے جو خطہ چناب اور خطہ پیر پنچال کے عوام کے مطالبے کی مخالف ہے ۔بے شک لداخ جغرافیائی لحاظ سے ایک الگ تھلگخطہ ہے اور اس علاقے

کبریٰ سے کامران تک!

 ہفتہ عشرہ قبل پریس کالونی سری نگر میں اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ ہو ا۔ یہ مظاہرہ مظفر آباد کی اُن بیٹیوں نے کیا جو کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بیاہی گئی ہیں مگر ان کی خرماں نصیبی کہ یہاں یہ بیٹیاں طرح طرح کے خانگی، نفسیاتی اور سماجی مسائل سے دوچار ہیں اور چاہتی ہیں کہ میکہ لوٹ کر اپنے دکھ درد کا بوجھ ہلکا کریں ۔ ان کا ٹھوس شکوہ ہے کہ نہ انہیں ریاست میں مستقل باشندگی کا حق دیا جاتا ہے اورنہ وطن واپسی کا راستہ دیا جاتاہے۔ اس پیچیدہ مخمصے سے دوچار یہ کم نصیب خواتین نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق دو حکومتوں کی عدم شنوائی کے بیچ اٹک کر ذہنی تعذیب میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ سری نگر میں اپنے بچوں سمیت ان کا مظاہرہ کر نا کوئی سیاسی چیستاں نہیں بلکہ محض ایک انسانی مسئلے کی طرف اربا ِبِ اقتدار کی توجہ مبذول کرانے کی چیخ وپکار ہے تاکہ ان کی بپتا سنی جائے ۔ یاد رہے کہ عمر عبداللہ کے دور ِحکومت می

آفات سےنمٹنے کے سرکاری دعوے سراب ثابت!

گزشتہ د و روز سے ہو رہی برفباری نے کشمیر، پیر پنچال اور چناب خطوں میں تباہی کا جو سامان کیا ہے، اسکا اندازہ لگانا اگرچہ مشکل نہیں تھا، کیونکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے درمیانہ سے بھاری پیمانے کی برفباری کی پیش گوئی کی گئی تھی، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ رواں برس کی خراب موسمی حالت سے کوئی سبق حاصل کرنے کی بجائے، ایسا ثابت ہوا ہے کہ انتظامیہ خواب خرگوش میں تھی۔ جبھی تو فی الوقت مذکورہ بالا تینوں خطوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے عبور و مرور کا سلسلہ بُری طرح متاثر ہوگیا ہے۔ روز مرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بجلی کی فراہمی کا عالم یہ ہے کہ شہر اور قصبہ جات میں انتظامیہ وقفو ںوقفوں کے ساتھ اُسے برقرار رکھنے میں کسی حد تک کامیاب رہی ہے مگر دیہات اور دور دراز علاقوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ وادی کشمیر کے شمال اور جنوب میں تازہ برفباری سے برقی سپلائی کا ڈھانچہ ہی جیسے مہندم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس میں ک

درماندہ شاہراہ اور فضائی کمپنیوں کی لوٹ کھسوٹ!

رواں موسم سرما کےد وران سرینگر جموں شاہراہ وقفے وقفے سے منقطع رہنے کی وجہ سے اس شاہراہ پر سفر کرنے والوں کو کن بے بیاں مشکلات کا سامنا رہا ہے، وہ شاید بتانے کی بات نہیں، کیونکہ کم وبیش گزشتہ تین ہفتوں سے اسکی دل شکن رپورٹیں آئے دن میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، لیکن جو مسافر شاہراہ مسدود ہونے کے سبب جموں میں پڑے ہوئے ہیں،ا نکی حالت زار ؟،کیا ہے اسکے حوالے سے حکومت  کی جانب سے کوئی خاص پہل دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ شاہراہ بند ہونے کے ساتھ ہی جموں اور اس کے مضافات میں ہوٹل والوں کی جانب سے من مانا کرایہ وصول کرنے کی وجہ سے ایسے مسافروں کی بڑی تعداد سرراہ گزارہ کرنے پر مجبور ہوگئی ہے اور آج بھی جموں بس اڑے اوراس کے گرد و نواح میں سینکڑوں لوگوں کی بس سٹالوں اور فٹ پاتھوں پر بستر بچھا کے بیٹھا ہوا پایا جانا ایک عام بات بن گئی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ان درماندہ مسافروں میں خواتین، بچے اور عمر

تاریخی عمارتیں زبوں حالی کاشکار کیوں؟

 فن تعمیر کانمونہ قرار دی گئیں ریاست کے مختلف حصوںمیں صدیوں قبل قائم کی گئی عمارات زبوں حالی کاشکار بن کر رہ گئی ہیں اور ان میں سے کچھ توکھنڈرات بن چکی ہیں لیکن کچھ کی حالت انتہائی خراب اور خستہ ہے ۔ اگرچہ چند ایک عمارتوں کو تحفظ دے کر انہیں سیاحوں کیلئے جاذب نظر بنایاگیاہے تاہم زیادہ تر قلعہ نماعمارتیں ایک ایک کرکے تباہ ہوتی جارہی ہیں ۔مغلیہ دور حکومت کے دوران اور اس کے بعد پورے برصغیر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی جگہ جگہ قلعے اور دیگر عمارتیں تعمیر ہوئیں جو ایک عرصہ تک قابل دید رہیں مگر حکام کی مسلسل عدم توجہی کے سبب ان کی حالت دن بدن بگڑتی گئی اور آج حالت یہ ہے کہ ان عمارتوں میں سے کئی کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔ تاریخی مغل شاہراہ پر راجوری کے نوشہرہ سے لیکر پیر مرگ تک درجنوں ایسی عمارتیں یا قلعے تعمیر کئے گئے جنہیں صدیوں سے کئی مقاصد کیلئے استعمال کیاگیا تاہم یہ تمام عم

مرکزی معاونت والی سکیمیں

ریاست میں تعمیروترقی کے مقصد کیلئے بیشتر محکمہ جات کی طرف سے مرکزی معاونت والی سکیمیں چلائی جارہی ہیں اور ان سکیموں کی احسن طریقہ سے عمل آوری کیلئے وقت بر وقت ملازمین کی تعیناتی عمل میں لاتی گئی ،جن کی مجموعی تعداد ہزاروں میں ہے ۔یہ ملازمین پچھلے کئی برسوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے زندگی کے قیمتی برس قلیل سے مشاہرے پر حکومت کو دے دیئے لیکن اب وہ زندگی کے ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں اپنے ماضی پر رونا آتاہے اور مستقبل تاریک نظر آرہاہے ۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ حکام کی طرف سے وعدے تو بارہا کئے گئے مگر ان کو ایفا کرنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاگیا اور مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔حکام کی وعدہ خلافیوں کے خلاف جب یہ ملازمین کچھ عرصہ کے بعد مجبورہوکراحتجاج کاراستہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں

درماندہ مسافر وں کے تئیں حکومت کی عدم توجہی کیوں؟

جموں سرینگر شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے کشمیر اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسافر جموں اور مختلف مقامات پر اکثر درماندہ ہو کر مصائب میں مبتلاء ہو جاتے ہیں، پھر جب موسم میں بہتری آنے پر شاہراہ پر ٹریفک کا سلسلہ بحال ہوجاتا ہے تو  حکام کی ترجیح بیچ راستے میں پھنسے مسافروں اورگاڑیوںکو بحفاظت نکال کر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ کرنا ہوتا  ہے۔لہٰذا جموں میں رُکے ہوئے مسافر کئی کئی دنوں تک سڑک کھلنے کے انتظار میں درماندہ رہتے ہیں۔ اسکی بدترین صورت گزشتہ ہفتے کو دیکھنے کو ملی ، جب سے سینکڑوں مسافروں ، جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں، دربدر ہےاور متعدد کے پاس اب کھانے کےلئے بھی کچھ نہیں بچا ہے۔ جموں او رکشمیر کے صوبوںکوآپس میں ملانے والی 300کلو میٹر شاہراہ کی حالت اس قدر خراب ہے کہ گزشتہ ہفتے جب اسے ٹریفک کیلئے بحال کیاگیاتو جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں آنے

خونین سڑک حا ثا دت !!!

     ریاست بھر میں یکے بعد دیگرے دلدوز سڑک حا دثا ت کاپیش آنا ہماری کم نصیبی اور ٹریفک حکام کی نااہلی کا منہ بو لتا ثبوت ہے۔ افسوس کہ ٹریفک حادثات ا س تواتر کے ساتھ پیش آ تے رہتے ہیں کہ لگتا ہے انہیں بھی ہم نے مجموعی طور معمولاتِ زندگی کا حصہ مان لیا ہے۔ دیکھا یہ جارہاہے کہ جاں لیوا ٹریفک حادثات پر کچھ دن تک تولوگ کف ِافسوس ملتے ہیں لیکن پھر انہیں فراموشی کے بستے میں ڈالا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ متاثرہ گھرانوں میں ہی غم والم اور ما تم وسینہ کوبیاں ڈیرا ڈالتی ہیں۔ حد یہ کہ سڑ ک حا دثوں کے تسلسل پر ہمارے ارباب بست وکشاد صرف روایتاً اظہار تاسف پر اکتفا کر کے اپنی پنڈ چھڑاتے ہیں ، جب کہ کہیں بھی ایسا لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا جاتاجس سے روڈایکسڈنٹ اگر سرے سے ختم بھی نہ ہوں مگر ان کی تعداد میں کمی تو واقع ہو۔ یہ آفاقی حقیقتیں ہیں کہ موت اور زند گی کے فیصلو ں پر کاتب ِ تقد

بجلی سپلائی ۔۔۔۔۔ نئے اقدامات حقیقت سے بعید!

وادی میں گو کہ موسمِ سرما کا کلیدی حصہ چلہ کلان گزرچکاہے اور حالیہ برف باری سے ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہواہے لیکن بجلی سپلائی میں واضح بہتری کے آثار ہنوز نظر نہیں آرہے ہیں۔اعلان شدہ شیڈل تو پہلے ہی ماضی کی بات بن گیا تھا لیکن اس کے بعد جو غیر اعلانیہ کٹوتی شروع کی گئی تھی اُس میںبھی فی الوقت کوئی زیادہ فرق نہیں آیاہے۔ انتظامیہ بار بار اس صورتحال میں بہتری لا کر بجلی کے کٹوتی شیڈلوں میں تبدیلی لانے کی یقین دہانیاں کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر کچھ زیادہ نہیں ہوتا۔بجلی کی فراہمی میں تخفیف کے حوالے سے محکمہ کی طرف سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران جوکچھ کہا گیا ہے۔ وہ کبھی پورا نہیں ہوا  اور یہ ایک افسوسناک امرہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں برقی رو کی طویل کٹوتیاں اب بھی برقرار ہیںجو ایک ٹارچر سے کچھ کم نہیں ہے ۔ اس ستم ناک صورتحال کے خلاف شہرودیہات میں ر

قومی شاہراہ کا سفر۔۔۔۔۔ایک سو ہانِ روح

جموں سرینگر شاہراہ ، جو وادی کشمیر کو نہ صرف جموں خطہ بلکہ بیرونی دنیا سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ ہے، پر سفر کی حالت ہر گز رنے والے دن کے ساتھ ابتر اور تکلیف دہ بنتی جارہی ہے کیونکہ کوئی ایسا دن دیکھنے کو نہیں ملتا جب اس شاہراہ پر گھنٹوں بدترین ٹریفک جام پیش نہ آتا ہو۔خاص کر موسم کی خرابی کے دوران اس شاہراہ پر سفر مسافروں کےلئے جانگسل بن جاتا ہے۔ حالیہ ایام میں پیر پنچال کے آر پار برفباری کی وجہ سے مختلف وجوہات کی بنا پر بار بار شاہراہ کے بند ہونے کے سبب مسافروں اور صوبۂ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو زبردست ذہنی و جسمانی پریشانیوں اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسی صورتحال ایک دن کا مسئلہ نہیں بلکہ ابتر موسمی حالات میں یہ ایک ایسا معمول بن چکا ہے، جسے عام لوگ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کسی طرح کی سنجیدہ توجہ مرکوز نہیں ہو رہی ہے۔ بھلے

جموں ۔پونچھ شاہراہ

235کلو میٹر مسافت والی جموں ۔پونچھ شاہراہ کی کشادگی کا کام تعطل کاشکار ہے ،جس کی وجہ سے نہ صرف آئے روز سڑک حادثات رونماہورہے ہیں بلکہ مسافروں خاص کر علاج و معالجہ کےلئےجموں آنے جانے والے مریضوں کو زبردست پریشانیوں کاسامناکرناپڑرہاہے۔خطہ پیر پنچال کے عوام کی طرف سے اس روڈ کو کشادہ کرکے فورلین بنانے کی مانگ عرصہ دراز سے کی جارہی ہے اور چار سال قبل وزیر اعظم خصوصی ترقیاتی پیکیج کے تحت اعلان کئے گئے اسی ہزار کروڑ روپے میں سے اس روڈ کی کشادگی کیلئے 5100کروڑ روپے مختص بھی رکھے گئےتھے تاہم بدقسمتی سے ابھی تک عملی سطح پر اس سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔اگرچہ حال ہی میں جموں سے اکھنور حصے پر کشادگی کا کام شروع ہواہے مگر اکھنور سے آگے سڑک کو کشادہ کرنے کا معاملہ سرے سے ہی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاگیاہے ۔ اگر چہ جموں ۔پونچھ شاہراہ موجودہ جموں۔سرینگر شاہراہ سے بہتر حالت میں ہے لیکن اس کاحال ات

منشیات کی خوفناک وباء۔۔۔ گورنر انتظامیہ کےلئے چلینج

وادیٔ کشمیر میں جس رفتار کے ساتھ منشیات کے استعمال کی وباء پھیل رہی ہے وہ کسی بھی سنجیدہ فکر اور درد دل رکھنے والے شہری کےلئے المناک ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فی الوقت وادی میں 70ہزار لوگ منشیات کی لت میں مبتلا ء ہوگئے ہیں جن میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر صنف نازک منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہوجائے تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل یقینی ہے جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایساماضی میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اُس وقت مسلح تصادم آرائیاں ہو رہی تھیں اور اُس ریاست میں ایک منظم مافیا تیار ہوگیا، جس کی سرگرمیاں، پولیس کی طرف س

تازہ ترین