صوبائی تشکیل نواورخطہ پیر پنچال و چناب

لداخ کو ریاست کا تیسرا صوبہ بنانے کی کوششوں کے بیچ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کو بھی اپنے مخصوص جغرافیائی مقام اور مخصوص مسائل کی وجہ سے علیحدہ صوبوں کا درجہ دینے کی مانگ کی جارہی ہے اور ریاست میں ہر شعبے میں پسماندہ رہ جانے والے ان دونوں خطوں کے عوام نے یہ انتباہ دیاہے کہ اگر یہ فیصلہ منصفانہ بنیادوںپر نہ ہواتو اس کے نتیجہ میں عوامی سطح پر سورش برپا ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ گزشتہ دنوں پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ان دونوں خطوں کے عوام کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایاکہ صرف لداخ کو ہی کیوں الگ صوبہ بنانے پر غور و خوض ہورہا ہے ۔ اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا ہے تواس حوالے سے پہلا حق خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کابنتا ہے اور کسی بھی طرح کے یکطرفہ فیصلے کی صورت میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ،کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتیں پرامن طور پر ایج

ناخیز بچوں کے لئے تعلیمی وظائف

 گزشتہ دنوں ریاست کے ناخیز طلبہ وطالبات کے لئے تعلیمی وظائف دئے جانے کا سرکاری اعلان ہوا جواس طبقے کے لئے مژدہ ٔجاں فزا اور مستحسن اقدام ہے ۔ عوامی حلقوں میں بھی ا س اعلان کی کافی سراہنا کی جارہی ہے ۔ یہ اعلان گورنر ستیہ پال ملک نے جموں میں جسمانی طور ناخیز بچوں بچیوں کے تعلق سے منائی گئی ایک تقریب میں کیا ۔ تعلیمی وظیفے کا مقصد جسمانی طورناتواں بچوں بچیوں کو تعلیمی اور تکنیکی میدانوں میں آگے بڑھانا، انہیں زندگی کے دھارے سے جوڑنا ، انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دینا ہے۔ ا لبتہ یہ تعلیمی وظیفہ صرف اُن سٹوڈنٹس کے حق میں منظور ہوگا جو جسمانی طور ناخیز ہونے کے باوجود میرٹ ہولڈر ہوں، یعنی اس وظیفے کا حصول اُمیدوار کی قابلیت اور اہلیت سے مشروط رکھی گئی ہے ۔ شاید ا س شرط کے پیچھے یہ نیک خیال کارفرما ہوکہ جسمانی طور ناخیز طلباء غبی نہ ہوں ،وہ اپنی قابل قدر اور معیاری تعلیمی ذہان

بستیوں میں جنگلی جانوروں کاورود!

وادی میں حالیہ برفباری کے بعد آئے روز انسانی بستیوں کی جانب جنگلی جانوروں ،خاص کر برفانی تیندوں کی نقل و حرکت کی خبر یں آرہی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑوں پر بھاری برفباری کے بہ سبب قدرت کی ان مخلوقات کو خوردو نوش کی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ غذا کی تلاش میں انسانی آبادیوں کی جانب نکل آتی ہیں۔ ایسےحالات میں بعض اوقات تصادم آرائیاں پیش آتی ہیں جن کے نتیجہ میں جانوں کے نقصان کا اندیشہ ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ حالانکہ اس کرۂ ارض پر ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کےلئے قدرت کی مختلف مخلوقات، جن میں چرند وپرند کےساتھ ساتھ درندے بھی شامل ہیں، کا تحفظ بہت ضروری ہے اور اس کےلئے سماجی سطح پر بیداری پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ جوں جوں کرۂ ارض پر انسانی آبادیاں پھیلتی جا رہی ہیں اور انکی سہولیات کے لئے دور دراز علاقے حتیٰ کہ جنگل ،پہاڑ، بیابان اور آبگاہیں مشینی عمل دخل

سیاسی مکانیت محدود کرنے کا منفی عمل !

متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہفتہ حقوق انسانی منانے کے پروگرام کے ردِ عمل میں ریاستی انتظامیہ نے گرفتاریوں ، خانہ نظر بندیوں اور داروگیر کی جو ہمہ گیر مہم شروع کر دی ہےاور جس کے تحت مزاحمتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے درجنوں قائیدین اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے،اس پر سیاسی خیمہ زبردست برہم ہے۔اس پروگرام کے تحت  اُنکے مطابق  مختلف مقامات پر شام کے اوقات موم بتیاں جلا کر حقوق انسانی کی پامالیوں اورانکے حوالےسے سنجیدہ طرزفکر اختیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرانا مقصود تھا، جو ملکی اور عالمی سطح پر ہور ہی ایسی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کوئی غیر جمہوری معاملہ نہیں،بلکہ اگر ایسا کہا جائے کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کو مناسب مکانیت(Space) فراہم کرکے انتہا ئی سوچ سے محفوظ رہا جاسکتا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تینوں خطوں کے اندر مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی

گئورکھشا کے نام پر تشدد قابل تشویش !

ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی گئو رکھشاکے نام پر تشدد آمیز واقعات رونما ہوتے آرہےہیں، جن میں تشدد پر آماد ہ عناصر بغیر کسی تحقیقات اور پولیس کی کارروائی کے قانون اپنے ہاتھوں میں لیکر کہیں گاڑیوں کو نذر آتش کررہے ہیں تو کہیں بے گناہ شہریوں کی مارپیٹ کر رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں جہاں یو پی(اترپردیش) کے بلند شہر میں گھائو رکھشاکے نام پر دنگا فساد کے دوران ایک پولیس افسر کو ہلاک کردیا وہیں جموں کے ضلع کٹھوعہ کے ہیرا نگر علاقے میں مویشی لے جارہے ایک ٹرک کو بغیر کسی تحقیقات کے نذر آتش کردیاگیا ۔بظاہر ان واقعات کی انجام دہی مویشیوں کی غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے نام پر ہوتی ہے لیکن ان واقعات میں اس قدر لاقانونیت پائی جاتی ہے جس کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی اور تشددبرپا کرنے والے عناصر قانون کی ذرا برابر بھی پرواہ نہیں کرتے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کٹھو

تیز رفتار اسکولی گاڑیاں؟

 ریاست میں  سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب ٹریفک کی آمد ور فت میں جو خوفناک نوعیت کی بے ترتیبی پھیلی ہوئی ہے، اُس سے سماج کاسنجیدہ فکر اور حساس طبقہ انتہائی پریشان ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کے مرتکب ہونےوالے کوئی غیر نہیں بلکہ وہ بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی فکر میں گاڑیاں ڈرائیو کرنے والے تمام ٹریفک قواعد کو بالائے طاق رکھ کر سانپ سیڑھی کی طرح گاڑیاں دوڑاتے ہیں جس سے نہ صرف تواتر کے ساتھ حادثات درپیش آتے ہیں بلکہ ٹریفک جام کی وجہ سے روزانہ ہزارں کی تعداد میں راہگیروں کو قیمتی وقت کے زیاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ کم و بیش تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کا حال یہی ہے، لہٰذا اسکولوں کی طرف سے استعمال کئے جانے والے ٹرانسپورٹ کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ نجی سکولوں کی گاڑیوں میں حساس اور

! ریلوے لائن :پیر پنچال پر توجہ کی ضرورت

مرکزی سرکارنے حال ہی میں بارہمولہ ۔کپوارہ ریلوے لائن کی تعمیر کو منظوری دی ہے جوکہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن ایک بار پھر حکومت کی طرف سے خطہ پیر پنچال کو نظرانداز کئے جانے پر مقامی سیاسی و عوامی حلقوں میںحکام کے تئیں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے ۔خطہ پیر پنچال کے عوام کی یہ دیرینہ مانگ رہی ہے کہ جموں سے پونچھ ریل لائن تعمیر کی جائے تاکہ اس سرحدی خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی ہوسکے اور دوریاں کم ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیداہوں تاہم باربار کی یقین دہانیوں اور اعلانات کے باوجود معیشی اہمیت کے اس عوامی مطالبے کو تسلیم کرکے اس خطے میں ریلوے لائن بچھانے کو منظور ی نہیں دی جارہی ہے۔ اس ریلوے لائن کے حوالے سے مرکز کی پالیسی تذبذب کاشکار رہی ہے اور پہلے کانگریس کے دورحکومت میں اس پروجیکٹ کااعلان کرکے سروے کیاگیا اور ساتھ ہی رقومات بھی ریلوے بجٹ میںمختص رکھی گئیں تاہم بعد میں یہ ب

سرکاری شفا خانے سدھار کے متقاضی!

  سر کاری شفاخانوںکے بارے میں اکثر وبیشتر لوگوں کو شکایتیں رہتی ہیں کہ ان میں مریض دوستانہ فضا پائی جاتی ہے نہ نظم وضبط نام کی کوئی چیز نظرآتی ہے۔نتیجہ یہ کہ مریضوں اور تیمار داروں کو ان میں طرح طرح سے تکالیف کا سامنا کر ناپڑتا ہے۔ ان شکایات کا ازالہ کر نا اگرچہ لازمی ہے مگر بڑی ناسپاسی ہوگی اگر ہم یہ ناقابل ِتردید حقیقت تسلیم نہ کریں کہ نوے کے دور ِ پْر آشوب سے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا رہا ہے ، اس پر یہ لوگ آفرین ومرحباکے مستحق ہیں۔ بسااوقات انہوں نے ناگفتہ بہ اور ہنگامی حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان جو کھم میں ڈال کر اپنے پیشے کاتقدس قائم رکھا۔ کشمیر کا شاید ہی کوئی باشعور فرد بشر ہوگا جس نے مشہورومعروف ڈاکٹر عبدالاحد گور و، ڈاکٹرفاروق عشائی اور ڈاکٹر شیخ جلال وغیرہ جیسی عظیم ط

معصومہ حِبہّ جان .........دنیا کے پاس کیا جواب ہے؟

پیلٹ فائرنگ کی تازہ ترین متاثرہ انیس ماہ کی حِبہّ جان، جس کی ایک آنکھ کی روشنی لوٹ آنے کے بارے میں اس کے معالجین پُر امید نہیں ہیں، مہذب اور جمہوری دنیا کےلئے ایک سوال ہے کہ اس معصومہ کی خطا کیا تھی؟ جو اُسے ایسی بیدردانہ صورتحال سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ بھلے ہی ہمارے سیاستدان اورمنتظمین لمبے چوڑے دلائیل پیش کرنے کی کوشش کریں مگر حقیقت یہی ہے کہ تصادم آرائیوں کے بدترین نتائج اب ہماری اُس نسل کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جو ابھی اپنی آنکھیں کھولنے کے عمل سے بھی ناواقف ہے اور یہ سب ایسے حالات میں ہو رہا ہے، جب صاحبانِ جلالت کی جانب سے نت نئے مہلکات استعمال کرنے کی کھلے عام وکالت ہو رہی ہے۔بھلے ہی عام انسان کو اس کے کیا کیا نتائج بھگتنا پڑیں، جیسے حبّہ جان کے ساتھ ہو ا ہے، جو کمرے کے اندر ماں کی گود میں اٹھکھیلیاں کر رہی تھی کہ سڑک پر متصادم مظاہرین پر چلائے گئے پیلٹ کمرے کےدروازے کو چیرتے

بجلی سپلائی… بہتری کا نشان دور دور تک نہیں!

جوں جوں سردی کی شدت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے، عام لوگوں کی بنیادی ضرورت بجلی کی سپلائی بدستور بدحالی کا شکار ہے ۔اگر چہ متعلقہ محکمہ کی طرف سے بجلی کٹوتی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے لیکن اس شیڈول پر باقاعدگی کے ساتھ عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے بلکہ اکثر اوقات شیڈیول پر عملدرآمد کی بے قاعدگی کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص کر دور دراز علاقوں میں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ موسم سرما میں دریائوں کے اندر پانی کی سپلائی میں کمی واقع ہونے سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور صارفین کو بھی اس حقیقت کا احساس ہے مگر ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ریاستی حکومت بیرون ریاست سے اضافی بجلی کی درآمد کو ممکن بناتی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرناپڑتا ہے، خاص کر صبح اور شام کے اوقات کے دوران، جب بجلی کی سب سےزیادہ ضرورت ہوتی ہے۔سرینگر کے میٹریاف

فلیگ میٹنگوں کے بعد گن گرج۔۔۔ چہ معنی دارد!

سکھ مذہب کے بانی گورونانک دیو جی کے یوم پیدائش کے موقعہ پر کرتارپورراہداری پوائنٹ کھولنے کے فیصلے کو ہندوپاک کے درمیان اعتمادسازی کے ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھاجارہاہے اورحالیہ دنوں بین الاقوامی سرحد و حد متارکہ پر دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان امن برقرار رکھنے اور سیز فائر معاہدے کی پاسداری کے مقصد سے فلیگ میٹنگیں بھی منعقد ہوئی ہیں، جس سے کشیدگی میں ضرورکچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ تشویش کی بات یہ ہے کہ گزشتہ روز رام گڑھ سیکٹر میں بی ایس ایف اور رینجرز کے درمیان ہوئی میٹنگ کے چند گھنٹوں کے بعد اسی سیکٹر میں فائرنگ اور گولہ باری کاتبادلہ بھی ہوا۔فلیگ میٹنگ کے چند گھنٹوں بعد ہی فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہونا اعتماد سازی کی کوششوں کو ٹھیس پہنچنانے کے مترادف ہے اوراس طرح کے اقدامات سے نہ صرف بین الاقوامی سرحد بلکہ حد متارکہ کی کشیدہ صورتحال پر مزید منفی اث

سرمائی و گرمائی زون اور طلبہ کی پریشان حالی

ریاست کاتعلیمی نظام گرمائی اور سرمائی زون کے مطابق چلتاہے اور اسی کے تحت تعلیمی اداروں میں امتحانات،نظام الا وقات، تعطیلات اور دیگر سبھی امور طے پاتے ہیں ۔چونکہ ریاست کے موسمی حالات ہر جگہ یکساں نہیں ہیں اس لئے کشمیر کو سرمائی جبکہ جموں کو گرمائی زون میں بانٹاگیاہے تاہم جموں صوبہ کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جن کو سرمائی زون میں شامل رکھاگیاہے ۔خاص طور پر خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کے کچھ علاقوں کو سرمائی زون میںرکھاگیاہے جبکہ زیادہ تر علاقے گرمائی زون میں ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ہی ضلع میں تعلیمی نظام کے اوقات الگ الگ رہتے ہیں اور جہاں ایک تحصیل میں سب امور کشمیر کے نظام کے مطابق چلتے ہیں وہیں اسی ضلع کی دوسری تحصیل میں یہ امور جموں خطے میں رائج نظام کے تحت انجام پاتے ہیں ۔یہاں اگر صرف ضلع پونچھ کی ہی بات کی جائے تو سرنکوٹ اور منڈی سرمائی زون جبکہ مینڈھر اور حویلی گرمائی زون میں آتے ہیں

اہدافی قتل کی وارداتیں

 گزشتہ دنوں اہدافی قتل کا ایک اور دل خراش واقعہ جنوبی کشمیر اچھ بل میں پیش آیا ۔ اس واقعے میں تحریک حریت کے ایک سرکردہ عہدیدار میر حفیظ اللہ کو اپنے ہی گھر کے باہر نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلاکر ابدی نیند سلادیا۔ کہا جاتا ہے کہ نقاب پوش بندوق برداروں نے دن دھاڑے موصوف کے سر میں گولیاں پیوست کیں اور پھر جائے وقوعہ سے اپنی گاڑی میں بآسانی فرار ہوئے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مقتول دو سال طویل جیل کاٹنے کے بعد دوماہ قبل رہائی پاگئے تھے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رہائی کے بعد سے اُنہیں مبینہ طور جان سے مارے جانے کی دھمکیاں دی جارہی تھیںاور اس بارے میں خود مقتول نے اپنی تشویش اور خدشات سے متعلقہ پولیس کو مطلع بھی کیا تھا ۔ قبل ا زیں بڈگام میں محمد یوسف ندیم ، سوپور میں تحریک حریت کے عہدیدار حکیم سلطانی اور مسرت عالم کی سربراہی والی مسلم لیگ کے ساتھ منسلک کارکن طارق احمد گنائی بھی

!جموں و کشمیربینک۔۔۔اپنوں کے ہاتھوں تباہی کی زد میں

گورنر اور اُس کی ریاستی انتظامی کونسل، جو عوام کے سامنے کسی جوابدہی سے ماوریٰ زیادہ سے زیادہ ایک عبوری انتظام ہے، کافی عرصہ سے ریاستی عوام کے بیش قیمت اور منفرد ادارے جموں وکشمیر بنک سے متعلق بڑے فیصلے لے رہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلے کسی سوچ بچار کے بغیر روا روی کے عالم میں یک طرفہ اور بے قاعدہ طریقے پر لئے گئے ہیں۔زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ گورنر نے قومی ٹیلی ویژن پر اعلان کیا کہ انہوں نے بنک کے چیئرمین کو کچھ امیدواروں کو بھرتی کرنے کی ہدایت دی۔اس بات کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کو ایسے معاملات میں بنک ،جوسرکار کی طرف سے ایک تسلیم شدہ کمپنی ہے ،کو ہدایت دینے کاکوئی اختیار نہیں ہے ۔یہ کوئی سرکاری ادارہ جاتی شعبہ نہیں ہے بلکہ یہاں ایک بورڈ موجود ہے ،جو بنک کی پالیسی سازی کے فیصلے لینے کاذمہ دار ہے ۔کل پھر ریاستی انتظامی کونسل نے گورنر کی صدارت میں جموں وکشمیر بنک کے ساتھ ایک

جمہوریت کا نیا چہرہ؟

چند گھنٹوں کے دھواں دار ڈرامے کے بعدریاست کی منتخب اسمبلی کو تحلیل کئے جانے پر سیاسی صف بندیوں کے آر پار جو ردعمل سامنے آیا ہے، وہ ا س امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جموںوکشمیر، جہاں وقت وقت پر جمہوری اقدار کے چلن کا ڈھنڈورا پیٹنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا ، میں جمہوری اقدار اور اصولوںکا نفاذ نئی دہلی کی من مرضی اور مفادات کے تابع ہے اور 1953سے، جب مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر کے زینت زندان بنایا گیا تھا، سے آج تک اس مزاج اور منہاج میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیںہوئی ہے۔وگرنہ پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس کی جانب سے حکومت سازی کے دعوے پیش کئے جانے کے چند لمحوں کے اندر اندر اسمبلی تحلیل نہ کی جاتی۔ مرکز میں برسر اقتداربھاجپاکو چھوڑ کو کم و بیش سبھی جماعتوں نے اس اقدام کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔ بھلے ہی گورنر صاحب کی جانب سے یہ دلیل پیش کی جائ

جموں میں مسافر بردار ٹرانسپورٹ۔۔۔ خستہ حالی کی انتہا!

جموں شہر میں مسافر بردار ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور یہ اب روزانہ سفر کرنے والوں کےلئے کسی مصیبت سے کم نہیں۔ میٹاڈورڈرائیوروں کی طرف سے طویل وقفوں تک گاڑیوں کو ایک ہی سٹاپ پر کھڑے رکھنا اور اضافی کرایہ کی وصولی ایسے مسائل ہیں جن کامسافروں کو روزانہ شکار ہوناپڑتاہے ۔حالانکہ جگہ جگہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہوتے ہیں مگر ان کی جانب سے من مرضی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور ان کا جہاں جی چاہتاہے وہ گاڑی کھڑی کرکے بولی لگانا شروع کردیتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں پیچھاکررہی کوئی دوسری گاڑی نظر آتی ہے توپھر اس تیزرفتاری سے دوڑ لگاتے ہیں کہ کئی مسافر وں پر خوف طاری ہونے لگتاہے ۔میٹاڈورڈرائیوروں کی اس بدنظمی کے باعث شہر کے ہر ایک چوراہے اوردیگر کئی مقامات پر روزانہ ٹریفک جام لگتے ہیں جن کے نتیجہ میں عام لوگوں کو متاثر ہوناپڑتاہے ۔خاص طور

موسم سرما کے مختلف چلنج

  گزشتہ دنوں وادی میں معمولی برف باری سے عوام کو خاص کر بجلی بریک ڈاؤن کا شدیدبحران سہنا پڑا۔ اس وجہ سے لوگ باگ سوال کر تے ہیں کہ جب گورنر انتظامیہ پر دوانچ برف باری اتنی بھاری پڑی تو تین چلّوں کے دوران اس کا کیا حال ہوگا جب کڑاکے کی سردی اور جمود وتعطل روایتی طور کشمیر کا مقدر بن کر عام آدمی کے مسائل کوا ور زیادہ پیچیدہ بناتے ہیں ۔ بہر صورت اُمید یہی کی جانی چاہیے کہ گورنر انتظامیہ ابھی سے پیش آئند نامہربان موسم سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لئے جنگی پیمانے پرتیاریاں کرے گی۔ ہم یہی دیکھتے ہیں کہ روایتاً دربار مو کے بعد وادی کو مفلوج انتظامی مشنری کے سبب شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ا س باراگر کوئی دوسری کرامت نہ ہوئی تو ماضی کی طرح دربار مو کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ وادی بھر میں مسائل اور مصائب اگلے چھ ماہ تک لوگوں کا کچو مر نکالتے رہیں گے۔ ا س وقت یہ کہنا م

برفباری کی شدت کا ایک اور پہلو

 صوبہ کشمیر اور خطہ چناب و پیر پنچال میں حالیہ شدید برفباری کی وجہ سے جہاں بجلی کی سپلائی متاثر ہونے سے اور بالائی علاقوں میں عبور و مرور میں مشکلات اور درجہ حرارت اچانک منفی ہو جانے کی وجہ سے صحت کے حوالے سے عوام الناس کوطرح طرح کی مشکلات درپیش آئی ہیں، وہیں اس خطہ کے گرداگرد واقع پہاڑی علاقوں میں جنگلوں کی زیب و زینت و حوش کو بھی مشکلات اور مصائب درپیش ہوئے ہیں۔ پہاڑوںاور جنگلوں میں بھاری برفباری کے سبب زمین ڈھک گئی ہے، جس کی وجہ سے جنگلی جانوروں کےلئے غذا کا حصول مشکل سے مشکل تر ہو نایقینی ہے اور اس صورتحال سے متاثر ہونے کی وجہ سے انسانی بستیوں کی جانب اُنکے دخول کے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جنگلی جانوروں اور دیگر وحوش عالم ارضی پر ماحولیاتی توازن کا ایک اہم حصہ ہیں، لہٰذا اُنکی بقاء ایک عنوان سے انسانی دنیا کی بقاء کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جنگلی حیات کو غذا کے مسائ

سگانِ آوارہ۔۔۔۔ خونخواری کا نیا سنگِ میل!

ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں جس عنوان سے دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے اور روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔چنانچہہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بے محابہ اضافہ ہورہا ہے۔ آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں اور کئی ایک تو موت کی کگار پر پہنچ گئے۔ ۔آوارہ کتّے عام طور پر چھوٹے بچوں پر چڑھ دورتے ہیں اور بچے بھی گھبراہٹ کے عالم میں جدھر کو راستہ ملے خود کو بچانے کے لئے اْدھر کی طرف بھاگنے میں عافیت سمجھتے ہیں اور یہ صورتحال بعض اوقات انتہائی رنجدہ سانحات کو ج

ملازمین کا احتجاج ۔۔۔ردعمل میں تاخیر کیوں؟

جموں میں اگلے چھ ماہ کیلئے سیول سیکریٹریٹ کے دفاتر کھل گئے ہیںتاہم ایک بارپھردربار موئو کا استقبال ملازم تنظیموں کی طرف سے احتجاج اور دھرنوں سے ہوا جو عرصہ دراز سے اپنے مطالبات کے حل کیلئے جدوجہد کررہی ہیں ۔سرمائی راجدھانی میں سیول سیکریٹریٹ اوراس سے منسلک دفاتر کھلنے کے پہلے روز ہی نان گزیٹیڈ پرپزنرز ویلفیئر فورم، آل جموں وکشمیر ایس آر ٹی سی ایمپلائز ایسو سی ایشن، محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین ، ایس ایس اے اور رہبر تعلیم اسکیموں کے تحت تعینات اساتذہ اور جمو ں و کشمیر کے خدمت سنٹروں میں کام کررہے نوجونوانوں و دیگر ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنے دیئے اور جلوس نکالے ۔ اگرچہ پولیس نے ان ملازم تنظیموں کی سیکریٹریٹ چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے اندراچوک سے ہی انہیں واپس دھکیل دیا تاہم انہوں نے مطالبات پور ے ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا انتباہ دیاہے اورآئندہ دنوں سیو

تازہ ترین