جے این یو طلبہ پر مقدمہ

  گزشتہ دنوں جواہر لال یونیورسٹی( جے این یو ) نئی دلی کی سٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار ، عمر خالد، ا نربن بھٹاچاریہ اور دیگر سات کشمیری طلبہ۔۔۔ عاقب حسین ، منیب حسین، عمیر گل، رئیس رسول ،خالد بشیر، بشارت علی۔۔۔ کے خلاف دلی پولیس نے تین سال بعد مقدمہ غداری قائم کیا ۔۹؍ فروری ۲۰۱۶ء کو افضل گورو کی یاد میں جے این یو میں منائی جارہی تقریب کوآر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اَکھل بھارتیہ ودیا رتھی پر یشد نے بوجوہ سبوتاژ کر نے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ پریشد نے تقریب کے منتظمین پر ’’قابل اعتراض‘‘ نعرہ بازی کا الزام لگاکر سٹوڈنٹ یونین کے چند عہدیداروں اور کچھ دیگرطلبہ کے خلاف پولیس میں ایف آئی آردرج کر ائی ۔قانون کی رُو سے ایف آئی آر پر نوے دن کے اندر پولیس ملزمین کے خلاف چارج شیٹ  عدالت میں پیش کرنے کی مکلف تھی مگر اس نے تین سال بعد ملزمین پر فردِجرم عائد کر ن

شدید برفباری کی پیشگوئی۔۔۔۔۔۔ انتظامی تساہل سے گریز کی ضرورت!

رواں موسم سرما کی شروعات کے ساتھ ہی برفباری نے جہاں ماحولیاتی اعتبار سے ایک اچھا پیغام دیا ہے وہیں وادی کشمیر ، لداخ اور جموں کے پیر پنچال و چناب خطوں میں بجلی اور پانی جیسی لازمی عوامی ضروریات کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے عام لوگوں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران وقفے وقفے کی برفباری کی وجہ سے بجلی اور پانی کی فراہمی میں بار بار روکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں اور بالائی علاقوں میں رسل و رسائل کے ذرائع بھی متاثر ہوتے رہے ہیں، تاہم لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اسکا مقابلہ کر تے رہے ہیں اور حکام نے بھی ان مشکلات کاازالہ کرنے کی بساط بھر کوششیں کی ہیں، اگر چہ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ضروریات سے انکی کوئی مطابقت نہیں رہی ہے۔ اب چونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 19جنوری سے کئی روزہ شدید برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہےاس کی وجہ سے عام لوگوں کے فکر و تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کیو

شدید برفباری کی پیشگوئی۔۔۔۔۔۔ انتظامی تساہل سے گریز کی ضرورت!

رواں موسم سرما کی شروعات کے ساتھ ہی برفباری نے جہاں ماحولیاتی اعتبار سے ایک اچھا پیغام دیا ہے وہیں وادی کشمیر ، لداخ اور جموں کے پیر پنچال و چناب خطوں میں بجلی اور پانی جیسی لازمی عوامی ضروریات کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے عام لوگوں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران وقفے وقفے کی برفباری کی وجہ سے بجلی اور پانی کی فراہمی میں بار بار روکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں اور بالائی علاقوں میں رسل و رسائل کے ذرائع بھی متاثر ہوتے رہے ہیں، تاہم لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اسکا مقابلہ کر تے رہے ہیں اور حکام نے بھی ان مشکلات کاازالہ کرنے کی بساط بھر کوششیں کی ہیں، اگر چہ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ضروریات سے انکی کوئی مطابقت نہیں رہی ہے۔ اب چونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 19جنوری سے کئی روزہ شدید برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہےاس کی وجہ سے عام لوگوں کے فکر و تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کیو

پبلک ٹرانسپورٹ۔۔۔۔ دن بہ دن بگڑتی صورتحال

ریاست کے درالحکومتی شہروں سرینگر اور جموں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی دن بہ دن خراب ہوتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے عام مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ، جب دن بھر کی مصروفات سے فراغت حاصل کرکے لوگ شام کے وقت گھروں کو جانےکی کوشش کرتے ہیں تو سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہوا ہوتا ہے اور انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں۔ اگر چہ میڈیا کے توسط سے بار بار یہ مسئلہ سامنے آتارہا ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک بسیں فراہم کی جائینگی۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے تاہم اس کےلئے بھی بہت ضروری ہے کہ پہلے ایس آر ٹی سی، جو کسی زمانے میںریاست کےا ندر ٹرانسپورٹ کی فراہمی کا سبب سے بڑا ذریعہ تھا، کو موجودہ بدحالی سے نکال ک

این ایچ ایم ملازمین اور حکومت کے تاخیری حربے

حکام کی وعدہ خلافیوں اوربار بار طفل تسلیوں سے تنگ آکر محکمہ صحت میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کام کرنے والے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں ایک مرتبہ پھرریاست گیر احتجاج شروع کردیاہے ۔یہ ملازمین کئی عرصہ سے اپنی ملازمتوںکو مستقل بنانے کی مانگ کررہے ہیں اور حکام نے انہیں بارہا یقین دلانے کے باوجود عملی سطح پر کوئی بھی اقدام نہیں کیا ۔ان ملازمین نے اب اڑتالیس گھنٹوں تک کیلئے ریاست گیر ہڑتال شروع کی ہے جس سے محکمہ صحت کا نظام بری طرح سے متاثر ہوتانظرآرہاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ  مارچ 2017میں ان ملازمین کی پندرہ روز ہڑتال کے بعد حکومت کی طرف سے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرناتھی مگر نہ کمیٹی کا کچھ پتہ چلا اور نہ ہی رپورٹ منظر عام پر آئی اورپھردسمبر 2017میں شروع کی گئی ہڑتال کے ایک ماہ بعد اس وقت کے وزیر صحت اور شعبہ صحت کے پرنسپل سیکریٹری نے یہ

بجلی کٹوتی۔۔۔۔ وعدہ جو وفا نہ ہوا!

ریاست میں موسم سرما کی شروعات کے ساتھ ہی بجلی کی سپلائی میں جو بگاڑ پیدا ہوگیا ہے، وہ ہر گزرنے والے لمحے کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود اس میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرمائی ایام کے دوران بجلی کی پیدا وار میں کمی واقع ہونے کے بہ سبب سپلائی کا نظام متاثر ہوتا ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کے ایک معقول نظام کے ذریعہ کٹوتی کا سلسلہ بہتر انداز میں نافذ کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے صارفین مشکلات کے باوجود معمولات کی ترتیب کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ لیکن رواں برس کٹوتی کا شیڈول بس نام کا ہو کر رہ گیا ہے اور محکمہ کو، جب چاہئے جس وقت چاہئے، بجلی کی سپلائی بند کرنے میں کوئی وقت محسوس نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کے معمولات بُری طرح متاثر ہوجاتے ہیں، خاص کر چلۂ کلان کے ان ایام میں جب شبانہ درجہ حرارت اکثر منفی رہتا ہے۔ اب کی ب

! سرحدی کشیدگی کا لاحاصل عمل۔۔۔۔ عام لوگ کب تک نشانہ بنتے رہینگے

نیا سال شروع ہونے پر یہ امید قائم ہوئی تھی کہ شائد 2018کے برعکس 2019میں سرحدوںپر امن بحال ہوگا اور دونوں پڑوسی ممالک کی افواج کشیدگی کم کرتے ہوئے آر پاربس رہے عوام کو پُرامن زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کریں گی لیکن نیا سال شروع ہونے کے ساتھ ہی اس کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیاہے اور راجوری پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں میں ایک طرح سے غیر اعلانیہ جنگ کا سماں ہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و دہشت کی فضا پائی جارہی ہے اوران میں سے جہاں کچھ لوگ  گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئےہیں تو کچھ اپنے ہی گھروں میں قیدیوں کی طرح محصور ہیں ۔پچھلے لگ بھگ دس روز سے حد متارکہ پر حالات کشیدہ ہیں اور ہندوپاک افواج کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہورہاہے جس کے نتیجہ میں جانی نقصان بھی ہواہے ۔حد متارکہ پر ہورہی فائرنگ اور شدید گولہ باری ،جہاں فوجی ہلاکتوں کا باعث بن رہی ہے و

سرکاری شفاخانے!

عصر حاضر میںسرکاری شفاخانے ہیلتھ کئیرسیکٹر کے حوالے سے ذمہ دار ادارے ہوتے ہیں ۔ مریضوں کا علاج ومعالجہ ، روگیوں کے لئے دوادارو اور امراض کا قلع قمع کر نا ان کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے۔ ان حوالوں سے ہمارے سرکاری شفاخانے کمیوں اور کوتاہیوں سے عبارت ہیں ، مثلاً کہیں ان کا نظم ونسق ڈھیلا ہے، کہیں طبی ونیم طبی عملے کا ایک محدود حصہ فرض ناشناس ہے ، کہیں ان کے ورک کلچرپر نقائص اور اسقام کا زنگ لگاہوا ہے۔ بایں ہمہ اس حقیقت سے انکار کی مجال نہیںہو سکتی کہ نوے کے دور ِ پُر آشوب سے لے کر آج تک سرکاری ہسپتالوں میں تعینات زیادہ تر طبی و نیم طبی عملہ جس جانفشانی ، مریض دوستی اور فرض شناسی سے اپنی خدمات پیش کرتا چلاآ رہا ہے ، اس پر یہ لوگ آفرین ومرحباکے مستحق ہیں ۔ انہوں نے بسااوقات ناگفتہ بہ اوربے قابو حالات کے متاثرین کی زندگیاں بچانے میں اپنی جان تک جو کھم میں ڈالنے سے گریز پائی نہ کر کے اپنے پیش

انسان اور وحوش میں تصادم۔۔۔۔ برفانی شدت کا ایک اور پہلو

رواں موسم سرما میں برفباری کے ساتھ ہی انسانی بستیوں میں جنگلی جانوروں کی دراندزی تواتر کے ساتھ جاری ہے اور انسانوں پر وحوش کی جانب سے حملوں کی خبریں آئے روز اخباروں کی زینت بنتی ہیں ۔رواں ہفتہ کے دوران وادی کشمیراور خطہ چناب میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جب ہر دم نایاب ہوتے ہوئے برفانی چیتوں اورریچھوں کو بستیوں کے اندر گھومتے ہوئے پایا گیا جبکہ ڈوڈہ، کپواڑہ اور بارہمولہ کےکئی دیہات میں مویشوں پر ہوئے ان کے حملوں سے متعدد مویشی ہلاک ہوگئے۔ خطہ چناب کے کئی دیہات میں رواں موسم سرما کے دوران متعدد واقعات میںکئی وحوش کو قابو کرکے متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے بعد اذاں انہیں واپس اپنی آماجگاہوں میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح سرینگر کے متصل کچھ بستیوں میں بھی ریچھو ں کی گھس پیٹھ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑی علاقوں میں بھاری برفباری کے بعد ان وحوش کے لئے غذا کے وسائل محدود

ریاستی عوام ۔۔۔ توپ کی رسد کب تک بنتے رہیں گے؟

 جموں صوبہ میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پرگزشتہ8روز سے جنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم5کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرچکی ہے ۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب فلیگ میٹنگوں اور ہاٹ لائن روابط کے باوجود سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدی

ٹرشری کینسر کیئر مراکز

 ریاست میں کینسر کے موذی مرض کے بہتر علاج کے مقصد سے کئی اہم ادارے قائم کرنے کا اعلان کیاگیا تاہم اس حوالے سے عملی سطح پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔پچھلے آٹھ برسوں سے ریاست میں کینسر کے امراض میں مبتلا افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہواہے اور ہزاروں افراد اس موذی مرض کاشکار ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں علاج کی بہتر سہولت میسر نہیں ہے، جس کے نتیجہ میں ان میں سے کئی افراد زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی قیادت والی سابق مرکزی حکومت نے 2013میں ریاست میں تین کینسر کیئر مراکزقائم کرنے کا اعلان کیاتھا ۔ اُس وقت کے وزیر صحت و خاندانی بہبود نے ملک بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی طبی نگہداشت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے مقصد سے کشتواڑ ، اودھمپو راور کپوارہ میں یہ مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا مگر یہ اقدام اعلان تک محدود ہوکر رہ گیا اور اس پر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئ

شہر جو قہر بن رہا ہے؟

ریاست کے اندر آبادیوں کے بے ترتیب پھیلائو کے بہ سبب جو دنیا ترتیب پا رہی ہے ، آنے والے قتوں میں وہ لوگوں کےلئے نہایت تکلیف دہ مشکلات کا سب بن کر سامنےآ سکتی ہے، کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ریاست کا گرمائی دارالحکومت سرینگر جس سرعت لیکن بے ترتیبی کے ساتھ پھیل رہا ہے اس رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے ایام میں اس شہر ، جو کبھی اپنی خوبصورتی اور صاف و شفاف آب و ہوا کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین شہرو ں میں شمار ہوتا تھا، کا غلیظ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے وقت وقت پر منصوبے مرتب نہیں کئے ہوں بلکہ سرینگر کےلئے ایک ماسٹر پلان ضرور موجود ہے ، لیکن جب عملی سطح پر دیکھا جاتا ہے تو یہ منصوبے

موسمی صورتحال : روایتی طریقوں پر ہی تکیہ کیوں؟

 وادی کشمیر سمیت ریاست کے بالائی علاقوں میں برفباری اور نچلے علاقوں میں بارش ہونے کے ساتھ ہی لوگوں کے مسائل میں اضافہ ہونا شروع ہوگیاہے ۔ اس دوران جہاں بجلی اور پانی کی سپلائی میں مزید ابتری آئی ہے وہیں جموں سرینگر شاہراہ سمیت کئی سڑکوں پر ٹریفک نظام متاثر ہواہے جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کاسامناہے ۔ خاص طور پر جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کے باربار معطل ہونے اور بحال ہونے سے اس پر سفر کرنے والے افراد خاص کر زخمیوں اور مریضوں، کو پریشانیوں سے دوچار ہوناپڑرہاہے اور وہ وقت پر اپنی اپنی منزل کو نہیں پہنچ پاتے ۔لگ بھگ 300کلو میٹر طویل یہ شاہراہ موسم سرما میں دونوں خطوں کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے جس کے باربار بند ہونے اور کھلنے سے نہ صرف مسافروں بلکہ زندگی کے ہر ایک شعبے کو متاثر ہوناپڑتاہے ۔اگرچہ موسم گرما میں بارشوں کے دوران بھی اس شاہراہ کا یہی حال رہتاہے لیکن تب دونوں خطو

نوزائیدہ بچے کو زندہ دفنانے کا المیہ

 کشمیر کی عصری تاریخ میں چشم ِفلک نے غالباً پہلی بار یہ کر یہہ الصورت منظر دیکھا ہوگا کہ کوئی باپ اپنے نوزائیدہ بچے کو زندہ زمین میں گاڑنے کی نامراد کوشش کر بیٹھا ۔ اسی ہفتے جنوبی کشمیر کے قصبہ شوپیان کے رہنے والے ایک شخص نے اپنی اولادِ نرینہ کو زمین برد کر نے کے لئے سنگ دلی اور بے رحمی کی انتہا کر تے ہوئے شہر خاص میں اسے زندہ دفن کر نے کی ایک بڑی جسارت کی ۔ یہ بچہ ابھی دنیا میں آنکھ ہی کھول رہاتھا کہ اسے اپنے ہی باپ کے ہاتھوں ایک ناگہانی مصیبت سے واسطہ پڑا ۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ ایک باپ نے اپنے ہی خون کے خلاف یہ وحشیانہ اقدام کر نا چاہا؟ اس سوال کا جواب ایک درد انگیز کہانی کے گرد گھومتا ہے ۔ کہانی کا مرکزی نکتہ کم نصیب باپ کی غربت وناداری ہے۔اسی ایک تلخ حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈال کر غریب باپ نے معصوم فرشتے کی جان لینا چاہی لیکن اللہ کا کر نا کچھ اور تھا کہ لوگوں نے

ریاست منشیات مافیا کی زد میں !

ریاست جموں وکشمیر میں منشیات کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے اور سرکاری سطح پر یہ انکشاف کہ وادی میں اس لت میں اب تک70ہزار لوگ مبتلاء ہوگئے ہیں، ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ منیشوں کی تعداد میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر یہی صنف منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہو تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل ہوگی جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایساماضی میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اُس وقت مسلح تصادم آرائیاں ہو رہی تھیں اور اُس ریاست میں ایک منظم مافیا تیار ہوگیا، جس کی سرگرمیاں، پولیس کی طرف سے کی گئی کاروائیوں کے مطابق،

کشمیری تاجر۔۔۔ بیرون ریاست ہراسانی کب تک؟

ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پریش میں کشمیریوں کےساتھ پیش آئے زیادتیوں کے واقعات کے بعد اب ہماچل پردیش کے دارالحکومت شملہ میں کشمیری تاجروں کی دوکان پر ہوئے حملے اور لوٹ پاٹ کے بعد  یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ بیرون ریاست مقیم کشمیریوں، خواہ وہ طالب علم ہو ں ،تاجرو ہوں یا ہنر مند نوکری پیشہ، کےلئے حالات دن بہ دن مشکل ہوتے جارہے ہیں اور بدقسمتی کا مقام یہ ہے کہ انتہا پسند عناصر کی جانب سے زیادتیوں کے  ان واقعات میں مقامی انتظامیہ بروقت اور غیر جانبدارانہ انداز میں کاروائی عمل میں نہیں لاتی، جس کی وجہ سے ایسے عناصر کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔چند روز قبل شملہ کے ایک علاقہ میں کشمیری تاجروں کی دوکانوں پر حملے کرکے انکے مال کو لوٹا گیا، جس پر یہاں کے تاجروں میں زبردست تشویش اور برہمی کا اظہار کیاجا رہا ہے، کیونکہ اس واقعہ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجو دمقا

پہاڑی خطوں میں بجلی کٹوتی عروج پر

 جہاں موسم سرما شروع ہوتے ہی وادی کشمیر میں بجلی کی غیر معینہ کٹوتی پر ہاہاکار مچی ہوئی ہے  وہیں صوبہ جموں کے پہاڑی اور دوردراز علاقہ جات میں صورتحال اس سے کچھ مختلف نہیں اور ان علاقوں میں نہ ہی بجلی سپلائی کرنے کاکوئی شیڈیول موجود ہے اور نہ ہی بجلی کٹوتی کا ۔صوبہ کے خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں محکمہ بجلی موسم گرما میں بھی کسی شیڈیول پر عمل پیرا نہیںرہتالیکن موسم سرما میں بجلی کٹوتی کی پریشانی اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اس بار یہ بحران زیادہ ہی شدید ہوگیاہے ۔بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی پر آئے روز احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں اور لوگ محکمہ سے شیڈیول کے مطابق سپلائی کی مانگ کررہے ہیں مگر اس نظام میں بہتری کے بجائے دن بدن ابتری آتی جارہی ہے۔ان دونوں خطوں میں بجلی کا نظام ہمیشہ ناقص رہتاہے اور موسم سرما آتے ہی اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوناشروع ہوجاتی ہیں اور امسال بھی ایسا ہی کچھ

سالِ نو۔۔۔ اُمید برقرار رہے!

سال2018تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور 2019کا سورج طلوع ہو ا ہے، اس امید کےساتھ یہ برس کرہّ ارض پر رہنےو الوں کےلئے امن و شانتی، ترقی و کامرانی اور جذبۂ انسانیت کے فروغ کا سبب بن سکے تاکہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں عام انسان کو جن انسانیت سوز اور تکلیف دہ حالات کا سامنا ہے، اُن سے راحت کا سامان میسر آسکے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سطح پر شروع ہوئی سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ اور تصادم آرائیوں کا ماحول وقت کے ساتھ ساتھ خطے اور علاقے تو بدل دیتا ہے لیکن اپنی اُن شدتوں کے ساتھ کسی نہ کسی جگہ پر برابر اپنی جلوہ آرائیوں میں مصروف رہتا ہے اور ان حالات میں عام لوگوں کو کیا کچھ دیکھنا اور سہنا پڑتا ہے وہ کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ آج کے دور میں جب کہ دنیا پر انٹرنیٹ کے توسط سے سوشل میڈیا کی  حکمرانی ہے، کرہّ ارض کے کونے کونے میںپیش آنے والے واقعات آنکھوں کے پردے پر چھاتے رہتے ہیں۔ وہ عرب و عجم

عارضی ملازمین حکام کی بے حسی کاشکار

ریاست میں ہر ایک سرکاری محکمہ اور مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت ہزاروں کی تعداد میںعارضی ملازمین تعینات کئے گئے جنہیں اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے کئی کئی سال ہوگئے ہیں مگر ان کی مستقلی کے حوالے سے نہ کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کی جارہی ہے اور نہ ہی حکام ان کے دیگر مطالبات ، جن میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بھی شامل ہے، کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔اپنے مطالبات کے حق میں جہاں کئی دیگر محکموں کے عارضی ملازمین احتجاج سے کچھ حاصل نہ ہونے پر تھک ہار کے بیٹھ گئے ہیں وہیں محکمہ بجلی اور محکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین مسلسل ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہورہی اور نہ ہی بات چیت کے ذریعہ ان کی ہڑتال ختم کروانے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔محکمہ بجلی کے عارضی ملازم بقایا اجرتوں اور ملازمتوں کی مستقلی کے مطالبات کے حق میں حکام کی توجہ حاصل کرنے کیلئے احتجاج کا ہر ایک

نصیر الدین شاہ نے کیا کہا؟

   حال ہی میںممبئی فلم نگری کے مشہور اداکارنصیر الدین شاہ متنازعہ فیہ شخصیت بنائے گئے۔ اس صورت حال کا محرک یہ بنا کہ شاہ نے بلند شہر اُتر پر دیش میں ایک پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو بلوائیوں کی جانب سے گولی مار کر قتل کر دینے کے سنگین جرم پر اپنے صدمے اور تشویش کا ذرا کھل کر اظہار کیا ۔ اس پر ایک فرقہ پرست تنظیم اُن پر برافروختہ ہوئی جس نے شاہ کومعتوب ٹھہرا یا بلکہ اسے یہ شرارت سوجھی کہ اعلان کردیا کہ سنگھٹن نے فلمی اداکار کو پاکستان دھکیلنے کے لئے اُن کے واسطے ۱۴؍ اگست کے جہاز کی لاہور ٹکٹ بُک کرائی ہے۔ غور طلب ہے کہ بلندشہرمیں قتل ہونے والے پولیس آفسر مذہباًہندو تھے جو ڈیوٹی کر تے ہوئے دن دھاڑے قتل کئے گئے اور جس شخص کو اُن کے قتل کے الزام میں گر فتار کر لیاگیا وہ بھی ہندو ہے ۔ گرفتار شدہ ملزم کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر میں تعینات راشٹریہ رائفلز کا ایک جوان جیت

تازہ ترین