تازہ ترین

سردی کی یلغار اور بجلی کٹوتی کی مار!

صوبہ کشمیر اور چناب و پیر پنچال خطوں میں وقت سے پہلے برفباری کے بہ سبب بجلی کی ترسیل کا حال نہایت ہی بدتر ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو بے بیاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اگر چہ ہر سال انتظامیہ موسم سرما کے دوران بجلی کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن رواں برس صورتحال نہایت ہی خراب ہے اور محکمہ نے غیر اعلان شدہ کٹوتی کا عمل شروع کرکے صارفین کو سنگین پریشانیوں میں مبتلا ء کر دیا ہے، خاص کر رات کے ایام میں جب وادی میں اکثر درجہ حرارت منفی ہونے لگا ہے، بجلی کی سپلائی بند ہونے سے معصوم بچوں اور عمر رسیدہ بزرگ شہریوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رواں برس موسم سرما نے وقت سے پہلے ہی اپنے دانت دکھا ئے اور ساری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے لوگ  لازمی طور متواتر برقی سپلائی کے ضرورت مند ہیں، خاص کر صبح و شام اور رات کے اوقات پر مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ا

زہر افشانی پر حکومت خاموش کیوں؟

 جموں میں انتہا پسندوں کے ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے کُھلم کھُلا مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے ، جسکا مقصد صرف اور صرف یہاں کے فرقہ وارانہ بھائی چارے کونقصان پہنچانا ہےتاکہ وہ اسکی آنچ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینک سکیں۔کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بکروال لڑکی کے قتل اور عصمت ریزی کے ملزمان کو بچانے کیلئے سرگرم یکجٹ نامی ایک انتہا پسند تنظیم کی طرف سے گزشتہ دنوں جموں میں ایک سیمینار کا اہتمام کیاگیا جس میں مسلم آبادی کے خلاف خوب زہراگلا گیا اور کٹھوعہ واقعہ کے وقوع کا الزام بھی مسلمانوں پر ہی عائد کردیاگیا۔جموں جیسے پُر امن علاقے میں ایسے سیمینار کا انعقاد اور فرقہ پرست عناصر کا سرگرم رہنا انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔ایسی زہر افشانی سے ،ظاہر ہے،مقامی مسلم آبادی پر خوف مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف تنظیموں کی طرف سے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کی

پھیری والوں کے مسائل۔۔۔۔۔حکومت متوجہ ہو؟

اب جبکہ موسم سرما شروع ہو چکا ہے اور قدیم روایت کےمطابق کشمیری پھیری والوں نے بیرون ریاست جا کر کشمیر کی آرٹ مصنوعات کی فروخت کاکام شروع کیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ کام صدیوں سے جاری ہے اور بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جس طرح گرمی کے موسم میں بیرونی ریاستوں کے پھیری والے تجارت کے غرض سے کشمیر وارد ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ باہمی کاروبار اربوں روپے کے لین دین پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہزاروں خانوادوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ اب کی بار ایک واضح تبدیلی یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ ، کئی ریاستوں میں ان چھوتے تاجروں، جن میں غالباً اکثریت پھیری والوں کی ہے، سے ریاستی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ویریفکیشن کا مطالبہ کیا جارہاہے اور اسکی عدم موجودگی میںانہیں تنگ طلب کرنے کی شکایات برابر موصول ہو رہے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ جب انہیں پوچھ تاچھ کےلئے پولیس اسٹیشنوں میں طلب کیا جاتا ہے تو مقامی میڈیا منفی خبریں بن

حد متارکہ پر کشیدگی: آبادی کب تک مصائب میں مبتلاء رہےگی؟

کچھ عرصہ خاموشی اور دیوالی کے موقعہ پر مٹھائیوں کی تقسیم کے چند دن بعد ہی حد متارکہ پر ایک بار پھر ہندوپاک افواج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور گزشتہ دوروز میں ایک پورٹر اور اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک اہلکار زخمی ہواہے ۔ اس کشیدگی کے باعث سرحدی آبادی پر پھر سے خوف و دہشت کا ماحول طاری ہے اورحد متارکہ کے قریب رہنے والے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں ۔دیوالی کے تہوار کے موقعہ پر مینڈھر ، پونچھ اور دیگر سیکٹروں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مٹھائیوں کی تقسیم کو جذبہ ٔ خیر سگالی اور اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر دیکھاگیا جس سے یہ امید پید اہوچلی تھی کہ شاید اب سرحدی کشیدگی کم ہوجائےگی اور دونوں جانب سے طاقت آزمائی کی پالیسی ترک کردی جائے تاہم یہ تصور بالکل ہی غلط ثابت ہوا اور سرحد پر گن گرج کا نیا سلسلہ شروع ہوگیاہے، جس سے نہ صرف شہری و فوجی ہلاکتیں پیش آرہی ہیں

موسم سرما کے مختلف چلنج

  گزشتہ دنوں وادی میں معمولی برف باری سے عوام کو خاص کر بجلی بریک ڈاؤن کا شدیدبحران سہنا پڑا۔ اس وجہ سے لوگ باگ سوال کر تے ہیں کہ جب گورنر انتظامیہ پر دوانچ برف باری اتنی بھاری پڑی تو تین چلّوں کے دوران اس کا کیا حال ہوگا جب کڑاکے کی سردی اور جمود وتعطل روایتی طور کشمیر کا مقدر بن کر عام آدمی کے مسائل کوا ور زیادہ پیچیدہ بناتے ہیں ۔ بہر صورت اُمید یہی کی جانی چاہیے کہ گورنر انتظامیہ ابھی سے پیش آئند نامہربان موسم سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لئے جنگی پیمانے پرتیاریاں کرے گی۔ ہم یہی دیکھتے ہیں کہ روایتاً دربار مو کے بعد وادی کو مفلوج انتظامی مشنری کے سبب شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ا س باراگر کوئی دوسری کرامت نہ ہوئی تو ماضی کی طرح دربار مو کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ وادی بھر میں مسائل اور مصائب اگلے چھ ماہ تک لوگوں کا کچو مر نکالتے رہیں گے۔ ا س وقت یہ کہنا م

برفباری کی شدت کا ایک اور پہلو

 صوبہ کشمیر اور خطہ چناب و پیر پنچال میں حالیہ شدید برفباری کی وجہ سے جہاں بجلی کی سپلائی متاثر ہونے سے اور بالائی علاقوں میں عبور و مرور میں مشکلات اور درجہ حرارت اچانک منفی ہو جانے کی وجہ سے صحت کے حوالے سے عوام الناس کوطرح طرح کی مشکلات درپیش آئی ہیں، وہیں اس خطہ کے گرداگرد واقع پہاڑی علاقوں میں جنگلوں کی زیب و زینت و حوش کو بھی مشکلات اور مصائب درپیش ہوئے ہیں۔ پہاڑوںاور جنگلوں میں بھاری برفباری کے سبب زمین ڈھک گئی ہے، جس کی وجہ سے جنگلی جانوروں کےلئے غذا کا حصول مشکل سے مشکل تر ہو نایقینی ہے اور اس صورتحال سے متاثر ہونے کی وجہ سے انسانی بستیوں کی جانب اُنکے دخول کے شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جنگلی جانوروں اور دیگر وحوش عالم ارضی پر ماحولیاتی توازن کا ایک اہم حصہ ہیں، لہٰذا اُنکی بقاء ایک عنوان سے انسانی دنیا کی بقاء کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جنگلی حیات کو غذا کے مسائ

سگانِ آوارہ۔۔۔۔ خونخواری کا نیا سنگِ میل!

ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں جس عنوان سے دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے اور روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔چنانچہہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بے محابہ اضافہ ہورہا ہے۔ آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالوں میں پہنچ گئے ہیں اور کئی ایک تو موت کی کگار پر پہنچ گئے۔ ۔آوارہ کتّے عام طور پر چھوٹے بچوں پر چڑھ دورتے ہیں اور بچے بھی گھبراہٹ کے عالم میں جدھر کو راستہ ملے خود کو بچانے کے لئے اْدھر کی طرف بھاگنے میں عافیت سمجھتے ہیں اور یہ صورتحال بعض اوقات انتہائی رنجدہ سانحات کو ج

ملازمین کا احتجاج ۔۔۔ردعمل میں تاخیر کیوں؟

جموں میں اگلے چھ ماہ کیلئے سیول سیکریٹریٹ کے دفاتر کھل گئے ہیںتاہم ایک بارپھردربار موئو کا استقبال ملازم تنظیموں کی طرف سے احتجاج اور دھرنوں سے ہوا جو عرصہ دراز سے اپنے مطالبات کے حل کیلئے جدوجہد کررہی ہیں ۔سرمائی راجدھانی میں سیول سیکریٹریٹ اوراس سے منسلک دفاتر کھلنے کے پہلے روز ہی نان گزیٹیڈ پرپزنرز ویلفیئر فورم، آل جموں وکشمیر ایس آر ٹی سی ایمپلائز ایسو سی ایشن، محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین ، ایس ایس اے اور رہبر تعلیم اسکیموں کے تحت تعینات اساتذہ اور جمو ں و کشمیر کے خدمت سنٹروں میں کام کررہے نوجونوانوں و دیگر ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنے دیئے اور جلوس نکالے ۔ اگرچہ پولیس نے ان ملازم تنظیموں کی سیکریٹریٹ چلو کال کو ناکام بناتے ہوئے اندراچوک سے ہی انہیں واپس دھکیل دیا تاہم انہوں نے مطالبات پور ے ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا انتباہ دیاہے اورآئندہ دنوں سیو

پہاڑی اضلاع میں پینے کا صاف پانی ایک خواب!

ریاست میں پہلے تو آبی ذخائر دن بدن سکڑجانے کے باعث پانی کی قلت شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے لیکن جو پانی سپلائی کیاجارہاہے وہ بھی مضر صحت ثابت ہورہاہے اور صاف پانی کی سپلائی اس جدید دور میں بھی ایک خواب بناہواہے ۔اگرچہ جموں،سرینگر اور کچھ دیگر شہروں میں محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے صاف پانی کی سپلائی کیلئے فلٹریشن پلانٹ نصب کئے گئے ہیں تاہم دیگر قصبوں اور دیہات میں پانی کی فلٹریشن کا کوئی تصور ہی نہیں ہے جس کے نتیجہ میں آلودہ پانی پی کرلوگ وبائی امراض کاشکار بنتے جارہے ہیں ۔ ہر کچھ عرصہ بعد کسی نہ کسی علاقے سے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کی شکایات سامنے آتی ہیں اور تحقیق کرنے پر یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ بیماریاں ناقص اور آلودہ پانی پینے کی بدولت پھوٹ پڑتی ہیں۔ ان دنوں خطہ پیر پنچال کے سرحدی قصبہ پونچھ میں بھی ایسی ہی صورتحال کاسامناہے اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ یرقان جیسی خطرناک بیماری اور م

خفتگانِ انتظامیہ کیلئے انتباہ

موسم سرما کی روایتی شروعات سے پہلے ہی غیر متوقع طور پر شدید برفباری نے وادی کے طول و عرض اور خطہ چناب و پیر پنچال کے کئی علاقوں میں تباہی مچاکر رکھ دی ہے۔ جہاں ایک طرف بجلی کے ترسیلی نظام پر جیسے برق گری وہیں میوہ باغات کو بے بیاں نقصان کا سامنا ہوا ہے جبکہ گائوں دیہات میں زیلی سڑکوں پر آمد و رفت بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ موسم سرما سے نمٹنے کی تیاریوں کے حوالے سے خواب خرگوش میں تھی اور اس کی آنکھ جبھی کھلی ہے جب معمول کی زندگی پر چہار اطراف سے اندھیرا چھا گیا ہے اس میں شک نہیں کہ تقریباً ایک دہائی کے بعد اس طرح نومبر کی ابتدا میں برفباری ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود جس عنوان سے انتظامیہ کا ردعمل ظاہر ہوا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ محکمے ابھی موسم گرما سے ہی بغلگیر تھے۔ حالانکہ موسمیاتی تغیر اس وقت دنیا بھر

بے ر وز گار۔۔۔ نظرکرم کے منتظر!

     یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اول ریاستی حکومتیں بلا کسی استثنیٰ کے یکے بعد دیگرے بے روزگارتعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کر نے میں قاصر رہیں اور جب کبھی خدا خدا کرکے کفر ٹوٹااور سرکاری نوکریوں پر بھرتی کی نوبت آئی تو سیاسی مداخلتیں، سفارشی کلچر، بندر بانٹ، اقرباء پروری اور رشوت ستانی جیسی مہلک بدعات نے ایسی ایسی اَن کہی کہا نیاں رقم کیں جس کی ایک خفیف جھلک سابقہ مخلوط حکومت کے دور اقتدار میں کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز میں بھرتیوں کے حوالے سے منظر عام پر آگئی تھی ۔ بلا شبہ یہاں میرٹ اور عدل وانصاف کو نوکریوں کے معاملے میں لتاڑنے میں آج تک کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر سیاست دان کرسی پر بیٹھنے سے قبل انتخابی نعرے کے طور بے روزگاروں کو ملازمتیں فراہم کر نے کے جھوٹے وعدے دیتے رہے مگر جب اقتدار سنبھالنے کی باری آئی تو پہلی فرصت میں غریب بے روزگا

آوارہ کتّوں کی بہتات ۔۔۔ انتظامیہ کی بے بسی!

 ریاست کے طول عرض میں لوگوں کے تئیں آوارہ کتوں کے تشدد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاہے ، لیکن روزانہ بنیادوں پرپیش آنے والے ان واقعات کے تئیں انتظامیہ کی خاموشی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلسوز ہے ۔ اس مصیبت پر قابو پانے کی کوئی ہمہ گیر کوشش نہیں کی جاتی۔جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں رجسٹر کئے جانے والے کتوں کے کاٹنے کے کیسوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوسکتا ۔آج بستیوں اور قصبہ جات میں جہاں سے بھی گذر ہوتاہے ، غول درغول آوارہ کتّے لوگوں کے لئے سدراہ بنتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں راہ گیران کے حملوں کا شکار ہوکر اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں اور کئی ایک تو موت کی کگار پر پہنچ جاتے ہیں۔آوارہ کتّے عادتاً چھوٹے بچوں پر چڑھ دورتے ہیں اور بچے بھی گھبراہٹ کے عالم میں جدھر کو راستہ ملے خود کو بچانے کے لئے اْدھر کی طرف بھاگنے م

یوگی کی ہرزہ سرائی!

 ریاست جموںوکشمیر کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاستدانوں ، خاص کر انہیں،جن کی سیاسی پرورش مخصوص  نظریاتی چار دیواری کے اندر ہوئی ہے، کو اس ریاست کی سماجی مذہبی اور سیاسی تاریخ کے بارے میں بہت ہی واقفیت ہے، جس کی  وجہ سے وہ جب بھی اس ریاست کےا ندر موجود حالات اور سیاسی صف بندیوں پر تبصرہ کرتے ہیں تو بنیادی حقائق کو نظر انداز کرکے ایسی آراء مرتب کرکے بیرون ریاست لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں عوامی سطح پر ریاستی عوام خاص کر، کشمیریوں کے تئیں تکدّر کی فضاء پیدا کرنے کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔اُتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کے حالیہ بیان کہ کشمیر میں ہندو اور سکھ جب تک محفوظ تھے جب تک جموںوکشمیر پر ہندوراجائوں کی حکومت تھی، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک انتہائی بھونڈی اور بیدردانہ کوشش ہے، اگر چہ اس کے پس پردہ

سرینگر جموں فورلین کی تعمیر

 جموں سرینگر شاہراہ کی فور لین تعمیر کے دوران پرانی سڑک کی حالت ناگفتہ بہ بن چکی ہے اور بانہال سے رام بن ا ور چنہنی سے ادھمپو رتک اس سڑک کی ہیئت ہی تبدیل ہوگئی ہے، جس کے نتیجہ میں نہ صرف تواترکے ساتھ حادثات رونما ہورہے ہیں بلکہ بدترین ٹریفک جام روزانہ کا معمول بن گیاہے اور دھول و کھڈوں میں گاڑی کا چلنا بھی مشکل ہورہاہے ۔ریاست کے دو خطوں کو آپس میں ملانے والی اس انتہائی اہمیت کی حامل شاہراہ کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے اور فورلین کی تعمیر کاکام بھی سست روی کاشکار ہے ۔یہ صورتحال اس سڑک پر سفر کرنے والے مسافروں کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے اور ان کا چھ سے سات گھنٹے کا سفربارہ بارہ اور بعض اوقات 15گھنٹوںمیں بھی طے نہیںہوتا۔ سڑک کی خراب حالت ہی طویل اور گھنٹوں تک لگنے والے ٹریفک جام کا بنیادی سبب ہے اورایسی حالت میںڈرائیوروں کی طرف سےاوورٹیکنگ کرنے کی کوششیں یاکوئیمعمولی کوتاہی سڑک حا

جہانگیر چوک رام باغ فلائی اُوور

شہر سرینگر میں ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ ٹریفک میں اضافہ ہوتا جارہاہے اگر اس کے بین بین نئی سڑکیں تعمیر نہ ہوں تو وہ دن دور نہیں ہوگا، جب اس شہر میں بود باش کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ چونکہ دنیا بھر میں اس وقت گاڑیوں کی تیاری سے منسلک کارپوریٹ سیکٹر نت نئی اقسام کی گاڑیاں سڑکوں پر لانے کیلئے ایک زبردست مہم میں مصروف ہے، لہٰذا اس کے باوجود کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تباہی موجودہ دنیا کے لئے ایک خطرناک الارم سے کم نہیں، معیشت کا یہ شعبہ آگے ہی آگے بڑھتا جائے گا۔ ریاست کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں بڑھتے ٹریفک کے دبائو کو کم کرنے کیلئے فلائی اووروں کی تعمیر کے کئی پروجیکٹ ہاتھ میں لئے گئے، لیکن برسہا برس گزرنے کے باوجود ان پر کام چونٹی کی رفتار کے ساتھ چل رہا ہے اور کئی مرتبہ اہداف مقرر کرنے کے باوجود انکی تکمیل نہیںہو پارہی ہے۔ شہر میں جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور کی تعمیر کا اعلا

پہاڑی خطہ۔۔۔۔موسم سرما سے قبل انتظامات کی ضرورت

موسم سرما نے دستک دے دی ہے اور پہاڑی علاقوں میں ایک سے زائد مرتبہ برفباری بھی ہوچکی ہے جبکہ سردی میں بھی دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے مگر حکام کی طرف سے بجلی ، راشن ، رسوئی گیس اور دیگر ضروریات زندگی کا انتظام کرنے کیلئے کوئی خصوصی اقدام نہیں کیاگیا ،جس سے اس بات کا اندیشہ لگنے لگاہے کہ ریاست کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں موسم سرد ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مشکلات بھی بڑھتی جائیں گی۔ابھی اتنی زیادہ سردی نہیں ہوئی لیکن پھر بھی بجلی کی کٹوتی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور رات کو کئی علاقوں میں بجلی دستیاب نہیں ہوتی جس کے نتیجہ میں ان علاقوں کے مکینوں اور خاص کر امتحانات دے رہے طلباء کو پریشانی اٹھاناپڑرہی ہے اور ان کی پڑھائی بری طرح سے متاثر ہوتی ہے ۔جموں کے خطہ پیر پنچال اور وادی چناب میں بجلی کا نظام ہمیشہ سے ہی ناقص رہتاہے مگر سردیوں کے مہینوں میں اس کا باواآدم نرالا ہوتاہے جب اس کی

دربارمو… نئی سوچ اور صحت مند اپروچ چاہیے

   سری نگر میں 6ماہ تک نظم ونسق کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اب دربا ر مو حسب ِدستور سرکاری دفاتراب جموں کو منتقل ہوا چاہتے ہیں۔ دربار موریاست میں ہر سال دارالحکومت کی ادلا بدلی کی ایک نرالی روایت ہے ۔ دربار منتقلی کی یہ روایت ڈوگرہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1872 میں ایک شاہی فرمان کے تحت جاری کی۔ آج ہمارے یہاں اگرچہ ماضی کی روایات بتمام وکمال قصہ ٔ پارینہ ہو چکی ہیں مگر مہاراجہ کا یہ حکم نامہ من وعن تروتازہ ہے اوراس کے عین مطابق ہر سال سول سیکرٹریٹ گرمیوں میں چھ ماہ تک سرینگر میں سر گرم رہتا ہے اور سر دیوں میں اس کی سر گرمیوں کا محور جموں منتقل ہو تا ہے۔ دربار منتقلی کی یہ عجیب وغریب روایت ملک میں کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ اس حکم نامے پر مستقل عمل درآمد سے ریاست میں کئی ایک پیچیدہ مسائل کو جنم ہی نہیں ملاہے بلکہ اس سے صوبہ پرستانہ سیاست بھی پر وان چڑھتی جارہی ہے ۔ آج کی تاریخ م

سرینگر جموں شاہراہ پر سفر۔۔۔۔ سوہانِ روح!

 سرینگر جموںشاہراہ ، جو وادی کشمیر کو نہ صرف جموں خطہ بلکہ بیرونی دنیا سے ملانے والا واحد زمینی رابطہ ہے، پر سفر کی حالت ہر گز رنے والے دن کے ساتھ ابتر اور تکلیف دہ بنتی جارہی ہے کیونکہ کوئی ایسا دن دیکھنے کو نہیں ملتا جب اس شاہراہ پر گھنٹوں بدترین ٹریفک جام پیش نہ آتا ہو۔ اگر چہ شاہراہ کو جموں سے ادھمپور تک چہار گلیارہ بنا نےکا کام مکمل ہوا ہے اور اب اس سے آگے بانہال تک کا کام جاری ہے اور لوگ یہ امید کر رہے تھے کہ اس عمل سے شاہراہ پر سفر کا عمل نہ صرف آسان ہوگا بلکہ وقت میں بھی خاطر خواہ بچت ہوگی لیکن فی الوقت صورتحال اس سے اُلٹ ہے اور بعض اوقات طویل ترٹریفک جاموں کی وجہ سے آٹھ گھنٹے کا یہ سفر بارہ سے پندرہ گھنٹوںتک کھینچ جاتا ہے۔ حالیہ ایام میں ٹریفک جاموں کی بدترین صورتحال کی وجہ سے رام بن بانہال سیکٹر میںاکثر شدید جام دیکھنے کو ملے ہیں،جس سے مسافروں کے معمولات اور منصوبے د

دربار کی منتقلی۔۔۔ بجلی کا حال کیا ہوگا؟

 بالآخر وہی ہوا، جس کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ سول سکریٹریٹ کی جموں منتقلی کل شروع ہورہی ہے لیکن وادی کے طول و عرض میں بجلی کٹوتی کا سلسلہ پہلے ہی شروع کردیا گیا ہے، جس سے صارفین کے لئے پریشانیاں شروع ہوگئی ہیں اور یہ پریشانیاں آنے والے ایام میں کیا رُخ اختیار کریں اسکے بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ کٹوتی کا یہ سلسلہ بغیر کسی اعلانیہ شیڈیول کے اختیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ برس بھی صورتحال اسی کے آس پاس رہی تھی اور دربار مُو کے ایک دن بعد ایسا کٹوتی شیڈول جاری کردیا گیا تھا جس کی رو سے اعلانیہ طور پر میٹر یافتہ اور غیر میٹر یافتہ علاقوں میںفی ہفتہ 21اور 42گھنٹوں کی کٹوتی کی گئی تھی تاہم عملی طور پر اس سے کہیں زیادہ کٹوتی دیکھنے کو ملی تھی۔ خاص کر صبح اور شام کے اوقات میں لوگوں کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب کے کس نوعیت کا شیڈول سامنے آئے گا، اسکے بارے میں ابھ

لورن ۔ٹنگمرگ سڑک

مغل شاہراہ کی تعمیر کے بعد لورن ۔ٹنگمرگ سڑک کو خطہ پیر پنچال کی اقتصادی، سماجی و سیاحتی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل پروجیکٹ سمجھاجارہاہے تاہم بدقسمتی سے اس دور دراز خطے کو وادی کشمیر کے ساتھ ملانے والی اس سڑک کاکام بہت ہی سست روی جاری ہے، جسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ آئندہ چند برسوں میں یہ سڑک پایہ تکمیل تک پہنچ سکے گی ۔ 42کلو میٹر لمبی اس سڑک کی تعمیر کا کام بارڈر روڈز آرگنائزیشن کو تفویض کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کا ہدف سال 2018 رکھا گیا تھا، مگر سال ختم ہونے میں اب صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں اور ہدف پورا کرنے کیلئے بی آر او کو ابھی مزید27کلو میٹر سڑک تعمیر کرنا باقی ہے ۔حکام کے مطابق پندرہ کلو میٹر تک کاکام ہوگیاہے اور اب ستائیس کلو میٹر کام باقی رہ گیاہے ۔کام کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر تعمیر کا کام بغیر خلل کے جاری بھی رہا تواس پروجیکٹ کی