نیوزی لینڈ۔۔۔ ہر شب کو سحر کر!

  ۱۵ ؍مارچ کی تاریخ مسلمانان ِ عالم کےحافظے میں اب ایک سیاہ باب کے طور یاد رہے گی ۔ اس روز نیوزی لینڈ میں کرب وبلا کا ایک ایسا لہولہو منظر دنیا نے بہ نگاہ ِحسرت ویاس دیکھا کہ جس کی درد انگیزی کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک اس خون آشام المیےنے دنیا ئے انسانیت سے چارو ناچار یہ دو بدیہی حقیقتیں بھی از سر نوتسلیم کروائیں : اول دہشت گردی کا کوئی مخصوص مذہب ، نسل، رنگ اورزبان نہیں بلکہ یہ ناسورہر اُس مفتن اوروحشی کے دل ودماغ کی پیداوار ہے جوانسان دشمنی جیسی بیمار ذہنیت کا دائمی مریض ہو، دوم اس واقعہ نے اہل دنیا کو یاد دلایا کہ سطح ِزمین پر نظام ہست وبود یا جیو اور جینے دو کے آفاقی اصول کو بچانے کے لئے تمام ابنائے آدم کو اولین فرصت میں دہشت گردی کے خلاف نظری وعملی معنوںمیں متحد ہوناہوگا تاکہ انسان حیوانیت کا روپ دھارن کر کے دھرتی پر بوجھ بن کر نہ رہ جائے ۔ شایداسی اجماعی آو

ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی۔۔۔۔۔ مریضوں کے مسائل!

ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے صدر ہسپتال اور اس سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ پیر پنچال  اور چناب خطوں کے متعدد علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں کا ر

بارشوں کا موسم۔۔۔۔ سڑکیں اور گلی کوچے جل تھل!

ریاست کےگرمائی دارالحکومتی شہر سرینگر میں نکاسی آب کی صورت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند گھنٹوں کی بوچھاڑوں کے ساتھ ہی سڑکیں اور گلی کوچے ندی نالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات درپیش آتی ہیں ، بلکہ لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کی وجہ سے شہر کے اہم اور مقبول تجارتی مراکز میں کاروباری حلقوں کو زبردست مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاجر برادری کی طرف سے بار بار اس صورتحال پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے حوالے سے ذمہ دار محکموں کی کارکردگی کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔یہ ساری صورتحال دراصل ہماری ریاست کے کم و بیش سبھی شہروں اور قصبہ جات میں نکاسی آب کے ناقص نظام کا غماز ہے، جو اُسی وقت اپنا چہرہ کھل کر دکھاتا ہے، جب موسمی حالات میں تبدیلی آتی ہے۔ڈرینوں اور نالیوں کی ساری خامیاں ای

بین الاقوامی سرحد اور حد متارکہ

 حال ہی میں مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلے کے طور پر بین الاقوامی سرحد پر بس رہے لوگوں کو موبائل نیٹ ورک کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے ہیرا نگر، کٹھوعہ اور سانبہ سیکٹروں میں آٹھ موبائل ٹاور تنصیب کرنے کو منظوری دی ہے لیکن ایک بار پھر حد متارکہ پر اسی طرح کی مشکلات کاسامناکررہی آبادی کو نظرانداز کردیاگیاہے، جس سے کئی اذہان میں پائے جارہے اس تصور کو تقویت ملتی کہ حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر بس رہے عوام کے تعلق سے الگ الگ پالیسی اپنائی جارہی ہے اور سہولیات کے نام پر دونوں کے درمیان واضح امتیاز برتا جا رہا ہے۔بین الاقوامی سرحد پر موبائل ٹاور نصب کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس سے جموں ، کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بس رہے لوگوں کی مشکلات کا کسی حد تک ازالہ ہوگا اور وہ موجودہ دور کی اہم ضرورت سے مستفید ہوسکیں گے تاہم حدمتارکہ کے قریب آباد لوگوںکے تئیں الگ رویہ

انسدادِ منشیات۔۔۔۔ پالیسی نفاذ کمیٹی کا قیام خوش آئند!

ریاستی حکومت نے نشہ آور ادویات کے استعمال کی تیزی کے ساتھ پھیلتی ہوئی وباء کے سماج پر اثرات سے نمٹنے کےلئےریاست کے چیف سیکریٹری کی قیادت میں ایک 16رکنی نگرانی و نفاذ کمیٹی قائم کرکے بروقت اقدام کیا ہے۔ کمیٹی میں تمام ہسپتالوں و کشمیر اور جموںصوبوں کے پولیس سربراہان  کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سماجی و مذہبی حلقوں کے نمائندگان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کمیٹی مختلف سمتوں سے اس خوفناک مسئلے کے ضروری پہلوئوں کا تحلیل و تجزیہ کرکے اس کے اثرات سے تحفظ کےلئے راہیں تلاش کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ فی الحقیقت حالیہ ایام میں ریاست کے اندر منشیات کی وبا نے سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب پولیس کی طرف سے کسی نہ کسی جگہ کسی نہ کسی ایسے شخص کو دھر لیا جاتا ہے جو ذلّت کے اس کاروبار سے منسلک ہو۔ لیکن اس کے باوجود منشیات کے ساتھ منسلک مافیا کی س

رام بن کادلدوز حادثہ۔۔۔۔ذمہ دار کون ؟

رام بن میں رونما ہوئے المناک سڑک حادثے نے ایک پھر ٹریفک حکام کی غفلت اور محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے سڑکوں کی جانب توجہ مبذول نہ کرنے کا معاملہ اجاگر کیاہے ۔ اس سڑک حادثہ کیلئے ایک توائورلوڈنگ کوذمہ دار ٹھہرایاجارہاہے اور دوسرے سڑک کی خراب حالت بھی اس کا مؤجب بتائی جارہی ہے ۔واضح رہے کہ چندرکوٹ۔راج گڑھ سڑک پر پیش آئے المناک حادثے میں 11افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 4زخمی ہیں۔یہ حادثہ ٹاٹاسومو گاڑی کو پیش آیاجس میں زیادہ سے زیادہ 9افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن حادثے کے وقت اس گاڑی میں 15افرادسوار تھے جس سے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں ہے  کہ دور دراز علاقوں میں ٹریفک نظام کس قدر بگڑاہواہے اور ائورلوڈنگ پر قابو پانے کے سرکار ی دعوے زمینی سطح کے حقائق سے کہیںمیل نہیں کھاتے۔اگرچہ گاڑی میں سوار 15افراد میں کچھ بچے بھی شامل تھے لیکن پھر بھی اس گاڑی میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کو سوا

ہند پاک حکام کی مثبت ملاقات

   14؍فروری سے 14؍ مارچ تک برصغیر ہند وپاک کی تاریخ نے یکے بعد دیگرے بہت سارے موڑ دیکھے، کبھی خطرات کے بادل گھنے ہوئے اور کبھی تحمل اور بربادباری نے اپنا کمال دکھایا ۔ چلتے چلتے ہند پاک تنا تنی کی برف اس حد تک پگھل گئی کہ کرتار پور سے گورداس پور تک جو راہداری نومبر سے تاحال شدومد سے زیر تعمیر ہے ، اُس پر بھارت اور پاکستان نے تکنیکی امور طے کر نے کئے لئے عہدیداروں کی میٹنگ منعقد کرائی ۔ یہ میٹنگ پہلے سے طے شیڈول پروگرام کے مطابق اٹاری امر تسر میں کئی گھنٹے چلی۔ طرفین کی ملاقات میں کر تار پور راہداری کے حوالے سے سفری تفصیلات ولوازمات حتمی طورطے کر نے پر سوچ بچار کیا گیا۔ یہ خود میں ایک بڑی خوش خبری ہے جس کی کھلے دل سے آؤ بھگت کی جانی چاہیے ۔ دوطرفہ کشیدگی اور تناؤ کی فضا میں ابتداء ًیہ خدشہ ظاہر کیا جا رہاتھا کہ کرتار پور راہداری پر طے شدہ ملاقات شاید اب منسوخ ہوگی لیکن دونو

الیکشن کمیشن۔۔۔ حقائق کا ادارک کرے!

الیکشن کمیشن کے جموںوکشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ریاستی اسمبلی کے لئے انتخابات نہ کرانے کے فیصلے پر جہاں ریاست کے اندر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں ملکی سطح پر بھی متعدد سیاسی حلقوںنے اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرنے کےلئے کہا ہے۔ حالانکہ چھ ریاستوں کے اندر پارلیمانی انتخابات کے متصل اسمبلی چنائو کرانے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے مگر جموںوکشمیر کے معاملے کو سیکورٹی و جوہات کو بنیادبنا کر لٹکائے رکھا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے اب یہ سوال کیا جا رہاہے کہ اگر مرکزی سرکار کا دعویٰ ہے کہ ریاست کے اندر صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے تو پھر اسمبلی انتخابات کو لٹکائے  رکھنے کے پس پردہ کیا عزائم کا ر فرماء ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمانی الیکشن کے حوالے سے عوام کو یہ پیغام د

ٹریفک جاموں کے نت نئے اسباب!

 کشمیر میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ ہی آبادی کے ایک بڑے حصے ، جو موسم سرما کی ٹھٹھرتی ٹھنڈ سے بچنے کےلئے سرمائی ایام وادی سے باہر گرم علاقوں میں گزارنے کا عادی ہیں، کی واپس آمد اور اسکولی گاڑیوں کے سڑکوں پر دوڑنے کی وجہ سے شہر اور قصبہ جات میں ٹریفک کی نقل و حمل میںتیزی کے ساتھ اضافہ  ہو نے لگا ہے، جس کی وجہ سے سڑکوں پر بڑے بڑے ٹریفک جام لگنا شروع ہوگئے ہیں۔ا س پر پلوامہ سانحہ کے بعد فوج اور نیم فوجی دستوں کی کانوائے مومنٹ  کے حوالے سے جاری کی گئی ایڈوائزری نے مزید اضافہ کر دیا ہے ، جسکی وجہ سے شاہراہوں پر طویل وقفوں کے لئے میلوں لمبے جام لگتے ہیں۔ اگر چہ عوام نے ا س حوالے سے حکومت پر یہ باور بھی کیا تھا کہ اس طرح انکے قیمتی اوقات ضائع ہو رہے ہیں مگر فی الوقت اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روزپرائیوٹ اسکولوں کی ایسوسی ایشن نے بھی اس

بالائی خطوں کے باشندے مصائب کے نرغے میں!

 خطہ چناب کے بالائی علاقے پچھلے ڈیڑھ ماہ سے زائیدعرصہ سے بھاری برف تلے دبے ہوئے ہیں جہاں نہ ہی رسل و رسائل کی سہولت میسر ہے اور نہ ہی بجلی سمیت زندگی کی دیگر ضروریات ۔ رواں برس 21جنوری کو ہوئی طوفانی برفباری کے بعد سے یہ علاقے پوری طرح سے باقی دنیا سے منقطع ہیں اور اس کے بعد کئی مرتبہ مزیدبرفباری ہوچکی ہے جس نے پہلے سے جمع سفید پرت میں اضافہ کیا ہے ۔ امسال برفباری نے پچھلے کئی برسوں کا ریکارڈ توڑدیاہے اور ابھی بھی خطہ کے بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف جمع ہے، جس کی وجہ سے خاص طور پر مڑواہ ، واڑون، دچھن، پوگل پرستان،کھڑی اور رام بن ، کشتواڑ و ڈوڈہ کے دیگر بالائی علاقوں میں زندگی کانظام پوری طرح درہم برہم ہوکر رہ گیاہے ۔گزشتہ روز جہاں پوری ریاست میں سرمائی زون کے سکول دو ماہ اور دس دن کی تعطیلات کے بعد دوبارہ  کھل گئے وہیں ان علاقوں کے سکول نہیں کھولے جاسکے کیونکہ سکولوں تک ج

الیکشن کمیشن کا فیصلہ۔۔۔مایوسیوں کے گہراتے بادل

چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے ملک میں پارلیمانی انتخابات کےلئے تاریخوں کا اعلان کرنے کی وجہ سے ملک کے طو ل وعرض میں سیاسی گہما گہمی میں زبردست اُبال پیدا ہوگیا ہے، لیکن جموںوکشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے انتخابات نہ کروانے کے فیصلے نے ریاست کے سیاسی حلقوں میں مایوسی اور خدشات کی لہر برپا کر دی ہے ۔ ریاست کی مین اسٹریم جماعتوں کی طرف سے کچھ عرصہ سے یہ خدشات ظاہر کئے جار ہے تھے کہ مرکز میں برسراقتدار کچھ حلقے ریاست میں فی الحال کسی منتخب حکومت کے قیام کے حق میں نہیں ہیں اور اب الیکشن کمیشن کی جانب سے اس اعلان کے ساتھ یہ خدشات درست ثابت ہوئے ہیں، حالانکہ کمیشن نے چار ریاستوں آندھرا پردیش، اُڑیسہ ، اُروناچل پردیش اور سکم میں پارلیمانی چنائو کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ کمیشن کے اس اعلان پر ریاست کی سبھی مین اسٹریم جماعتوں کی طرف سے زبردست برہمی ک

سکولوں کی اَپ گریڈیشن

ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے حال ہی میں 228سکولوں کادرجہ بڑھانے کو منظوری دی گئی جس سے کئی علاقوں کوجہاں ان کا جائز حق ملاتو وہیں کئی علاقے اس عمل میں نظرانداز بھی ہو گئے ہیں، جہاں کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور وہ منصفانہ بنیادوں پر سکولوں کا درجہ بڑھانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔واضح رہے کہ ریاستی انتظامی کونسل نے دو ہفتے قبل ریاست کے مختلف اضلاع کے 228سکولوں کادرجہ بڑھانے کو منظوری دی۔ 87تعلیمی اداروں کو ہائی سکول سے ہائراسکینڈری سکول کادرجہ دیاگیاجن میں 42جموں جبکہ 45سکول کشمیر صوبہ میں واقع ہیں ۔ اسی طرح سے انتظامی کونسل نے 123مڈل سکولوں کادرجہ بڑھانے کو بھی منظوری دی جن میں سے 58جموں جبکہ 65کشمیر صوبہ میں واقع ہیں ۔اس کے علاوہ مرکزی معاونت والی سکیم سماگرہ شکشا کے تحت 18سکولوں کادرجہ بڑھایاگیا ۔گورنر انتظامیہ کے اس اقدام پر ایک طرف کچھ علاقوں میں جشن منایاجارہارہے تودوسری طرف نظرانداز

مہنگائی۔۔ عوام بے یارویاور !

  کشمیری عوام نے امسال سرما ئی مسائل اور مشکلات کا بہ شدت سامنا کیا۔ کڑاکے کی سردی ، بجلی کی حد سے زیادہ کٹوتی، بار بار سری نگر جموں شاہراہ کی بندش سے اشیائے ضروریہ اور خوردنی اجناس کی قلت ، منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کی من مانیاں، سرکاری حکام کا تجاہل عارفانہ ، یہی سب کچھ عروج پر رہا ۔ اگرچہ اہل ِکشمیر کے لئے چلّوں کی سوغاتیں بالعموم اسی رنگ ڈھنگ کی ہوتی ہیں مگر یہ سال خاص کر مہنگائی کے گزشتہ ریکارڈوں کو توڑگیا۔ اسلئے ریاستی عوام ارباب ِ حل و عقد سے بجا طور شاکی ہیں کہ انہوں نے گراں فروشوں کو عوا م کا خون چوسنے سے باکل بھی باز نہ رکھا ۔ اس وجہ سے گراں فروشی میں کوئی کمی آنے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہورہا ہے اور غریب عوام ہیں کہ ان کی قوتِ خرید کمزور سے کمزور تر ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے اس وجہ سے ان کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں ۔اس وقت بازاروں کا حال یہ ہے

شرمناک سلسلہ کب تک ؟

مرکزی حکومت کےنا م عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے بعد بیرون ریاست کشمیریوں پر حملوں اور انہیں مارپیٹ اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات پر کم وبیش روک لگ گئی تھی لیکن گزشتہ روز اُترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں دن دہاڑے کشمیری چھاپڑی فروشوں کی مارپیٹ کی وجہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دائیں بازوں کے انتہا پسند حلقے اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے درپے ہیں۔ا س حوالے سے سوشل میڈیا  پر وائرل ہوئے ویڈیو بیرون ریاست کشمیریوں کے تحفظ کے بارے میں فکر و تشویش کا سبب بن رہے ہیں۔ تاہم ان ویڈیوز کے توسط سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ مقامی لوگوں نے متاثرین کو بچانے کی کوشش کی اور حملہ آوروں کو روکنے اور انکی کاروائیوں پر کھل کر اعتراض جتانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ یہ ایک حوصلہ افزا ء تبدیلی ہے، جس کو سراہاجانا چاہئے۔ اس سے قبل چھتیس گڑھ صوبہ کے رائے پور علاقہ میں زیر تربیت کشمیری طلبہ پر تشدد

گیند اب الیکشن کمیشن کے پالے میں!

گزشتہ دنوں چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دورہ ریاست کےد وران سرینگر اور جموں میں ریاست کی کم و بیش سبھی مین اسٹریم  سیاسی جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ جموںوکشمیر کی کلیدی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی سمیت سبھی قومی اور مقامی سطح کی جماعتیں اس بات پر متفق نظر آرہی ہیں کہ ریاست کےا ندر پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات ساتھ ساتھ منعقد کرائے جانے چاہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نئی دلی کے کچھ حلقے فی الوقت ریاست کے اندر صرف پارلیمانی انتخابات کرانے کے حق میں ہیں اور اس کےلئے حالات کی خرابی اور سیکورٹی معاملات کو بنیادی وجوہات کے طور پر جتلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر چہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے گزشتہ برس پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، لیکن اس کے بعد صدارتی راج کے دوران مرکزی حکومت کی

سرحدی طلاب کا مستقبل تباہی کے دہانے پر

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا خمیازہ جہاں عام لوگوں کو بھگتناپڑتاہے وہیں سرحدی علاقوں کے طلاب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور تعلیمی اداروں کے کئی کئی دن تک بند رہنے کے باعث ان کا مستقبل تاریک بنتاجارہاہے۔پچھلے کچھ دنوں سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پرپہنچ چکی ہے اور جہاں سفارتی سطح پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اورہر اعتبار سے کمزو ربنانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں وہیں جنگی محاذ پر بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اورسرحدیں گرم ہیں، جہاںوقفے وقفے سے ہو رہی فائرنگ اور گولہ باری نے لوگوں کا ناک میںدم کر رکھا ہے۔اس کشیدگی کے باعث حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد کے پانچ کلو میٹر کے اند ر واقع تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور موجودہ کشیدگی اور مذاکرات کے تمام تر راستے مسدود دکھتے ہوئے اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان اداروں کے پوری طرح سے کھلنے میں ابھی وقت ل

سمارٹ سٹی۔۔۔۔ زیریں زمینوں پر توجہ کی ضرورت

ریاست کے اندر آبادیوں کے بے ترتیب پھیلائو کے بہ سبب جو دنیا ترتیب پا رہی ہے ، آنے والے قتوں میں وہ لوگوں کےلئے نہایت تکلیف دہ مشکلات کا سب بن کر سامنےآ سکتی ہے، کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شہر سرینگر کے بے ترتیب پھیلائو میںجہاں آبادی کا اضافہ ذمہ دار ہے وہیں اس کےلئے سرکاری اداروں سے لیکر زمین دلالوں تک ایک یکساں سوچ متحرک ہے۔کیونکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران شہر سرینگر میں آبادیوں کے پھیلائو کے دوران منصوبہ جاتی ضرور توں اور حقائق کو قطعی طو رپر نظر انداز کر دیا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے وقت وقت پر منصوبے مرتب نہیں کئے ہوں بلکہ سرینگر کےلئے ایک ماسٹر پلان ضرور موجود ہے اور اب اسے سمارٹ سٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جس کو قطعی شکل دینے کےل

سرحدی عوام حالات کے رحم و کرم پر

ہندوپاک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پیدا شدہ حالات سےاس بات کا بخوبی احساس ہوتاہے کہ حد متارکہ پر رہنے والے لوگوں کی دونوں ممالک اور مقامی انتظامیہ کے سامنے کوئی قدر و قیمت نہیں اور انہیں مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاگیاہے ۔سرحدی مکین مریں یا جئیں یاپھر گھٹ گھٹ کر زندگی گزاریں ،اس سے حکام کوکوئی سروکار نہیں اور سیاسی قیادت کی طرف سے بھی دکھ ، تشویش اور تعزیت پرسی سے بڑھ کر کوئی اقدام نہیں کیاجاتا۔ جنگی حالات میں طبی امداد بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن حد متارکہ پر رہنے والوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی دوران شب فائرنگ یا شیلنگ کے تبادلہ کے دوران زخمی ہوگیا تو اسے ہسپتال منتقل کرنے کیلئے دوسرے دن انتظامیہ اور پولیس وہاں پہنچتی ہے،بھلے ہی اس عرصہ میں مضروب شخص کی جان بھی کیوںنہ چلی جائے ۔بدقسمتی سے حد متارکہ پر موبائل فون کی خدمات میسر نہیں اور چند ماہ قبل حکومت نے ڈبلیو

محاربہ نہیں مکالمہ!

  آج کل ہندپاک جنگ کے خلاف اقوام متحدہ بھی کھل کر بول رہا ہے اور بہت سارے دوست ممالک بھی اپنی فکروتشویش ظاہر کر رہے ہیں ۔ہر گوشے سے نئی دلی اور اسلام آبا دپر یکساں طور زور دیا  جارہاہے کہ جارحانہ آویزش کا سلسلہ مختصر کرکے افہام وتفہیم سے اپنے اختلافات سلجھاؤ مگر کون ہے ان کا سننے والا ؟ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت اور پاکستان نے جنگ بازی میںمیں اُلجھنے کا بیڑا اُٹھایا ۔ ا س سے پہلے بھی انہوں نے ایک دوسرے کو پچھاڑ کر اپنے ا پنے انداز سے مسئلہ کشمیر حل کرنے اور اپنی روایتی دشمنیوں اور کدورتوں کا حساب چکانے کےلئے میدان ِ جنگ کا انتخاب کر کے برصغیر کی تاریخ کو لہولہاں کر کے رکھ دیا۔ تاریخ شاہدعادل ہے کہ دونوں جانب سے روایتی دشمنی میں بہک کر ہی۴۷ء کی تاریخ خون آلودہ کردی گئی ، اپنی ا س دیرینہ رقابت کا بوجھ ہلکاکر نے کے لئے ہی انگریزوں سے گلوخاصی پاتے ہی کشمیر کو می

منشیات۔۔۔ وقت ہے بیدار ہونے کا!

ریاست جموں وکشمیر میںجہاں حالات کی بے یقینی نے سماج کے تانے بانے ہلا کر رکھ دیئے ہیں، وہیں منشیات کی تیزی سے پھیل رہی وبا نے ایک خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ پولیس کی جانب سے منشیات سمگلروں کو پکڑے جانے کی خبریں اگر چہ روزانہ موصول ہورہی ہیں لیکن یہ المیہ نہیں تو کیا ہےکہ کشمیر سے کٹھوعہ تک پوری ریاست اس وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے ؟گو پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ منشیات مخالف مہم میں سرگرم ہے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ ریاست منشیات کے خریدو فروخت کی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔ جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند برس قبل تک کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھااورعصری دور میں استعمال ہونے والی منشیات کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں، جنکی شناخت ہی افیم خوری سے عبارت تھی ، کو تودہائیوں

تازہ ترین