منشیات کی خوفناک وباء۔۔۔سماج کےلئے چیلینج‎

وادیٔ کشمیر میں جس رفتار کے ساتھ منشیات کے استعمال کی وباء پھیل رہی ہے وہ کسی بھی سنجیدہ فکر اور درد دل رکھنے والے شہری کےلئے المناک ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فی الوقت وادی میں 70ہزار لوگ منشیات کی لت میں مبتلا ء ہوگئے ہیں جن میں 4ہزار سے زائید خواتین بھی شامل ہیں۔ جموںوکشمیر کےسماج میں خواتین کا سماج سازی میں کلیدی رول رہا ہے اور اگر صنف نازک  منشیات کے استعمال میں مبتلاء ہوجائے تو لازمی طور پر آئندہ برسوں میں ایک ایسے سماج کی تشکیل یقینی ہے جو نوع انسانی کےلئے بے بیان مشکلات اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے دنیا بھر میں سیاسی تصادم آرائی سے مخصوص علاقے کسی نہ کسی مرحلہ پر منشیات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں اور ایساماضی میںپنجاب میں بھی دیکھنے کو ملا ہے، جہاں اُس وقت مسلح تصادم آرائیاں ہو رہی تھیں اور اُس ریاست میں ایک منظم مافیا تیار ہوگیا، جس کی سرگرمیاں، پولیس کی

شہروں میں ٹریفک کی بدحالی عروج پر!

وادی کشمیر میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ٹریفک کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے اور شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ شاید ہی کوئی ایسا قصبہ ہو جہاں ٹریفک جاموں کا طوفان بدتمیزی لوگوں کے لئے سوہان روح نہ بنا ہوا ہو۔ خاص کر صبح ، بعد دوپہر اور شام کے اوقات میں شاہراہوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی سڑکوں پر بڑی چھوٹی گاڑیوں اور ٹووہیلروںکی طویل قطاریں بعض اوقا ت گھنٹوں تک لوگوں  کے عبور و مرور میں رکاوٹوں کا سبب بنتی ہیں، جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین، تاجروں اور طلبہ کو زبردست ذہنی، روحانی اور جسمانی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزیاں اس پیمانے پر عروج پکڑ چکی ہیں جسکی ماضی میں شاید ہی کوئی مثال موجود ہو۔شہر سرینگر کے بالائی علاقہ میں جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور کی ٹکڑوں میں تکمیل کی وجہ سے اس علاقہ میں ابھی ٹریفک مین کوئی بہتری نہیں آرہی ہے جس کی وجہ سے سول لائنز

آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی

سپریم کورٹ کی طرف سے آدھار کارڈ کو لازمی دستاویز قرار نہ دیئے جانے کے باوجود محکمہ خوراک، شہری رسدات وتقسیم کاری کی طرف سے راشن، کھانڈ اور تیل خاکی کی فراہمی کو آدھار کارڈ سے جوڑدیاگیاہے، جس سے بڑی تعداد میں غریب کنبہ جات سرکاری راشن سے محرو م ہوکر بھکمری کاشکار ہوتے جارہے ہیں ۔راشن کارڈوں کو آدھار کارڈ سے منسلک کرنے اور آدھار کی بنیاد پر راشن کی فراہمی محکمہ میںشفافیت کیلئے کوئی برااقدام نہیں ہے لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تک سبھی لوگوں کے آدھار کارڈ نہیں بن پائے ہیں جو راشن سے بالکل محروم ہوسکتے ہیں ۔حال ہی میں راجوری کے کوٹرنکہ علاقے کے حکام نے لوگوں کو راشن کارڈ آدھار کارڈ سے منسلک کرنے کی ہدایت جاری کی اور اب ان کنبہ جات کو راشن کی فراہمی روک دی گئی ہے جنہوں نے اپنے آدھار نمبرکا اندراج متعلقہ ڈیلر کے پاس نہیں کروایا۔کئی لوگ اس وجہ سے بھی آدھار اندراج کرانے م

شجرکاری مہم کتنی مؤثر ؟

 ’گرین جموں وکشمیر ‘کے تحت ریاستی گورنرستیہ پال ملک کی طرف سے ایک ہفتہ قبل شجرکاری مہم شروع کی گئی ہے اور جسکے تحت جون 2020تک ریاست بھر میںمختلف اقسام کے 50لاکھ پیڑ پودے اگانے کا ہدف مقرر ہواہے ۔دنیا بھر کی طرح ریاست میں بھی بگڑتے ماحولیاتی توازن کودیکھتے ہوئے ایسی مہم کوقابل سراہنا اقدام سمجھاجاناچاہئے، لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ضرور ت ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی مہم چلیں اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی تاہم بدقسمتی سے ان سے کوئی ثمر آور نتائج برآمد نہیں ہوئے اور صرف اور صرف خزانہ عامرہ پر اضافی بوجھ ہی پڑ گیا۔ایسی کسی بھی مہم سے زیادہ اہم اگائے جانے والے پودوں کا تحفظ ہے جس کی طرف آج تک محکمہ جنگلات کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔عام طور پر یہ دیکھاجاتاہے کہ محکمہ جنگلات کی طرف سے ہر سال بارشوں کے دوران بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چلائی جاتی ہے اورمحکمہ ت

پیشہ وارانہ تعلیم | سنجیدہ اقدامات کرنیکی ضرورت

ریاست میں پیشہ وارانہ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے بیشتراضلاع میں پالی ٹیکنک کالجوں کا قیام عمل میں لایاگیاہے جہاں پچھلے کئی برسوں سے مختلف کورسز کی تعلیم دی بھی جاری ہے تاہم یہ اہم ادارے بنیادی ڈھانچے اورتدریسی عملے کی عدم دستیابی کے باعث برائے نام بن کررہ گئے ہیں ۔ہر سال بورڈ آف پروفیشنل ایگزامی نیشن کی طرف سے ڈپلومہ اور ڈگری کورسز کیلئے انٹرنس ٹیسٹ منعقد کیاجاتاہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء منتخب ہوتے ہیں ۔اس بار بھی ڈپلومہ کورسز کیلئے منعقد ہونیوالے انٹرنس ٹیسٹ میں ڈھائی ہزار سے زائد طلاب کا انتخاب کیاگیا جن میں سے بیشتر نے کونسلنگ کے بعدمختلف پیشہ وارانہ کورسز میں داخلے بھی لئے ہیں۔پالی ٹیکنک کالجز میں داخلہ لینے والے طلاب کو ایک نہیںبلکہ کئی طرح کی مشکلا ت کاسامناکرناپڑتاہے ۔ بیشتر کالجوں میں نہ تو انہیں ہوسٹل کی سہولت ملتی ہے اور نہ ہی مناسب تعداد میں تدریسی عملہ تعینات ہوتاہ

کو رپشن ایک مہلک ناسور!

  ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پہلے دن سے کورپشن کو ریاست کاسب سے بڑا سنگین مسئلہ بتلا کر دُکھتی رگ پر انگلی رکھتے چلے آئے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس نا سور کو ختم کر نے کا اپنا عزم بالجزم باندھا جس کا سنجیدہ اور مخلص لوگ ہمیشہ سراہنا کرتے ہیں۔ اب زمانے کی نگاہیں بڑی بے صبری کے ساتھ منتظر ہیں کہ کن گورنر اپنے اس نیک عزم کو مکمل طور عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ لوگ باگ چاہتے ہیں کہ بدعنوان عناصر کا یوم ِ حساب آنا چاہیے ۔ اس میں کوئی رتی بھر بھی شک نہیں کہ ریاست میں بد عنوانیوں کا گھنا جنگل پھل پھول رہاہے مگر یہ جنگل کسی آسمان سے نہیں اُترا بلکہ اسی سرزمین میں پہلے  خود غرضانہ سیاست نے اس کی تخم ریزی کی ، افسر شاہی نے اس کی آب پاشی کی ، سیاسی کلچر نے اس کو سر سبز وشاداب رکھا اور اب یہ اپنے کڑوے کسیلے پھل پورے سماج کی جھولی میں ڈالتا جارہاہے ۔ سچ مچ کورپشن کے سمندر میں جن

مریضوں کو درپیش مشکلات ۔ ۔۔۔ ازالہ کرنے کی ضرورت!

 ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے ہسپتالوں میںبھی  ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سے

پیر پنچال اور چناب خطے

جموں وکشمیر سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی مدد سے ریاست میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے دعوئوں کی قلعی کھل کر رہ گئی ہے اور خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں یہ نظام بہتری کے بجائے مزید خرابیوں کا شکار ہوتاجارہاہے ۔یہ حقیقت اس حوالے سے حکام کی سنجیدگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ٹریفک حادثات کیلئے پُر خطر مانے جانے والے خطہ چناب اور خطہ پیرپنچال میں اس وقت صرف16ایس آر ٹی سی بسیں چل رہی ہیں جبکہ ان دونوں خطوں میں ایسی سینکڑوں گاڑیوں کی ضرورت ہے ۔قابل ذکر ہے کہ پیر پنچال اور چناب خطوں میں آئے روز ایک سے بڑھ کر ایک خطرناک سڑک حادثات رونماہوتے رہتے ہیں جن میں سے بیشتر کی وجہ صرف اور صرف ائورلوڈنگ ہوتی ہے ۔چونکہ ان پہاڑی خطوں کے عوام کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات فراہم نہیں ہوتیں تو وہ مجبوراًپہلے سے ہی ائورلوڈ گاڑی میں سفر کرتے ہیں، جو ان کیلئے بعض اوقات وبال جان بن جاتاہے ۔سرکاری اعدا

آب گاہوں کی بدحالی۔۔۔۔۔ کہاں تلک یہ کاروبار چلے!

وادی کشمیر ، جو کسی زمانے میں اپنی جھیلوں، آبگاہوں اور چشموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی اور کرۂ ارض کے یمین ویسار سےمشاہدۂ فطرت کےشیدائی جوق درجوق یہاں آتے تھےلیکن آج حسن فطرت کے اس سرمائے سے ہماری یہ سرزمین تیزی کے ساتھ محروم ہو رہی ہے کیونکہ ان آبگاہوں پر ایک جانب سے ناجائز تجاوزات اور دوسری جانب سے آلودگی کی جو یلغار جاری ہے وہ مستقبل میں ایک خوفناک صورتحال کا نقشہ استوار کر رہی ہے۔ اس صورتحال کےلئےجہاں ایک جانب لوگ ذمہ دار ہیں، وہیں دوسری جانب سے انتظامی صیغے ان آبگاہوں، خاص طور پر جھیل ڈل اور ولر، میں تجاوزات او ر آلودگی کےمختلف اسباب کےتئیں متواتر بےحسی کا مظاہرہ کرتےرہےہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے ذریعے  بار بار کشمیر میں جھیلوں اور آبگاہوں کی تباہی کا جو نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر کسی بھی ذی حس انسان کا جگر پاش پاش ہوسکتا ہے۔جھیل ڈل کا رقبہ چالیس فی

پہاڑی خطوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بدحالی

ریاست کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بجلی کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر غیر مستحکم ہے کہ ذرا سی ہوا چل جانے پر ترسیلی لائنیں زمیں بوس ہوجاتی ہیںاور کھمبوں کو بھی نقصان سے دوچار ہوناپڑتاہے جس کے نتیجہ میں بجلی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور اسے ٹھیک کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں ۔دوروز قبل جموں صوبہ میں ہوئی شدید بارشوں اور آندھی سے خطہ پیر پنچال کے بجلی ڈھانچے کو بری طرح سے نقصان پہنچا اور دونوں اضلاع راجوری اور پونچھ میں لگ بھگ ڈیڑھ سو کھمبے زمیں بوس ہوگئے جبکہ ترسیلی لائنیں بھی ٹوٹ گئیں ۔اس دوران درختوں سے بندھی ہوئی ترسیلی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا اور دونوں اضلاع کی بجلی سپلائی متاثر ہوئی ۔اگرچہ محکمہ بجلی کی طرف سے کارروائی کرکے بیشتر علاقوں میں بجلی کی منقطع ہونے والی سپلائی کو بحال کردیاگیاہے لیکن یہ امر پریشانی کا باعث ہے کہ جب بھی بارش ہوتی ہے اور ہوائیں چلتی ہیںتو اس خطے کے لوگوںکو ب

مہنگائی۔۔۔ غرباء کاکوئی چارہ گرہے؟

 ریاستی عوام ارباب ِ حل و عقد سے بجا طور شاکی ہیں کہ کمر توڑ مہنگائی میں کوئی کمی آنے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں شدت وحدت آرہی ہے ۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ غریب عوام کی قوتِ خرید کمزور سے کمزور تر ہو نا اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ان کے لئے زندگی اجیرن بن جائے اور وہ دووقت کی روٹی آرام سے کھانے سے قاصر رہیں ۔اس وقت بازاروں کا حال یہ ہے کہ ساگ سبزی سے لے کر تمام دیگر اشیائے خوردونوش تک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں کہ عام آدمی کا کچومر نکلتاجا رہاہے۔ اس پر ستم یہ کہ سرکاری نرخ ناموں کی شکل میں خوردنی چیزوں کے جو قیمتیں مشتہر کی جاتی ہیں ان کی وقعت ردی کا غذ سے زیادہ نہیں کیونکہ خرید وفروخت میں عملاًان کی طرف ادنیٰ سی بھی توجہ نہیں کی جا تی۔ دوکاندار تو دوکاندار ، خریدار بھی یہ قبل ازوقت جا ن رہے ہوتے ہیں کہ کسی چیز کی جو قیمت ریٹ لسٹ پر دی گئی ہے اس کی کو ئی اہمیت ہی نہیں۔

پھیلتی بستیاں۔۔۔۔۔سکٹرتی زرعی اراضی!

کچھ عرصہ قبل کئے گئے سروے کے مطابق ریاست میں7 .78لاکھ لوگ کچے مکانات میں رہائش پذیر ہیںجبکہ 22.7 فیصد لوگ ایک کمرے والے مکانوں ، 26.2 فیصد اور 18.7 فیصد لو گ بالترتیب دو اور تین کمروں والے رہایشی یونٹوں میں زندگی گذار رہے ہیں۔گوکہ ملکی سطح کے مقابلے میں یہ اعدادوشمار پریشان کن نہیں ہیں لیکن ریاست جموں و کشمیر میں سطح افلاس کو دیکھ کر یہ اعدادوشمار واقعی پریشان کردینے والے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں اور سرینگر شہروں میں آبادی کافی گنجان ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے ۔جہاں تک سرینگر شہر کا تعلق ہے تو شہر اب اتنی وسعت پاچکا ہے کہ یہ جہاں جنوب میں پلوامہ ضلع کے حدود میں داخل ہوچکا ہے وہیں وسط میں بڈگام ،شمال میں بارہمولہ اور گاندربل اضلاع کے حدود میں شہر سرینگر کی کئی کالونیاں آباد ہوچکی ہیں۔غور طلب ہے کہ اکثر کالونیاں زیادہ تر غیر قانونی اور بے ترتیب ہیں ۔ماسٹر پلان کا کوئی پاس و لحا

سڑکوں کی خستہ حالی پر توجہ دینے کی ضرورت!

جدید دور میں سڑکوں اور شاہراہوں کو ترقی کی شہہ رگ کہا جاتا ہے ، کیونکہ آبادی کی اکثریت کو اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی کےلئے کم و بیش روزانہ سفر درپیش ہوتا ہے، لیکن فی الوقت وادیٔ کشمیر میں سڑکوں کی جو حالت زار ہے اُس نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے، کیونکہ شہرو مضافات اور دیہات و قصبہ جات میں میکڈم اُکھڑ جانے اور جگہ جگہ کھڈے بننے کی وجہ سے جابجا سڑکیں تباہ ہو گئی  ہیں، جس کی وجہ سے نہ صر ف عام لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات کا سامنا ہےبلکہ سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ حادثات کے خطرات لگے رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ گزرے موسم سرما کی شدید برفباری اور بعد کی یخ بستگی سڑکوں سے میکڈم کی کوالٹی اور اسکو بچھانے کےلئے موسم کے انتخاب میں ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ سڑکوں کی مرمت اور ان پر میکڈم بچھانے کا کام موسم خزاں کے آخری حصے میں کیا جاتا ہے ، جوکم درجہ

پہاڑی علاقوں میں ائورلوڈنگ ایک سنگین مسئلہ !

 ریاست کے پہاڑی علاقوں خاص طور پر خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں چلنے والی مسافر گاڑیوں میں ائورلوڈنگ ایک سنگین مسئلہ بن گیاہے اور اسی کی وجہ سے آئے رو ز دل دہلادینے والے سڑک حادثات رونماہورہے ہیں ۔ پیر کے روز کشتواڑ کے کیشوان علاقے میں پیش آیا سڑک حادثہ بھی بظاہر ائورلوڈنگ کا ہی نتیجہ ہے جس کے باعث15خواتین سمیت 36افراد لقمہ اجل بنے، جن میں ایک ہی کنبے کے 4افراد بھی شامل ہیں جبکہ 16افراد زخمی ہوئے جن میں سے 15کی حالت گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں ابھی بھی نازک بنی ہوئی ہے ۔متعلقہ حکام کی لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ حادثے کے وقت منی بس میں دو گناسے بھی زائد مسافر سوار تھے ۔ایک منی بس میں 26افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے لیکن اس حادثے کے وقت گاڑی پر 52سے بھی زیادہ مسافر بھرے گئے تھے ۔پہاڑی علاقوں میں چلنے والی اس قدر ائورلوڈ گاڑیوں کو جب ڈرائیور کی معمولی سے بھی کوتاہی سے

ہسپتالوں میں ادویات کی وافر سپلائی کی ضرورت!

 ریاست میں براجمان حکومتیں اگر چہ وقت وقت پر شعبہ ٔ صحت میں نت نئی اسکیمیں اور پروگرام متعارف کراکے یہ عندیہ دیتی رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں سرکاری سطح پر صحت کی نگہداشت اور علاج و معالجہ کی بھر پور سہولیات میسر ہیں، لیکن زمینی سطح کی حالت کو دیکھتے ہوئے انتہائی مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز خطوں اور پہاڑی علاقوں میں چھوٹے ہسپتالوں اور طبی مراکز پرضروری سہولیات کا فقدان عام باتیں ہیں لیکن حیرت کا مقام ہے کہ سرینگر کے صدر ہسپتال اور اس سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی قلت کے بہ سبب مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک واشگاف حقیقت ہے کہ ان ہسپتالوں میں صرف صوبہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے آنےو الے مریضوں کا ہی دبائو نہیں ہوتا بلکہ مغل روڑ کے توسط سے خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقوں کے مریض بھی ضروری علاج معالجہ کےلئے سرینگر کے ہی ہسپت

مغل شاہراہ حادثہ | ٹریفک حکام کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں

مغل شاہراہ پر پیر گلی کے نزدیک رونما ہوئے المناک سڑک حادثے کے بعد ٹریفک پولیس اور محکمہ موٹروہیکل کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کیونکہ یہ حادثہ کسی ایک غلطی یا لاپرواہی کے نتیجہ میں رونما نہیں ہوابلکہ حادثے کاشکار ہونے والا ٹیمپو ٹریولر ائورلوڈبھی تھا، تیزرفتار بھی ،اس میں گانے بھی بج رہے تھے اور دوسری گاڑیوں پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ائورٹیکنگ بھی کی جارہی تھی ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ٹیمپو کے روٹ پرمٹ کی معیاد2017میں ہی ختم ہوگئی تھی جس کی پھر تجدید کروانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی اور یہ گاڑی دو سال سے زائد عرصہ تک سڑکوں پر غیر قانونی طور پر چلائی جاتی رہی ۔واضح رہے کہ چند روز قبل پیش آئے اس حادثے میں مرکزی معاونت والی سکیم پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت چلائے جارہے کشش انسٹی ٹیوٹ کی 9طالبات سمیت 11افراد افرا د لقمہ اجل بن گئے جبکہ 6طالبات اور گاڑی کا ڈرائیور زخمی حالت میں سرین

تعلیمی نظام اصلاحات کا متقاضی

    رائج الوقت نظام ِ تعلیم کے بارے میں بیک وقت دو متضاد آراء پائی ہیں :اول یہ فرسودہ ہے ، لایعنی ہے ، صرف تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی فوج بڑھا تاجارہاہے ،دوم یہ صرف قلم اور کتاب ہے جن کے بل پر ہم نے تاریک فضاؤں ا ورمایوس کن حالات میں بھی اپنی لیاقت و قابلیت کا ڈنکا بجایا ، اپنی خداداد ذہانت کی قندیلیں روشن کیں۔ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ وطالبات میں بہترین صلاحیتوں کا فقدان ہے یا وہ ستاروں سے آگے جانے کی قوت ِ پرواز سے محروم ہیں بلکہ اصل بیماریاں یہ ہیں کہ تعلیم وتعلم کا مردم ساز مشن اپنی مقصدیت کے ساتھ اپنی جہت بھی کھو گیا ہے اور مقصدیت بھی۔ اس لئے تعلیم کا مطلب صرف ڈگر یوں کے حصول تک محدود ہے، تعلیم کے اینٹ گارے سے قوم کی اخلاقی تعمیر نو کا کام  لینے کانظریہ سرے سے نظروں سے اوجھل ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سماج میں اساتذہ کی تعظیم وتکریم کو بٹہ لگا ہے۔ اس کا واضح ثبوت

اسکولی ٹرانسپورٹ۔۔۔۔۔ ایک حوصلہ افزاء پیش رفت!

سرینگر کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے اسکولی بچوں کو لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے جاری کردہ تازہ حکمنامہ نہ صرف وقت کی اہم ضرورت تھی بلکہ سنجیدہ فکر سماجی حلقوں کی جانب سے اس کے لئے عرصہ دراز سے مطالبہ کیا جا تا رہا ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ ان کالموں میں بھی اس کی ضرورت کا احساس اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق ضلع سرینگر میں چلائے جانے والے اسکولوں کی انتظامیہ اور پرنسپل صاحبان کو اس حکمنامے کے ذریعے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کےلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں میں بچوں کی اوور لوڈنگ سے اجتناب کریں اور منظور شدہ نشستوں سے زیادہ بچوں کو سوار نہ کریں نیز کسی قسم کے حادثہ سے محفوظ رہنے کےلئے سیٹ بیلٹ باندھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکولوں پر یہ بھی باور کیا گیا ہے کہ اس کام کےلئے صرف وہیں گاڑیاںاستعمال کی جائیں جنہیںمتعلقہ حکام کی جانب سے کمرشل

منشیات مخالف مہم

 منشیات کی بدعت کے خاتمہ کےلئے ریاست بھر میں کل جگہ جگہ پروگرام منعقد کئے گئے جن کے تحت سبھی اضلاع میں ریلیاں، سمینار، مذاکرے اور مباحث کا اہتمام کیا گیا۔ ان پروگراموں میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی انجموں اور کئی مذہبی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ان مجالس میں سماج کے اندر پنپنے والے منشیات کے خوفناک رجحان کے خطرات کا احاطہ کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ بے شک یہ اظہار تشویش وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم انتظامی وسماجی سطح پر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے میں سنجیدہ ہیں۔ صورتحال کا مجموعی جائزہ لینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اپنی مختلف النوع مصروفیات کی وجہ سے اس رجحان کے بنیادی حقائق اور اس کو عام کرنے والے عناصر کے عزائم اور سرگرمیوں کی طرف ایسی توجہ مرکوز کرنے میں ناکام ہوئے ہیں،جس کی یہ متقاضی ہیں۔ وگرنہ شای

حدِ متارکہ کے متاثرین سے بھی انصاف ہو !

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیرآبادی کو براہ راست بھرتی میں ریزرویشن، ترقیاں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق مراعات دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے لوک سبھا میں بل بھی پیش کیاگیاہے ۔ اس سے قبل اسی سرحدی آبادی کی فلاح و بہبودکیلئے حکومت نے کئی دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں بنکروں کی تعمیر اور موبائل ٹاوروں کی تنصیب قابل ذکر ہے ۔ واقعی بین الاقوامی سرحد پر بس رہی آبادی بے پناہ مشکلات کاسامناکررہی ہے اور جب ہندوپاک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتاہے تو اس وقت لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ پناہ لیناپڑتی ہے ۔سرحدی کشیدگی کے دوران اس آبادی نے بار بار تباہی بھی برداشت کی ہے چاہے، وہ جانی صورت میں ہو یا مالی صورت میں ۔اس مصیبت زدہ عوام کیلئے حکومت کی طرف سے اقدامات کیاجانا قابل سراہنا اقد

تازہ ترین