حدِ متارکہ کے متاثرین سے بھی انصاف ہو !

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر رہائش پذیرآبادی کو براہ راست بھرتی میں ریزرویشن، ترقیاں اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق مراعات دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کیلئے لوک سبھا میں بل بھی پیش کیاگیاہے ۔ اس سے قبل اسی سرحدی آبادی کی فلاح و بہبودکیلئے حکومت نے کئی دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں بنکروں کی تعمیر اور موبائل ٹاوروں کی تنصیب قابل ذکر ہے ۔ واقعی بین الاقوامی سرحد پر بس رہی آبادی بے پناہ مشکلات کاسامناکررہی ہے اور جب ہندوپاک کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتاہے تو اس وقت لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ پناہ لیناپڑتی ہے ۔سرحدی کشیدگی کے دوران اس آبادی نے بار بار تباہی بھی برداشت کی ہے چاہے، وہ جانی صورت میں ہو یا مالی صورت میں ۔اس مصیبت زدہ عوام کیلئے حکومت کی طرف سے اقدامات کیاجانا قابل سراہنا اقد

ٹریفک حادثات میں ہلاکتیں۔۔۔ نہ تھمنے والاسلسلہ کب تک ؟

ٹریفک حادثات کی وجہ سے ریاست کے اندر ہلاکتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ایتوار کے روز راجوری ضلع میں مینڈھر کوٹرنکا سڑک پر ایک مسافر بردار ٹیمپو ٹراولر پچاس فٹ گہری کھائی میں لڑھک جانے سے سات افراد کی موت واقع ہوگئی اور اس حادثے نے علاقے میں غم و اندہ کی ایک لہر برپا کر دی ہے۔ سڑک حادثات اب ریاست کے اندر روز کا معمول بنتے جار ہے ہیں اور لکھنپور سے اوڑی تک کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں آئے روز ایسے دلدوز حادثات رونما ہوکر انسانی جانوں کے زیاں کا سبب نہیں بن رہے ہوں۔ حقیقت میں سڑک حادثات میں پیش آنے والی ہلاکتوں کا نہ رُکنے والا سلسلہ ہماری ترقی اور قواعد اور ضوابط کے نفاذ پر ایک اندوہ ناک سوالیہ ہے، جس کا جواب تلاش کرنے کےلئے جہاں انتظامیہ کو اپنی ناقص پالیسیوں اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہوگا وہیں ہمارے سماج کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ غالباً ہی ایسا کوئی دن گزرت

’بیک ٹو ولیج‘۔۔۔ ایک اہم پہل

گورنر انتظامیہ کی طرف سے ایک جامع پہل اور عوام کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کے نعروں کے ساتھ ’بیک ٹو ولیج ‘پروگرام شروع کیاگیاہے جو 20جون سے 27جون تک جاری رہے گا۔اس پروگرام کے تحت ریاست کی لگ بھگ ساڑھے چار ہزار پنچایتوں میں ایک ایک گزیٹیڈ افسر کو بھیجاجارہاہے تاکہ وہ ایک تو مقامی عوام کے مسائل کوخود ان کے ساتھ بیٹھ کر سن سکے اور دوسرے گائوں دیہات کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کرسکے ۔پروگرام کے تحت ہر ایک گزیٹیڈ افسر کو دو دن اور ایک رات متعلقہ گائوں میں ہی قیام کرناہے اور اس دوران دیہی مجلس کے انعقاد اورعوام کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے مسائل کو قلمبند کرنا اور پھر خدمات کی فراہمی کے حوالے سے رپورٹ تحریری طور پر حکام کو پیش کرنی ہے ۔اس پروگرام کیلئے باضابطہ شیڈیول مرتب کیاگیاہے اور ہر سطح کے افسران بشمول آئی اے ایس اور کے اے ایس افسران کو بھی الگ الگ پنچایتوں می

اردو بقا کی جنگ لڑ رہی ہے!

  قومی کونسل برائے فروغِ اُردو کےزیر اہتمام کشمیر یونیورسٹی میں اردو کتب کی نمائش ایک قابل سراہنا اقدام ہے۔ بہتر رہتا اگر ایسی نمائشیں یہ ادارہ ریاست بھر میں ضلعی سطح پر منعقد کی جائیں ۔ کچھ عرصہ قبل بالی وڈ ستاروں سلمان خان ، شاہ رُخ خان اور کترینہ کیف کی خدمات حاصل کر کے اردو کی ترقی وترویج کااشارہ دیا تھا۔ کسی زبان کو فروغ دینے یااس کا مستقبل محفوظ بنانے میں عوام کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ زمانے کی ناقدری کے باوجود اردو آج بھی اپنے بل پر برصغیر ایک مقبول عوامی زبان ہے ، کیونکہ اس میں حلاوت ، وسعت،معنویت اور انسانی جذبات واحساسات کا ہم قدم رہنے کی جملہ صفات بدجہ ٔ اتم پائی جاتی ہیں۔ شاید اسی بناپر داغؔ دہلوی کواس شاعرانہ مبالغہ آرائی کی جسارت ہے   ؎ احمد پاک ؐ  کی خاطر تھی خدا کو منظور ورنہ قرآن بھی آتا ، بزبانِ اردو  ارود برصغیر ہند وپاک

پالی تھین کی و باء۔۔۔۔ کیا کبھی نجات ملے گی!

دنیا بھر میں پھیلی ماحولیاتی تباہی کےلئے جو وہات ذمہ دار ہیں ہماری ریاست اُن سے مُبّرا نہیں ۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ بیرون ریاست کسی حد تک جواب دہی کے عمل کو فروغ ملا ہےلیکن یہاں اس حوالے سے نظام انتہائی ناکارہ رہے۔حالانکہ کچھ برس قبل ریاستی عدلیہ نے  اُس وقت کی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ پالی تھین سے پاک جموں وکشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے لکھن پور ٹول پلازہ  پر نگرانی نظام مزید سخت کرے تاکہ ریاست میں پالی تھین کی برآمد روکی جاسکے ۔مفاد عامہ کی ایک عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے عدلیہ کے ڈویژن بنچ نے حکومت کی جانب سے پالی تھین لفافوں کے استعمال کے اعتراف کے بعد کہا کہ پالی تھین کے استعمال سے ریاست کی خوبصورتی ماند پڑرہی ہے اور اگر حساس ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے تواس ناسور کا خاتمہ لازمی ہے ۔یہ پہلا موقع نہیںتھا جب عدلیہ نے پالی تھین کے استعمال کو لیکر ریاستی حک

جھیلوں کی تباہی۔۔۔۔ ایک لمحۂ فکریہ!

وادی کشمیر ، جو کسی زمانے میں اپنی جھیلوں، آبگاہوں اور چشموں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھی اور کرۂ ارض کے یمین ویسار سےمشاہدۂ فطرت کےشیدائی جوق درجوق یہاں آتے تھےلیکن آج حسن فطرت کے اس سرمائے سے ہماری یہ سرزمین تیزی کے ساتھ محروم ہو رہی ہے کیونکہ ان آبگاہوں پر ایک جانب سے ناجائز تجاوزات اور دوسری جانب سے آلودگی کی جو یلغار جاری ہے وہ مستقبل میں ایک خوفناک صورتحال کا نقشہ استوار کر رہی ہے۔ اس صورتحال کےلئےجہاں ایک جانب لوگ ذمہ دار ہیں، وہیں دوسری جانب سے انتظامی صیغے ان آبگاہوں، خاص طور پر جھیل ڈل اور ولر، میں تجاوزات او ر آلودگی کےمختلف اسباب کےتئیں متواتر بےحسی کا مظاہرہ کرتےرہےہیں۔ یہ خیر ہو ریاست کےگورنر این این ووہرا کا جنہوں نے اس صورتحال پر زبردست برہمی کا اظہار کیا اور جس کےبعد جھیل ڈل کی صفائی کرنے کے لئے ایک وسیع مہم شروع کی گئی ہے، جسکا عوامی حلقوں کی جانب سے خیر

نئے انتظامی یونٹ کب فعال بنیں گے؟

 پانچ سال قبل یعنی 2014میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کے اقتدار کے دورانیہ کے آخری دنوں ریاست بھر میں سینکڑوں نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایاگیا اوراس فیصلے پر جہاں کچھ علاقوں میں جشن منایاگیا وہیں نظرانداز کئے گئے علاقوں میں احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے ،جس پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل پائی اور جس کی سفارشات پر مزید کئی انتظامی یونٹ قائم ہوئے مگر بدقسمتی سے یہ انتظامی یونٹ برائے نام بن کر رہ گئے ہیں ۔ کیونکہ ان میں نہ ہی عملہ تعینات ہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ میسر ہے۔نتیجہ کے طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کی عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ بنتے جارہے ہیں اور انہیں ایک معمولی سے کام کیلئے کئی کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔نئے انتظامی یونٹوں کے حوالے سے بیشتر جگہوں پر یہ صورتحال ہے کہ کئی نیابتیں ایک نائب تحصیلدار اور درجہ چہارم کے ایک ملازم کے ساتھ چل

مثبت سوچ مگر دردمندانہ عملدرآمد کی ضرورت!

 نئی دہلی میں منعقدہ نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے پانچویں اجلاس سے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کا خطاب کافی حد تک ریاستی ضرورتوں کا آئینہ دار تھا۔ گورنر نے جس طرح اپنے طویل خطاب میں ریاستی ضرورتوں کا خاکہ پیش کیا،وہ قابل تحسین ہے اور انہوںنے اپنے خطاب میں جس طرح ریاست کے ترقیاتی منظر نامہ کو مزید وسعت دینے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت طلب کی ،وہ اس با ت کی عکاسی کرتا ہے کہ ستیہ پال ملک ریاست کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہیں اور وہ اس ضمن میں مرکز کی فراخدلانہ امداد حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اس خطاب میں گورنر ملک نے گورنر راج کی ایک سالہ کارکردگی کا خلاصہ بھی پیش کیا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گورنر ملک ریاست میں کافی مدت کے بعد نہ صرف پنچایتی اور بلدیاتی چنائو منعقد کرانے میںکامیاب ہوئے بلکہ انہوںنے پارلیمانی الیکشن کا پر امن انعقاد بھی عم

خطہ پیر پنچال کا طبی نظام ۔۔۔ لاپرواہی کی انتہا

خطہ پیر پنچال کا طبی نظام اپنی خرابیوں کی وجہ سے ہمیشہ سے ہی سرخیوں میں رہتاہے لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ سی ٹی سکین اور ڈیجیٹل ایکسرے کروانے کیلئے بھی مریضوں کو جموں آناجاناپڑتاہے ۔طبی و نیم طبی عملے کی قلت ،مشینری کی غیر فعالیت اور طبی مراکز میں ادویات کی عدم دستیابی اور ڈاکٹروںکی غیر حاضری ایسے مسائل ہیں جنہوں نے اور اس سرحدی اور پہاڑی خطے کے عوام کو زبردست پریشان کررکھاہے ۔نتیجہ کے طور پر روزانہ سینکڑوں کی تعدادمیں مریض اور زخمی بہتر علاج کی تگ ودو میں کبھی جموں توکبھی سرینگر اور کبھی اس سے بھی دور چندی گڑھ،امرتسر و دلی کے ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو ایک غریب کے بس سے باہر کی بات ہے ۔حکومت کی طرف سے دور درا ز اور پہاڑی علاقوں میں طبی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے دعوے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی مگر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آرہی ۔ اگرچہ چند ماہ

شادی بیاہ ۔۔۔ فضولیات کا گورکھ دھندا!

   عید الالفطر کے فوراً بعد وادی میں شادیوں کا سیزن شدو مد سے شروع ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ حسب ِ سابق نومبر کےآواخر تک طول پکڑے گا۔ عام مشاہدہ یہ ہے کہ جب کبھی یہاں حالات خراب رہے اکثر  لوگوں نے دعوت نامے منسوخ کر کے شادیاں بڑی سادگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں مگر جونہی حالات میں ٹھہراؤ آتا شادیوں منگنیاں بڑی دھوم دھام اور نمود ونمائش کے ساتھ رچائی جاتی ہیں ۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ کے مواقع پر اکثر و بیشتر اسراف وتبذیر اور نمود ونمائش کا ایک میلہ سالگتا ہے جن میں فضولیات اور حماقتوں کی حد یں پارکی جا تی ہیں۔ جہیزی لین دین، رسوماتِ قبیحہ، بے ہنگم وازہ وان، ا?تش بازی ، چراغاںاور ہمچو قسم کی فضول خر چیاں ہمیں اجتماعی طور حرافات کے کس دلدل میں پھنسا چکی ہیں ، اس سے ہر کو ئی ذی ہوش باخبر ہے۔ اس میں دوائے نہیں کہ اہلِ کشمیر کی معاشی سرگرمیوں میں شادی بیاہ کا ایک کلیدی کردار ہو تا م

نکاسی آب کا بدترین نظام!

گذشتہ جمعرات کی شبانہ بارش سے وادیٔ کشمیر کے اندر نکاسیٔ آب کے نظام کی بدترین صورتحال اُس وقت سامنے آگئی، جب جابجا بستیوں میں چھوٹی بڑی سڑکیں ایسے زیر آب آگئیں، جیسے سیلاب میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ گذشتہ ایک مہینے سے جاری ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین سطح آب میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے تاہم جس پیمانے پر دیکھتے ہی دیکھتے شہر ، قصبہ جات اور دیہات میں سڑکیں زیر آب آگئیں اُس سے نہ صرف لوگوں کو عبور و مرور میں مشکلات پیدا ہوگئیں بلکہ کئی علاقوں میں پانی گھروں کے آنگنوں میں داخل ہوا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہےبلکہ جب بھی بارشیں ہوتی ہیں بستیوں اور بازاروں میں چھوٹی بڑی سڑکیں زیر آب آنے کی وجہ سے لوگوں کا عبورومرور اور گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے، خاص کر بزرگوں، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا بار بار کیوں ہوتاہے؟ جواب ا

ٹریفک حادثات۔۔۔خونچکانی کا نہ رُکنے والاسلسلہ!

وادی کشمیر میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سڑک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی عنوان سے ان حادثات میں ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے ۔ غالباً ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہے جب حادثات میں کسی شہری کی شمع حیات گُل نہ ہوتی ہو اور اس طرح کنبوں کے کنبے تباہ نہ ہوتے ہوں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے میں ہم ناکام کیوں ہو رہے ہیں، یہ ایسے سوالات ہیں، جن کی جانب نہ تو سرکاری سطح پہ اور نہ ہی سماجی سطح پر کوئی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاست میں سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں اور دو پہیوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اور بدلتے سماجی و اقتصادی  حالات میں وہ گاڑی جو کبھی آسودہ حالی کی علامت سمجھی جاتی تھی، ضروریات زندگی کا حصہ  بنتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائےتو مستقبل میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹرانسپورٹ کا پھیلائو ایک م

عدالتی فیصلہ۔۔۔ بالآخر انصاف کی جیت ہوئی!

ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر رسانہ علاقے میں گزشتہ برس جنوری میں پیش آئے انسانیت سوز واقعہ پر پٹھانکوٹ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے منصفانہ فیصلہ سناکر انصاف کے تقاضے پورے کئے ہیں ۔یہ انصاف کی جیت اور ان عناصر کی شکست ہے جو اس واقعہ کو سیاسی و مذہبی رنگت دے کر اپنے سیاسی قدکو اونچا کرناچاہتے تھے اور جن کی حرکتوں کی وجہ سے پورے صوبہ جموں کا امن خطرے میں پڑنے لگاتھا۔ایک آٹھ سالہ بچی کی بے دردی سے عصمت دری اور اس کے بعد اس کے قتل کے واقعہ کو لے کر انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرنے کیلئے حالات کو اس قدر حساس بنادیاگیاکہ یہ معاملہ امن و قانون کا مسئلہ بن گیا تاہم یہ عدالتی نظام کی عظمت ہے جس کی وجہ سے ظالم اور مظلوم کی پہچان سامنے آگئی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد پہلے تحقیقات پولیس کوسونپی گئی تھی لیکن جن اہلکاروں کوحقایق کی کھوج بین پر مامور کیاگیا انہوںنے ہی شواہد م

شہر کی بے ترتیب وسعتیں!!

ریاست کے اندر آبادیوں کے بے ترتیب پھیلائو کے بہ سبب جو دنیا ترتیب پا رہی ہے ، آنے والے قتوں میں وہ لوگوں کےلئے نہایت تکلیف دہ مشکلات کا سب بن کر سامنےآ سکتی ہے، کیونکہ ان بستیوں کو کسی منصوبے سے ماوریٰ ہو کر آباد کیا جاتا ہے، جن میں نہ تو بنیادی شہری سہولیات موجودومیسر ہوتی ہیں اور نہ ہی انکے فروغ کی کوئی گنجائش ۔ریاست کا گرمائی دارالحکومت سرینگر جس سرعت لیکن بے ترتیبی کے ساتھ پھیل رہا ہے اس رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے ایام میں اس شہر م، جو کبھی اپنے خوبصورتی اور صاف و شفاف آب و ہوا کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین شہرو ں میں شمار ہوتا تھا، کا غلیظ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ حکومت نے وقت وقت پر منصوبے مرتب نہیں کئے ہوں بلکہ سرینگر کےلئے ایک ماسٹر پلان ضرور موجود ہے ، لیکن جب عملی سطح پر دیکھا جاتا ہے تو یہ منصوب

آوارہ کتوں کی ہڑبونگ اورضروری

ریاست بھر میں آوارہ کتوں نے لوگوںکا جینا محال بنارکھاہے اور آئے روز بڑی تعداد میں لوگ ان کی جارحیت کا نشانہ بن رہے ہیں تاہم نہ ہی حکام آوارہ کتوں کوٹھکانے لگانے کیلئے کوئی اقدامات کررہے ہیں اور نہ ہی ان کے زہر کاشکار بننے والے زخمیوں کووقت پر اینٹی ریبیز انجکشن ملتے ہیں۔نتیجہ کے طور پر دور دراز پہاڑی علاقوں میں ایسے حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو انجکشن حاصل کرنے کیلئے سینکڑوں میل کا سفر طے کرناپڑتاہے ۔گزشتہ کچھ عرصہ سے سرحدی ضلع پونچھ میں پاگل اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہواہے اور منڈی، سرنکوٹ اور مینڈھر میں کئی لوگ ان کا نشانہ بن گئے لیکن اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان لوگوں کو مقامی سطح پر اینٹی ریبیز انجکشن نہیں مل رہے ۔یہ دوائی کافی عرصہ سے سرکاری ہسپتالوں میں سپلائی ہی نہیں کی جاتی جبکہ نجی دکانوں میں بھی سٹاک ختم ہوچکاہے ۔پچھلے دنوں ایک ایک انجکشن کیل

!!! سڑک حا دثات

    عیدا لفطر کی خوشیوں کے درمیان بھی ریاست میں یکے بعد دیگرے دلدوز سڑک حا دثا ت سے رنج و غم کی پرچھائیاں بھی تواتر کے ساتھ جاری رہیں ۔ یہ ہماری اجتماعی کم نصیبی ہی نہیں بلکہ ٹریفک حکام کی نااہلی کا منہ بو لتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات جس تواتر کے ساتھ پیش آ تے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے ہم روزمرہ ماردھاڑ کی طرح سڑک حادثات کو بھی معمولاتِ زندگی کا حصہ مان کر چل ر ہے ہیں۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ جاں لیوا ٹریفک حادثات پر کچھ دن لوگ کف ِافسوس ملنے کے بعد پھر انہیں بستۂ فراموشی میں ڈالتے ہیں ، پھر زیادہ سے زیادہ متاثرہ گھرانوں میں ہی غم والم اور ما تم وسینہ کوبیاں ڈیرا ڈالے رہتی ہیں۔ سڑ ک حا دثوں کے تسلسل پر ہمارے ارباب بست وکشاد بھی روایتاً اظہار تاسف پر اکتفا کر نے کے عادی بن چکے ہیں ، جب کہ ہو نا یہ چاہیے کہ ایک ایسا موثر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس پر عمل درآ

عیدا لفطر۔۔۔ مستحقین کی امداد قومی فریضہ!

 برکتوں اور سعادتوں کا مہینہ اختتام پذیر ہواچاہتا ہے اور مسلمانان عالم عید الفطر منانے کی تیاریوں میں جٹ گئے ہیں۔اُمت مسلمہ کیلئے عید محض کوئی روایتی یا محدودالمعنیٰ تہوار نہیں ہوتا بلکہ عیدسے دل کی شاد مانی اور روح کی طمانیت کا تقویٰ شعارانہ مظاہرہ ہوتا ہے ۔ بنابریں رمضان کو الوداع کہنا اور عید کا استقبال کر نا ایک ہی سکے کے دورُخ تصور کئے جاتے ہیں ۔ رمضان کی روزہ داری کا مطلب پورے ایک ماہ تک خلوصِ دل کے ساتھ بدنی اور مالی عبادات میں انہماک و مشغولیت ہے۔ تاہم روزوں سے صرف صبح تاشام نری فاقہ کشی مراد نہیں لینی چاہیے بلکہ ان سے مسلمانوں کی رَگ رَگ میں ضبط ِ نفس، تزکیۂ قلب ، بھائی چارے ، ہمدردی اور غم گساری کا تازہ دم لہو دوڑا نا مطلوب ہوتا ہے۔صوم وصلوٰۃ سے فرد اور سماج کے ایمانی جوش و خروش میں واقعی اُبال آنا چاہیے جب کہ روحانی سطح پر صیام کی حیات بخش کیفیات روزہ داروں کو بندگان

جموں خطے میں منشیات مخالف مہم ناکام کیوں ؟

ریاست کی نوجوان نسل کیلئے منشیات انتہائی مہلک ثابت ہورہی ہے ،جس نے اب تک کئی نوجوانو ں کی زندگیاں لپیٹ لے لیں اور بڑی تعدادمیں نوجوان بری صحبتوں میں مبتلا ہوکر راہ راست سے بھٹک گئے ۔یہ ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جس سے اگر نمٹانہ گیاتویہ معاشرے کو کھوکھلا کرکے رکھ دے گا۔ اس خطرے کا ادراک تب ہوتاہے جب کسی نوجوان کی جان چلی جاتی ہے ۔گزشتہ دنوں پونچھ کی تحصیل مینڈھر میں ایک نوجوان منشیات کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی گنوابیٹھا جس کے بعد عوامی حلقوں میں زبردست فکر مندی پائی جارہی ہے اور یہ سوالا ت اٹھنے لگے ہیں اگر پولیس کئی برسوں سے منشیات مخالف کارروائیاں کرنے کے دعوے کررہی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کا دائرہ سکڑنے کے بجائے وسیع ہوتاجارہاہے ۔صرف مینڈھر کی ہی اگر بات کی جائے تو پچھلے چھ ماہ کے دوران منشیات کے طفیل 6نوجوانوں کی اموات واقع ہوچکی ہیں جبکہ اسی طرح سے ریاست کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی ہ

شہر ِسرینگر ۔۔۔۔۔ کو ئی تو پرسان حال ہو

  سابق حکومتوں نے بار بار ترقی یافتہ کشمیر کے خاکے میں رنگ بھرنے کا اعلان کیا تھا جس سے بظاہر یہی اخذ ہوتا تھا کہ انکی حکومت شہر سرینگر کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرینگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا ؟اسکا جواب وہی دے سکتے ہیں۔ فی الوقت اتنا کہا جا سکتا ہے کہ شاید ہی اس بات پر کسی کو اختلاف ہو کہ سرینگر کو تعمیر وترقی کے حوالے سے مجموعی طور کئی برسوں سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہاہے ۔ شہر کی پرانی بستیوں اور نئی رہائشی کالونیوں پر ایک سرسری نظر دوڑائیے تو صاف نظر آئے گا کہ کم و بیش 12لاکھ کی آبادی کا یہ مسکن ہر اعتبار سے پچھڑا ہواہے ۔ یہاں کی سڑکیں خستہ حال ہیں ،گلی کوچے مرمت اور دیکھ ریکھ کے لئے چیخ وپکار کررہے ہیں ۔گندے پانی کی نکاسی کا نظام مفلوج ہے ، بلدیاتی سہولیات کا فقدان اپنے عروج پر ہے ، ٹریفک جاموں اور اوورلوڈنگ کے ان گنت مسائل ہیں،گند اور غلاظت کے ڈھیر شہر کے

شاہراہ کی بدتر حالت اور ناجائز منافع خوروں کی یلغار!

سرینگر جموں شاہراہ ریاست کی معیشی ترقی کےلئے بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ بیرون ریاست سے کشمیر اور لداخ ڈویژن کو آنےو الی ساری سپلائی، جس پر موجودہ دور کی تجارتی معیشت ٹکی ہوئی ہے، اس شاہراہ کے بند یا کھلے ہونے سے منسلک ہے۔ یہی حال وادی سے بیرون ریاست ہونے والی فروٹ کی تجارت کا بھی ہے۔ ایسے میں جب یہ شاہراہ آئے روز بند ہوتی رہتی ہے تو نہ صرف تجارت کے آہنگ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے بلکہ اشیاء کی قیمتوں میں بے اعتدالی کا عنصر غالب ہو جاتا ہے، جو بالآخر عام صارفین پر اثر انداز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وادیٔ کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کبھی اعتدال پر نہیں رہتیں۔ کیونکہ جب بیرون ریاست سے آنے والی مال بردار گاڑیوں کو ایک دن کے سفر میں تین تین دن لگ جائیں تو وہ کاروباریوں سے اضافی کرایہ وصول کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ کاروباری حلقے یہ اضافی کرایہ اپنے منافع میں سے تو نہیں

تازہ ترین