تازہ ترین

رسانہ کیس کا عدالتی فیصلہ

۔ 10جون 2019؁ء ریا ست کی تا ریخ میں ہمیشہ ایک یا د گار دن اس لیے بھی رہے گا کیو نکہ اس دن پٹھا ن کوٹ کی ایک عدا لت نے 8 سا لہ معصوم گجر بکروال طبقے سے تعلق رکھنے وا لی رسانہ گائوں کی  اس لڑ کی کے قاتلوں کو سزا سنا ئی جسے ِان درندو ں نے 10جنو ری 2018؁ء کو اپنی ہو س کا نشا نہ بنا کر اسے ابدی نیند بھی سلا دیا ۔ ان ہوس پر ستو ں میں سا نجی را م نام کا وہ پجا ری بھی شا مل تھا جو رسا نہ گا ئوں کے ایک متبرک مندر کی دیکھ ریکھ کر تا تھا اور جس کی دیکھ ریکھ میں ہی مندر کی چار دیوا ری میں 8سا لہ آ صفہ کی اجتما عی عصمت دری بھی ہو ئی اور بے رحما نہ قتل بھی ۔ جب اس وا قعہ کو ریا ست کے چند اہم اخبا رات نے عوا م کے سا منے اُجاگر کر کے ملز مان کو سزا دینے کا مطا لبہ کیا تو ریا ست کی کرا ئم برا نچ حر کت میں آ گئی اور تحقیقات کے چند دنو ں کے بعد ملز م سلا خو ں کے پیچھے چلے گئے ۔ آ ناََ فا ناََ ان

مرحوم محمددین بانڈے کی سماجی خدمات

 دُنیا دارالفنا ہے۔دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کوہی حاصل ہے۔دنیا میں انسان آتا ہی کچھ عرصہ کیلئے ہے اورپھراسے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹناہوتاہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔جن کی زندگی کا مقصدخدمت خلق اور دوسروں کو راحت و آرام پہنچانا ہوتا ہے۔جن کے شب وروزدوسروں کی فکرمیں گزرتے ہیں ۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ وقت پہ دنیا سے توبیشک چلے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے پیچھے کچھ ایسی یادیں چھوڑجاتے ہیں جن کے باعث انھیں لوگ وقت وقت پریادکرتے ہیں ۔اس کائنات میں کئی ایسی عظیم ہستیوں نے آنکھ کھولی ، جن کی جلائی ہوئی شمعوں سے زندہ قوموں کوحوصلہ اورجینے کا سلیقہ ملا ۔ایسی ہی ایک شخصیت سے متعلق اپنے خیالات کوسپردقرطاس کررہاہوں ۔یقینا اُن کی زندگ

درگاہ حضرت فیض بخش شاہ بخاریؒ

 ریاست جموں وکشمیر جسے جنت ارضی کہاجاتاہے کادوسرانام ’’پیراواڑی ‘‘یاپیروں اورصوفیوں کے رہنے کی جگہ بھی ہے ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ریاست میں جگہ جگہ پر اولیائے اللہ کے مقبرے موجود ہیں جنھوں نے محنت ِ شاقہ کے ساتھ دینِ اسلام کی اشاعت فرمائی ہے ۔ریاست جموں وکشمیر کے اہم اولیاء کرام میں حضرت بُلبل شاہ،حضرت شیخ جلال الدین بخاریؒ ،حضرت سید حسین سمنانی ؒ،حضرت امیرکبیرمیرسیدّعلی ہمدانیؒ (شاہ ہمدان ؒ)،حضرت مولاناپیرحاجی محمدقاریؒ،حضرت سیدبہاء الدین ؒ،حضرت سیدمحمدسراجؒ،حضرت سیدّجعفرؒ ،حضرت سیدمحمدکبیر بیہقیؒ ،حضرت سید محمدعین پوشؒ ،حضرت سید شہاب الدین ؒ،حضرت سید نعمت اللہ ؒ،حضرت بہاء الدین ثانی ؒ،حضرت سادات محمدؒ واحمدؒ ،حضرت سیدمحمدحصاری ؒ،حضرت سیدمحمدکرمانی ؒ ،حضرت سیدفخرالدین ؒ،حضرت سید عبداللہ ؒ ،حضرت سید میرمحمدہمدانی ؒ ،حضرت سید احمدسامانی ؒ ،حضرت سیدقاضی حس

نوائے سروش!!!

 خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل- عذاب دانش حاضر سے ہوں با خبر کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل (علامہ اقبال) اور آج کے موضوع کی وضاحت سے قبل فارسی زبان کا یہ شعر رقم کرنا لازمی بن گیا:- بماند ناز شرین بے خریدار اگر خسرو نہ باشد کوہکن ہست۔ بلا شبہ اس امر تلخ میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ دور میں سائینسی اختراعات نے سفر حیات کے انداز بدل ڈالے البتہ برق رفتاری سے بدلنے والی اس دنیا کے میر و فقیر ، پیرو جواں اور خورد کلاں بلکہ مردوزن کو بس مادی برتری اور انا و لا غیری کی ہوس نے بے خودی  کے عالم اور بدمستی کے شعلوں کی نذر کر دیا ہے۔چشم سر بھی کور تو چشم قلب بھی نا بینا۔جب انسانی معاشرے میں زبوں حالی کا یہ حال تو زبدہ کائنات اور اشرف المخلوقات کی تخلیق کا مقصد مخدوش بھی اور مفقود بھی  ہونا، ایک خواب

آہ !مرحوم عبدالرحیم لنگو آف سوپور

قصبۂ سوپور کو کشمیر کی تاریخ میں خاص اہمیت ہے ۔شمالی کشمیر میں واقع یہ قصبہ سیاسی طور پر حساس مانا جاتا ہے۔ قصبے میں اب تک بہت ساری اولوالعزم علمی ،ادبی ، سیاسی ، سماجی اور تحریکی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جن کی غیر معمولی خصوصیات کے لوگ رہین ِ منت ہیں ۔ مرحوم حاجی عبد الرحیم لنگوصاحب ان میں ایک اہم شخصیت تھے ۔ سوپور کے ایک با اثر خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم صاحب عنفوان شباب سے دینی خدمات کو اپنی زندگی کابہتر مصرف سمجھے تھے ۔ قصبۂ سوپور میں مرحوم نے دینی ، سماجی اور فلاحی   حیثیتوں سے نیکو کاری میں سبقت حاصل کی ۔ جماعت اسلامی کی دعوت عام کرنے میں آپ نے سوپور میں کلیدی رول ادا کیا ۔ جماعت کی مقتدر شخصیات کے ساتھ آپ کے گہرے تعلقات رہے ۔ اچھا پڑھا لکھا ، کافی ذہین اور معاملہ فہم ہونے کے علاوہ آپ علم کے دلدارہ تھے ۔ جن دنوں میں گرلز ہائی اسکول مسلم پیر میں مدرس تھا، م

۔۵ ؍جنوری کے زخم!

   ہرسال ۵؍ جنوری کا دن طلوع ہوتا ہے تویہ ہمارے خانوادے کے قلب وجگر کو غم وحزن اور سوگواریت کے بحر بیکراں میں ڈبو دیتا ہے۔ اسی روز ہم سے ہمارے اباجان روٹھ کر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔ ہمیں اپنے اباجان پر فخر ہے کہ انہوں نے قوم کی بھلائی ، سربلندی اور اس کے وقار کے لئے اپنا سر مایۂ حیات خوشی خوشی لٹادیا۔ مرحوم اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ شاید ضلع بڈگام کا پہلا لا ء گریجویٹ تھے،خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اور خلوص و صداقت کے پیکر تھے ۔ یہی متاع فقیر لے کر والد صاحب شیخ عبداللہ سے جڑ گئے ۔ اُن کو کیا معلوم تھا کہ خلوص اور وفا کو بے درد زمانہ آگے’’ آوارہ گردی‘‘ سے تعبیر کر کے تحریک کو کھوٹے سکوں کے عوض فروخت کر دے گا۔ ان کانام نامی وکیل غلام نبی وانی تھا اور سکونت آلوچی باغ سری نگر میں تھی۔ 1953 میں علی گڑھ سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے واپسی پر یہاں وکالت کا

وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی کے نام

 جناب وی صاحب! السلام علیکم     اللہ کے فضل وکرم سے آپ دوسری بار رئیس جامعہ کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہو چکے ہیں ۔ آپ نے  جامعہ ملیہ اسلامیہ دلی میں بھی اپنے فرائض بہ حیثیت وی سی صاحب بڑے کامیاب اندا زمیں انجام دئے۔ کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ ، طالبات، مُدرسین، غیر تدریسی عملہ اور دیگر متعلقین آپ کی شرافت، فرض شناسی، کام کرنے کی عمدہ صلاحیت اور یونیورسٹی کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے کی خواہش کا اعتراف کر تے ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں علم وآگہی کے میدان کی چوٹیاں سر کرے اور اسی مناسبت سے جدید علوم کا فیضان بے یار ومددگار کشمیر کے لئے پیغامِ حیات نو بنے۔  جناب! آپ جانتے ہیں کہ کشمیر ایک عرصہ سے پُر آشوب حالات سے گزر رہاہے، آپ بھی نامساعد حالات کے زیروبم سے کماحقہ واقف ہوں گے ۔ ان حالات کی مار نے سے نہ

گرتو برانہ مانے!

سپریم کورٹ نے اپنے ایک تازہ فیصلے میں غیر ازدواجی تعلقات کو قابل تعزیر نہیں مانتے ہوئے ہندوستانی قانون کی ۷۵ سال پرانی شق کو مسترد کر دیا ہے ۔اس فیصلے کے مطابق ایوان عدل نے شادی شدہ ہونے کے باوجود ناجائز تعلقات قائم کرنے والوں کو ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لئے فری کردیا ہے ،یعنی اب کوئی بھی شادی شدہ عورت بے چون و چرا کسی بھی غیرمرد کی آغوش میں جا سکتی ہے ۔ہم ملکی عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ایوان عدل کے فاضل جج صاحبان سے بصد ادب و احترام سوال کرتے ہیں کہ ہم کس دیش کے باسی ہیں اور کس تہذیب کو مانتے ہیں ؟مشرق کو یا مغرب کو ؟ سبھی جانتے ہیں کہ ہماراپیارا ملک کثیر المذاہب ہے ، یہاں ہندو مسلم برادران مل جل کر رہتے ہیں ،مل جل کر تیوہار مناتے ہیں۔اسلام میں تو ایسے تعلقات حرام ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے سے جنسی جرائم اور نہیں بڑھیں گے ؟ بے شرمی بے حیائی اور بے غیرتی کیا پہلے کم تھی ک

معاشرے میں مدرس کا کردار

 اس میںکوئی شک نہیں ایک مدرس سماج میں اعلیٰ مقام و مرتبہ رکھتا ہے ۔وہ سماج کے لئے ایک آئینہ ہے جسے دیکھ کر لوگ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔استا د ہی وہ شخصیت ہے جو ہر انسان کو تاریکی سے نکال کر اجالے کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔استادکو باوقار بننے کے لئے اپنے کردار کو سلامت رکھنا پڑے گا۔چاروں اطراف سے یہ صدائیں آرہی ہیںکہ استاد ڈیوٹی نہیں دیتا ، استاد پڑھاتا نہیں، استاد اپنے طلباء کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں،استاد محنتی نہیں ہیں، استاد  مڈ ڈے میل  Mid Day Mealکھاتے ہیں،استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ غلط تعلقا ت رکھتے ہیں۔اور کہیں جگہوں میں ایسی وارداتیں رونما ہوئیں جن کی وجہ سے ایک استاد پر کالا داغ لگا۔اگر تالاب میں ایک مچھلی گندی ہو تو ساری مچھلیاں بدنام ہو جاتی ہیں۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کہ اگر ایک مچھلی گندی ہو تو اسے باہر نکال دیا جائے۔ بلکہ ہم سب اساتذہ

رہبر تعلیم استاد کا محنتانہ یا مذاق!

 محکمہ تعلیم میں تعینات ایس ایس اے رہبر تعلیم اساتذہ جن کو تین ماہ کے بعد ایک ماہ کی تنخواہ کئی بار کی گذارشات اور ریاست گیر احتجاجی کال کے بعد واگذار ہوئی ۔ شوکت احمد جو کہ پیشے سے رہبر تعلیم استاد ہے حسب معمول کلاس میں پڑھا رہا تھا کہ اسی دوران ساڑے تین بجے کے قریب اس کے موبائل میں وائبریشن ہوئی ۔کلاس ختم کر نے کے بعد جو وہ کلاس سے باہر آئے اور موبائل فون چیک کیا اس پر اْسے بنک کی طرف سے مسیج آیا ہوا تھا کہ آپ کے کھاتے میں پیسے جمع ہوئے ہیں ۔شوکت احمد کے چہرے پر تھوڑی رونق سی آگئی اور اس کے آنکھوں میں وہ تمام دوکانداروں آئے جنہیں اس کو پیسہ دینا تھا جس میں اشیائے خوردنی سے لیکر سبزی پھل دودھ والا اور دوائی والا شامل تھا۔ شوکت احمد جب سکول سے چار بجے فارغ ہوا تو اس نے سیدھا اپنا رخ بنک کے اے ٹی ایم کی طرف کیا جہاں پر صارفین کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور وہ بھی پیسے نکال

امداد باہمی

 معزز قارئین! انسان کبھی کبھار تعجب میں پڑ جاتا ہے جب وہ دیکھتاہے کہ خوش نصیب لوگ وہ کام کر جاتے ہیں جو ظاہر بین نظروں میں ان کی حداستطاعت سے بعیدہوتاہے لیکن جب انسان اپنا عزم وہمت سے کچھ اچھا کر نے کا من بنا لیتا ہے اور خلوص نیت سے اندر کے انسان کو سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ نیک کام مجھ سے بھی ہوسکتا ہے، میں بھی معاشرتی فلاح و بہبود میں شریک ہوسکتا ہوں، مجھ سے بھی مفلوک الحال عوام کابھلا ہوسکتا ہے ، میں بھی کسی کے درد کا درماں ہوسکتا ہوں،میںبھی کسی ایک بے سہارا بچےکی پڑھائی لکھائی کا خرچہ اُٹھا سکتا ہوں تاکہ اُ س کی زندگی سنور جائے ، تو اللہ اس کے لئے راہیں کھول دیتا ہے ۔یہ سارے نیک جذبات اگر آپ کے قلب و ذہن میں جاگزیں ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ آپ کے اندر ضمیر ابھی زندہ ہے جو آپ کو خوابِ غفلت سے اُٹھا کر رفاعِ عامہ کے کاموں میں لگنے کا اشارہ دے رہا ہے۔ ـ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ک

غیرت مرگئی ہے !

 جس قوم میں غیرت اور حیا کا خاتمہ ہو جائے وہ قوم کبھی اصل معنوں میں کامیاب نہیں کہلا سکتی، اگرچہ وہ کتنی بھی مالی خوش حالی اور جسمانی تنومندی ر کھتی ہو۔ بے غیرتی اور بے حیائی انسانی معاشرے کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ جس معاشرے کے مرد وزن اس بیماری کا بر وقت تدارک نہ کریں وہ دیر سویر تباہی کے دہانے پر پہنچ کر رہ جاتے۔ یہ بات اصولاً طے ہے کہ اس نوع کی تباہی انسان کی خود کی کمائی ہوتی ہے ۔ کشمیر میں مصائب و مظالم کے بیچ بے حیائی اور بے غیر تی کا بھی دور دورہ  ہورہاہے ۔ حیا سوزی اور غیرت سے تہی دامن ہو کر ہمارا انفردای واجتماعی کردار کتنا بے ڈھب اور بد نما ،اس کا ذکر کرنے سے قلم بھی تھرا اُٹھتا ہے ۔ بے غیرتی و بے مروتی کے گدلے سمند رمیں ڈوب کر ہم کہاں پہنچے ہوئے ہیں اور ہمارا مستقبل ان حوالوں سے کتنا تاریک ہے،اس کے لئے راقم الحروف اپنے صرف ایک روز مرہ تجربے کا  ذکر کر نا

جموں کشمیر کا سیاسی بحران

 جموں کشمیر میں قریب تین سال گٹھ بندھن سرکار میں رہنے کے بعد بی جے پی نے اچانک حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا، جس کے بعد محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا اور صدر جمہوریہ ہند کی منظوری ملتے ہی جموں کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ بی جے پی کے اِس یک لخت فیصلہ پر تعجب نہیں ہوا کیونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد والی حکومت جب سے بنی ہے تب سےدونوں جماعتوں کے لیڈروں میں ٹکراؤ ہی دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی کا وزارت داخلہ کی طرف سے جموں کشمیر میں نافذ العمل افسپا (AFSPA) اور دیگر کالے قوانین کو ہٹانے کی مانگ کرنا، پی ڈی پی کا حریت پسند لوگوں سے بات چیت کا وعدہ کرنا اور جی ایس ٹی کے نفاذ پر بھی یہ ٹکراؤ صاف نظر آ تا رہا۔ اُس پر غضب یہ کہ پولیس، فورسز اور فوج ریاستی حکومت کے ذریعے نہیں بلکہ مرکز کے ذریعہ کنٹرول کی جاتی رہی ہیں۔ یہی تضاد بی جے پی او

شینا زبان

 جموںو کشمیر کے آئین میں شامل زبانوں میں ایک زبان شینا بھی ہے ۔ یوں تو یہ زبان جموںو کشمیر کے آئین میں دردی کے نام سے درج ہے، شینا زبان بولنے والوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان کے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت اور اس کے گردو نواح میں آباد ہے۔اس علاقے کو باہر والے دردستان کے نام سے جانتے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کو درد اور یہاں کی زبان کو دردی کہا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس بات کو آج تک سمجھ نہیں پائے کہ انہیں درد اور اُن کی زبان کو دردی کیوں کہا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے بودوباش کے علاقے کو’ ’شناکی‘ ‘اپنی زبان کو شینا اور خود کو شین کہتے ہیں ۔یہاں سے مختلف ادوار میں لوگ ہجرت کرتے کرتے ریاست جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ان کی زبان کو آئینی حیثیت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے وہ تمام حقوق مل گئے جو آئ

دیہی علاقوں میں اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں

ریاست جموں وکشمیر کی سرکارجہاں آئے دن محکمہ تعلیم کے لیے نت نئی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں تعلیمی نظام دن بدن خستہ ہوتاجارہا ہے۔تمام تر اسکیمیں سرکاری دفاتر میں کاغذوں تک محدود ہیں۔زمینی سطح پر کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔شہروں میں اگرچہ کہیں نہ کہیں اساتذہ حاضری دینے پر مجبور ہیں اور اسکولوں میں تھوڑی بہت سہولیات بھی میسر ہیں لیکن دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کی حالت زار اور ابتری کا رونا ہر فرد رورہاہے۔ اسکول تعلیمی سہولیات بلکہ بیت الخلاء اور نل سے محروم ہیں۔سرکاران کی طرف بالکل توجہ نہیں دے رہی ہے۔بیشتر اسکول پچھلی ایک دہائی سے زیر تعمیر ہیں اور زیادہ تر پایہ تکمیل تک پہنچنے سے قبل ہی زیر خاک ہو چکے ہیں۔بچوں کے بیٹھنے کے لیے کوئی بندوبست نہیں ہے اور اساتذہ کو نا خوشگوار موسم کی صورت میں اسکول بند رکھنے کا بہانہ ملتا ہے۔تیز دھوپ میں جہاں ہمارے ننھے پھول دھول چھا

محمد علی جناح کی تصویر کا کیا قصور؟

 ٹیپو سلطان، اورنگ زیب عالمگیر اورمسٹر محمد علی جناح کو ہندوستان کی فرقہ پرستانہ تاریخ میں ہمیشہ منفی انداز میں یاد کیا جاتاہے ۔ اس لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح صاحب کی اسی سال تصویر پر پنگا لینا سنگھ پریوار کے لئے ایک نیا اشو ہے اور اس پر اعتدال نواز قوتوں اور انسانیت کے بہی خواہوں کو سٹپٹانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حق یہ ہے کہ بانیٔ پاکستان کی تصویر علی گڑھ یونیورسٹی میںدیگر لیڈروں اور شخصیات کے ہمراہ بہ حیثیت لائف ممبر آٹھ دہائیوں سے آویزاں ہے ۔آج اگر بھگوا مہاپُرشوں کو یہ بُرا لگے اور وہ ہلڑ بازی پر اُتر آئیں تو اس پر کسی کو حیرانگی نہیں ہونی چاہیے  کیونکہ تاریخ کا بے عیب سچ یہ ہے کہ انہی متعصب عناصر نے بہ حیثیت متشدد فرقہ پرست قوت عوام کے اندر مذہب اور ذات پات کے نام پر زہر گھول دیا اور پھرسہانے سپنے دکھاکر جب یہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ گئے تو آمریت پسند ی کی حدی

وزیر اعظم پاکستان کے نام

      محترم ومکرم شاہدخاقان عباسی صاحب السلام علیکم   پچھلے قومی انتخابات سے پہلے جماعت مسلم لیگ (ن) کے اُس وقت کے صدر میاں نواز شریف صاحب نے امریکہ میں چھپاسی برس قید کاٹ رہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بچوں اور ان کی والدہ عصمت صدیقی سے ملاقات کر کے وعدہ دیاتھا کہ میں عافیہ کو واپس لے کر رہوں گا۔انہوں نے متعدد بار عوام کے سامنے بھی اعلان کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہیں، وزیر اعظم بننے کے بعد قوم کی بیٹی کو وطن واپس لے آؤں گا مگر افسوس کہ وزیر اعظم بنتے ہی میاں صاحب اپنے تمام وعدے مواعید بھول گئے۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ امریکا کے سابق صدر باراک حسین اوبامہ نے وائٹ ہاوس سے رخصت ہوتے ہوئے بہت سارے قیدیوں کو رہا کیا ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا پروانہ بھی جاری ہوسکتا تھا لیکن اس کے لیے صدر مملکت یا وزیر اعظم پاکستان کا ایک سفارشی خط درکار تھا جسے

ٹرمپ جنونیت کا مجسمہ

اسرائیل دنیا کا ایک ایسا متنازعہ یہودی اکثریت والا ملک ہے جو انگریزوں کی عیاری ومکاری سے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت فلسطین کو تقسیم کرکے معرض وجود میں لایاگیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعددسمبر 1917 کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔یہود و نصاریٰ کی رچائی گئی بدترین سازش کے تحت نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی کر کے یروشلم کو فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا۔ جب 14 مئی 1948  میں یہودیوں نے اسرائیل کے قیام عمل میں لایا تو پہلی عرب - اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل اپنے طاقت کے بل بوتے اور امریکیوں کے سپورٹ سے تقریباً 78 فی صد فلسطینی رقبے پر قابض ہوگیا۔تیسری عرب - اسرائیل جنگ جون 1967 میں ہوئی اور اسرائیل ظلم، جارحیت اور استبداد سے بیت المقدس پر مسلط ہوا۔یو

کمزور طلبہ کیوں ٹھکرائیں؟

 ہاتھ میں ایک بھاری بھر کم کلہاڑی لئے ،تھکی ماندی معصومیت ، میلے کچیلے کپڑے زیب ِتن ، پسینے میں شرابور بدن نوجوان لڑکابہ مشکل سترہ اٹھارہ سال عمرکا ہوگا ۔میں اس کے قریب سے گزرا تو ا س کاحال چال پوچھا تو بتایا یہ عالی شان مکان میرے چاچا کا ہے، جناب ان کی لکڑی پھاڑ رہا ہوں ، انہی کے گھر کا کام کاج کرکے زندگی گزرتی ہے۔ پریوار کے متعلق پوچھا تو بتایا والدین کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔پڑھائی لکھائی کاسوال کیا تو بتایا چاچا جی نے اسکول ضرور بھیجا تھا لیکن میں پڑھائی میں بہت کمزور تھا بس پاس بھر ہوتا اور کسی طرح آٹھویں تک پڑھا ،پھر سکول چھوڑ دیا ۔میں نے پوچھا چاچاجی نے تعلیم چھڑوادی ؟ بتانے لگا نہیں صاحب ایسا نہیں ہے، وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ اُنہوں نے پڑھانے کی بہت کوشش کی غلطی میری تھی ۔  میرا اگلا سوال تھاکیا تعلیم کیوں چھوڑی ؟ اس نے اصل کہانی شروع کی جسے سن کر میں بہت دکھی ہ

ایک سبق آموز واقعہ

ایک دفعہ حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے آئے۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ بزرگ ہستی کون ہیں ،آپ احتراما کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے نہایت مشفقانہ لہجے میں فرمایا :’’بیٹھ جائو فرزند! اور اپنا کام جاری رکھو‘‘حضرت بابا فرید رحمتہ االلہ علیہ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ کے حکم سے مسجد کے فرش پر بیٹھ گئے مگر کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ آپ کچھ عجیب سے اضطراب میں مبتلا تھے۔ نتیجتاً دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کا سبب پوچھا تو عرض کرنے لگے ’’آپ کی موجودگی میں بیٹھتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے‘‘حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کا جواب سن کر بہت مسرور ہوئے اور پھر آپ نے ایک انار نکال کر نوجوان طالب علم کودیا اور فرمایا :’’بچے اسے رکھ لو&