معرکہ

دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔ سیاہ مچھلی سفید مچھلی کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔ اور لال مچھلی تیز تیز اچھلتی ہوئی، کچھ تلاشتی۔۔۔۔ دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔ دوسرے علاقوں میں بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی کی روانی جاری رہتی ہے۔ د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہے سفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چراتی ہے۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں  یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔ تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمو

۔100لفظوں کی کہانیاں

جن لوک پال کافی عرصہ بعد ستیش کو سرکاری ہسپتال میں دیکھ کر مجھے سات سال پرانی اس سے ملاقات یاد آگئی۔ وہ اس روز ’میں انّا ہوں‘ لکھی ترچھی ٹوپی پہنے ہوئے چلا آرہا تھا۔ میرے پوچھنے پر  گٹکا تھوک کر کہنے لگا، ”لوک پال کے لیے آندولن میں گیا تھا۔“ میں نے کہا، ”واہ!! بلیک میں ملنے والا گٹکا کھا کر کرپشن کے خلاف لڑائی! پتہ ہے نا؟؟؟ پابندی کے بعد بغیر رشوت خوری کے گٹکا نہیں بکتا۔“  وہ مسکرایا اور چل دیا۔ میں نے آج بھی پوچھا، ”ادھر کہاں؟ کیا ہوا تمھیں۔“ وہ بڑی مشکل سے بولا، ”منہ کا کینسر!“     لیڈیز ڈاکٹر ”بیٹا۔! بہو کی زچگی قریب ہے۔ کیا کوئی مسلم لیڈیز ڈاکٹر نہیں اس نئے شہر میں؟؟؟“ حاجی صاحب نے فکرانگیز سوال کیا۔ شہزاد، ”ابو رہنے دیں، جہاں سے علاج

افسانچے

 اصلیت وہ دفتر سے آیا۔چائے پی اور سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔لیپ ٹاپ پہ انٹیرنیٹ آن کیا اور چیٹنگ شروع کی۔ایک لڑکی کو بہن بنایا تھا۔وہ کسی پریشانی کا اظہار کرتی تو یہ اس سے بھی زیادہ دکھی ہوجاتا۔آج بھی وہ لڑکی وہاں سے بوائے فرینڈ کا تیکھا رویہ بیان کرکے رو رہی تھی تو یہ بھی رونے لگا۔اور لکھنے لگا"میری قسم ہے اگر روئی تو ۔گویا میری لاش پہ روئو گی۔میری قسم ہے آنسوں پوچھ لو۔آپ کا بھائی ابھی زندہ ہے۔میں سب ٹھیک کروں گا۔۔“وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔ ایک اور عورت آن لائن تھی۔وہ  پیشے سے مُصَوِر تھی اور طلاق یافتہ۔ایک بار اِس نے اُسے پرپوز کیا تھا تو اس نے کہا تھا۔ میں تمہاری ماں کی طرح ہوں۔مجھے مام کے نام سے بُلاو۔تو دل پہ پتھر رکھ کے یہ اسے مما بُلانے لگا۔اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ اسے سردرد ہے ۔تو یہ بہت پریشان ہُوا اور لکھنے لگا”آپ کو میری قسم پہلے اٹ

افسانچے

بلا عنوان-1 اسے شہر میں آئے ابھی ایک ماہ ہواتھا۔وہ سردیاں کاٹنے یہاں آئے تھے۔ اس کیساتھ اس کی گھر والی اوراس کی اپنی ایک بچی تھے ۔  بچی کے جی کلاس میں پڑھتی تھی۔ وہ دن میں اسی بچی کو پڑھاتا،تھوڑی دیر تفریح کرتا پھر اخبار پڑھتا یا نیٹ چلاتا۔۔۔۔ آج جمعہ کا دن تھا۔۔ بچی بولی پاپا آج میں پڑھائی نہیں کروں گی۔۔ اس نے پیار بھرے لہجے میں بچی سے پوچھا کیوں بیٹی تو بچی بڑی معصومیت سے کہنے لگی۔ آج جمعہ کا دن ہے آج ہڑتال ہے تومیںآپ کے پاس پڑھنے کیسے آوں گی۔۔؟ بلاعنوان-2 جب تک ان سب کو آپس میں نہ لڑایا جائے بات نہیں بنے گی۔۔ '' آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو نہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے مُڑ کر ایک بار دیکھ لیا۔ایک بارعب شخص بڑے تاؤ سے چند لوگوں کو ہدایت دے رہے تھے۔۔۔ یہ کل پانچ آدمی تھے جن میں دو لوگ بہت شریف النفس بھی لگ تھے۔۔    یہ اس قصبے کے ای

افسانچے

اعتماد  میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں طارق سے دوری اختیار کروں گی۔۔۔مجھے معلوم ہوگیا کہ عورت کی محبت،اس کی قربانی اور وفا پرستی مرد کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی وہ صرف اپنے لیے اور اپنی زندگی کے لیے جیتا ہے۔۔ اور۔۔۔۔ عورت اپنی زندگی اپنی اولاد پر نچھاور کرتی ہے۔اب مجھے اپنے بچے کے لئے جینا ہے۔طارق نے اسی دن میرے خواب مجھ سے چھین لئے جس دن اس نے میری جگہ کسی اور عورت کو رکھ کرمجھے اپنی زندگی سے بے دخل کیا۔میں نے حالات سے سمجھوتا ضرو رکیا لیکن اب میرا بچہ میرے ہاتھوں کی ہتھکڑی نہیں بلکہ میری طاقت بنے گا۔میں اسے اپنے سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور بنائوں گی تاکہ اسے کسی پر اندھا اعتماد کرنے کی نوبت پیش نہ آئے۔   سنگ دل اس روز میں بھی ناگرچوک سے کچھ ہی دور تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہو ا۔یوں محسوس ہوا کہ کس نے مجھے دھکا دے دیا اور میں بھی دھما کے کی زد میں آگیا ہوں۔موت م

طلاق

پری آج تم پھر دیر سے آئیں۔ مجھے تمہارا دیر سے آنا بالکل اچھا نہیں لگتا۔ جانتی ہو میں ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ شہاب نے غصے سے کہا۔ اچھا بابا سوری۔ دیکھو میں کان پکڑتی ہوں، اب آئندہ دیر سے نہیں آؤں گی۔ لیکن سنو! تمہاری یہ غصہ کرنے کی عادت ٹھیک نہیں ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر تم اتنا غصہ کرتے ہو۔ غصہ تو جیسے تمہاری ناک پر رکھا ہو ۔ پری نے  شرارت سے شہاب کی ناک پر انگلی سے چھوتے ہوئے کہا۔ اور دونوں ہنس دیئے۔ دیکھو پری مجھے غصہ ذرا زیادہ ہی آتا ہے، کیا تم میرا ہر حال میں ساتھ دوگی ۔ شہاب نے ذرا مایوسی سے پوچھا؟ کیوں نہیں! میں زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔ یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ شہاب نے پری کو گلے سے لگا لیا۔ اور ہاں کیا تم نے اپنے گھر والوں سے بات کی؟ پری نے پوچھا؟ کون سی بات؟ ارے وہی ہماری شادی کی بات۔ ہاں! کی تو تھی لیکن گھر والے راضی نہ

زینہ

ایک بھیگہ زمین کے چہرے کو اس ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے نے،جو اس کے بیچوں بیچ چیچک کے بدنما داغ کی طرح نظر  آ رہا تھا،  مسخ کر رکھا تھا ۔ جھونپڑے کے گرد پتھریلی زمین میں اُگی خودرو جھاڑیاں اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ اس سارے اثاثے کا مالک ضرور کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگا ۔۔۔۔۔ حالانکہ کبھی یہ جھونپڑا  ایک خوبصورت کاٹیج ہوا کرتا تھا جو عشق پیچان کی بیلوں سے ڈھکا تھا اور کاٹیج  کے ارد گرد دس بھیگے زمین کا خوبصورت اور پر رونق باغ تھا۔سائیڈ میں نوکروں کے کوارٹر بنے تھے اور ننھا عامراپنے والد ماجد علی کے سامنے ہی لان میں اٹکھیلیاںکرتا رہتا تھا۔ کبھی پھولوں کے جھنڈ میں آنکھ مچولی کھیلی جا رہی تھی اورکبھی سیبوں کے پیڑوںسے جھولاجھلایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔  اچانک تنداور تیز ہوا کے جھونکوں سے خوشیوں کے باب الٹ گئے، ماجد علی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ، سب کچھ بکھر گیا۔۔۔ ماجد علی

ادھورا سفر ادھورے قصّے

سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے گاڑیاں رک رک کر چل رہی تھیںغالباََ سال کی پہلی برف ہورہی تھی کچھ مسافت طے کرتے ہی   گاڑیاںاچانک رک گئیں۔ایک آواز آئی۔ ’’سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی لڑھک گئی ہے۔‘‘ یہ سن کر سب پریشان ہوگئے۔موسم پریشانیوں میں برابر اضافہ کرتا جرہا تھا اور چاروں طرف ٹھنڈی برفیلی ہوائیں چلنے سے بس کے اندر موجود لوگ ٹھٹھرنے لگے۔بس سواریوں سے کھچا کھچ بھری پڑی تھی اور اس کے اندر بالکل بھی ہلنے ڈھلنے کی گنجائش نہیں تھی۔ اب ٹھنڈکے ستائے پرندے بھی اُڑ اُڑ کر گھونسلوں کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے تھے اور کتوں کی بھاگ دوڑ بھی مسدود ہوچکی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا چھا گیا۔ مسافر بس کے اندرکھسر پھسر کرنے لگیں۔ کچھ کھڑکیوں کے پٹ چڑھا کر آگے کا حال جاننے کی کوشش کرتے رہے مگر اندھیرا اور گہرا ہوگیا تھا،لہٰذا اس گپ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دے رہ

افسانچے

فکر آج پھر اس کا باپ شراب پی کر آیا اور اس کی ماں کو مارنا شروع کردیا۔ چنٹو بغل کے کمرے سے اپنی ماں کی چیخ و پکار سن رہا تھا ۔ ایسا پچھلے کئی سالوں سے ہورہا تھا۔ چنٹو کا صبر  جواب دے گیا اور اس نے طے کیا کہ وہ کل اپنے باپ سے بدلہ لے گا۔  دوسرے دن اس کا باپ ہر روز کی طرح اس کی ماں کو پیٹ رہا تھا تبھی چنٹو لڑکھڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور اپنے باپ پر ٹوٹ پڑا۔ اس کا باپ بڑی مشکل سے اپنی جان بچاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے جانے کے بعد چنٹو نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے کہا ماں ! تھے اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں ماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا بیٹا! مجھے اپنی نہیں,اب تیری بیوی کی فکر ہورہی ہے!!! پیزا وہ آفس سے تھکا ماندا جیسے ہی گھر آیا اس کی چھ سالہ بیٹی دوڑتے آئی اور اس لپٹ کر بولی ، پاپا ، مجھے پیزا کھانا ہے۔ ٹھیک ہے بیٹا، میں فریش ہو جاؤں، پھر

سمینار

کالج میںبڑے جوش و خروش سے سیمنار کی تیاریاں ہو رہیں تھیں۔ہال میں طالب علموں کو بٹھایا جا رہا تھا۔ان کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ دونوں ٹیچر، جو ڈیوٹی پر تھے، بڑی محنت کررہے تھے اور لڑکوں سے کہہ رہے تھے۔ ’’آج منسٹر صاحب آرہے ہیں،آپ سیٹوں پر بیٹھ جاؤ ،وہ آتے ہی ہونگے‘‘۔ دیکھو شور بالکل مت مچانا،آرام سے بیٹھے رہنا،جب منسٹر صاحب اور دوسرے مہمان آجایئں گے تو کھڑے ہو جانا اور تالیاں بجانا‘‘ اور لڑکے بھی بڑی خوش خوشی ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ایک لڑکے نے اندر جاتے ہوئے دوسرے سے پوچھا ’’ہال کے اندر کیا ہو رہا ہے‘‘؟۔ بدھو تمہیں نہیں معلوم۔یہ ہفتہ ماحولیات کا ہے نا۔منسٹر صاحب آرہے ہیں ۔انہیں ماحولیات پر لیکچر دینا ہوگا،میں نہیں جاؤں گا۔‘‘ ’’کب آرھے ہیں؟کیا آج کلاسیں نہ

بے نور زندگی

’’ساری زندگی ایسے ہی گذار دی۔ کیا کروں میں خود جو اس کے لئے زمہ دار ٹھہرا۔ وقت جب تھا تب میں نے پرواہ نہیں کی ۔ اس کی ہر ایک بات کو ٹالتا رہا ۔اس کی ہر خوشی اور ہر بات کو نظرانداز کرتا رہا۔ پر آج میری زندگی میں آہٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ آہ! سلمہ میری سلمہ۔ کاش آج اس کی ایک آواز سننے کو مل جاتی۔خدا نے مجھے اتنا بے بس اور لاچار بنا دیا ہے کہ میں اپنی سلمہ کو نہ تو دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی سن سکتا ہوں۔ نہ جانے کہاں ہوگی ؟کس حال میں ہوگی ؟زندہ بھی ہے یا مر گئی؟‘‘ سلطان خود کلامی کے بعد تیس سال پہلے کے ایک درد ناک حادثے میں کھو گیا۔ کڑکتی دھوپ میں وہ ایک کھاٹ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ اچانک اس کی بیوی سلمہ آہستہ سے اس کے پاس آتی ہے ۔ ’’سلطان آج ماں کی بہت یاد آرہی ہے ۔آپ اگر اجازت دیں تو میں جاکر اُسے دیکھ کے آجائوں ؟‘‘ سلمہ نے ڈرت

بکھری کہانیاں

صبح سویرے ہی میں نے یہ دلگیر خبر سُنی کہ رفیق کو دورانِ شب دل کا شدید دورہ پڑا ہے اور وہ اسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔مجھ پر اداسی چھا گئی اوردل میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔رفیق کی پُر درد کہانی فلمی مناظرکی طرح میرے ذہن کے پردے پر چلنے لگی… کل کی ہی تو بات تھی کہ میں جھیل کنارے واقع پارک کے دلفریب مناظر سے لطف اندوز ہورہا تھا ،در اصل بہت دنوں سے مجھے ایک سنسنی خیز رومان پرور کہانی کی تلاش تھی لیکن کوشش کرنے کے باوجود بھی میں نہ کسی رومانی موضوع پر اپنی توجہ مرکوز کر سکا اور نہ کسی کہانی کا تانا بانا  بُن سکا۔آخر تھک ہار کر کہانی بننے کی کوشش ترک کرکے پارک میں موجود دوسرے مرد و زن کی طرح نظاروں سے لطف اٹھانے میں محو ہوگیا۔ٹہلتے ٹہلتے دفعتاً میری نظر رفیق پر پڑی،جو جھلستی دھوپ میں پسینے سے شرابور ہانپتا ہوا پارک کی زیر تعمیر دیوار کے لئے پتھر ڈھورہا تھا ۔اس

پرکھ

صبح سویرے گاوں میں ہلچل مچی تھی ۔ ماسٹر حمیدُاللہ کو پنچایت کے سامنے حاضر کیا گیا ۔زونل ایجوکیشن آفیسر بھی وہیں پہ موجود تھا ۔ ماسٹر حمیدُاللہ پہ الزام تھا کہ وہ بچوں کو غلط پڑھاتے ہیں ۔ ماسٹر حمیدُاللہ خان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ دو سال پہلے ڈی آر بی سے سلیکٹ ہو کر اپنے ہی گاوں میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ گھر کی مُرغی دال برابر کے مصداق کچھ لوگ انہیں خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے۔ گاوں میں چند لوگ ان سے خار کھاتے تھے۔ وہ اس لیے کہ وہ گاوں کا اکیلا لڑکا تھا جو اس ٹیچر کے اس عہدے کے لئے انٹرویو میں پاس ہوا تھا اور اس پر مصیبت یہ کہ اسی گاوں میں پوسٹنگ بھی ہوئی تھی ۔ گاوں کے بڑے اور امیر لوگوں کے لڑکے شہر میں اچھے اسکولوںسے پڑھ کر آئے تھے لیکن پھر بھی وہ اس انٹرویو میں کامیاب نہیں ہوئے تھے اس کے باوجود گاوں میں حمیدُاللہ کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ نائب سرپنچ بختاور اسی طاق م

پیچیدہ گلیاں

اسے دیکھتے ہی میرے قدم جم سے گئے تھے۔ سب کچھ دھندلا دھندلا سا دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ ادھورا پن اور خاموشی، جیسے سب کچھ رُک سا گیا ہو۔  لب تو جیسے سوکھے پتوں کی طرح خاموشی بیان کر رہے تھے۔ نظریں دسمبر کی برف سے ڈھکی ٹہنیوں کی طرح جم سی گئی تھیں۔ قدم جیسے پائوں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں۔ دل اور دماغ بڑی کشمکش میں مبتلا۔ دل سو سوال لئے اور دماغ ہزار سوچوں میں مبتلا، بار بار ایک دوسرے کے ساتھ کشمکش کی اس لڑائی میں نہ ہار اور نہ جیت کا فیصلہ کر پا رہے تھے۔سچ جانئے تو دل کب کی یہ جنگ ہار چکا تھااور دماغ اس پہ حاوی ہوا تھا۔ لیکن نہ جانے کیوں آج یہ جنگ دل ہی جیتنے والا تھا۔ وہ شاید اس لئے کہ دل آج خود کو جھنجوڑ کر کئی برسوں کی یادیں سمیٹ کے سب کی سب ایک ساتھ دماغ کے کونے کونے میں بکھیرے جا رہا تھا، جیسے کوئی ڈرا ہوا سپاہی موت کے خوف سے دشمن پر لگاتار گولیاں برسا رہا ہو۔۔   وہ کہ

ٹوٹی کہاں کمند…؟

اُسے بس اتنا افسوس ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں وہ ہمیشہ ناکام رہا ۔ جب کہ اس کے بہت سے ساتھی ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تھوڑے عرصہ میں ان کے رہن سہن کے نقشے ہی بدل گئے ۔ ایک وہ فرد واحد تھا کہ لاکھ جتن کر کے بھی ان کا مقابلہ نہ کرسکا ۔ ہمیشہ اپنی قسمت کی لکیر پیٹتا رہ گیا ۔   یہ سوچتے ہوئے وہ اکثر اندر ہی اندر گیلی لکڑی کی مانند سلگتا رہتا ۔ کبھی اس دن کو یاد کر کے اپنی قسمت کو کوستا ، جس دن اس نے محکمہ پولیس میں ڈرائیور ی کا پیشہ اختیار کیا تھا۔ حالانکہ یار دوستوں نے اسے کئی بار سمجھا یا بھی کہ اس کی نوکری میں ترقی پانے کی گنجائش آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ البتہ سال میں ایک بار برائے نام تنخواہ میں ضرور بڑھوتری ہوتی رہے گی۔ان کی باتوں سے وہ چپ ہوجاتا مگر دل ہی دل میں زہر کا گھونٹ پی لیتا تھا۔ انور علی پسماندہ طبقے کا معمولی پڑھالکھا آدمی تھا۔ بیس سال

لَو یُو زندگی

 روشنی کے سمندر میں قدم رکھتے ہی میں نے ایک زوردار چیخ ماری۔ اَماں نے میری طرف نم دیدہ آنکھوں سے دیکھا۔ نسیم سحر گنگنانے لگی۔ اماں میرے چہرے کو ایک عجیب چاہت سے دیکھتی رہی۔ اُس کے بعد اماں کے رسیلے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں ہوئی۔ اماں نے راحت کی ایک لمبی سانس لی۔ رشتہ دار ، ہمسایہ اور قبیلے کے لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح میرے آس پاس اُمڈ پڑے۔ پھر میرے کانوں میں اذان دی گئی۔ میں اللہ ُ اکبر سُنکر کُلبلایا۔ میرے ہونے کی تصدیق ہوئی۔ میں نے اماں کو ممتا کی کتاب سے پہلے تین اسباق پڑھائے۔ احساسِ محبت، احساسِ ذمہ داری اور فرض کی ادائیگی کا احساس۔ تین سال اور کچھ دن بعد اُس پہلی درس گاہ سے میں فارغ ہوا۔ اُس دوران میں نے اماں کو دُنیا کے پہلے اُستاد اور ماہرِ نفسیات ہونے کا اعزاز بخشا۔اس کے بعد زندگی نے میری اُنگلی پکڑ کر دوسرے درس گاہ میں میرا داخلہ کروایا۔ یہاں چہروں کو پہچاننے کا علم س

یقین

خندہ جبیں، خوش پوش، لبوں پہ ہمیشہ سنجیدہ سی مسکراہٹ لئے، مہربان اور شفقت بھرے لہجے کی حامل، یتیموں اور مفلسوں کی خفیہ طور مدد کرنے والے، چھوٹے بڑے اور پیچیدہ مسائل سلجھانے میں ماہر، زیرک اور آسودہ حال شفقت حسین اپنے خاندان اور پورے گاؤں کے لئے ایک سایہ دار چنار کی مانند ہیں، جس کے سائے میں آکر اپنے پرائے سبھی راحت اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ صابر و شاکر جان صاحب کا شمار بھی گاؤں کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ انہیں رب العزت نے شرافت اور عزت کے علاؤہ پانچ پانچ بیٹیوں سے نوازا ہے۔ ان کی بیٹیاں سگڑھ اور امور خانہ داری میں ماہر ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت اور حیا دار طبیعت نے جان صاحب کی شان میں چار چاند لگائے ہیں۔ وہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والے انسان نہیں ہیں بلکہ انہیں اپنی بیٹیاں گلے میں پھولوں کی مالا کی طرح لگتی ہیں۔ ان کا دل چاہتاتھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنی نظروںسے دور نہ کریں۔ مگ

یک رنگی افسانچے

 1۔  مسجد کے متولی کی بیٹی کا جہیز دو گاڑیوں میں جارہا تھا اور پڑوس کے نوشاد رکشے والے کی بیٹی کی منگنی جہیز میں مانگے گئے ایل جی ٹی وی اور ڈبل بیڈ کے لئے رقم موقع پر نہ ملنے کی وجہ سے ٹوٹی تھی۔۔  2۔  گاؤں کے سب سے معزز شخص کو سب لوگ عمرہ کی مبارک بادی دے رہے تھے۔ ٹھیک اسی وقت علاقے کے تھانے میں اُن کے خلاف زمین ہڑپنے کے الزام پر ایف آئی آر لکھوانے گئے ہوٹل والے رمضان کو تھانہ انچارج نے دھکے مارتے ہوئے تھانے سے نکلوایا تھا۔۔ 3۔  سالانہ روٹین ٹیسٹ کے لئے آج وہ اپنی بیگم کے ساتھ شہر کے مشہور انسٹی ٹیوٹ سے ٹیسٹ ٹھیک نکلنے پر بہت خوش تھا اور اپنی بیگم سے وعدہ کررہا تھا کہ آج ایونگ شومیں ضرور جائیں گے اور آج ہی اس کے مزدور بھائی کے پاس ایم آر ائی کرانے کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی مسجد کے امام نے لوگوں سے دل کھول کرتعاون کی گزارش کی تھی۔ 4

دیدہ ور

افضل شاہ پورے اسکول میں سب کا چہیتاتھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا گیا۔ پڑھائی میں ہم عصروں میں کوئی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اساتذہ کا تو آنکھوں کا تارا تھا۔ افضل شاہ کے اندر ایک ایسی صفت تھی جو بہت کم لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے۔  وہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرتا تھا جب تک نہ خوداس کے مشاہدہ سے نہ گزریں۔ وطن کی محبت اس کے دل ودماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، جو ایمان کی نشانی ہے۔ کسی کا دکھ اس سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اُس نے بورڑ کے سارے امتحانات میں امتیازی پوزیشن حاصل کر کے ضلع کا نام روشن کیا تھا۔  اور تو اور  پی۔ایس۔  سی۔ کے امتحان میں بھی سارے طلباء پر سبقت لے کر سارے لوگوں کے دلوں میں چھا گیا تھا۔  طالب علم جب بھی باہر جاتے تو فخر سے افضل شاہ کا ریفرنس دیتے کہ ہم بھی اسی سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑی بڑی کونسلی

سفید جنگ

’’یہ کس کی لاش پیڑ پر لٹک رہی ہے۔۔۔۔؟‘‘ وہ حیران ہوکر سوچنے لگا۔اس ویرانے میں یہ لاش۔۔۔!یہ کس کی ہوسکتی ہے۔۔۔۔!اب میں کیا کروں؟ خیر ابھی میں لاش کے اتنے قریب نہیں  پہنچا ہوں کہ اسے پہچان سکوں۔کیا لاش کو نظرانداز کرکے چپ چاپ یہاں سے چلا جاؤں یا پولیس کو اطلاع دوں۔اوہ ۔۔۔میں بھی کیا الٹا سیدھا سوچنے لگا‘بھلا اس ویرانے میں پولیس کا کیا کام۔ویسے بھی اب تو پولیس کا کام زندوں کو لاشیں بنانا ہی رہ گیا ہے اور اگر میں نے  پولیس والوںکے سامنے ایک لاش کاذکر چھیڑا تو وہ الٹا میرا مذاق اڑائیں گے اور میری دماغی حالت پر شک کریں گے کہ اس دور میں لاش کے متعلق پوچھ تاچھ۔۔۔!لیکن یہ تو ایک انسانی جان کے زیاں کا مسئلہ ہے۔ہرچیز کا بدل ہوسکتا ہے لیکن انسان۔۔۔۔؟خیر اب اگر پولیس نے کاروائی شروع بھی کی تو بھی مجھے ہی تفتیش سے گزرنا پڑے گا کہ لاش کس کی ہے‘آپ کا