تازہ ترین

جھیل کی لہریں

صبح کے پُرکیف منظر اور سورج کی ترچھی شعاعوں کے جُھرمٹ میںجھیل  کے نیلے پانی کی سطح پر سجا سجا یا شکارا ایک ستارے کی مانند چمکتا رہا۔رمضان لاوے کے جوان اور مضبوط ہاتھوں میں چپو ایک تنکے کی طرح لہرایا اور شکارا برق رفتاری کے ساتھ پانی کا سینہ چیرتے ہوئے فراٹے بھرنے لگا۔ شکارے میں برطانیہ کی مکین جواں سال خوبصورت ماریا اور رمضان لاوے کی دو بہنیں نُورا اور راحت قہقہے بکھیر رہی تھیں۔ماریا اُن کے ہاں ہی ٹھہری ہوئی تھی۔ اُس کے والدین ہر سال کشمیر کی سیر وسیاحت کے کئے آیا کرتے تھے اور رمضان لاوے کے والدسبحان لاوے کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ماریا اکیلی اولاد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اُن کے ساتھ رہتی۔ آخری بار جب وہ یہاں آئے اس وقت ماریاکی عمر سات سال کی تھی۔ پھر کھبی یہاں آنے کا موقع نہیں ملا۔ کیونکہ واپسی پر اُس کے والدین ایک حادثے میں مارے گئے۔ وہ اپنے اعزاء و اقارب کے ہا ں پرورش پا گئی اور تعلیم

افسانچے

ایسا ہی ہوتا ہے زمین کو لے کر باپ بیٹے میں توُ توُ میں میں ہوئی۔دوسرا بیٹا بار بار ان سے التجا کرتا تھا کہ خدارا خاموش رہیں۔چند ہی ساعت میں وہ زور زور سے چلانے لگے۔پھر دونوں کھڑے ہوے۔کرتار کا دوسرا بیٹا پھر سے بول اٹھا”باپو۔آپ ہی خاموش ہوجائیں۔“ اور بڑے بھائی سے بھی بولا ”بھائی چپ ہوجا۔پڑوسی کیا کہیں گے“۔ اچانک باپ بیٹے میں ہاتھا پائی شروع ہوئی۔وہ دونوں ایک دوسرے کو پیٹنے کے لیے ڈنڈے ڈھونڈنے لگے۔کرتار اپنی چارپائی کے نیچے سے بڑا سا ڈنڈا نکال لایا۔سندیپ نے باہر برآمدے سے ڈنڈا لایا۔پھر مارا ماری شروع ہوئی کمرے میں۔عورتیں کھیت پہ گئی ہوئی تھیں۔کبھی باپ بیٹے کی ٹانگوں پہ وار کرتا۔تو کبھی بیٹا باپ کی کمر پہ حملہ کرتا۔تیسرے بیٹے ببلو نے جلدی سے جاکے کمرے کی لایٹ جلائی۔باپ بیٹا ایک دوسرے کو گالیاں دے رہیں تھے اور تلوارو کی طرح ڈنڈے چل رہیں تھے۔اسی اثنا می

ایٹم بم

زمانی کالج میں پڑھتی تھی ۔ بہت سارے لڑکے زمانی کی خوبصورتی پر فدا تھے ۔ لیکن زمانی کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتی ۔ وقت گذرتا گیا ۔ زمانی اپنی تعلیم میں مگن تھی ایک دن زمانی کا رشتہ گاوں کے ایک لڑکے اکبر کے ساتھ طے ہوا ۔ کالج کے لڑکے، خصوصاً اکبر کے دوست، اکبر کو مبارکباد دینے لگے ۔ کوئی دوست کہتا، ارے اکبر تم تو چھپے رستم نکلے آخر کار اپس زمانی کو قابو ہی کر لیا جو کسی کے قابو میں نہیں آئی تھی تو کوئی کہتا ارے یار کیا قسمت پائی ہے زمانی جنت کی حور ہے ۔ اکبر بھی خوش تھا کہ ایک خوبصورت لڑکی اُس کی رفیق حیات بننے جا رہی ہے ۔ ایک دن اکبر کے گھر والوں نے شادی کی تاریخ طے کر دی ۔ شادی سے پہلے زمانی کے گھر والوں نے دُلہن کے لیے کپڑے زیورات اور باقی چیزیں ادا کر دیں اور شادی کا دن آخر کار نزدیک آگیا ۔  15ستمبر کی رات تھی جب اکبر دُلہا بن کر زمانی کے گھر پہنچا زمانی دُلہن کے کپڑوں میں

فن افسانچہ۔۔۔۔۔ تحقیقی و تنقیدی جائیزہ

کہانی ایک ایسی چیز ہے جسے ہر ایک پسند کرتا ہے ۔اس کا سننا سنانا ابتداء سے ہی لوگوں کا  مشغلہ رہا ہے ۔ پھر جب اس کا ڈھانچہ مخصوص ہیت میں تیار کیا گیا تو اس کے چار چاند لگ گئے۔ داستان سے لے کر افسانچے تک کا سفر کرتے ہوئے اس نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ آج ہر زبان میں داستانیں لکھنے یا سننے سنانے کا رواج عنقاکے برابر ہے۔ البتہ ناولیں ، ناولٹ اور افسانے لکھنے کا دستور اب بھی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف اول کے بعد جس صنف  نے پر پھیلانے شروع کئے وہ افسانچہ یا منُی افسانہ ہے۔  کیا افسانچہ ایک صنف ہے ۔افسانچہ اور لطیفہ میں کیا فرق ہے ۔ افسانے اور افسانچے میں فرق کیا ہے۔  پہلا اردو افسانچہ نگار کون ہے ۔ افسانچہ کامستقبل کیا ہے ۔افسانچہ کے اجزائے ترکیبی کیا ہیںوغیرہ ایسے سوالات ہیں جن  کو فکشن نقادوںنے حل کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اُسے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ا