تازہ ترین

پھر وہی تلاش

کلائمکس۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہی تلاش۔۔۔۔۔۔۔ایک نئے افسانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تخلیق کار۔۔۔۔۔۔۔گلی کو چوں‘صحنوں‘بیابانوںسے ہو کرحالات کا مشاہدہ کرتا رہتا۔کہیں خون آلودہ منظردیکھ کر تلملا اُٹھتاتوکہیں شادیانے بجتے دیکھ خوش بھی ہو اُٹھتا۔مگر حزن ویاس میںدبی آرزوئیںدرانی ؔصاحب کولکھنے کیلئے اُکساتی رہتیں ۔وہ اپنے مشاہدے کی بنا پر ہی افسانے تخلیق کرتے۔ان کے گڑھے افسانوں میںزیادہ تردرد اور کرب میںڈوبی سسکتی بلکتی آوازیں ہی سنائی دیتیں۔درانیؔ صاحب یہ دکھ درداپنے افسانوں میں لڑیوں کی طرح پرو کرمنظر عام پر لاتے رہتے۔جنت نما وادی کاچپہ چپہ خون آلودہ‘سینہ سینہ چھلنی۔Genocideسفید کبوتروں کا۔۔۔بھلا کیوں۔۔؟یہ بات سمجھ سے باہر تھی۔ان سفید کبوتروں کی پریشانی روز بروز بڑھتی ہی جارہی تھی درانیؔ صاحب زیادہ تر دکھ بھرے افسانے ہی لکھتے رہتے۔وہ لکھتے لکھتے سوچتے رہتے ’’یہ افسان

انصاف

ہر سو ماتم تھا ،فضا سہم گئی تھی ،زمین لرز اٹھی تھی اور آسمان بھی تھرا گیا تھا ۔ہر چہرہ افسردہ اور اور ہر آنکھ نم تھی ۔عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں ،نوحہ کر رہی تھیں اور اپنے کھوئے ہوئے جگرکے ٹکڑوں کو ندائیں دے رہی تھیں  ۔مردوں کی حالت بھی کچھ عجیب تھی ۔غصہ تھا ،بے بسی تھی اورسانسیں رکی ہوئی تھیں۔ہر ایک پر سکتہ طاری تھا۔لوگوں کاٹھاٹھیں مارتا ہواسمندر تھااور اس سمندر کے بیچ نو سالہ فیضان کی لاش ڈوبنے کے بجائے تنکے کی مانند کاندھوں پر اچھل اچھل رہی تھی ۔جس کے چھوٹے سے سینے پر لگی ہوئی گولی نے بڑا سوراخ کیا تھا ۔تڑپ کر مرنے اور ہاتھ پاؤں رگڑنے سے سارے جسم پر خراشیں آگئی تھیں ۔خون اتنا بہہ رہا تھا گویا کہ جہلم کا سوتا اس کے سینے سے ملا ہو ۔سفید کفن کارنگ بدل کر لال ہوگیا تھا ۔کفن میں لپٹی ہوئی لاش اور کھلا مرجایا ہوا چہرا ہرایک کو اپنی مظلومیت اوراپنی معصومیت کی داستان سنا رہاتھا۔

کانپتی روح

کمرے کی دیواریں  سیاہ پردوں سےڈھکی ہوئیں محسوس ہو رہی تھیں، جیسے کسی گہرے ماتم کا اظہار ہو رہا تھا۔ دیواریں ہی نہیں بلکہ کمرے کی ایک ایک چیز مجھے نوحہ گری کرتے ہوئے نظر آ رہی تھی۔ آسمان بھی کالے بادلوں کے پیچھے اپنا چہرہ چھپائے تھا۔ یہ آج زمین سے شرمندہ و خوفزدہ ،آنسو بہا رہا تھا میں ڈراونے خیالات کی موج میں بہہ گیا۔ لاکھ کوششوں کے باوجود بھی کنارے نہ لگا۔ خیالات کی حدود وسیع تر ہوتی جا رہی تھیں۔ ذہن کے کسی دریچے سے مہین سی آواز آرہی تھی۔ " اب تو کچھ لکھئے۔ کیا ابھی بھی مجھ میں کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔" یہ اس تبسّم کی آواز تھی جو مجھے بہت دیر سے کہہ رہی تھی کہ میری کوئی کہانی لکھ دو۔ تبسّم کا چہرہ ہمیشہ مسکراتا ہوا ہوتا تھا۔ شاید جنم لیتے وقت بھی اس کے چہرے پر مسکان رہی ہوگی، اس لئے تبسّم نام رکھا گیا ہوگا۔ اس کا نام تبسّم ہی لکھنے کے لئے کافی تھا مگ

زندگی رُکنے کا نام نہیں

جہانگیر بہت ہی مضبوط دل کا محنتی لڑکا تھا۔ بیوہ ماں نے محنت مزدوری کر کے گریجویشن تک تعلیم دلوائی تھی۔ اسے کسی سرکاری عہدے کا شوق نہ تھا نہ ہی کروڑپتی بننے کا لالچ۔ بس کوئی اچھی سی جاب چاہیے تھی، سرکاری یا پرائیویٹ، جس سے خوداری پہ کوئی آنچ نہ آئے اورزندگی بہتر طریقے سے گزر جائے۔ یہی خواہش اسے شہر لےآئی۔  وہ وادی کے ایک دوردراز علاقے کا رہنے والا تھا۔ ان کے علاقے میں نہ کوئی پرائیویٹ سکول تھا نہ ہی کوئی کارخانہ۔ سرکاری نوکری ملنا مشکل تھا۔ وراثت میں ایک جھونپڑا ملا تھا۔  جہانگیر شہر میں ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری کرنے لگا۔ تنخواہ مناسب تھی۔ وہ شہر کے حالات سے واقف تھا پھر بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے فجر کے وقت گھر سے نکلتا تھا اور اسکول کے کھلنے تک آٹو چلاتا تھا۔ اسکول کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ پھر رات دیر سے آنا اس کا معمول بن گیا۔  جہان

وِتستا کی بیٹی

  وہ گلمرگ کی طرح خوبصورت مگر خوفزدہ اور مایوس تھی۔! اکثر کھوئی کھوئی سی رہتی تھی۔ گوکہ سارہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ سیانی لگتی تھی۔ جب بھی کوئی اُس سے اُس کے گھر کا ایڈرس ، باپ کا نام اور گائوں وغیرہ کا پتہ پوچھتا تھا تو وہ صرف ایک ہی جواب دیتی تھی۔ ’’میں وتستا کی بیٹی ہوں‘‘۔ کشمیر کے ہر ذرے کے ساتھ اُسے بے انتہا اُنس تھا۔ سرسبز درختوں کے کٹائو کا مسئلہ ہو یا جھیل ولر کی خستہ حالی کا سوال، کشمیر کی صنعاکاری سے بیر کا معاملہ ہو یا کشمیری سیبوں کے شہنشاہ عنبری کے زوال کا مسئلہ، یہاں کے روایتی فوک میوزک کے سُکڑتے ہوئے سُروں کا سوال ہو یا بھانڈ پاتھر (بھانڈ ناٹک) کے سسکنے کا غم۔ غرض سارہ بے چاری اکیلی یہ سارے غم اپنے اندر بسائے اپنے بھاشن (لیکچر) سے لوگوں کو ماں کی عظمت کا احساس دلاتی تھی۔ سارہ کا ہر گھائو صندل کی طرح خوشبو بکھیر

افسانچے

لینے کے دینے! ’’ہمیں اللہ نے جتنادیاہے اُسی پر اکتفا کرلیں گے،ہمیں کیا ضرورت ہے شراب ،ڈرگس(Drugs) اور چرس کا کاروبار کرنے کی۔ خدا کا کچھ تو خوف کیجیے۔‘‘ حلیمہ نے اپنے خاوند سجاد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن اُس کے سر پر زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی دھن سوار ہوچکی تھی۔وہ اُس کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ ’’ارے بے وقوف عورت تم کس پر اکتفا کرو گی۔دفتر میں میرے دیگر ساتھیوں کو دیکھو،اُن کے پاس اونچے بنگلے ہیں، روپیہ ہے،گاڑیاں ہیں۔اُن کے بچے آج  بیرونی ممالک میں پڑھ رہے ہیں۔میں نے ایماندار بن کر آج تک کیا حاصل کیا،نہ بنگلہ ہے اور نہ پیسہ،حتیٰ کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کا داخلہ تک کسی اچھے کالج میں نہ کراسکا۔‘‘   حلیمہ کے پاس اب کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا،وہ خاموش ہوگئی۔          سجاد منشیات

۔100 لفظوں کی کہانیاں

بریکنگ نیوز رپورٹر بھاگتا ہوا ایڈیٹر کے کیبن میں داخل ہوا رپورٹر ۔ سر، ایک بریکنگ نیوز ہاتھ لگی ہے ، دو لوگوں کے آئی آیس آئی سے گہرے تعلقات ہیں اور ہمارے ہاتھ اس کے کافی دستاویز لگے ہیں۔ ایڈیٹر:۔  واقعی، یہ بہت بڑی خبر ہے ہمارے چینل کی ٹی آر پی آسمان چھولے گی، یہ بتاؤ وہ کہاں سے ہیں اور انکا نام کیا ہے۔ رپورٹر:۔ یوپی کے ہیں اور انکا نام منوج اور سنتوش ہے۔ ایڈیٹر:۔ (مایوسی بھرے لہجے میں) یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں ، جاؤ اور ٹی آر پی بڑھانے والی خبر لاؤ۔ رپورٹر کیبن سے سر جھکائے نکل گیا۔ قبر وہ اپنے کروڑپتی دوست کی میت میں گیا تھا۔ جس کا اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا۔ جنازہ کی نماز کے بعد جب جنازہ کو قبر کے پاس رکھا گیا تو اس کی نظر بغل میں کھودی گئی ایک اور قبر پر پڑی۔ تھوڑی دیر میں وہ جنازہ بھی آگیا اور دونوں میتوں کی تدفین قریب

غم زندگی

حامد بلند قامت طویل عمر چنار کے سائے تلے مغموم بیٹھا اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔  "زندگی کتنی بے رحم ہے ۔ آج پانچ سال سے کافی کوششوں کے باوجود بھی  میری پروموشن رکی ہوئی ہے ۔ بچے بڑے ہورہے ہیں ۔ اور گھر کے اخراجات بھی اب پورے نہیں ہوپاتے ۔ میں کیا کروں ؟ یا خدا ۔" وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے سگریٹ کی ڈبیا سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور اس کے دھویں سے خود کو راحت پہنچانے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔ وہ کبھی اپنی صلاحیتوں کو کوستا اور کبھی قسمت کو ۔ وہ ابھی اسی سوچ میں گم تھا کہ چار پانچ سال کا ایک لڑکا ہاتھ میں غبارے لئے اسکے سامنے کھڑا ہوا۔ "صاحب ۔ لے لو نا غبارہ "  حامد اسے دیکھتا رہا ۔ میلے ملبوسات، ہاتھ پاؤں گندے، ننگے پیر اور قمیض جسکے اوپر کے بٹن ٹوٹ چکے تھے ۔ حامد اسے دیکھتا رہا اور وہ بچہ غبارے خریدنے کی فرمائش

افسانچے

دوری ڈاکٹر جلیل ملک زادہ خوشی سے ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ آج لندن میں اُسکی تحریر کردہ کتاب ’’بوڑھوں کے مسائل‘‘ کو ایک اعلیٰ لٹریری ایوارڑ سے نوازا گیا تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے اُسے مبارکباد پیش کی۔ کتاب کے پبلیشر نے اُس سے کہا کہ اِس کتاب کی لاکھوں جلدیں فروخت ہوں گی۔ رات کو وہ اپنی بیوی کے ساتھ شراب سے دل بہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ فیس بک پر اپنے چاہنے  والوں کے تاثرات و لوگوں کے لائکس پڑھ کر ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو رہا تھا۔ فیس بک پر سرچ کرتے کرتے اُسکی نظروں میں ایک تصویر آگئی۔۔۔ وہ چونک پڑا۔۔۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا ’’اس بوڑھی ضعیف اور اکیلی بدنصیب عورت کو اپنے عالی شان مکان کے بیڈروم سے کئی دنوں کے بعد مردہ حالت میں نکالا گیا۔ محلے والوں نے چندہ جمع کر کے اسکی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔۔۔اُس کے ہاتھ سے شراب کا جام گر پڑا اور اُس کے حلق سے

فیصلہ

جب اسے پتہ چلا کہ اس کی نسبت بچپن میں ہی حمزہ سے طے ہے تو اس کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین اڑ گیا۔اُسے تو وہ ایک لمحہ برداشت نہیں کرسکتی تھی اور کہاں پوری زندگی گزارنے کا سوال ۔۔۔۔۔نہیںایسا نہیںہو سکتا ۔۔۔مجھے کچھ تو کرنا ہوگا۔۔ہونٹ چباتے وہ مضطرب سی کمرے میں ٹہلنے گلی۔مچھے پاپا سے بات کرنی چاہے۔ وہ کسی بھی صورت  میںمیرے ساتھ زبردستی نہیں کریں گے ۔اس نتیجے پر پہنچ کراس نے وال کلاک کی طرف دیکھا جو شام کے سات بجارہا تھا۔اس وقت مما باورچی خانے میں اور پاپااسٹڈی روم میں تھے۔پاپا سے بات کرنے کا یہ اچھا موقع ہے وہ یہ سوچتے ہوئے اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گئی۔آہستہ دستک دے کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی پاپا کو کسی کتاب کے مطالعے میں منہمک پایا۔انہوں نے سراُٹھا کر حیرانی سے دیکھا۔ دراصل وہ بہت ہی کم ان کے اسٹڈی روم میں آئی تھی سو ان کا حیران ہونا بجا تھا۔ ’’خیریت ہے بی

افسانچے

کیر ئر دلاور خان کے بیٹے نے دسویں جماعت میں تیسری پوزیشن حاصل کی تو علاقے کے لوگوں نے ان کے گھر جاکرانھیںمبارک باد دے دی ۔ محمد اکرم نحوی کی بیٹی مصباح نے ایم۔بی۔بی۔ایس میں داخلہ کی سیٹ نکالی تو سارے علاقے میںخوشی کی لہر دوڑ گئی۔سید محمد افضل کے بیٹے کو درجہ چہارم کی نوکری کا آڈر مل گیا تو انھیںمبارک باددینے کے لئے لوگوںکا تانتابندھ گیا۔ محمد حنیف موچی کے بیٹے نے پانچ سال کی عمرمیںقرآن اپنے سینے میںمحفوظ کر لیاتو لوگوں کی زبان پر صرف یہ ایک بات تھی۔۔۔ ’’اس موچی کو کیا ہوگیا۔ کیا اسے ہمیشہ جوتے ہی پالش کرنے ہیں۔اس نے اپنے بچے کا کیر ئر خراب کر دیا۔‘‘   سرکاری ملازم  وہ سوشل میڈیا پر کوئی ویڈیو،تصویر یا کوئی تحریر شئیرکرتا تھا۔  وہ ڈیڑھ منٹ کی یہ ویڈیو بھی، جس میںدس سال کی معصوم بچی کی عزت تار تار کرنے کے بعدبے دریغ مارا جا

سفیدخرگوش اور کالے دیو

’’جادوئی پُل پر کبھی نہ جانا۔‘‘ ’’لیکن کیوں۔۔۔؟‘‘سفید خرگوش جذباتی لہجہ میں پوچھ بیٹھا۔ ’’اس کیوں کا میں کیا جواب دوں۔‘‘ماں آہ بھرتے ہوئی بول پڑی۔’’جب کچی عمر سے نکلو گے توخود ہی پتہ چلے گا۔‘‘ ماں کی جان سفید خرگوش کی سلامتی میں اٹکی ہوئی تھی۔جادوئی پُل دوپہاڑوں کے درمیان بنایا گیا تھا۔ پل کے نیچے گہری کھائی تھی۔شام ہوتے ہی کھائی سے عجیب وغریب بین کرتی آوازیں آتی تھیں اور ساتھ ہی کالے دیوؤں کی خوفناک چیخیںپُرامن فضا میں ارتعاش پیدا کردیتی تھیں‘ جس کی وجہ سے جادوئی پُل جھولنے لگتا تھا۔یہ آوازیں نہ صرف خرگوشوں کی بستی میں ماتم کا سماں باندھتی تھیں بلکہ سفید خرگوش کی ماں کو بھی اداس کردیتی تھیں۔خرگوشوں کی یہ بستی سرسبز وشاداب وادی میں پھیلی ہوئی تھی۔ وادی کے اطراف واکناف

ادھورا سویٹر

ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اپنی اولاد پر جان نچھاور کرنے والی ماں کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔ میری ماں دنیا کی حسین ترین عورت ہے۔ خوبصورت آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور آنکھوں میں ہزاروں خواب شاید میرے لیے ہی۔ ضروری نہیں کہ ہر خواب پورا ہونے تک انسان کو فرصت ملے۔ کئی خواب پورے ہونے سے پہلے زندگی روٹھ جاتی ہے۔ میری ماں خاموش طبیعت کی مالکن ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی گہری سوچ میں ہو۔ بڑوں کی عزت، چھوٹوں سے پیار کرنے والی عبادت گزار اور سخی، شکر اور صبر کرنے والی، شبنم جیسا ٹھنڈا لہجہ۔ اس کے علاوہ ایک خدمت گزار بہو۔ ایک سگی اور ہمدرد بہن کی طرح خیال رکھتی ہے میرے چہیتے چاچو کا۔  اور میں اپنی ماں کی اکلوتی بیٹی تمنا ہوں۔  ماں کے ساتھ ساتھ گھر میں سب کی چہیتی ہوں۔ میری ہر چھوٹی بڑی خواہش پوری کی جاتی ہے۔ ہر روز گھر میں میری پسند کا کھانا بنتا ہے۔ میری تصویر کچن کے علاوہ گھر کے ہر ک

افراتفری میں پھنسا آدمی

نظرمحمد اور اورچودھری امانت حسین بچپن سے دوست تھے۔دونوں بچپن اور جوانی کی سرحدوں کو پار کرکے اب ایک ایسے لق و دق صحرا میں کھڑے تھے ِ جہاں انسان زیادہ تر تنہا رہ جاتا ہے اور دوسرے کے سہارے کا متمنی ہوتا ہے۔دونوں نے اب ساٹھ کی سرحد عبور کرلی تھی مگر بچپن، جو انسان کی زندگی کا وہ اسٹیج ہوتا ہے جسے بے فکری، مستانگی اور معصومیت سے تعبیر کیا جاتا ہے م کی یادوں کے نقوش اب تک انکے ذہنوں میں محفوظ تھے۔ دونوں کا تعلیمی سفر تو ایک ساتھ شروع ہوا تھا مگر دسویں کے بعد امانت حسین نے تعلیم ترک کردی اور تجارت کے پیشے سے منسلک ہوگئے جبکہ نظر محمد نے اپنے والدین کے اصرار پر ایک دینی مدرسے میں داخلہ لیا ۔جہاں انھوں نے تقریبا"  چار سال کے عرصے میں قرآن حکیم،مشکوٰۃ شریف،صحیح مسلم، بخاری شریف، ترمزی شریف اور ابن ماجہ جیسی مستند حدیث کی کتابوں کے علاوہ اسلامی تہذیب اور شرعی مسائل کے بارے میں کا

رائی کا پربت

کار کی اگلی سیٹ کا دروازہ کھول کراندر بیٹھنے سے پہلے پری وش ٹھٹک کر رہ گئی۔ اس کا محیر رہ جانا بجا تھا ۔۔۔۔۔ نہ تو اس نے اپنے جوڑے میںپھول لگا رکھے تھے اور نہ اپنے پیرہن کو عطر میں بسایا ہواتھا پر جانے کہاں سے گلاب چمپا چمیلی کی خوشبو سے معطر ایک زوردارہواکاجھونکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظرپچھلی سیٹ پر گئی اس غیر مترقب خوشبو کا ماخذدکھائی دے گیا۔۔۔۔۔۔۔پچھلی سیٹ پربے شمار پھول بکھرے پڑے تھے!  بغور جائزہ لینے پر ایسا لگا مانو ماضی قریب میںوہاں براجمان کسی ہستی کے ادائے ناز سے اپنے سر کو جھٹکا دینے کے نتیجے میں جوڑے کے کچھ پھول اپنا مستقر چھوڑ کر نیچے آ گرے ہوںیا کسی کو ازراہِ محبت پیش کیا گیا گلدستہ مسل گیا ہو۔۔۔۔۔یا پھر ۔۔۔۔۔۔ پری وش کے دماغ کے خیالی گھوڑے سرپٹ دوڑ رہے تھے اورتصور میںپردہ سیمیں کی مانند ایک کے بعد ایک منظر بدل رہے تھے۔  اس کا شوہرکاشف ک

ذرا سی ہمدردی

جوں ہی اس نے پٹرول پمپ کے قریب اپنی کار کھڑی کر دی تو اس سے ایک آواز سنائی دی۔ ’’صاحب !یہ کپڑا لے لیجئے نا۔خالص کارٹن کا ہے۔‘‘ خیامؔصاحب نے دائیں کی جانب مڑ کر دیکھا۔ایک معصوم سا دس بارہ برس کا لڑکاالتجائی نظروں سے دیکھے جا رہا تھا۔گول گول چہرہ ‘رنگ سانولا تھا۔ اس لڑکے کو دیکھ کر کسی بھی کٹھور انسان کے دل میںپیار اُمڈ آتا۔ اس کے ہاتھ میںکپڑا دیکھ کر خیام صاحب سوچنے لگے۔ ’’اس معصوم کے ہاتھ میںکتابیں ہونی چاہئے تھیں۔‘‘ اتنے میںپٹرول پمپ پرتعینات ملازم آکر بولا۔ ’’صاحب کتنے کا پٹرول ڈالنا ہے۔‘‘ ’’ایک ہزار کا ڈال دیجئے۔‘‘خیام ؔصاحب نے روپے دیتے ہوئے کہا۔ یہ دیکھ کر اس لڑکے نے پھر آواز دی۔ ’’صاحب یہ کپڑا صرف بیس روپے کا ہے لے لیجئے نا۔‘&

مریم مائی

 نام تواُسکامریم مائی تھا۔مگرفطرت سے وہ کسی ڈائن سے کم نہ تھی۔جب دیکھو اپنی شعلہ بار دیدوں سے آتے جاتے لوگوں کو تکا کرتی تھی۔ ماں مریم کی طرح اُسکے چہرے سے نور نہیں بلکہ وحشت برستی تھی ۔سویرے سویرے جیسے وہ گھر سے دھتورا کھا کے نکلتی تھی کہ دن بھر اُسکے منہ سے کڑوے کسیلے بول ہی نکلتے تھے۔میں نے بے شمار عورتیں دیکھی ہیں مگرمریم مائی جیسی منہ پھٹ،بد مزاج اور جھگڑالو قسم کی عورتوں سے میرا بہت کم پالا پڑا ہے۔وہ بات بات پر کسی بم کی طرح پھٹ پڑتی تھی۔زرا سی بات اُس سے اُٹھائی نہ جاتی تھی۔ دراصل اُس میں تحمل کا یارا تھا ہی نہیں ۔جب دیکھوجل ککڑ بنی جلی بھنی سی نظرآتی تھی۔کوئی زراسا بھی مذاق کرتا تو وہ آگ کے شعلے کی طرح لپک اُٹھتی تھی۔ اُس سے ہنسی ٹھٹھول کرنا بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔اُسکے چڑ چڑے پن کی وجہ سے لوگ اُس سے دور دور ہی رہتےتھے۔اُسکے منہ پر کچھ بول نہیں پاتے پر

یہ قربتیں یہ دُوریاں!

پروفیسرمجیب الحسن ایک بہت بڑا ادیب،نقاد،ڈرامہ نویس اورکئی ضخیم کتابوں کامصنف تھا۔وہ مقامی یونیورسٹی میں پروفیسرتھا۔اندرون ملک اوربیرون ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں کاوزیٹنگ پروفیسرتھا۔ اپنی شخصیت قابلیت اوراپنی تقاریراورمقالات کی وجہ سے ہرجگہ مشہور تھا۔وہ جہاں بھی جاتاٹیلی وژن ، ریڈیو اور اخبار و الے ان کاانٹرویو لینے کے لیے بے تاب رہتے اور ہرکوئی اس معاملہ میں پہل کرناچاہتاتھا۔ ان سے انٹرویولینایہ لوگ اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔ان کاانٹرویو سننے پڑھنے سے تعلق رکھتاتھا۔وہ ہرسوال کاجواب بڑی  دلچسپی اور ہنسی خوشی دیتے لیکن جب کوئی ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں سوال کرتا تو وہ  یہ کہہ کرٹال دیتے تھے کہ یہ ان کامعاملہ ہے اوراگرکوئی زیادہ ہی اصرارکرتاتووہ معذرت چاہتے ہوئے کہتے کہ آپ مجبورنہ کریں ورنہ مجھے بہت تکلیف ہوگی۔ آج انکی ایک اورکتاب،جو انکی زندگی سے تعلق رکھتی تھی،کی رسم

اُستاد

گرمیوں کی گرم دھوپ میں جہاں انسان تو انسان جانور اور حشرات الارض بھی چھاؤں کی تلاش میں سرگرداں تھے، پھٹے کپڑوں میں میلے کچلے بدن کے ساتھ ہاتھوں میں ایک بڑی کلہاڑی لیے گاؤں کا وہ لڑکا لکڑیوں کی چیرپھاڑ میں مشغول تھا۔۔ مجھے آتے دیکھ وہ مجھے نظرانداز کرنے کی ہمت جٹا رہا تھا۔۔۔ لیکن میں آج اسے نظر انداز کرنے کا حوصلہ نہیں جٹا پایا۔ میں نے اس سے پوچھ ہی لیا ''بیٹا کیاکررہے ہو۔؟'' بڑے اطمینان سے اس نے جواب دیا  '' کچھ خاص نہیں ماسٹر جی انکل جی کی لکڑیاں پھاڑ رہا ہوں''  ''آپ کی عمر کافی چھوٹی لگ رہی ہے، پڑھائی کیوں نہیں کرتے ہیں.؟ '' ''تعلیم حاصل کرکے کیا کروں گا؟  تعلیم سے مجھے نفرت ہے'' اس لڑکے سے مجھے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی پھر بھی مجھے اس میں دلچسپی لگی میں نے اس سے اس کے گھر پریوار کے م

ملٹی مِلیَنر

  حسن پور کا خوبصورت گائوں حیات ندی کے دونوں کناروں پر آباد تھا۔ صاف و شفاف پانی کی ندی جو  اوپر  پہاڑی ڈھلوان سے بل کھاتی اور اتراتی ہوئی اُتر آتی تھی،  جیسے کوئی خوبصورت باقرہ کمر لچکاتی اور پائل کی چھن چھن سے مدھر ساز بجاتی ہمارے کانوں میں رس گھولتی آرہی تھی۔  اور ہمارے گائوں کی ایک ایک کیاری کو سیراب کرتی اورہماری پیاس بجھاتی ایک شانِ اداکے ساتھ آگے بڑھ جاتی تھی۔ حسن پور انہی پہاڑی ڈھلانوں اور حیات ندی کا ایک حصہ تھا، جو قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ گائوں تک آنے جانے کا ایک لمبا اور اوبڑ کھابڑ پہاڑی راستہ تھا جو کچھ اور اوپر جاکر ختم ہوجاتا تھا۔ پھر اوپر تاحد نگاہ سر سبز میدان تھے۔دراز پہاڑی سلسلہ تھا اور جنگل ہی جنگل تھے۔ اس خوبصورت گائوں کاایک اکلوتا مالک بھی تھا۔ چودھری حیات خان ۔۔ ۔  یہاں کی ساری چراگاہیں ، یہ مال مویشی، یہ جنگل، یہ پہاڑ اور ہم