ٹائی ناٹ کا ہنگامہ

ٹائی کاknot بنانا ویسے تو اتنا مشکل کام نہیں ہے جتنا کہ ٹائی لگانے والے عقلمند کہتے ہیں لیکن یہ معاملہ اُس وقت مشکل بن جاتا ہے جب کوئی شریف بندہ ٹائی لگانے کا عادی نہ ہو اور اچانک اُسے ٹائی میں گا نٹھ ڈالنے کا حکم دیا جائے ‘یہ وہی بات ہوئی جیسے کہ ڈرائیونگ سے نا واقف کسی سواری کے ہاتھ میں اچانک اسٹیرنگ وہیل تھما دیا جائے اور گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی اُس کی سوچ کسی مافوق العالم میں پہنچ جائے وہ اُس کا پریشاں دماغ ہی جانے اور اس قسم کے جنگی ماحول کا سامنا راقم کو اس وقت ہوا جب ایک دن میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر شادی کی دعوت پر پہنچا تو وہ لوگ مجھے سوٹ بوٹ میں دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور میری بڑی آؤ بھگت کرنے لگے ۔ میں ان کی خاطر تواضع دیکھ کر تھوڑا سا حیران ہوا کہ یہاں تو دوسرے لوگ بھی اچھے اچھے لباس میں ملبوس ہیں توپھر سب لوگ میرے سوٹ بوٹ کو ہی کیوں گھور رہے ہیں لیکن یہ راز اُس وقت فاش

یار زندہ صحبت باقی

 ــ’’ بشیر احمدکی جان حاضر ہے دوست ۔میں ہوںنا تیرے ساتھ ۔ تم خود تیر کے جائو گے۔یہ میرا وعدہ ہے۔ پہلے میں پانی میں اتر جائوں گا۔ تم میرا ہاتھ پکڑ کر پانی میں اتر جانا۔ پھر میں تمہیں پار لے کر جائوں گا۔ یہ میچ جیتنا ہے ہم دونوں کو ۔۔۔ بس ‘‘ بشیر احمد کے فلمی انداز پر علی محمد نے زوردار قہقہ لگایااور دونوں دوست ایک دوسرے کے گلے مل گئے۔ کھیتوں میں چاروں طرف سرسوں کے پھول کھلے تھے۔ بادام ،خوبانی، آڑو  اور سیبوں کے پیڑوں پر شگوفے اپنے جوبن پر تھے۔ یہ موسم بہار کا سہانا دن تھا۔  دھوپ میںحرارت بڑھ رہی تھی ۔ کئی گائوں کے اسکول ایکس کرشن کے لئے نالہ لدر کے کنارے آئے ہوئے تھے۔ سماواروں میں زعفرانی قہوہ ابل رہا تھا۔ آس پاس خوشبوپھیل رہی تھی۔ چندبچے لدر کے پانی سے ہاتھ منہ دھو نے کے بعد قہوہ پی رہے تھے۔ اساتذہ نگرانی کر رہے تھے کوئی بچہ پانی میں نہ اتر

کیسی یہ سودا گری!

ـآسمان پر گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں۔بلند و بالا کہسار اُن کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔پہاڑوں سے رواں ہونے والی چھوٹی چھوٹی تیز رفتار ندیاں شورِ محشر بپا کررہی ہیں،جیسے فریاد کررہی ہو کہ ہائے یہ پہاڑ گھنے بادلوں کی لپیٹ میں آگئے،کوئی مسیحا انہیں بچانے آجاؤ!۔نیچے زمین پر ایک پُر اسرار شخص ،جس کی آنکھیں سرخ ہیں اور جس کے چہرے سے گماں ہوتا ہے کہ یہ کوئی لٹیرا ہے،ایک جال بچھا رہا ہے۔معصوم جانوروں کو لبھانے کے لیے اُس نے جال کے اندر چند میٹھی چیزیں بھی رکھ دیں۔دور سے ایک ننھا سا جانور اس جال کو دیکھتا ہے،اُسے ابھی اتنی سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ جال کیا ہوتا ہے اور قید ہونا کیا ہوتا ہے۔وہ جال کے اندر رکھی ہوئی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور اُن کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔اُس سے تھوڑی دور کھڑا اُسی کی نسل کا ایک بڑا جانور اُسے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اُس کی بات پر کان نہیں دھرتا اور جال

بکھرے رنگ

سیما گھر میں اکیلی تھی۔ گھر کے سبھی لوگ باہر گئے تھے ۔ رات کا وقت تھا ۔ موسم بہت خراب تھا۔ اندھیری رات میں بارش بہت تیزی سے ہو رہی تھی۔ سیما اپنی پڑھائی میں مصروف تھی۔ بادل زور سے گرجا اور لائٹ چلی گئی۔ ابھی وہ کتابیں کو سمیٹ ہی رہی تھی کہ اچانک گھر کے پیٰچھے والی کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ سیما ڈر گئی۔ لیکن اس نے ہمت کی اور ڈرتے ڈرتے اُس کمرے کی طرف دھیرے دھیرے بڑھی۔ موم بتی کی ہلکی روشنی میں اسے زیادہ کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن وہ ہاتھ میں موم بتی لئے گھبرائی ہوئی کمرے کے کبھی اس طرف جاتی اور کبھی اس طرف۔ تبھی اُسے کوئی آہٹ سنائی دی۔ اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ کمرے میں کوئی ہے کہ اچانک اسے ایک کالا سایہ دکھائی دیا ، اس سائے نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور چہرے پر کالا ماسک تھا۔خوف و دہشت سے سیما کے پسینے چھوٹنے لگے ۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ، ک، ک ، کون ہے وہاں؟ س

تم میرے پاس رہو

پھولوں کی پنکھڑیوں پر اوس کے قطرے موجود تھے۔ اُجالا داغ داغ تھا! آکاش کو جیسے سیاہ پینٹ سے رنگا گیا تھا! ’’یہ کیا حادثہ ہوا!؟‘‘ میں چونک اُٹھا۔ میں زور سے چلایا۔ میری آواز سن کر اماں اور ابو دونوں کچن سے باہر برآمدے میں آگئے۔ ’’کیا۔۔۔ کیا ہوا بیٹے!؟‘‘ امی نے تعجب سے پوچھا۔ ’’امی جان۔۔۔ دیکھ۔۔۔ دیکھ ذرا۔۔۔ اُوپر دیکھ‘‘ میں نے سہمی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’کیا ۔۔۔ کیا دیکھوں۔۔۔ کہاں دیکھوں؟‘‘ امی جان بولی۔ ’’یہ ۔۔۔ یہ دیکھ‘‘۔ میں نے گملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اُف عیسیٰ! تم بھی صبح سویرے کیا اناپ شناپ بولنے لگے ہو؟‘‘۔ ابو غصے میں بولا۔ ’’ذرا دیکھ۔۔۔ اوپر آسمان کی طرف دیکھ۔۔۔ دیکھ آکاش پر کیا ہورہا

خالی ڈبہ

اس کا دل پڑھائی میں بالکل نہیں لگ رہا تھا- وہ کبھی کوئی کتاب کھولتا، کبھی کوئی کاپی تو کبھی کچھ اور کرتا، مگر لاکھ کوشش کرنے کے باوجود وہ خود کو پڑھائی کے لئے تیار نہیں کر پایا -  ایسا آج پہلی بار نہیں ہوا تھا بلكے پچھلے کئی دنوں سے ایسا ہی ہو رہا تھا- آخر کار اپنی اور کتاب کی جنگ میں وہ ہار گیا - انہیں ایک طرف کنارے رکھ کر وہ باہر نکل پڑا، جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا امی کی آواز آئی،  بیٹا، کہاں جا رہا ہے رات ہو گئی ہے؟   کہیں نہیں امی، بس پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا ہے تھوڑا سا باہر ٹہل کر آتا ہوں ، اس نے آہستہ سے کہا  ٹھیک ہے بیٹا جا جلدی آ جانا وہ ٹہلتا ہوا گھر کے قریب والی سڑک پر آیا، جہاں دونوں کناروں پر دوکانیں ہی دکانیں تھی - رات ہونے کی وجہ سے ساری دکانیں بند ہو گئی تھیں- ہر طرف کوڑا کرکٹ پڑا تھا، دکانوں کے سامنے رکھے ڈسٹ بن نے گوی

حقوق

 یاور نسیم صاحب  ۔۔  ’’ آپ نے حقوق نسواں کے لئے جتنا کام ہماری سوسائٹی میں کیا ہے اتنا شائد ہی اور کوئی کرسکے ‘‘ مسز ناظمہ نے یاور نسیم کے کام کی تعریف دل کی گہرائیوں سے کرتے ہوئے بر ملا اظہار کیا ۔  دوسری طرف ان کی شہرت اور کام سے متاثر ہوکر ناظمہ جو خود بھی حقوق نسواں کے لئے ایک تنظیم چلاتی تھی، نے یاور نسیم کو شادی کا پیغام دے دیا اور مختصر وقت میں یہ شادی ہو گئی ۔ دونوں میاں بیوی مل کر حقوق نسواں کیلئے جلسے جلوس کرتے۔ اس طرح دونوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا ۔   پچھلے چند سالوں سے یاور نسیم نے اپنی سرگرمیاں بہت کم کردی تھیں اور اب اُن کی سرگرمیاں بالکل نہ کے برابر رہ گئی تھیں ۔ اس لئے خواتین کی شہری و بلدیاتی انجمنوں، جو ہمیشہ اُن سے مدد کی طالب رہتی تھیں، کو اُن کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اُن کے گھر رُخ کرنا پڑتا تھا

عبدالرحمٰن مخلصؔ۔۔۔ایک دیدہ ور ادیب

علم و ادب کی دنیا سے ناآشنا‘اردو زبان کی چاشنی سے محروم ‘قلم اور قلمکار کے مقامِ عظیم سے کبھی قدرے بے پرواہ رہنے والا یہ ناچیز آج اگر کسی قطار وشمار میں ہے تو محض اللہ تعلی کا فضل و کرم ہے کہ مجھے ایک مختصر مدت تک مرحوم عبدالرحمن مخلصؔ کی صحبت میسر رہی۔ جس کی حکیمانہ رہبری کے طفیل میں آج اپنے قلبی احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانے پر قادر ہوں۔ اللہ تعلی انہیں غرقِ رحمت کرے ۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ اُن کی وفات(7  مارچ  2014؁)کے بالکل ایک روز بعد ’’عبدالرحمن مخلصؔ۔۔۔چمن میں دیدہ ور نہ رہے‘‘ کے زیرِ عنوان راقم الحروف نے جو مضمون تحریر کیا تھا اس کی ابتداء سر محمد اقبال کے اس شعر سے کی تھی۔  ؎ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا میں آج بھی برملا اظہار کرتا ہوں کہ یہ شعر مخلصؔ مرحوم

طارق شبنم کا افسانہ’’ٹھنڈا جہنم‘‘

اخبارات میں شائع ہونے والے افسانوں کو عام طور پر عامیانہ اور غیر معیاری تخلیقات سمجھنے کا رجحان ادیبوں میںعام ہے لیکن کبھی کبھار ان نظرانداز کئے جانے والے افسانوں میں کوئی ایسا افسانہ بھی ہوتا ہے جو اپنی تاثیر، آفافیت اور مقصدیت کے اعتبار سے خصوصی توجہ اور پذیرائی کا مستحق سمجھا جاسکتا ہے۔ طارق شبنم کا افسانہ ’’ٹھنڈا جہنم‘‘ بھی ایک ایسا ہی خاص اور قابلِ توجہ افسانہ ہے۔ یہ افسانہ شائد پہلے ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ میں چھپ چکا تھا، بہرحال اب ایک بار پھر قند مکرر کے طور پر اسی روزنامے کی مورخہ 3تاریخ مارچ 2019والی اشاعت میں شائع ہوکر سامنے آگیا ہے۔ اس افسانے کی خوبیوں اور تاثیر کی داد نہ دینا میرے نزدیک بخل اور مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگا۔ سو آیئے اس تخلیق کے کچھ محاسن پر بات ہوجائے۔ اس افسانے کا نام بے حد خوب صورت پُرمغز اور مناسب ہے۔ جہنم تو

ٹھنڈا جہنم

وشال کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک سنسان جگہ پر برف میں دھنسا ہوا پایا۔شدید ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ پیر شل ہو چکے تھے،جسم کا انگ انگ ایسے درد کی شدت میں ڈوبا تھاجیسے اس کا سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو۔اس نے غیر شعوری طور جسم کو حرکت دی۔ ’’ ہائے میرا گن۔۔۔۔۔۔‘‘ جسم پر بندھے پاوچ کی طرف دھیان جاتے ہی اس کے ُمنہ سے بے ساختہ نکلا۔ پریشان ہو کر جھنجھلاہٹ میں اِدھر اُدھر دیکھنے کے بعد اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن سخت نقا ہت اور کمزوری کی وجہ سے اٹھ نہ سکا۔۔۔۔۔۔کچھ لمحوںکے بعد اس کے اوسان بحال ہونے لگے، برف باری اگر چہ اب تھم چکی تھی اور سورج کی روشنی میں بھی قدرے اضافہ ہو چکا تھا لیکن سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ۔چاروں اور ہیبت ناک خاموشی چھائی ہوئی تھی ،دور دور تک کسی آدم زاد کا شائیبہ تک نہیں ملتا تھا ۔ارد گرد کا جائیزہ لینے کے بعد اپنے آپ کو موت کے من

دردِ دل کے واسطے

فرشتہ کو بہت پہلے بچپن میں رشتوں کی چاہت، محبت، الفت، رفاقت اور ہمدردی سمجھ بھی آئی تھی اور نظر بھی آئی تھی جب اس نے اپنے ماں باپ کو بیگانہ بنتے دیکھا۔ اس کے ماں باپ جاہل، غیر ذمہ دار، نا سمجھ اور چڑچڑے تھے۔ ایک دوسرے کے دل میں جگہ نہ بنا پائے تو الگ الگ ہوئے۔ انہیں فرشتہ کی ولادت سے کوئی فرق نہ پڑا۔معصوم فرشتہ بے رحم حالات کا شکار ہو گئی۔ یہ فرشتہ کی خوش نصیبی تھی کہ خالہ نے اسے گود لے کر رشتوں کے احساس اور جذبے کو برقرار رکھا۔ اسے فرشتہ شروع سے ہی بے حد عزیز تھی۔ خالہ بیوہ اوربے اولاد تھی لیکن آسودہ حال اور دل کی وسیع خاتون تھی۔ خالہ بھرپور توجہ اور محبت سے فرشتہ کی پرورش کے ساتھ ساتھ اس کے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرتی رہی۔فرشتہ ذہین اور تابعدار بچی تھی۔ ذہین بچوں کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ لہٰذا فرشتہ کی تعلیمی کارکردگی قابل تعریف تھی۔ اس نے امتیازی نمبر حاصل کرکے گور

بے بسی۔۔۔ میری ذات

’’آج تیس سال ہو گئے ہمیں اس گائوں میں رہتے ہوئے لیکن آج ہوائیں کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہیں‘‘محمد زماں کھڑکی پر بیٹھا سوچ رہا تھا۔کچھ دیر گزر جانے کے بعد محمد زماں تیار ہوا اور اسکول کے لئے چل دیا جہاں وہ بحیثت اُستاد کام کرتا تھا لیکن آج مزاج میں کچھ کھٹاس تھی،کچھ پریشان سادکھ رہا تھا۔ ’’محمد زماں آج کچھ کھوئے کھوئے سے لگ رہے ہو‘‘۔دوسرے اُستاد نے پوچھا ’’کچھ نہیں ‘‘۔محمد زماں نے جواب دیا۔ لیکن پورا دن محمد زماں نے الجھن میں گزارا۔شام کو جب گھر لوٹا تو بیوی نے سوال کیا’’آپ کچھ پریشان نظر آ رہے ہیں، کیا بات ہے؟‘‘لیکن محمد زماں اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف رہا مگر چہرے پر وہ چمک نہیں تھی جو روز ہوتی تھی۔بیوی نے پھر سے سوال کیا ،محمد زماں نے سرد آہ بھری اور جواب دیا&rsqu

پردیسی

’’ تلہا ۔۔۔۔۔۔ کیانظارے دیکھ رہے ہو؟‘‘ ’’  نظارے نہیں سر ۔۔۔۔۔۔لڑائی دیکھ رہا ہوں ‘‘ ۔ ’’  یہ لڑائی تو روز کی بات ہے ، اس سیارے کی یہی ایک عجیب مخلوق ہے جو بہت ذہین بھی ہے لیکن آپس میںنہ صرف بہت زیادہ لڑتی ہے بلکہ مرتی اور مارتی بھی ہے۔جب کہ باقی سارے جاندار پر سکون زندگی گزار رہے ہیں ۔اینی وے تم اپنے تمبو کی نگرانی ٹھیک سے کرائو،مجھے بہت کام کرنا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘۔ مسٹر ڈچ ،جسے خون ریز لڑائیوں سے گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی ،نے تلہا کو ہدایات دیں اور کچھ دیر تک گہرائی سے ارد گرد کا جائیزہ لینے کے بعد خیمے میں اپنی نشت پر بیٹھ کر کام میں منہمک ہو گیا ۔ ’’آخر یہ معمہ کیا ہے ؟جسے میں اتنے دنوں سے سمجھ نہیں پا رہا ہوں‘‘۔ کچھ دیر تک سامنے پڑے کاغذات کے ساتھ اُلجھے رہنے کے بعد

شناخت

دِن کا اُجالا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا اور سلیمان اپنے احساسات کی لاش کو کندھوں پر اُٹھائے خراماں خراماں جارہا تھا! بعض اوقات وہ لاش کو کندھوں سے اُتار کر اُسے زمین پہ رکھ کر ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے نہ جانے کیا کچھ سوچتا تھا۔ وہ پھر لاش کو اپنے کندھوں پر لاد دیتا اور دھیرے دھیرے آگے قدم بڑھاتا تھا۔ شائد سلیمان کی منزل وہ بوڑھا چنار تھا جو اب اپنی بے بسی کا رونا رورہا تھا۔ تب ہی اُس نے اپنے احساسات کی لاش کو اُس بوڑھے چنار کے نیچے زمین پر رکھا۔۔۔! شام ہوچکی تھی۔ سورج اپنی سنہری چادر لہلاتے سرسبز کھیتوں پر سے سمیٹنے لگا تھا۔ سلیمان لاش کے سامنے آنسوں بہانے لگا اور اُس سے یوں مخاطب ہوا۔ ’’اے ظالم انسان! طاقت کے نشے میں تمہیں کچھ بھی نہیں دکھائی دیا۔ کتنے آشیانے تو نے جلا کر راکھ کردیئے؟ کتنے گلستان اُجاڑ دیئے؟ کتنے سپنوں کے محل تو

کملا کی دکان

ہمارے محلے میں ایک کرانے کی دکان تھی جسے سب"کملا کی دکان"کہتے تھے۔رامو کاکا اور کملا کاکی اسے چلاتے تھے۔ جہاں پر بچوں کے کھانے پینے کی ہر چیز ملا کرتی تھی، چاہے وہ کھٹی میٹھی گولیاں، انگلی والا بسکٹ،بیرکٹ(بورکٹ)، پان بہار کی گولیاں، راج ملائی چوکلیٹ یا ہم سب کا فیورٹ پنگر وغیرہ ہو، ہرچیز ملا کرتی تھی۔ اتنی چیزیں محلے کی کسی دوسری دکان میں نہیں ملتی تھیں۔ ہم اس وقت دوسری یا تیسری کلاس میں ہونگے، ہمارا روزانہ اس دکان کے کئی لگاتے۔ اکثر ہم جھنڈ بناکر جاتے اور کچھ بچے پیسے دے دیتے اور کچھ نہیں دیتے، لیکن چیزیں سب بچے لیتے کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ کاکا اور کاکی کو یاد ہی نہیں رہتا تھا کس نے پیسے دئیے اور کس نے نہیں، اس لئے وہ سب کو دے دیتے تھے۔ ہمیں لگتا تھا دونوں بڈھے (بوڑھے) ہوگئے ہیں اور انکی یادداشت جواب دے گئی ہے۔ رات میں ہمارا معمول تھا ہم کاکی کی دکان بند ہونے کے بعد وہیں پر

آب زم زم

بڈھا وزیر پلنگ پر سونے کے لئے جیسے ہی جھکا، دوسرے کمرے سے بچوں کی لاڈلی سی پر جوش باتوںکی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ یکدم کھڑا ہوگیا ۔ اس کو معلوم تھا کہ اس وقت فون کرنے والا خالد ہی ہے۔ خالد اس کا سب سے چھوٹا لڑکا جو سات سال پہلے روزگار کی خاطر سعودی عرب گیا تھا۔ اب کچھ ہی دنوں میں واپس آنے والا ہے۔ یہ فون یقینا گھر کے تمام لوگوں کی خواہش پر ان کی من پسند چیزیں لانے کے لئے کیا ہے۔ بڈھا اس فون کا انتظار پچھلے کئی سالوں سے کر رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ لڑکھڑاتا ہوا دوسرے کمرے کے دروازے کی ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اندر سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے نام گنا رہے تھے۔ وزیر کو معلوم تھا کہ آخر میں ہی سہی مگر اس کو ضرور بلایا جائے گا۔ اس لئے وہ وہیں دروازے کے ساتھ بت کی مانند کھڑا بلاوے کا انتظار کرنے لگا۔ وقت گزرتا گیا مگر ان کی من پسند چیزوں کی فہرست ختم نہ ہوئی۔ وہ کھڑے کھڑے تھک چکا تھا ۔اس

معرکہ

دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔ سیاہ مچھلی سفید مچھلی کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔ اور لال مچھلی تیز تیز اچھلتی ہوئی، کچھ تلاشتی۔۔۔۔ دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔ دوسرے علاقوں میں بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی کی روانی جاری رہتی ہے۔ د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہے سفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چراتی ہے۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں  یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔ تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمو

۔100لفظوں کی کہانیاں

جن لوک پال کافی عرصہ بعد ستیش کو سرکاری ہسپتال میں دیکھ کر مجھے سات سال پرانی اس سے ملاقات یاد آگئی۔ وہ اس روز ’میں انّا ہوں‘ لکھی ترچھی ٹوپی پہنے ہوئے چلا آرہا تھا۔ میرے پوچھنے پر  گٹکا تھوک کر کہنے لگا، ”لوک پال کے لیے آندولن میں گیا تھا۔“ میں نے کہا، ”واہ!! بلیک میں ملنے والا گٹکا کھا کر کرپشن کے خلاف لڑائی! پتہ ہے نا؟؟؟ پابندی کے بعد بغیر رشوت خوری کے گٹکا نہیں بکتا۔“  وہ مسکرایا اور چل دیا۔ میں نے آج بھی پوچھا، ”ادھر کہاں؟ کیا ہوا تمھیں۔“ وہ بڑی مشکل سے بولا، ”منہ کا کینسر!“     لیڈیز ڈاکٹر ”بیٹا۔! بہو کی زچگی قریب ہے۔ کیا کوئی مسلم لیڈیز ڈاکٹر نہیں اس نئے شہر میں؟؟؟“ حاجی صاحب نے فکرانگیز سوال کیا۔ شہزاد، ”ابو رہنے دیں، جہاں سے علاج

افسانچے

 اصلیت وہ دفتر سے آیا۔چائے پی اور سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔لیپ ٹاپ پہ انٹیرنیٹ آن کیا اور چیٹنگ شروع کی۔ایک لڑکی کو بہن بنایا تھا۔وہ کسی پریشانی کا اظہار کرتی تو یہ اس سے بھی زیادہ دکھی ہوجاتا۔آج بھی وہ لڑکی وہاں سے بوائے فرینڈ کا تیکھا رویہ بیان کرکے رو رہی تھی تو یہ بھی رونے لگا۔اور لکھنے لگا"میری قسم ہے اگر روئی تو ۔گویا میری لاش پہ روئو گی۔میری قسم ہے آنسوں پوچھ لو۔آپ کا بھائی ابھی زندہ ہے۔میں سب ٹھیک کروں گا۔۔“وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔ ایک اور عورت آن لائن تھی۔وہ  پیشے سے مُصَوِر تھی اور طلاق یافتہ۔ایک بار اِس نے اُسے پرپوز کیا تھا تو اس نے کہا تھا۔ میں تمہاری ماں کی طرح ہوں۔مجھے مام کے نام سے بُلاو۔تو دل پہ پتھر رکھ کے یہ اسے مما بُلانے لگا۔اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ اسے سردرد ہے ۔تو یہ بہت پریشان ہُوا اور لکھنے لگا”آپ کو میری قسم پہلے اٹ

افسانچے

بلا عنوان-1 اسے شہر میں آئے ابھی ایک ماہ ہواتھا۔وہ سردیاں کاٹنے یہاں آئے تھے۔ اس کیساتھ اس کی گھر والی اوراس کی اپنی ایک بچی تھے ۔  بچی کے جی کلاس میں پڑھتی تھی۔ وہ دن میں اسی بچی کو پڑھاتا،تھوڑی دیر تفریح کرتا پھر اخبار پڑھتا یا نیٹ چلاتا۔۔۔۔ آج جمعہ کا دن تھا۔۔ بچی بولی پاپا آج میں پڑھائی نہیں کروں گی۔۔ اس نے پیار بھرے لہجے میں بچی سے پوچھا کیوں بیٹی تو بچی بڑی معصومیت سے کہنے لگی۔ آج جمعہ کا دن ہے آج ہڑتال ہے تومیںآپ کے پاس پڑھنے کیسے آوں گی۔۔؟ بلاعنوان-2 جب تک ان سب کو آپس میں نہ لڑایا جائے بات نہیں بنے گی۔۔ '' آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو نہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے مُڑ کر ایک بار دیکھ لیا۔ایک بارعب شخص بڑے تاؤ سے چند لوگوں کو ہدایت دے رہے تھے۔۔۔ یہ کل پانچ آدمی تھے جن میں دو لوگ بہت شریف النفس بھی لگ تھے۔۔    یہ اس قصبے کے ای

تازہ ترین