کشکول

’’اوڈیڈی !آپ ہمیں روزانہ تنگ کرتے ہیں اور چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ہم فلم دیکھ کر ابھی سو گئے ہیں۔ہماری نیند اُچٹ جائے گی۔صبح ملیں گے‘‘گڈ نایٔٹ کہہ کر انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔اپنے لاڑلوں کی طرف سے دروازہ بند کرنے کے بعد سکندر صاحب کو کرارا جواب مل گیا۔اُس نے دوسرے کمرے میں سوئی اپنی شریک حیات کے پہلو میں جانے کی خواہش کی تاکہ اُس کے ساتھ یہ روگ بانٹنے کی کوشش کرے لیکن بیوی نے دُھتکار کر کہا۔ ’’تمہیں راتوں کو جاگنے کی لت پڑ گئی ہے، میری نیند خراب مت کرو اور اپنے کمرے میں جا کر سو جا۔‘‘ وہ بے نیل و مرام اپنے کمرے میں چلا آیا۔اگر چہ یہ اُس کے لئےکوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ یہ اس کے لئے روز کا معمول تھا،تا ہم کچھ عرصہ سے اس روکھے اور تیکھے بر تاؤ میں شِدت آگیٔ تھی۔وہ بیگا نگی محسوس کر رہا تھااور اپنی سُدھ بُدھ کھو چکا تھا۔وہ بستر

دردِ وجود

  ویلفیئر ٹرسٹ کی سالانہ ہونے والی آخری تقریب کی تیاریاں بڑے ہی زور و شور سے چل رہی ہیں۔آج کی مجلس بھی ہمیشہ کی طرح شہر کے ایک ہوٹل میں ہی منعقد ہونے جا رہی ہے۔ٹرسٹ کے اہم اراکین اپنی اپنی تحریریں مسودہ کرنے میں لگے ہوے ٔہیں۔ہر سال کی آخری تقریب کی طرح اس سال بھی غیریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والےفلاح انسانیت کےعلمبرداروں کو  اعزازات سے نوازا جاے ٔگا ۔جن میں سے بلا شبہ نصف سے زیادہ ٹرسٹ کے ہی ممبران ہونگے۔تقریب سہ پہرکے آس پاس شروع  ہوئی اور چند ہی لمحوں میں فلاح و بہبودکے الفاظ سےبُنی گئی تحریروں ،معاشرتی منظومات اور خاص طور پر ٹرسٹ کے خزانچی کی طرف سے پیش ہونے والی سے شمار یات سے اپنے عروج پر پہنچی۔ مہمان خصوصی،جو علاقہ کےایم ایل اے بھی ہیں،نے فہرست میں شامل فیاض اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کو  انعامات سے نوازا اور ٹرسٹ کی اعلیٰ کارکردگی

اکیسویں صدی کے اردو ادب کا غیر متوقع نام۔۔۔۔۔ پریم ناتھ بسمل

اردو غزل کا دامن اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت وسیع ہے۔ اس کی وسعت کو جہاں ملک کے مختلف حصوں کے نامور شعراء نے فراخی بخشی ہے وہیں بہار بھی اس معاملہ میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔اردو ادب کی بات کی جائے تو پھر چاہے نثر ہو یا نظم، دونوں میں مختلف ہندو شعرا ء ،افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اردو کی خدمت کی ہے اور اسے عروج بخشا ہے۔ اردو ادب میں اگر ہندو شعرا ء اور ادباء کی بات کی جائے تو برج نارائن چکبست، رتن ناتھ سرشار، منشی پریم چندر ،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ اور حکم چند وغیرہ جیسے اُساتذہ فن کی ایک طویل سرفہرست ہے ،جنہوں نے اردو ادب کے لئے اپنی زندگی وقف کرکے اسکے دامن کو بے پناہ وسعتیں عطا کیں۔ دور حاضر میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو اردو کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔اردو جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے ،ملک و ملت کی زبان ہے،

سزا

محبت کا دعویٰ کرنے والے کے دل میں اگر ہمدردی ،خلوص ،نرمی اور ایثار کے بجائے غصہ ،خودغرضی، جھوٹ اور حرص ہو تو ہم اسے محبت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ آسرا اپنے ماں باپ کا سہارا تھی ،لاڈلی اور اکلوتی۔خوش رہنا اور خوشیاں بانٹنے کے علاوہ اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کرنا اور اپنی بات منوانے کا طریقہ جانتی تھی۔  کچھ عرصہ قبل  ایک فیس بک فرینڈ ذیشان کے ساتھ دوستی ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کو اپنا دل دے بیٹھے ۔پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی آسرا اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنے لگی ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد ذیشان اپنی امی کے ساتھ رشتہ لے کر اس کے گھر آئے ۔ذیشان شکل صورت میں اچھا ہونے کے علاوہ پڑھا لکھا بھی تھا ۔باتوں سے مہذب اور ذہین لگ رہا تھا لیکن دونوں خاندان ایک دوسرے کے لیے انجان اور اجنبی تھے ،اس لئے ابو نے کئی باتیں ،کئی مسئلے اور کئی اعتراضات اٹھائے ۔ابو نے خدشہ ظاہر کیا کہ انجا

’’سکوت ‘‘

’’ سکوت ‘‘ وادی کشمیر کے ابھرتے  ہوئے کہانی کار ایف آزاد ؔ دلنوی صاحب کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، جو حال ہی میں چھپ کر آیا ہے۔ ایف آزادؔ کے نام کیساتھ دلنوی کے لاحقہ سے ہی عیاں ہے کہ آزاد صاحب ریاست کے مصروف قصبہ دلنہ کے رہنے والے ہیں۔ دلنہ کی سر زمین اس حوالے سے نہایت ہی ذرخیز مانی جاتی ہے کہ یہاں کے کئی ادیب اُ فق درب پر اپنی چھاپ ڈالکر ملکی سطح پر نام کمانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی قلمکاروں کی ایک کہکشاں آسمان علم وادب یہ ضیاپاشیاں کرنے میں مصروف ہے یہاں کے کہنہ مشق اور بزرگ شعراء وادباء کے ساتھ ساتھ نوجوان قلمکار بھی نہایت ہی سنجید گی کے ساتھ دن رات محنت کر کے علم و ادب کی ترقی و ترویج کے لئے تگ ودو میں مصروف ہیں ان ہی قلمکارو ں میں ایک تابندہ ستارہ ایف آزاد ؔ دلنوی ہے ایف آزاد ؔ دلنوی بچپن سے ہی افسانہ نگاری میںطبع آزمائی کر رہے ہیں

تازہ ترین