ہستیٔ محروم

ہیں نہیں آزادؔ و عابدؔ اور ہیں محروُمؔ اب ہیں کِتابِ عصرِ نَو میں نقش یہ مرحوُم اب ہو مُبارک آپ کو ہی رونقِ بزمِ حیات واسطے اپنے یہ مطلق ہو گئی معدوم اب بعدِ مردن کون رکھتا ہے بھلا رشتوں کو یاد کون ہوتا کِس کی خاطر دوستو مغموم اب جیتے جی رُقعۂ مُشفق سے رہے محروم ہَم بعد مردن آ رہے ہیں سینکڑوں مرقوم اب زلف و عارض کے اسیروں کی یہ حالت الاماں کوستے رہتے ہیں اکثر اپنا ہی مقصوم اب کم نگاہی کے سبب ہم نے کبھی سوچا نہیں ہیں شکارِ گردشِ دوران ہم معصوم اب زندگی کی ابتداء اور انتہا ہوتی ہے کیا کر رہے ہیں دوستوں سے دوست یہ معلوم اب یہ تِرے ذوقِ تجسّس کا مِلا آخر صلہ ہو گئے ہستی سے اپنی آپ ہی محروم اب ہے دلِ عُشّاقؔ میں اتنی مگر حسرت ہنوز دیکھنا چاہتا ہوں پھر سے ریختہ کی دھوُم اب   عُشّاق ؔکِشتواڑی صدر انجُمن

نعت

احمدؐہی ہر رسول سے اعلیٰ رسول ہے لازم ہر اِک نبی پہ اِتّباع قبول ہے اِرض و سما کا سارا یہ حُسن و جمال بھی احمد ؐکے پائے نازکی تھوڑی سی دُھول ہے تخلیقِ کائینات کا باعث بھی وہی ہے مدحت سے اُن کے ہوتی عبادت قبول ہے سجدے سے لامکاں تلک کیسے کیا سفر  اللہ کی عطائوں کا کیسا حصول ہے یہ معجزہ نبیؐ کا ہے ٹکڑے ہوا قمر مفلوج اس کے سامنے عقل و اصول رتبہ عظیم اُس کا ہے ہر اِک جہان میں وہ ساری کائینات کا واحد رسولؐ ہے ہوگا نہ عشق کیسے محمدؐ کی ذات سے مرضی ہے یہ خدا کی اور راضی رسولؐ ہے محشر کی سخیتوںکا مظفرؔ کو غم نہیں بس اک نگہ بہشتِ بریں کا حصول ہے   حکیم مظفر ؔحسین باغبانپورہ، لعل بازار سرینگر،موبائل نمبر؛9622171322

نظم

محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے ادا ہر اک تمہاری ہے جدا جاناں جو دیکھیں اندھے ہوجائیں فدا جاناں کہوں کیا؟ تُو بہت ہی خوبصورت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   سکوں ملتا ہے تیرے مسکرانے سے ہیں بہتے آنسوتیرے دور جانے سے نہیں سہہ پاتا ہوں تیری جدائی میں اے دلبر میرے، ہوں تیرا فدائی میں بہت ہی میرے دل کو تیری چاہت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   مجھے اکثر ستاتی یاد تیری ہے میرے بن جاؤ تم فریاد میری ہے یہی خواہش یہی دل کی تمنا ہے محبت میں تری خود کو مٹانا ہے تُو ہے تو تیرا شیدا یہ سلامت ہے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے   بھَلا دیکھوں میں کیونکر آئینہ یارا مجھے دکھتا ہے تیری آنکھوں میں سارا مری خاطر ترے دل میں بھی ہے الفت تو بھی ہر روز تکتا ہے مری صورت

طلوعِ خورشید

اندھیرا ڈوبنے کو ہے طلوع خورشید ہونا ہے ذرا سی دیر میں دیکھو مہک آنی چمن میں ہے  دھواں اب دور ہونا ہے  مساکن کا بھی یہ حلیہ سنورنے کو ہے یہ دیکھو فضاؤں میں چمک اپنی  بحال ہونے کو ہے آئی پھریرا روشنی کا پھر  میں لہرانے کو ہوں آیا   مگر دل تھام کر بیٹھو اندھری شاہراہوں پہ ہے اک طوفان آنے کو   کبھی پھر نامِ تاریکی  رہے نا دور تک باقی                                   طفیل شفیع طالبِ علم (MBBS  ) گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر  

بیٹی کی رخصتی

(وادی کے معروف افسانہ نگار شیخ بشیر احمدکی صاحبزادی کےعقدسعیدکے موقع پر)   اےمیری بیٹی مری لخت جگر پیار سے پالاہے تجھکو دل سےچاہا چاند کےڈولے میں رکھا تھا تجھے خواب سارے پھول کے بستر پہ تھے آج آئی وہ گھڑی رخصت کی جو ہر کوئی بیٹی کو ہوتی ہے نصیب ہاتھ میں مہندی رچائے گھر سے جب جاتی ہے وہ تب کلیجہ منہ کوآتا ہے ہراک ماں باپ کا آنسووں کے پالنے میں  تجھکو رخصت کر رہاہوں آج میں ماں نہیں تو کیا ہوا تیری ماں ہوں آج میں جا تیرے آنگن میں راحت کا اُجالا ہی رہے   یاد رکھنا میری بیٹی غم کی پرچھائیں، کسک، کوئی سا درد اپنی آنکھوں کے دریچے سے کبھی باہر نہ جائے   احمد کلیمؔ فیض پوری  موبائل نمبر؛ 8208111109  

نظمیں

قطعات دل تھا بہت یہ شاد مگر شاد نہ رہا آباد شہرِ عشق تھا آباد نہ رہا زخمی ہوا یہ ہاتھ تجھے چُھو کے اے گلاب! دامن میں تیرے کانٹے ہیں یہ یاد نہ رہا   سہل ہے اس دہر میںاب کوہ کنی میرے لئے غم کے سانچے میںڈھلی ہے ہر خوشی میرے لئے ظلمتوں کے بیچ آکر اس لئے محفوظ ہوں بے حیا اب ہوگئی ہر روشنی میرے لئے   دعویٰ نہ کر یوں عشق کا ہر شام ہر سحر بے باک پہلے سینے میں پیدا تو کر جگر دستورِ عشق تو نے کبھی بھی پڑھا نہیں کرنے چلا ہے عشق زمانے میںبے خبر   دل کو قرار جس سے تھا وہ یار مر گیا پیارا بھی تھا جو پیار سے وہ پیار مر گیا کس بے کسی سے جان دی شادابؔ نے نہ پوچھ پڑھ کر وہ تری یاد میں اشعار مر گیا   محمد شفیع شادابؔ پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر رابطہ؛9797103435     

صدا

سرخ پیرہن پہنے رو رہی ہے حپ حپ کے شبنم ! خون ہی خون بھرا ہے اس کی بلوریں آنکھوں میں جو بکھرتا جا رہا ہے چھاتی پہ اس کی اور منظر منظر تڑپتا ہے  خاموش! حالت نا گفتہ بہ پر اک سمے تھا جب کبھی آسمان کی سفید چادر پر سرخ لکیر کوئی ابھر کر آتی چیخ اُٹھتا تھادل دل۔۔۔! مگر۔۔۔۔۔! خون ہی خون بکھرا ہے  سبزہ زاروں ‘کوہساروں پر گرتے آبشاروں پر ادھر اُدھر۔۔۔۔۔۔۔۔! لالہ زاروںپر اور شبنم نہلائی جارہی ہے روز ہی۔۔۔۔۔۔! کوئی کسک   نہیںکوئی صدا۔۔۔۔۔۔۔!   دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847

نصیبِ دوستاں آئی

بصورت اِک عروسِ نَو یہ اُردُو کیا زباں آئی جِسے کہتا ہے عالم سب یہ کیا شیریں زباں آئی جو عرش و فرش میں ہم نے یہی ذکرِ زباں پایا مُہذب ہند میں اُردو بصورت کہکشاں آئی نئی تہذیب کا سوُرج ہُوا پھِر ضَو فِشاں اِس سے اَخوّت کا علم لے کر یہ کیا جادو بیاں آئی بہُت زرخیز مٹی ہے جہانِ ہِند کی عُشّاقؔ اِسی آنگن کے حِصّے میں نویلی یہ زباں آئی ایلورہؔ اور اجنتاؔ کی ہُوئی ہے یاد پھِر تازہ لِئے آغوش میں اپنی نئی اِک داستاں آئی بلا تفریق پالا ہے اِسے ہندو مُسلماں نے ترنگے میں اخوت کا لِئے باہم نِشاں آئی عجب الفاظ و معنی کی زباں میں تابداری ہے اماں کیا تان میں اِن کی اُبھر کر کہکشاں آئی لگا کر یوں گلے اِس کو یہاں پر صوفی سنتوں نے بدولت اِن کی کاوش کے یہاں شعری زباں آئی سُنا ہے کشتِ کشپؔ میں لگا اُردو کا میلہ ہے غنیمت ہے سعاد

کوئی تو ہے!

 میں کنارے پر بڑی دیر سے من ہی من یہ سوچتا ہوں سمندر نہ جانے  کتنی ندیوں کا پانی اپنے اندر سموئے رکھتا ہے مگر یہ کون ہے جو سمندر کواور اس کے کھارے پانی کو اپنے اندر سموئے رکھتا ہے کون ہوسکتا ہے کوئی تو ہوگا جو سمندر سے بھی زیادہ وشا ل ہے طاقت ور ہے؟   ساگر نظیر  ژُکر پٹن کشمیر موبائل نمبر؛9797016202  

گوشہ عاشورہ

آنسو شبِ عاشور اندھیروںنے بہائے آنسو شکرِ مولا میں جیالوں نے بہائے آنسو خیمۂ شہ ؑ میں صحابوں نے بہائے آنسو گویا طیبہ کے چراغوں نے بہائے آنسو وہ چھلکتے ہوئے آنسو وہ الم ناک تڑپ وہ جفائیں کہ دعائوں نے بہائے آنسو سرپٹختی ہی رہی ان کے لئے نہرِ فرات ایسے تشنہ کہ کناروں نے بہائے آنسو مجلسیں، مرثیہ، ماتم، یہ سبیلیں، یہ جلوس چار سُو چاہنے والوں نے بہائے آنسو اُف وہ آنسو جو بہے چودہ صدی سے پیہم جن پہ تاریخ کے صفحوں نے بہائے آنسو آپ کے غم کا ہر اک اشک ہے بخشش کی نوید اس لئے جملہ غلاموں نے بہائے آنسو دیکھ کر ثانی زہراؑ کا فسردہ چہرہ شام غربت میں اسیروں نے بہائے آنسو پائے شبیرؑ پہ سر رکھ کے اجازت کے لئے باغِ زینبؑ کے گلابوں نے بہائے آنسو کربلا میں تھا اے آثمؔ وہ بلائوں کا ہجوم تا اَبد غم کی ہوائوں نے ب

نعت

وہ ہٹانے کے لئے دُنیا سے ظلمت آگئے دو جہانوں کے لئے وہ بن کے رحمت آگئے مومنوں کے واسطے فخرِ رسالت آگئے ہے مکمل دین کہ ختمِ نبوت آگئے بندگی کا فلسفہ ہم کو پڑھانے آگئے  وہ سکھانے ہم کو آدابِ عبادت آگئے صوم،روزہ،حج ،سخاوت اور یہ تو حید بھی لے کے مسلم کے لئے رب کی ہدایت آگئے دُشمنوںکی سب ہی چالیں خاک میں ملتی رہیں جب  وہ مکے سے مدینہ کرکے ہجرت آگئے شافعٔ محشربھی وہ ہیں ساقی ٔ کوثر بھی وہ بے تحاشاکرنے اُمت سے محبت آگئے ہے صلہ ایمان کا یہ ہے صلہ توحید کا لے کے جنّت کی نبی ؐ رب سے بشارت آگئے   عبدالجبّاربٹ 169،گوجر نگر ،جموں موبائل نمبر؛9906185501  

سلام

 سارے جہاں میں رات دن چرچا حُسینؑ کا کتنا بلند تر ہے پھریرا حُسینؑ کا نامِ یزید صفحۂ ہستی سے مٹ گیا جاری ہے اک جہان میں خطبہ حُسینؑ کا بے شک حُسینؑ مجھ سے ہے اور میں حُسینؑ سے یہ قومِ مصطفیٰؐ کا ہے نغمہ حُسینؑ کا کوثر پہ نور دیکھ کر بولے ملائیکہ وہ آرہا ہے قافلہ پیاسا حُسینؑ کا اکبرؑ کی لاش دیکھ کر مولاؑ نے یوں کہا کرلے قبول اے خُدا ہدیہ حُسینؑ کا لاریب ہے یہ کارِ رسالت کا فیضِ خاص تاریخ پڑھ رہی ہے قصیدہ حُسینؑ کا قدموں پہ رکھ کے سر کہا حرؑ نے بصد نیاز مل جائے مجھ غلام کو صدقہ حُسینؑ کا یوں اہلِ کربلا کا فرشتوں میں ذکر تھا ممکن نہیں کسی کو بھی رتبہ حُسینؑ کا روزِ شمار سجدۂ آثمؔ کا ذکر کیا محشر میں دیکھا جائے گا سجدہ حُسینؑ کا   بشیر آثمؔ باغبان پورہ لعل بازار سرینگر(حال آگرہ) موبائل نمبر

شاہراہِ کربلا

راکبِ دوشِ نبیؐ ماہِؓتمامِ کربلا   مرگِ زیب و زینتِ دُنیا امامِؓکربلا کربلا ہے بہرِ اُمّت شاہراہِ جاوِداں   کوئی کرتا ہی نہیں ہے اہتمامِ کربلا! کربلا کا ہے نہیں مقصد فقط آہ و فغاں   خاتمۂ یزیدّیت میں ہے دوامِ کربلا کارواں سُوئے حرم گُم گشتہ منزل، حسرتا!   تھامنے والا نہیں کوئی زمامِ کربلا قتل و غارت کا گرم بازار ہے کشمیر میں   ہر صبح ہے کربلا، ہر شام شامِ گربلا اختلاطِ مرد و زن کا ہر طرف سیلاب ہے   بِنتِ مسلم کر رہی ہے اِنہدامِ غلام اہل بیتِ مُصطفیٰؐ کے ہوں غلاموں کا غلام   یہ دلِ مشتاقؔ ہے یا ہے مقامِ کربلا   مشتاقؔ کشمیری رابطہ؛ سرینگر،9596167104

مہنگائی

اُف! یہ مہنگائی ہمارا بیش بھی کم ہو گیا خُوشِیوں کا موسم بھی اب تو غم کا موسم ہو گیا آرزو ، حسرت ، تمنّا جاں بَلب سی ہو گئی ہر خیال اور خواب اب معدُوم و مُبہم ہو گیا پھِر گیا پانی اُمید و حوصلہ و عزم پر سامنے مہنگائی کے کافُور دَم خَم ہو گیا آس پر پڑنے لگی ہے اوس چاروں اور سے ہر ورق اب تو کِتابِ زیست کا نَم ہو گیا نامُناسِب نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے اُف! زخم گہرے ہو گئے اور منہگا مَرہم ہو گیا بڑھتی قیمت پیٹرول، ڈیزل، رسوئی گَیس کی جِس طرف بھی دیکھیئے ہا ہُو کا عالم ہو گیا کھیت پیاسے ، ٹھنڈے چُولہے ، آگے کا مُشکل سفر وار پر اب وار منہگائی کا پَیہم ہو گیا لڑکھڑاتے رہتے تھے پہلے ہی راہِ زیست میں بھاری تھا جو بوجھ پہلے بھاری بھرکم ہو گیا کر دی ایسی تیسی اچّھے اچّھوں کی مہنگائی نے کل جو ڈیگا ڈیگا تھا وہ آج ڈَم ڈَم ہو گی

محبت

سدا میں کوہِ گِراں کی مانند ہزار سختی لئے رہا ہوں دِنوں پہ کتنا گِراں گُزر کر شبوں میں تُرشی لئے جِیا ہوں مگر سدا جب محبّتوں کی  حسین، نازُک سی نرمیوں نے، مُجھے تمہارا خیال بخشا  ہزار سختی سُفوف ہو کر بُجھی بُجھی سی ہوا میں اُڑ کر بنا بتائے رفع ہوئی ہے میں سوچتا ہوںمیرے خُدایا! محبتوں کا مزا عجب ہے میری پسند کی سبھی بندوقیں  میری پسند کا سبھی تسلُّط لگا ہے اکثر خیالِ بے جا  میں پوچھتا ہوں میرے خُدایا میرے لئے بھی، میرے لئے بھی؟ تبھی یہ من سے سُنا کیا ہوں کہ آدمی ہو یہ مان لیجئے طبیعتوں میں محبتیں ہیں ذرا تو سمجھو ، کبھی توسمجھو اساسِ جگ بھی محبتیں ہیں تیرا تبدُّل تیرا تغیُّر کوئی بھی صورت،کوئی بھی منظر محبتوں کی اساس پر ہے ذرا تو سمجھو، کبھی تو سمجھو   &

’’ آؤ کھیلے آنکھ مچولی‘‘

میںاک چھوٹا بچہ ہوں من اور تن کا سچا ہوں  دل کا بھولا بھالا ہوں اب کچھ کہنے والا ہوں آنکھ مچولی کھیلے سارے شام فلک سے سورج اُترا دور کہیں پر چھپ کر بیٹھا چھپا چھپی کے سارے کھلاڑی آنکھ مچولی کھیلے ساتھی چاند، ستارےاور پتنگے  ڈھونڈیں رات کو سورج سارے   آر درختوں کی وہ لے کر  ڈوب،غروب ہوا تھا سورج صُبح سے پہلے کوئی ستارہ چُھو کے گیا تھا جب سورج کو اور یہ تارا چیخ اُٹھا تھا راکھ ہوا ہے ہمارا سورج چاند،ستارے شور مچائے زمیں نگل گئی سورج کل تلک تو زندہ تھاسورج  کیوں؟ جل کر بھسم ہوا     ریسریچ اسکالرشعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی فون نمبر؛9596101499   

اُستاد ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  ان ہی سے ہیں افراد ضیا بار ہمارے جینے کا سلیقہ بھی ہمیں ان سے ملا ہے  احساسِ عمل ،فکر بھی ان ہی کی عطا ہے  ان ہی کی ہے تعلیم جو عرفان  خدا ہے  ان ہی سے معطر ہوئے افکار ہمارے  استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  تاریک ہوں راہیں تو یہی راہ سجھائیں  اسرار ِ دو عالم سے یہ پر دوں کو اٹھائیں  سوئی ہوئی قوموں میں یہ ہمت کو جگائیں رہبر بھی یہ، ہمدم بھی یہ، غم خوار ہمارے  اُستاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے  اک نور کا مینار لب ِ ساحلِ دریا  اک مشعلِ بیدار سرِ وادی  ٔصحرا ہے ظلمت ِآ فاق میں بس ایک ستارہ  ہیں دست نگر اُن کے ہی شہ کارر ہمارے     استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے   ۳۰۔ گلستان کالونی ، ناگپ

ابر کا گھروندہ

 ٹوٹ گیا وہ شجر آنگن کے پیڑ کا جسکی جڑوں کو سینچا تھا اشک سے بارش کی بوندوں کی طرح ہتھیلی پہ رکھ رکھ کے ہر کلی کی  قبا میں شبنم کے قطرے جڑے تھے سورج اُگنے سے پہلے، شب کی شرمیلی خاموشی میں گماں کے بٹن ٹانکتے ٹانکتے نہ جانے کتنی بارخار محافظ کی شرارتوں نے چبھویا ہے انگلیوں کی چھیڑخوانی کو  تیری الھڑ جوانی کے کھلنے تک بندِ قبا کو بادِ عشقِ صبا نے نرم سرگوشیوں سے چھو کر کھولاتو...! تمناؤں کی باہیں انگڑائیاں لینے لگیں چہچہاہٹ نے ہوا کے تاروں کو چھیڑا تو فضاء میں گنگناہٹ تیرنے نکلی پچھلی بارش کی طرح سوچ کے اس پار کافوری گاؤں کی نیلے رنگ کی جھیل میں سرخ بدن لئے کوئی جل پری سی جھیل جسکے کناروں پہ تتلیاں وفا کی نظموں سے خوشبو تراشتی ہیں  گلوں کے تار تار پیراہن بادِ صر صر کی زد پہ ...تُف .....!!! دھندلی شا

نئی تاریخ

 اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی لِکھ یہاں ہے روشنی مغلوب ، غالب تیرگی لِکھ یہاں قیمت نہیں قانون کی دستور کی لِکھ بِساطِ زیست پر پرچھائیاں ہیں موت کی لِکھ فصیلِ جِسم و جاں پر جم رہی ہے برف سی اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی جبر و اِستحصال و رنجِش دُشمنی ہے ہر طرف دوستی اخلاص و اُلفت کی کمی ہے ہر طرف شمعِ امن و اماں بے نُور سی ہے ہر طرف حادثوں کی تیز آندھی چل رہی ہے ہر طرف اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی سَرپہ ہے اندیشوں کی تلوار یُوں لٹکی ہُوئی جیسے اِک زہریلی ناگن راستہ بھٹکی ہُوئی شاخِ ذہن و دِل پہ ہے اِنسانیت اٹکی ہُوئی ہر طرف جمہوریت کی لاش ہے لٹکی ہُوئی اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی جِسم نِیلے پڑ رہے ہیں نفرتوں کے زہر سے آدمی ڈرنے لگا ہے آدمی کے قہر سے پوچھ لے جا کر تُو ہر اِک گاو

دورِحاضرہ کی تعریف

 (صرف مطلعوں پر مبنی ایک نظم)   قابلِ تعریف ہی اِس دور کا کردار ہے یہ نمونہ ڈھونڈنا تاریخ میں دشوار ہے شیطنت سے آدمیت برسرِ پیکار ہے آدمیت کی ہی لیکن ہر قدم پر ہار ہے قصرِ ایماں جس طرف بھی دیکھئے مسمار ہے کیونکہ اب عقل و ترقی کی بڑی رفتار ہے خود فروشوں کی بڑی عزت سرِدر بار ہے ہے وہی محروم جو سچا ہے اور خود دار ہے آج تو مادی ترقی کی بڑی رفتار ہے اوراِدھر انسانیت کا مُستقر مِسمار ہے جو زمانہ ساز اِبن الوقت ہے مکّار ہے اب ترقی کا فقط اُس کے گلے میں ہار ہے ہر طرف معبود سب کا زر ہے یا زردار ہے یہ سماجی برتری کا بھی طریقہ ٔکار ہے    موبائل نمبر؛ 7006606571

تازہ ترین