تازہ ترین

نوحہ ٔ دل

تہذیب و تربیت پہ ثقافت پہ نوحہ لکھ لہجہ،زبان، علم و فراست پہ نوحہ لکھ چھینا گیا ہے سر سے ترے آسماں ترا چھینی گئی زمینِ، وراثت پہ نوحہ لکھ دشمن کو اپنے مفت میں تلوار بیچ دی اجداد سے ملی تھی حفاظت پہ نوحہ لکھ ہر فردِ کارواں ہے بھٹکتا سراب میں چہرہ بدلتی روزقیادت پہ نوحہ لکھ بارش، ہوا پہ اَبر پہ دریا پہ ریت پر خوشبو، گلاب، دھوپ، زراعت پہ نوحہ لکھ سیرت میںڈارون کی اُچھل کود آگئی صورت میں آدمی کی متانت پہ نوحہ لکھ کچلے گئے جو راہ میں جگنو بنے پھرے بجھتے چراغ شہرِ عداوت پہ نوحہ لکھ آئینِ، علم وصدق و مساوات وآگہی جمہور کے فریبِ سیاست پہ نوحہ لکھ چُھپتی ہےروز بنتِ حوا اشتہار میں عریان سرخیوں کی صحافت پہ نوحہ لکھ دائم کیا ہے فرض یزیدوںنے کربلا ماتم کناں ہوں روز شہادت پہ نوحہ لکھ ہر سُواُچھالتا ہے تکلّم اُداسیاں

آمد رمضان

 آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ماہِ اِنعام و فیضان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ پچھلی قوموں کی طرح مُسلمان پر فرض روزے ہُوئے اہلِ ایمان پر کہہ رہا ہے یہ قُرآن اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ خوش نصیبوں کو پِھر یہ مہینہ مِلا رحمتوں برکتوں کا خزینہ مِلا ہو گئے قید شیطان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ لیلتُ القدر والا مہینہ ہے یہ غزوۂ بدر والا مہینہ ہے یہ اُترا اِس ماہ میں قُرآں اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ ہِیرا،موتی،جواہر،نگینہ ہے یہ سب مہینوں سے افضل مہینہ ہے یہ ماہِ رمضان کی شان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ دین و دُنیا بنانے کے دِن آ گئے مانگنے اور پانے کے دِن آ گئے خوش ہُوئے اہلِ ایمان اللہ اللہ آمدِ ماہِ رمضان اللہ اللہ یاد اللہ تعالٰی کو دِن رات کر

ماہِ رمضان

روحِ ایماں مبارک ہو سبھی کو ماہِ رمضاں مبارک ہو سبھی کو رحم و برکت کا یہ واحدمہینہ دین  کی  جاں مبارک ہو سبھی کو چاند رمضاں کا یوں پھر سے عیاں ہے ختمِ شعباں مبارک ہو سبھی کو تا فلق آج ہیںغالب اُجالے ماہِ تاباں مبارک ہو سبھی کو رکھ کے روزہ تُو بن متقّی اب حُکمِ قرآں مبارک ہوسبھی کو اب تو یوں قید ہے شیطاں کی بستی اب سے ایماں مبارک ہو سبھی کو سیرابؔکشمیری دیورلولاب(کپوارہ) رابطہ:9622911687

صدائے کشمیر

سنگ دل کو موم کرتی ہے صدا کشمیر کی خون کے آنسو رُلاتی ہے ادا کشمیر کی   سر کٹی لاشیں جوانوں کی بیاں کرتی ہیں یہ خون کے رنگوں میں رنگی ہے رِدا کشمیر کی   نقش ایسےدوستوں کی آرسی دکھلاگئی بھاڑ میں کانٹوں کی اٹکی ہے قبا کشمیر کی   شعلہ سامانی میں بھی سنتے ہیں ہم ایسی صدا روح افزائی کا پیکر تھی فضا کشمیر کی   زخم دل کے اشکباری سے کبھی بھرتے ہیں کیا؟ روز و شب بیٹے کا غم سہتی ہے ماں کشمیر کی   باپ کے کاندھے پہ بیٹے کا جنازہ چل پڑا  خون میں نہلا گئی رسمِ حنا کشمیر کی   جال میں صیاد کے جکڑے گئے بلبل یہاں خوف کی تُرشی سے اٹکی ہے زبان کشمیر کی    آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ  

نظمیں

اِنتباہ شَر پسندوں ، سرَ پِھروں کے حوصلے بھی خوب ہیں لگتا ہے اقلیتیں اِس دیش کی مغلوب ہیں قتل کر دو یا جلا دو یا کِسی کو لُوٹ لو نام پر مذہب دھرم کے خوب من مانی کرو ہوتا ہے قانون اندھا یہ تو سُنتے آئے ہو گُونگا اور بہرا بھی اب یہ ہو گیا ہے دیکھ لو جو یہاں قانون سے کھیلے وہی سَرتاج ہے خود سَری ، مَن مانی چاروں اور جنگل راج ہے اِس طرح اِنصاف کا پہیہ گُھماتے جاؤ تم جو ہے مُجرِم بے قصور اُس کو بتاتے جاؤ تم حوصلہ فِرقہ پرستوں کا بڑھاتے جاؤ تم قومی یکجہتی کو مِٹّی میں مِلاتے جاؤ تم سِکھ مُسلماں ہِندو عیسائی نہ مِل کر رہ سکیں الغرض اب بھائی سے بھائی نہ مِل کر رہ سکیں سَر ہِمالہ کا جُھکے تم حرکتیں ایسی کرو ایکتا کا خون کر دو قتلِ آزادی کرو دیش میں سُکھ شانتی کے بات نفرت کی کرو ہم پسِ پردہ تمہارے ساتھ ہیں کچھ بھی کرو

محبت کس کو کہتے ہیں

صنم جی آج کہیے نا  محبت کس کو کہتے ہیں محبت کونسی شے ہے مگر اِک بات ہے چاہت  زمانے کے رِواجوں سے ذرا ہٹ کے مجھے کہنا عقیدت کے حِجابوں کو پَرے رکھ کے مجھے کہنا  محبت کس کو کہتے ہیں  اُصولِ عصر مت کہنا  کہ محبت اک تجارت ہے وہ جس میں شِرک ہوتے ہیں مُسلسل کُفر ہوتے ہیں سِتمگر ، بد عہد پھر بھی فسانے، ڈُھونگ رچتے ہیں مجھے تم سے محبت ہے صرف تم سے محبت ہے میں اِس دنیا سے نا واقف  مجھے کچھ بھی نہیں معلوم مگر اب کچھ تو کہتے ہیں صرف ناراض مت ہونا مجھے بد عہد مت کہنا محبت ایک عبادت ہے جفائیں جس میں ہوتی ہیں  شرک ہر گز نہیں ہوتے خطائیں ہو بھی سکتی ہیں کفر ہر گز نہیں ہوتے وفا کا ایک پروانہ مہر سی ایک شمع کو  جھلس کر راکھ ہوتے بھی مروت کی صدا دیتا ہے

سوشل میڈیا پرالیکشن کی مزاحیہ شاعری

اے ہمارے رب!  الیکشن میں شیر کو پنجرے میں رکھنا  سائیکل کو رستے میں رکھنا  کتاب کو بستے میں رکھنا  تیر کو کمان میں رکھنا  ترازو کو دکان میں رکھنا  بیٹ کو میدان میں رکھنا  پتنگ کو آسمان میں رکھنا  اور ہمیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھنا ۔۔۔۔    پر چھائیاں  ساحرؔ لدھیانوی ہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لیے ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھی کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے تو اس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں جنوں کی ڈھال ہوئی ایٹمی بلاؤں سے زمیں کی خیر نہیں، آسماں کی خیر نہیں گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں  

نظمیں

خواہش دھوپ کچھ اونچے مکانوں پہ آگئی ہے ابھی یہ پرندے بھی گھونسلوں کی طرف اُڑانیں بھرنے کو بے تاب نظر آتے ہیں ہوائیں نیم کے پتوں سے چھن کے آتی ہیں چاند کی پہلی کرن  پھوٹنا چاہتی ہے ابھی اُفق سے رنگ کوئی دودھیا سا آناہے شام کے چہرے پہ اُتر جانا ہے پاس بیٹھو کہ ذرا پیار کی باتیں کر لیں   کتنے دن کتنے مہ و سال کے بعد  آئے ہو یہاں اب ذرا دیر سہی رک جاؤ کچھ تو بولو کہ  خموشی کوئی باقی نہ رہے درد بانٹو کہ مرے دل کو چین آجائے   یہ آبشار یہ کہسار ناؤ یہ پتوار تھکے تھکے سے یہ چرواہے بکریوں کی قطار نظر کے سامنے یہ کیسی وادئ گلنار دھوپ پیڑوں پہ سرسراتی ہے شام پانی میں مسکراتی ہے تم جو آئے تو دریچے دل کے نرم آہٹ سے وا ہونے لگے آپ آؤ کچھ د

نظمیں

نظم یہ آشیاں یہ گلستاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے ارض وطن ہندوستان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   اس ملک کی تہذیب تو میری بھی ہے تیری بھی ہے تاریخ میں نام و نشاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   یہ خون جو ہوتے ہیں اکثر تیرے میرے نام پر یہ خون تو اے جانِ جاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   مذہب، سیاست، رنجشوں کی دوریوں کے باوجود کوئی رشتہ درمیان تیرا بھی ہے میرا بھی ہے   کس طرح سے قائم رہے امن و سکوں امن و اماں اس دور میں یہ امتحاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے    کے ڈی مینی پونچھ،جموں وکشمیر  موبائل نمبر؛8493881999     سامراجی طاقتیں آدمیّت کُش ستمگر سامراجی طاقتیں سینہ زور اور کینہ پرور سامراجی طاقتیں امن کے ہر شہر میں کرتی ہیں پیدا روز و شب  وحشت

اِنتخابی جنگ

ہو گیا اعلان جب سے انتخابی جنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا   چھل کپٹ کی عادی جنتا کو لُبھانے کے لئے دُم ہِلاتے دیکھے جائیں گے سیاسی بھیڑئے چہروں پر چہرے لگا کر نِکلیں گے بہروپئے جو بنائیں گے ہمیں خود کو بنانے کے لئے   خوب دورہ ہوگا اب تو ماہرِ نَیرنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا   کھوٹے سِکّے دھرم مذہب کے چلائے جائیں گے جو بھی ہیں ناراض اور رُوٹھے منائے جائیں گے اپنے اپنے ڈھنگ سے چکّر چلائے جائیں گے سبز باغ اندھوں کو بھی اب تو دِکھائے جائیں گے   دیدنی اب ہوگا منظر جوش اور اُمنگ کا چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا خیریت اپنے پرائے سب کی پوچھی جائے گی جو ہے بُنیادی ضرورت پُوری وہ کی جائے گی جال سڑکوں کا بِچھے گا بِجلی بھی دی جائے گی روٹی کپڑا اور مکا

لائحہ عمل

ظلم کا سیلاب تو ہم کو بہا کر لے گیا نا اُمیدی میں نہ ہم کو ڈگمگانا چاہئے اہلِ حق اور اہلِ عرفاں کی کریں تعظیم ہم دوسروں سے بھی ادب اُن کا کرانا چاہئے خصلتِ بد سے کرے گر ہم پہ کوئی ظلم بھی  اس سے بھی برتائو اپنا مخلصانہ چاہئے ظلم اور بُغض و حسد کرتا ہے دنیا کو تباہ اس جلی دنیا کو شفقت سے سجانا چاہئے سب سے ہم برتائو نرمی سے کریں اخلاق سے طَور اپنا تو نہ ہرگز جاہلانہ چاہئے یہ بڑی بدکاری و بدخصلتی کی بات ہے دل کسی کا بھی نہ دنیا میں دُکھانا چاہئے اتنہا پر ہم اگر جائیں تو یہ اچھا نہیں سارے کاموں میں وطیرہ درمیانہ چاہئے کام لوگوں کے بنانا عہدہ داروں کا ہے فرض کرکے حق تلفی نہ اُن کو پھر ستانا چاہئے دل سبھی کا جیت لیں ہم نیکی و اخلاق سے یہ مقام انساں کے دل میں ہم کو پانا چاہئے شفقت و انسانیت میں ہار ہی تو جیت ہے ج

کڑوا سچ

مجھے دنگوں میں الجھا کر فسادی قوی اپنے مراسم کر رہے ہیں   وہ اک دوجے کی چاہت میں مگن ہیں میرے بچے  الجھ کر مررہے ہیں   ابھی طے کرنے ہیںکتنے مراحل زباں پر لانے سے بھی ڈر رہے ہیں   میرے کاندھوں پہ بندوقیں چلا کر وہ اپنے منھ کو کالا کر رہے ہیں   نوالہ منہ سے میرے چھین کر اب! مرے کھیتوں میں دیکھو چر رہے ہیں   مجھے روٹی سمجھ کر بانٹنے میں یہ دو بندر گھٹالہ کر رہے ہیں   آفاقؔ دلنوی دلنہ بارہمولہ        

سانحہ النور مسجد نیوزی لینڈ

اس درجہ خوفناک لہو کی تھی سرخیاں خود سے پناہ مانگتی پھرتی تھی بجلیاں منظر تمام خون کی رنگت سے  بھر  گئے گنبد کے  آس پاس  بکھرتی  تھی تتلیاں بارود بھر  کے آگ بکف  آندھی اک  چلی کربل کی طرح خیمہ جلا  دل کا  آشیاں آمد تھی ہر طرف سے جو موسم بہار کی اُزتری شجر شجر پہ خزاؤں کی زردیاں نفرت کی، ہے، فضا نے مسخّر کیا چمن  یا  سرد  پڑگئی ہیں  محبت کی گرمیاں آہوں کی صرصریں کہ ہیں اشکوں کی بارشیں پھر مشتہر فلک پہ وہی دُکھ کی عرضیاں شیداّؔ دلوں کو پھر سے محبت کا درس دیں انسانیت کا رکھ کے صحیفہ ہی درمیاں   علی شیداؔ (نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد کشمیر،9419045087  

دعاء

دعاء مغز عبادت ہے بڑا اعزاز رکھتی ہے خلوصِ دل سے ہو توطاقتِ پرواز رکھتی ہے دعاء محبوب ہے رب العلیٰ کو اپنے بندوں کی بہت مقبول ہوتی ہے رکوع کی اور سجدوں کی دعاء قرآن کی رونق دعاء یہ جانِ قرآں ہے  دعاء فرمانِ قرآں ہے دعاء عرفانِ فرقاں ہے دعاء قرآن کا سہرا دعاء ہے تاج قرآں کا دعاء ہے حسن قرآں کا دعاء ہے مغز فرقاں کا دعا انعام ہے، اکرام ہے، اعزاز اور احساں جہنم سے رہائی خلد میں جانے کا ہے ساماں دعاء مومن کا ہے ہتھیار اور ہے ڈھال مومن کی بناتی ہے دعاء یوں زندگی خوش حال مومن کی دعاء بندوں کو ہر دم شکر کا خُوگر بناتی ہے دعاء ہی ہے جو مشکل میں ہر اک کے کام آتی ہے دعاء بندوں کو رب سے قرب کا انعام دیتی ہے ہو چاہے نیک و بد سب کو بڑا اکرام دیتی ہے دعاء میں بندۂ ناچیز جب بھی گڑگڑاتا ہے کرم کو ربِ کعبہ کے بڑا ہی جوش آت

تیرے وصل کی راہ میں

تیرے شہر میں مر جائیں  یا تیرے وصل کی راہ میں یہ بھی کبھی تھی منزلیں تیرے وصل کی راہ میں   اب تو قدم ہیں بے خبر دل کی نگاہٍ شوق سے اور دل کی نگاہ ہے بے خبر رفعت آہ ذوق سے اور کھڑے ھیں جس مقام پہ وہ جذبوں کی ذات سے بے خبر   اٹھے جو قدم اس ہوش میں  ہاں اس نیم مردہ جوش میں تم ہی بتاؤ کدھر کو ہیں تیرے وصل کی راہ میں   طالبِ علم،جی-ایم-سی،سرینگر موبائل نمبر؛8492838989                

ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری

ہوئی برف باری جو اِمسال ہے، زمانہ ہوا اُس سے بے حال ہے بِچھا ہر طرف برف کا جال ہے، عمارت گِری اور پامال ہے ہر اِک شے تلے برف کے ہے دھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری نہیں برف ہے اِک یہ سیلاب ہے، کِتابِ حوادث کا اِک باب ہے جہاں جو بھی ہے،ہے مقّید وہیں، مِلن ایک دوجے کا اِک خواب ہے مُلاقات باہم ہے خطروں بھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری جہاں پر بھی جس کی ہے کُٹیا کھڑی، وہ ہے برف میں پوری پوری گڑھی مکینوں میں اُفتاد ایسی پڑی، کہ ہے زندگی بس گھڑی دو گھڑی ہے ہر آنکھ میں آنسوئوں کی جھڑی ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری نہ پانی نہ پاور نہ ٹی وی بحال، نہ ہے فون زندہ نہ لکڑی کا ٹال مَیں کیا ابتری کی دوں اپنی مثال، نہ آٹا نہ چاول نہ ہے گھر میں دال ہے اوپر سے سردی بھی کیا سرپھری ہری ہر ہری ہر ہری ہر ہری بھرے باغ سیبوں کے ہیں بے ثمر، چناروں کی شاخی

نظمیں

تکان کی چادر میں چھوٹا سا اک گھونسلہ ہے یہاں وقت کی ڈال پہ میرا زندگی بھر کے ہنگاموں کو سمیٹے ہوئے تنکے تنکے پہ کہانی ثبت کئے جہاں خاموشیوں کو گویائی کھلائی ہے میں نے نہتے پنکھوں میں اڑانیں پروئی رُتوں کے تغیّر وتبدل کی جدول سجائی میقات کی ٹِک ٹِک سے رنگ، خوشبو، ہوائیں، بجلیاں،دندھ، دھوپ ، بارشیں چلے گئےسب  اپنا اپنا تماشہ دکھا کر  بوجھل کررہا ہے اب میرے وجود کو اپنے خالی پن کا احساس وہ توتلی خاموشیاں، وہ نازک معصوم پنکھ اپنی اپنی دِشائیں لے کر  منزلوں کی تلاش میں نکلے اپنے خوابوں کے گھونسلے مٹھی میں سموئے  اور میں ....! اپنی تکانیں اوڑھ کر سونا چاہتا ہوں اپنی یادوں کے گھونسلے میں دیر تلک سوچوں کا سفر پسارے خلاؤں سے کہہ دو سارے روزن بند کرلے ..!   علی شیدّا

جنگ آخر جنگ ہے, اِس کو ہے کیا؟

 ہے فضائے امن میں آلودگی پُر مجاول ہے یہاں ماحول پھر ہو نہ ہو پھر سے وبا پھیلے کوئی بے سبب مخلوق کا ہو پھر زیاں ہے نہیں لازم کہ مابیں جنگ ہو جنگ آخر جنگ ہے، اس کو ہے کیا جا بجا بکھریں گے پھر یہ جسم وجاں  خاک میں لتھڑیں گے پھر معصوم رُو مسجد و مندر کے پھر دیوار و در شکلِ آدم کے لئے ہوں بے صبر خون کا جہلمؔ بہے یا سندھؔ پھر رنگ میں ہوں گے یہ دونوں ایک رنگ پھر شبستانوں کا بدلے گا مزاج کونپلیں ہوںگی سراسر نیم جاں اور ہوں گی بستیاں ماتم کدہ الخلق کلہم عیاں اﷲ ہے جب پھر یہ دعوائے جدل ہے کس لئے جب کبھی کھاتی زمیں ہے ضربِ جنگ مدتوں رہتی ہے یہ پامال سر توڑتی ہیں دم سبھی زرخیزیاں ہوتا ہے دہقان پھر محتاجِ مال تین جنگوں کا ہوں میں شاہد عُشاقؔ میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے بس حشر سامانی کا ماخذ ج

جنگ سے نفرت ہے ہمکو

جنگ سے نفرت ہے ہمکو ہم ہیں قائل عالمی سُکھ شانتی اور امن کے جنگ سے نفرت ہے ہمکو     ہم مُخالِف ایٹمی ہتھیاروں کے اور بَم کے ہیں ہم مُخالِف خون میں ڈُوبے ہُوئے پَرچم کے ہیں ہم مُخالِف خونِ ناحق اور شور و شَر کے ہیں جنگ سے نفرت ہے ہمکو نسلِ آدم سِسکے تڑپے معذور و مظلوم ہو سُرخ سائے موت کے ناچیں بساطِ زِیست پر ہم نہ ایسا ہونے دیں گے  شعلے بھڑکیں لہلہاتے کھیتوں سے اُٹّھے دُھواں سُوکھ جائے کوکھ اِس دھرتی کی اور یہ بانجھ ہو ہم نہ ایسا ہونے دیں گے لاش خود اپنی اُٹھائے کاندھوں پر ماتم کرے تِلمِلائے فاقوں سے اِنسان گُھٹ گُھٹ کر مرے ہم نہ ایسا ہونے دیں گے مانگ ہو سُونی کِسی کی یا کِسی کی اُجڑے گود جیتے جی مَر جائے کوئی ، کوئی ہو جائے یتیم  ہم نہ ایسا ہونے دیں گے کالی آندھی خوف و دہشت کی نہ چلنے دی

نظمیں

آئینہ کشمیر عجب رسمیں، عجب دستور ہیں کشمیر کے اندر یہاں جینا بہت مشکل ہے اک انسان کی خاطر  کسی بیٹی کو گر بچہ خدا نے دے دیا تو پھر  پڑی رہتی ہے سارا سال جا کے اپنی ماں کے گھر اگر بیٹی کو اپنی ماں نہ لے تو عمر بھر طعنے سناتے ہیں اسے سسرال والے رات دن اکثر مطابق رسم کے میکے چلے جانا ہے بیوی کا  بگڑ جاتی ہے ساسو ماں اگر جانے نہ دے شوہر  بہو کو اپنی بیٹی کی طرح رکھتا نہیں کوئی  بہو کے واسطے دل کی جگہ رکھتے ہیں سب پتھر  بہو بھی ساس کو ماں کی طرح عزت نہیں دیتی سمجھتی ہے وہ اپنی ساس کو جیسے کوئی نوکر  تمنّا اپنی بیٹی کے لئے کرتے ہیں خوشیوں کی  بہو پر ہر طرح کے ظلم ہم سارے روا رکھ کر  بہو کو تنگ کرنا بن گیا معمول لوگوں کا  مرے کشمیر کی بیٹی کا جینا ہو گیا دوبھر کہیں پر باپ بیٹ