غزلیات

مرے دل کی بھی کچھ سنا کیجیے کچھ اپنے بھی دل کی کہا کیجیے   ہوں بیمار اے دلربا آپ کا مرے دردِ دل کی دوا کیجیے   مرے دل میں اٹھتا کہ جو درد ہے کوئی گر نہ جائے تو کیا کیجیے   دلوں سے کہ اٹھتی جو آواز ہے کبھی تو اسے بھی سنا کیجیے   وہ دل، آپ ہی کے جو بیمار ہیں اب ان کی شفا کی دعا کیجیے   ہزاروں ہیں دل آپ کی قید میں خدارا اب ان کو رہا کیجیے   نہ دے جائے دھوکہ کوئی اے بشیرؔ ذرا دیکھ کر دل دیا کیجیے   بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی موبائل نمبر؛7006606571       تمہارے ہجر کا مزہ اٹھا کے دیکھتے ہیں ہم  چراغ آندھیوں میں اب جلا کے دیکھتے ہیں ہم    پگھل گئی ہے موم کی طرح خیال کی پری  چراغ دل کا شام سے

تازہ ترین