تازہ ترین

غزلیات

قدم قدم پہ یہ طوفان اٹھا ہے میرے لئے  ہوا کا زور بھی لیکن رُکا ہے میرے لئے    فریب حسن کا کتنا بڑا طلسم ہے  پرانی آنکھ ہے منظر نیا ہے میرے لئے    کہیں پہ پیاس تڑپتی رہی میری خاطر  کہیں پہ اُبر برستا رہا ہے میرے لئے    تمام لوگ ہوئے شہر کے مرے دشمن  کروں نہ فکر ترا در کھلا ہے میرے لئے    یہ کس نے خار بچھائے ہیں اس چمن میں مرے  یہاں کا پھول بھی زنجیر پا ہے میرے لئے    ہر ایک ناگ جدائی کا مجھ سے لپٹا تھا  کسی کا قرب  تڑپتا رہا ہے میرے لئے    نہ دوستی ہے کسی سے نہ دشمنی عادلؔ محبتوں کا تقاضا جدا ہے میرے لئے    اشرف عادلؔ  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابطہ ۔۔9906540315  

غزلیات

غم ہے ہمیں کیوں غم نہیں ہے یہی غم ، وہ کہیں، کیا کم نہیں ہے   اُڑا دے دھجیاں ہر بات کی وہ ہماری بات میں کیا دم نہیں ہے    اسے ہر حال میں کٹنا  پڑے گا ہمارا سر جو ہوتا خم نہیں ہے   ہمارا لازمی رسوا ہے ہونا ہمارے حق میں جو ہمدم نہیں ہے   کہاں ر خسار پہ آنسوں ٹکیں گے گُلوں پر ٹھہرتی شبنم نہیں ہے   خزاں کے بعد آتی ہیں بہاریں سدا اک سا رہے موسم نہیں ہے   یقیں اُس پر کرے گا کون انجمؔ جو رہتا وعدے پہ قائم نہیں ہے   پیاساانجمؔ رابطہ؛ریشم گھر کالونی جمّوں،موبائل نمبر؛7889872796       زندگی بد سلوک شہزادی ہو بھی سکتی ہے چوک شہزادی! سسکیوں سے محل نہ ٹوٹے گا اور شدت سے کُوک شہزادی آبھی جائے گا کیا ضروری ھے کوئی سی

غزلیات

  اس کا جنت سے کوئی رشتہ ہے بے سہاروں کا وہ سہارا ہے   چاند تاروں میں روشنی ہے بہت کیا وہاں آج کوئی میلہ ہے؟   روز و شب میں بھی دشمنی ہے عجب ایک دوجے کے پیچھے رہتا ہے   عدل پھرتا ہے سر چھپائے ہوئے تان کر سینہ ظلم چلتا ہے   سچ پہ بالکل یقیں نہیں آتا جھوٹ کا اتنا بول بالا ہے   سچ یہاں کون بولتا ہے شمسؔ سچ پہ جھوٹوں کا سخت پہرہ ہے   ڈاکٹر شمس کمال انجم صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری موبائل نمبر؛9086180380     فراوانی ہو کانٹوں کی پریشانی نہیں ہوتی یہ جنگل درد کا ہَے اِس میں ویرانی نہیں ہوتی ہے جب تک اجنبی جب تک رہے کوئی کِنارے پر اُتر جائے تو پھِر گہرائی انجانی نہیں ہوتی عیاں اِس سے تو ہے سب کُچھ یہ ہے اخلاق کا ش

نعت

عظمت کی روشنی ہے رسالتؐ کی روشنی سرکارؐ کو ملی جو نبّوت کی روشنی رحمت کی روشنی ہے یہ برکت کی روشنی یہ روشنی ہے آپؐ کی اُمّت کی روشنی شفقت کی روشنی یہ سخاوت کی روشنی پھیلی ہے چار سُو یہ تلاوت کی روشنی کافی یہ روشنی ہے یہ کافی ہے روشنی آیت کی روشنی ہے یہ آیت کی روشنی حاصل ہمیں ہے اس سے قناعت کی روشنی اسلام کے ستون کی عظمت کی روشنی اسلام لے کے آیا صداقت کی روشنی عظمت کی روشنی یہ شہادت کی روشنی اُس کو نہ کام آئی  بناوٹ کی روشنی جس نے یہاں نہ پائی ہدایت کی روشنی   عبدالجبّاربٹ 169، گجر نگر جموں موبائل نمبر؛9906185501  

غزلیات

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا   زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ میں آسمان سے تارے اُتار سکتا تھا   مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا   جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں وہ اُبر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا   پُر اطمینان تھیںاس کی رفاقتیں بلراجؔ وہ آئینے میں مجھے بھی اُتار سکتا تھا      بلراج بخشی  ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303       دِل میں رب کو بسایا کر اُس کے نغمے گایا کر   اُس کے درکی خاک کو بھی  اِن آنکھوں سے لگایا کر   اپنے غم کی بات نہیں  سب کا بو

غزلیات

 جب مقدر میں ہے تنہائی سے یاری پاگل  پھر وہی شخص ہے کیوں ذہن پہ طاری،پاگل؟   رات بھر تیری تمنّا کے سفر میں گزری  دور تک تیرگئ راہ پکاری, پاگل    مجھ کو رکنے نہ دیا میری جنوں خیزی نے  عقل کہتی ہی رہی, فکر سے عاری, پاگل    تجھ کو ہر صبح کے آغاز پہ سوچا میں نے  مجھ کو کرتی ہی رہی میری خماری پاگل    تو نے کاغذ پہ کبھی نقش بنایا تھا مرِا کر گئی مجھکو وہی نقش نگاری پاگل   جھوم کر جب مرے چہرے پہ وہ لہرائی تھی  تم نے کس ناز سے وہ زلف سنواری, پاگل    میرا سایہ ہی فقط ساتھ مرے چلتا ہے  اپنےسائے سے ہی رکھتی ہوں میں یاری پاگل      اس نے دل ہار کے زریاؔب مُجھے جیت لیا   عشق کی ریت ہے دنیا سے نیاری ، پاگل

غزلیات

مری نظر کو مہکتے گلاب کیا دو گے کہ نیند دے نہ سکے تم تو خواب کیا دو گے   میں خود دکھاؤں گا دُکھتی رگیں کہاں ہیں مری جو تم بتاؤ کہ اب کے عذاب کیا دو گے   تمہارے پاس تو آ جاؤں جی کڑا کرکے سِوا تپش کے تم اے آفتاب کیا دو گے   شمار لمحوں کا، تفصیل بیتی گھڑیوں کی غروبِ شامِ تمنا حساب کیا دو گے   یہ خامشی بھی عجیب امتحان ہے بلراجؔ سوال ہی نہیں کوئی جواب کیا دو گے   بلراج ؔبخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303     وہ کہ ہر پل مری سانسوں میں رواں رہتا ہے میرے اندر ہی مرا دشمنِ جاں رہتا ہے پھیر لیں تم نے جو نظریں تو بکھر جائے گا خواب آنکھوں میں بہت دیر کہاں رہتا ہے دیکھتا ہوں تری صورت تو نکھر

سب رِس

ٓٓآبشاروں سبزہ زاروں کی زمین دیوداروں بیدزاروں کی زمین شرمساروں شرم داروں کی زمین ماہ جبینوں ماہ پاروں کی زمین شاعروں اور شاہ پاروں کی زمین زائروں اور شاہ سواروں کی زمین مورخوں اور فن کاروں کی زمین لغزشوں اور استغفاروں کی زمین جانبازوں جاںنثا روں کی زمین سرگرانوں سبک ساروں کی زمین نونہالوں نوبہاروں کی زمین عطر افشاں عطر باروں کی زمین نعت خوانوں نغمہ باروں کی زمین میزبانوں وصع داروں کی زمین نے نوازوں موسیقاروں کی زمین حُسنِ خوباں شہریاروں کی زمین حسن کی بارگاہ تیرا چترؔنار ہے یہ صناعِ قدرت کا ایک شاہکار ہے کسی شوخ دُلہن کا زرین سنگار ہے یہاں کے گلوں میں خمار ہی خمار ہے   شاعر : مرحوم حاجی محمد اکبر میرؔ،  داچھی گام بانڈی پور)  مرسلہ: شوکت احمدوانی 9055018485    

غزلیات

فصل شعلوں کی پکنے والی ہے  یہ زمیں پھر سُلگنے والی ہے    روشنی ہورہی ہے تیز بہت  شمع محفل کی بُجھنے والی ہے    چاند سا وہ بدن لئے نکلا  کس کی قسمت چمکنے والی ہے    اب مری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں  پھول کی ڈالی جُھکنے والی ہے    پیڑ پر چڑھ گئی تھکن دن کی  شام ٹہنی پہ سونے والی ہے    مسکراہٹ کسی کی اب عادل ؔ تیرے ہونٹوں پہ کِھلنے والی ہے    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابط 9906540315      اب بھی تو اس بات سے انجان ہے؟ دل مرا بس تجھ پہ ہی قربان ہے میں نے ہر اک زخم کی پائی دوا جو ترے ہی درد کا  احسان  ہے ہم نے جن سے عمر کا وعدہ لیا کیا خبر تھی چار دن

غزلیات

 لاکھ چہروں میں نظر آتی ہے صورت کوئی  کون سمجھے گا محبت کی ضرورت کوئی    رنگ بھرتی ہے مرے شعر میں طاقت کوئی  استعارہ کوئی، فن کوئی، علامت کوئی    دل کے ایوان پہ کرتا ہے حکومت کوئی  جانتا خوب ہے نظروں  کی سیاست کوئی   وہ تو بدنام ہے گلشن کی فضاوءں میں بہت  شاخ پر کرتا ہے پھولوں کی  حفاظت کوئی   اس کے پیچھے ہے کوئی نور کا دریا بہتا  میں یہ کہتا ہوں ' ہے سورج بھی علامت کوئی    ایک طوفان سمندر میں گرجتا ہے بہت  دے رہا ہے مجھے ساحل کی بشارت کوئی   کتنے نمکین تھے پہلے ترے آنسو عادلؔ کرتا ہے لذتِ گریہ سے شکایت کوئی    اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر ،رابطہ؛ 9906540315    &nb

غزلیات

نہ سمجھویہ کہ دنیا میں خوش و خرم ہر انساں ہے یہاں ہیں بیشتر وہ جن کے دل میں درد و حرماں ہے جو خود ہی وقت کا چنگیز ہے ظالم حکمراں ہے وہی دہشت پسندی کا لگاتا ہم پہ بہتان ہے خدایا ظالموں اور غاصبوں کے اس جہاں میں اب جو مظلوموں نے تھاما ہے فقط تیرا ہی داماں ہے ہٹے گا ظلم تب ہی جب ہٹایا جائے ظالم کو فقط اخراجِ دنداں ہی علاجِ دردِ دنداں ہے کرے کیا بیکس و مظلوم بیچارہ کہاں جائے کہ اب دنیا میں ہر سُو اقتدارِ چیرہ دستاں ہے سنو اے غاصبو! تم کو ملا اس ظلم سے بس یہ کہ بدامنی بغاوت کا جہاں میں اب یہ بحراں ہے جہاں میں جس بھی خطے پر مسلط آج ہیں غاصب سمجھ لو اہلِ خطہ کا وہ قبرستاں و زنداں ہے حماقت ہے سمجھنا موت ہوگی دور ہی ہم سے حقیقت میں کہ جب انساں فنا کی زد میں ہر آں ہے ہزاروں خواہشیں کیا، لمبی چوڑی آرزوئیں کیوں؟ جہاں میں زندگی

غزلیات

حنا میں دستِ صبا پر رچانے آیا ہوں  کلی کی آنکھ میں کاجل لگانے آیا ہوں    جہانِ عشق میں ہلچل مچانے آیا ہوں  نگاہِ یار میں دنیا بسانے آیا ہوں   مجھے حیات کا سودا نہ راس آیا ہے  تری  دکان سے خود کو اُٹھانے آیا ہوں   مجھے خبر ہے اندھیروں کا ہے سفر مشکل  تمہاری رات میں مشعل جلانے آیا ہوں    جفا سے کس کا  بھلا ہو چکا ہے دنیا میں  وفا کے پھول چمن میں کِھلانے آیا ہوں    اُٹھو اُٹھو نہ کرو دیر آنکھ تو کھو لو  مسافرِ شبِ غم کو جگانے آیا ہوں    قلم پہ اتنا بھروسہ تو ہے  مجھے عادل ؔ ہنر کے تاج محل میں بنانے آیا ہوں    اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل  سرینگر کشمیر ،رابط 9906540315 

غزلیات

  سرپھرا اِک حباب باقی ہے   رُخ پہ جس کے نقاب باقی ہے اوڑھ لی ہے زمیں جوانوں نے   آسمانِ شباب باقی ہے نکتہ چیں ہیں برادرِ بطنی   کیا ابھی انتخاب باقی ہے؟ ہم عبث کیوں ڈریں اندھروں سے   با خُدا آفتاب باقی ہے کیا پُرانے وہ زخم کم تھے، جو   دردِ آگیں عذاب باقی ہے بس کڑکنے سے دل بہلتا ہے   بجلیوں کی کتاب باقی ہے بیچ کھایا جسے شریفوں نے   اُس زمیں کا حساب باقی ہے نیند آنکھوں سے ہو گئی اُوجھل   سویا سوسیا سا خواب باقی ہے کام دل کا تمام کرکے بھی   خانۂ بیچ و تاب باقی ہے کاش ابرارؔ خِشت ہی ہوتا   راہِ الفت کی داب باقی ہے خالد ابرارؔؔ   وہی وقت ہوگا وہی رات ہو گی جہاں  دلربا  سے  &nb

غزلیات

 چہرے سے نگاہوں کو ہٹانے نہیں دیتا جادو ہے کہ جو ہوش میں آنے نہیں دیتا اس طرح بھی دیتا ہے سزامجھ کو ستم گر ناراض اگر ہو تو منانے نہیں دیتا سایہ بھی ہٹا دیتا ہے دیوار گرا کر اور دھوپ میں بستر بھی بچھانے نہیں دیتا وہ نیند بھی دیتا ہے تو قسطوں میں ہمیشہ اور خواب اگر دے تو سہانے نہیں دیتا آتا ہی نہیں ہے وہ کہیں سے بھی مرے پاس اور مجھ کو کسی سمت بھی جانے نہیں دیتا باہر ہو اگر آگ تڑپتا ہے بہت دل اندر جو لگی ہو تو بجھانے نہیں دیتا مجھ کو تو سناتا ہی نہیں کوئی کسی کی اپنی بھی مجھے کوئی سنانے نہیں دیتا بلراجؔ گھڑی بھر کے لیے عمر گنوا دی لمحوں کے عوض کوئی زمانے نہیں دیتا   بلراج ؔبخشی  ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303 email: balr

غزلیات

 فلسطینی حالات سے متاثرہوکر آج غزہ خون کا تالاب ہے پورا عالم پھر بھی محوِ خواب ہے بند پنجرے میں فلسطینی زمیں حبسِ بیجاکے تلے بے تاب ہے گھر کے اندر مفلسی کا شور ہے اور باہر آگ کا سیلاب ہے پلتے ہیں جو آگ میں بارود کی  پانی ان میں خوف کا کمیاب ہے آگ و خوں میں ڈوبی جہدِ للبقا جاگتی آنکھوں میں کیسا خواب ہے ناخدا بن کر نہ آجائیں وہ لوگ زندگی جن کی تہِ گرداب ہے خوفِ نادیدہ کی بے مہری تلے زندگی بے خواب ہے، بیتاب ہے دیکھ اے امکانِ جبرِ مستقل زندگی اب آگ میں شاداب ہے چپ ہیں کیوں کعبے کے وارث آج بھی دینِ حق جب کہ تہ گرداب ہے بچہ بچہ اب فلسطینی حنیفؔ جہدِ آزادی کی اک محراب ہے   حنیف ؔترین نئی دہلی،موبائل نمبر؛9971730422     تمہاری عظمتوں کا اعتراف کرنا ہے کئ

غزلیات

 دلِ حِساس کے جذبات کسے پیش کروں زندگی کی یہ شروعات کسے پیش کروں   بے مُروّت یہ جہاں مجھ میں مگر ہے شفقت  اپنے اخلاص کی سوغات کسے پیش کروں   ہر طرف اب تو کدورت ہی دلوں میں دیکھی صاف اور شُستہ خیالات کسے پیش کروں   شعر و موسیقی سے بھی پاتا کوئی دل ہے سکوں اپنے پُرسوز یہ نغمات کسے پیش کروں   قتلِ عام، آگ زندگی، آبرو ریزی تو ہوئی اب جگر سوز یہ حالات کسے پیش کروں   میری ملت کے بھی، میرے بھی جلے سب ارماں اب یہ افسُردہ سے دن رات کسے پیش کروں   کیا سُدھر بھی کبھی سکتا ہے یہ ملّت کا عمل! جل چکے کھیت ہیں برسات کسے پیش کروں   اس جہاں نے کبھی مانا ہی نہیں میرا وجود اب بھلا اپنی یہ خدمات کسے پیش کروں   میری ملّت یہ تو فرعون ہیں اب محوِ ستم اس کی حا

غزلیات

دِل کو میرے عدو سے خوف و خطر نہیں ہے تیرے سوا کسی کا یاں سے گُزر نہیں ہے تجھ سا نہ کوئی اجمل، اطہر نہ کوئی اکمل تیرے جمیل در پر جمتی نظر نہیں ہے اِک آفتاب سے ہے سارا جہاں فروزاں دیکھی تمہاری شب نے اب تک سحر نہیں ہے نرغے میںدیکھ کن کے کشمیر ہے مسلسل ہمدرد کوئی انساںآتا نظر نہیں ہے دیکھا نہیں ہے میں نے دیکھا نہیں کسی نے تم آئے کیسے میرے دل میں خبر نہیں ہے لعل و گہر طلب کر دشت و جبل ،بحر سے مِلتی متاعِ فطرت سرِ رہگزر نہیں ہے مشتاق کشمیری سرینگر موبائل9596167104     تم پیار سے پیارے لگتے ہو تم آنکھ کے تارے لگتے ہو اتنا تو بتادو جانِ جاں تم کون ہمارے لگتے ہو کیا نور سےتم مستور ہوئے سارے کے سارے لگتے ہو اب اس سے بڑھ کر کیاکہہ لوں جینےکے سہارے لگتے ہو ہے بات تمہاری ایسی کیا؟ آکاش

غزلیات

  اس طرح زندگی گزار آئے اب کسی پر نہ اعتبار آئے   اپنی آواز لوٹ آئی ہے ہم گلی میں کسے پکار آئے   ایک چہرہ ہی آج لائے ہو ایک چہرہ کہاں اتار آئے   سنگدل ہو گئی زمیں ایسی دھول اٹھے نہ اب غبار آئے   ہم کہ موسم کی دسترس میں نہیں اب خزاں آئے یا بہار آئے   داستاں اپنی جب سنی بلراج اشک آنکھوں میں بار بار آئے       بلراج بخشی    ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  Mob: 09419339303 email: balrajbakshi1@gmail.com     گل تو سارے گل ہوئے ہیں ، غم کدہ سارا وطن  دل فگاری بلبلوں کی، گونج ہے ہائے چمن   ہے سراسیمہ طبیعت اُن کو دیکھے بن مری ہے سماں ایسا لگا ہو،

غزلیات

 پھر نظر ماتم کناں ہے پاؤں کی زنجیر پر چاکِ گل پر، نالہ ہائے بلبلِ کشمیر پر   چار سو خوشبو ہے تازہ سرخی ٔاخبارکی موسمِ گُل چھا گیا ہے یا لہو   تصویر پر   کون موسم اب جگائے ظلمتوں کےخواب سے آنکھ  میری  سو گئی  پھر بسترِتعبیر  پر   کام بھی آئے محبت میں ریاضی کےاصول اک صِفر ہی لا کے رکھا حاصلِِ تدبیر پر   چھین  ملکیت بھی لیکر کیا گئے غافل رہا کس نے قبضہ کر لِیا دل کی  مری جاگیر پر   اب نگاہوں میں فقط شیدا ؔہے لفظوں کا دھواں لکھ رہا ہوں اک غزل پھر شومئی تقدیر پر   علی شیداؔ (نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد کشمیر 9419045087     اِک عجب سی بے بسی ہے ہر طرف سہمی سہمی زندگی ہے طرف   حادثوں کی داستاں کیسے

غزلـیات

 اعلیٰ بھی ہوا عشق میں ادنیٰ میرے آگے  رانجھا ہی نہیں قیس بھی رسوا میرے آگے    موسیٰ نے کیا طور پہ سودا مرے آگے  دیکھا نہیں کیا اس نے یہ جلوہ مرے آگے    موجود تھے میخوار بھی زاہد بھی وہاں پر  اس بزمِ خطا میں تھا وہ تنہا مرے آگے    اس روز خرد کا بھی تماشا ہی ہوا تھا  کرتے رہے میخوار بھی دعویٰ مرے آگے    اوتار تھا اک سنگ اک سنگ میں شیشہ  ہر شخص کے چہرے پہ تھا چہرہ مرے آگے    پانی کی روانی بھی روانی ہے کوئی کیا  "گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے "   لہروں پہ کیا رقص تری پیاس نے عادل ؔ دریا  میں مسیحا بھی تھا پیاسا مرے آگے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل  سرینگر کش