غزلیات

 بے کلی بڑھ گئی ہے پہلے سے کاش کرتے علاج پہلے سے خوب  اعلان لا علاجی کا ہم یہی کہہ رہے ہیں پہلے سے اب تو لہجے کی کاٹ کچھ بھی نہیں یہ تو بہتر ہوئی ہے پہلے سے خار چوکس ہیں گُل کے پہلو میں ہیں تو گُلچیں سے وہ بھی دہلے سے باغباں آکے بس یہ کہتے ہیں آشیاں جل رہا تھا پہلے سے اِن چراغوں کی روشنی دیکھو تیرگی بڑھ رہی ہے پہلے سے خوب وعدے وعید خواب سراب یہی تو ہو رہا ہے پہلے سے   ڈاکٹر ظفر اقبال بلجرشی الباحہ سعودی عرب موبائل 00966538559811     تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا جُھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا فصلِ گُل میں داغ میرا خ

تازہ ترین