غزلیات

اُجلی صورت ہو کہ مَیلی صورت کِس میں پِنہاں نہیں تیری صورت اے سمندر تو ہے پانی صورت پھِر بھی ہے کیوں تِری پیاسی صورت ایک مسکان چھپا لیتی ہے میری ہر بار ہی رونی صورت لوگ پہچانیں مجھے چہرے سے اور میری کوئی دوجی صورت روح ہوتی ہے اگر لافانی جِسم ہے ایک گھڑے کی صورت اُس کو محسوس ہی کر سکتے ہیں ہے خُدا بھی تو ہَوا کی صورت مرض اپنا بھی نرالا ہے میاں زہر لگتا ہے دوا کی صورت آنکھ والے تو یہی کہتے ہیں غم سے ملتی ہے خوشی کی صورت وقت ذہنوں سے مٹا دیتا ہے میٹھی یادیں ہوں کہ اچھی صورت جسم ہے زرد ہوا سونے سا اور سر ہو گیا چاندی صورت دور ہونے کے بہت رستے ہیں ایک ملنے کی بھی ہوتی صورت   دیپک آرسیؔ 203/A، جانی پور ،جموں، 9858667006     نمایاں کیا، پس منظر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو  نسلِ آدم کا خون ہے آخر  جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں  امن عالم کا خون ہے آخر  بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر  روح ِتعمیر زخم کھاتی ہے  کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے  زیست فاقوں سے تلملاتی ہے  ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں  کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے  فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ  زندگی میتوں پہ روتی ہے  جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے  جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی  آگ اور خون آج بخشے گی  بھوک اور احتیاج کل دے گی  اس لئے اے شریف انسانو ! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے  آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں  شمع جلتی رہے تو بہتر ہے  برتری کے ثبوت کی خاطر  خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے  گھر کی تاریکیاں م

غزلیات

دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حسنِ فطرت سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ہم کو ہر گام پہ پتھر کے خریدار ملے  شیشۂ دل کی  تجارت نہیں کی جاسکتی  یہ تو تہذیب کا ہے دور صدی امن کی ہے  اب حریفوں سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ورنہ محشر کی صدا عہد مرا دیتا ہے  حشر سے پہلے قیامت نہیں کی جاسکتی  بغض اور کینہ یہی کام شریفوں  کا ہے  اب شریفوں سے شرافت نہیں کی جاسکتی  جن کے جلوؤں میں محبت کی تمنا بھی نہ ہو  ان پہ برباد بصارت نہیں کی جاسکتی  کوئی چھپ کر پسِ دیوار ہے بیٹھا عادل ؔ سامنے والے سے حجت نہیں کی جاسکتی    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315     دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حس

قطعات

خداکے لئے مُسکرایا بھی کر! محبت کے جوہر دکھایا بھی کر   غموں کی کڑکتی ہوئی دھوپ میں کسی غم زدہ کو سنایا بھی کر!     عاجزی معجزے دکھاتی ہے خاک کو کیمیا بناتی ہے   سرکشوں کو یہ کوں سمجھائے؟ سرکشی سر کے بل گراتی ہے     لے اثر تُو بھی کسی بات کا  مسئلہ ہے تیری اپنی ذات کا   روشنی کا تُو بھی کچھ سامان کر قبر کی تنہا اندھیری رات کا   ماسٹرعبدالجبار گنائی موبائل نمبر؛8082669144  

خیال اب کیا خیال ہے؟

ریاست کے نامور صحافی، قلمکار و شاعر غلام نبی خیالؔ نے 4 مارچ 1939کو اس عالم ہست وبود میں اپنی آنکھ کھولی۔ اس طرح آج کے دن اُن کی عمر عزیز کے 80سال مکمل ہورہے ہیں۔ پبلک جھپکتے گزری ان آٹھ دہائیوں میں انہوں نے کیا کچھ محسوس کیا ہے، اُس کے اجتماعی علامتی احساس کا اظہار انہوں نے اپنے 81ویں جنم دن کے لئے کہے دو اشعار میں کیاہے، جو ادب نامہ کے قارئین و شائقین کی طرف سے مبارکباد کے ساتھ درج ذیل ہیں۔  (مدیر ادب نامہ)   سائے سمٹے، تارے ٹوٹے، سحر ہوئی پھر لال پل بھر میںایسے ہی بیتے عمر کے  اسّی سال صبح ہوئی تو خاک زدہ تھی، شام بھی گریاںتھی  کن ہاتھوں نے لکھی ہے میری تقدیرخیال؟   غلام نبی خیالؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9419005909

غزلیات

 ہے المیہ انسان میں شیطان کی خصلت انسان کو درکار ہے انسان کی خصلت   اب چین سے جینے کا تصور بھی نہیں ہے  باقی نہیں انسان میں اِحسان کی خصلت  جس سے بھی ملو، آگ بگولہ کی طرح ہے  ملتا ہے کوئی شاذ ہی گُلدان کی خصلت  تاریکیوں نے ملک کو تاراج کیا ہے  ماؤف ہوئی ہے میرے اَعیان کی خصلت  اب ہند بھی اور پاک بھی لیں ہوش کے ناخن  اللہ!عطاکراِنہیں جاپان کی خصلت  آزادیٔ اَفکار کا اعلان ہے یہ عام  رکھےنہ کوئی شہر میںخاقان کی خصلت  کچھ جُبہ و دستار میں اسلام نہیں ہے  مومن ہے وہی جس کی ہو قرآن کی خصلت  ہو مدحِ نبیؐاب مرے اشعار کی زینت  اے مولیٰ مرے دے مجھے حِسّانؓ کی خصلت  میں بندہ رہوں بندگی معراج ہو میری  مجھ میں کبھی جاگے نہیں یزدان کی خصلت&n

غزلیات

 وصل کے خواب کو پلکوں پہ بٹھائے رکھا  ہجر کی آنکھ میں ساون کو بُلائے رکھا    چشمِ پرنم کو دریچے پہ سجائے رکھا  تیری آمد پہ تبسم کو بچائے رکھا   کتنے شعروں کو زبانوں پہ چڑھائے رکھا  ہم نے لوگوں کے ضمیروں کو جگائے رکھا    بارشوں کو بھی برسنے کا ہنر دیتا ہے  بادلوں کو بھی سمندر سے اٹھائے رکھا    تیرگی ہار نہ مانے تو تمہاری قسمت  تیز آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا    تاکہ اشعار میں تصویر اُتر آئے تری  بوجھ پلکوں کا نگاہوں سے اٹھائے رکھا    کم کبھی زور ہواؤں کا بھی ہوگا عادل ؔ بادبانوں کو سفینے پہ کُھلائے رکھا  ؤؤؤؤؤ اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315  

غزلیات

ہزاروں آئینے ہیں اور زمانے کی نظر تنہا تم اکثر ساتھ رہتے ہو مگر رہتا ہے گھر تنہا   جسے تم نے اُڑایا ہے وہ مشتِ خاک میری تھی کٹے گا کس طرح اب زندگانی کا سفر تنہا   ہوائیں کس طرف سے آ رہی ہیں زہر آلودہ گلوں کے رنگ پھیکے اور یہ بوڑھا شجر تنہا   مرے دستِ طلب میں اور میری آرزو میں تم مجھے لگتا نہیں ہوگا دعاؤں میں اثر تنہا   ستارے توڑ کر لاؤں تمہاری مانگ تو بھر دوں رہے گا کس طرح پھر آسماں پر یہ قمر تنہا   اگر جاویدؔ ممکن ہو بسا لو پھر نئی دنیا مجھے تو خیر ہونا ہے جہاں میں دربدر تنہا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر ، پونچھ  رابطہ؛ 9419175198            ہاتھ میں پتّھر نہیں، پکڑو ذرا تم بھی قلم  دشمنی تم بھول جاؤ، دو

غزلیات

ایک تتلی نے گلابوں سے شرارت کی ہے  اس پہ خوشبو نے ہر اک پھول سے ہجرت کی ہے    کہتے ہیں خار نے کلیوں کی تجارت کی ہے  حق یہ ہے پھول نے گلشن سے عداوت کی ہے    ہم نے تہذیب کے اوراق پہ لکھا ہے فقط  ہم نے اردو کے رسالوں کی ادارت کی ہے    ہم تو سورج کی طرح ڈوب گئے مغرب میں ہم نے اخلاق کی قدروں سے بغاوت کی ہے    آنکھ کا سرخ ہوا رنگ شبِ غم کی قسم  آتشِ چشم نے ایسے بھی ریاضت کی ہے    آنکھ سے اشک کو بہنے نہ دیا کس نے، بتا ؟ چشمِ نم نے غمِ فرقت کی حفاظت کی ہے    کل سیاست پہ عنایت کی تھی ہم نے عادل ؔ آج کچھ ہم پہ سیاست نے عنایت کی ہے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315 &nbs

غزلیات

معزز کس قدر تھا گردشِ ایام سے پہلے  مرے سر پر یہی دستار تھی الزام سے پہلے    یقیناً آج کا دن جھیل میں پُر امن گزُرا ہے پرندے گھونسلوں میں لوٹ آئے شام سے پہلے    تجھے پانے کی خواہش میں ہے جھیلی آبلہ پائی  مگر اے زندگی تُو دور تھی ہر گام سے پہلے    چھڑا کر ہاتھ اب تم جارہے ہو یاد بھی رکھنا  ہمارا نام آئے گا، تمہارے نام سے پہلے    قفس میں پھنس گئی ہے دیو کے شاید مری قسمت تصور میں ملی تھی میں کسی گلفام سے پہلے    کبھی صحرا نوردی میں نہ ضائع زندگی کرتا  اگر واقف میں ہوتا عشق کے انجام سے پہلے    مزیّن ہو حسیں الفاظ اور معصوم لہجے سے  غزل بے کیف لگتی ہے کسی الہام سے پہلے    گُماں کیسا یقیں ہے شاعری کے حُسن و خوبی

غزلیات

  اب تو حصار ذات سے یہ آگہی نکال  مستی بھری حیات سے کچھ بیخودی نکال    رشتوں کا عکس سنگ ہوا کچھ تو غور کر  اب دل کے آئینے سے یہ بے چہرگی نکال    اب تیرگی میں ڈوب چکا ہے دلِ حزیں  اس عالمِ سیاہ سے کچھ روشنی نکال    رادھا نکل ہی آئے گی موہن کو ڈھونڈنے  کوئی سریلا گیت بھی گا، بانسری نکال    پتھر میں ڈھل نہ جائے کہیں میرا یہ  وجود  اس کی نگاہِ شوق سے اب ساحری نکال    بکھری ہوئی حیات ہے کلیات میر ؔکی  اوراقِ شاعری سے کبھی زندگی نکال    ہر زخم آفتاب کی مانند کر طلوع  عادلؔ زمینِ شعر سے ہی چاندنی نکال    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315

غزلیات

ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے  مکاں کچّا سہی لیکن مجھے اس گھر میں رہنے دے    خلوصِ عشق جن کو ڈھونڈتا ہے ایک مدت سے  عقیدت ہے تو اُن سجدوں کو اپنے سر میں رہنے دے    نئی بستی،  نئے چہرے، نئے ہیں خواب بھی سارے  ہجومِ شہر میں خود کو تلاشِ زر میں رہنے دے    بھکاری ہی سہی اُس کو بھی ہے اپنی انا پیاری نہیں محلوں کی خواہش بس اُسے  چھپر میں رہنے دے    میں گزرا وقت ہوں تیرے لئے اے ہمنشیں لیکن سمجھ کر یاد کا موتی تُو چشمِ تر میں رہنے دے    طلب دولت کی لے آئی ہے تجھ کو اس جزیرے پر  وطن کی یاد کو اپنے دلِ مضطر میں رہنے دے    تراشے گا اُسے مانوسؔ وہ ہوجائے گا رُسوا محبت ہے اگر تجھ کو صنم پتھر میں رہنے دے   پروی

غزلیات

ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے  مکاں کچّا سہی لیکن مجھے اس گھر میں رہنے دے    خلوصِ عشق جن کو ڈھونڈتا ہے ایک مدت سے  عقیدت ہے تو اُن سجدوں کو اپنے سر میں رہنے دے    نئی بستی،  نئے چہرے، نئے ہیں خواب بھی سارے  ہجومِ شہر میں خود کو تلاشِ زر میں رہنے دے    بھکاری ہی سہی اُس کو بھی ہے اپنی انا پیاری نہیں محلوں کی خواہش بس اُسے  چھپر میں رہنے دے    میں گزرا وقت ہوں تیرے لئے اے ہمنشیں لیکن سمجھ کر یاد کا موتی تُو چشمِ تر میں رہنے دے    طلب دولت کی لے آئی ہے تجھ کو اس جزیرے پر  وطن کی یاد کو اپنے دلِ مضطر میں رہنے دے    تراشے گا اُسے مانوسؔ وہ ہوجائے گا رُسوا محبت ہے اگر تجھ کو صنم پتھر میں رہنے دے   پروی

غزلیات

اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  چراغوں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    سنو آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن  صبا کو سر اُٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    مٹائے گا  مگر کیسے محبت  آدمی دل سے پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی  ہواؤں کو سِکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بڑی مشکل سے جُڑ جاتا ہے من کا آئینہ عادل ؔ کسی کا من دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشرف عاد

غزلیات

 دل سے دل کا ہے تعلق منقطع دکھ کہ دکھڑا ہے تعلق منقطع   جیب میں رکھے ہیں کچھ سادہ ورق جن پہ لکھا ہے تعلق منقطع   دیکھ بستی میں رقیبوں کی مرے خوب چرچا ہے، تعلق منقطع   جیسے کچھ تھا ہی نہ اور ہوگا نہ کچھ یوں معمّہ ہے تعلق منقطع   چل رہا صدیوں سے یونہی ہے مگر اک ذرا سا ہے تعلق منقطع   یہ تو ہوتا ہے محبت کی طرح کون کرتا ہے تعلق منقطع   رابطہ ہر اک سے اب بھی ہے مگر خود سے شیداّ ؔہے تعلق منقطع   علی شیداّ ؔ  نجدون نیپورہ اسلام آباد،    فون نمبر9419045087         وہی محوِ تماشا ہیں جو حد کے پار دِکھتے ہیں مجھے تجھ سے بچھڑنے کے بہت آثار دِکھتے ہیں   سفر سے لوٹ آئے ہیں زمانے کی تھکن لے

غزلیات

 اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  چراغوں کو بُجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    سنو آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن  صبا کو سر اٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    مٹائے گا  مگر کیسے محبت  آدمی دل سے پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی  ہواؤں کو سِکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بڑی مشکل سے جُڑ جاتا ہے من کا آئینہ عادل ؔ کسی کا من دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشرف عاد

غزلیات

دنیا میں جس نے لایا ہے بے مثل انقلاب ہم بد نصیب ہیں نہ پڑھی ہم نے وہ کتاب   کس دور میں نصیب ہوئی ہم کو زندگی باہر بھی اضطراب ہے اندر بھی اضطراب   آئو کہ ساری رنجشوں پہ خاک ڈال دیں اک دوسرے کو پیش کریں ہنس کے ہم گُلاب   وہ بھی تو دن تھے شہر میں رونق تھی چار سُو اب یہ بھی دن ہیں زندگی ہر لمحہ اک غذاب   اب شہرِ نامراد میں رہنا ہے چند روز اب تو جفا سے ہاتھ ذرا کھینچ لیں جناب   دنگے، فساد، قتل کی خبریں رُلائیں گی اِمسال لیڈران ِ وطن کا ہے انتخاب   اپنے ہی قائیدین نے تاراج کر دیا راجور ہو یا پونچھ ہو یا خطہء چناب   بسملؔ تمام عمر کٹی معصیت کے ساتھ یہ سن رکھا تھا رحمتِ یزداں ہے بے حساب   خورشید بسملؔ تھنہ منڈی، راجوری موبائل نمبر؛9086395995  

غـــزلیات

نعت پاک ہر دم رسولِ پاکؐ سے الفت کیا کرو دن رات اس جہاں میں عبادت کیا کرو کرتا ہے خود خدا بھی محبت رسولؐ سے افضل عمل ہے تم بھی محبت کیا کرو آقاؐ کا عشق ہی تو ہے ایمان کی اساس اس عشق کی ہر آن حفاظت کیا کرو دامن کبھی نہ چھوڑنا اپنے رسولؐ کا محبوبِ کبریاؐ کی اطاعت کیا کرو احمدؐ کا ذکرِ خاص ہے قرآں میں جابجا رکھ کر دھیان میں یہ تلاوت کیا کرو اصحابِ مصطفیٰؐ کی طرح تم بھی دہر میں اک دوسرے کی دل سے مروت کیا کرو ہو جس میں پاک احمدِ مرسلؐ کا تذکرہ ایسی ہر ایک بزم میں شرکت کیا کرو شادابؔ یوں ہی جوشِ عقیدت سے تم سدا سرکارِ دو جہانؐ کی مدحت کیا کرو        محمد شفیع شادابؔ    پازلپورہ شالیمارسرینگر کشمیر   رابطہ:9797103435  

غزلیات

 انسان کے ارمان کا ارمان ہے انساں  انسان کے ہی شر سے پریشان ہے انساں    دنیا سے کبھی دل سے پشیمان ہے انساں  غالب کا کبھی میر کا دیوان ہے انساں    احساس کے موسم کا دبستان ہے انساں  اخلاص کی ہر شاخ پہ خُوبان ہے انساں    کانٹوں کی طرح گل کا نگہبان ہے انساں  ظلمت کا کبھی نور کا اعلان ہے انساں    اک پھول یہی ہے یہی اک خارِ مُغیلاں  انساں کبھی انساں کبھی شیطان ہے انساں    انسان سے رشتہ بھی ہے انسان کا  پختہ  ایثار کا جذبہ نہ ہو  حیوان ہے انساں    کاسے میں جہاں اسکے چھلاوا ہی ہے عادل ؔ یہ کون سی خیرات پہ قربان ہے انساں    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  رابطہ 990654031

غزلیات

دیکھتا ہوں غم کہاں تک معتبر ہوجائے گا درد میں ڈھل کر فسانہ مشتہر ہو جاے گا جانتا ہوں آبلہ پائی کا ہے انجام کیا ایک دن اپنا سفر بھی دربدر ہوجائے گا تھم گئی آندھی جنوں کی آنکھ برسےاب یہاں دامنِ صدچاک شب بھر تر بہ تر ہوجائے گا جل اُٹھیں گےطاق میں رکھے محبت کے چراغ تیرے آنے سےمکاں میرا بھی گھر ہوجائے گا عمر بھر یادوں کی جو دہلیز پر بیٹھا  رہے حادثہ سوچا نہیں تھا اس قدر ہوجائے گا گرد آلودہ  ہوائیں گر یوں ہی چلتی  رہیں عنبری دل کا شجر بھی بے ثمر ہوجائے گا موڑ دے بادِ مخالف زد پہ ہے شیدؔاّ چمن ورنہ پھر ویراں بہشتِ کاشمر ہوجائے گا   علی شیداّ  نجدون نیپورہ اسلام آباد،    فون نمبر9419045087,alishaida@yahoo.com      تیرے آنے سے یوں لگا مجھ کو دل جو کھو

تازہ ترین