کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ درج زیل سوالا ت کے جوابات عنایت فرمائیں؟ (۱) اخبارات میں قرآن شریف کی آیات نقل کرنا کیسا ہے ۔ایک مقامی روزنامہ میں ایک اچھا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ آیت عربی متن کے ساتھ نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ لکھا ہے۔ اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھروں ہونگے۔ اس پوری آیت کی عربی عبارت درج ہوئی۔یہی اخبار ردی میں ڈالا جائے گا تو لازماً قرآنی آیت کی توہین ہوگی۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کسی کے موت کی خبر دی گئی۔ ا س میں قرآن کی آیت بھی نقل کی گئی، جس کا ترجمہ یہ ہے، ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ اخبار تمباکو والے کے پاس تھا اور اس نے تمباکو کی پڑیا بنائی۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے وہ تحریر فرمائیں؟ ایک      شہری اخبارات میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ شائع کرنے کی ضرورت   جواب:۔ ا

قاضی اطہر مبارکپوری

 ہندوستان کی علمی شخصیات میں قاضی اطہر مبارک پوری ؒ مسلم الثبوت شخصیت تھے ۔ ان کی خدمات مختلف النوع تھیں اور ہر شعبے میں اپنے کمال وہنرمندی کا لوہا منوایا۔ زیر مطالعہ کتاب’’قاضی اطہر مبارکپوری‘‘ ان کی سوانح حیات ہےجس میں پیدائش سے لے کر وفات تک آپ کی علمی اور عملی زندگی کا خاکہ مختصر اً کھینچا گیا ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھے گئے ایک کتابچے ’’القاضی ابو المعالی اَطہر المبارکفوری‘‘ کا ترجمہ ہے۔ کتابچے کے مصنف جامعہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور عربی زبان و ادب میں ’’صدر جمہویہ ایوارڈ‘‘ یافتہ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی صاحب ہیں ۔انہوں نے اپنے سہ ماہی عربی میگزین ’’مجلۃ الہند‘‘ میں اسے شائع کر نے کے بعد پھر اسےکتابی شکل دی ۔ اسی کا اردوترجمہ اب منظرعام پر آیاہے۔ ترجمہ کارمحمد معتصم اعظمی ہیں، موصوف

تصوف کیا ہے؟

ایک   ضعیف العمر شخص کو زدوکوب کرتے ہوئے قید خانہ کی طرف لے جایا جارہا تھا اور وہ انتہائی صبروضبط کے ساتھ خاموش تھا۔ ایک مشہور ولی اللہ اور صاحب کرامت حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ نے قید خانہ میں جاکر اس سے پوچھا کہ اس قدر ضعف ونقاہت کے باوجود تم نے صبر کیسے کیا؟ اس نے جواب دیا صبر کا تعلق ہمت وشجاعت سے ہے، نہ کہ طاقت وقوت سے۔ ابوالحسنؒ نے پوچھاصبر کا مفہوم کیا ہے؟ اس نے بولامصائب کو اس طرح خوشی سے برداشت کرنا چاہئے جس طرح لوگ مصائب سے چھٹکارا پاکر مسرور ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا آگ کے سات سمندر پار کرنے کے بعد معرفت حاصل ہوتی ہے اور جب حاصل ہوتی ہے تو اول وآخر کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں رفتار جتنی تیز ہوتی ہے، اسی قدر اس کی حرکت نظر نہیں آتی۔ فرماتے ہیں تیز آندھی کو سب محسوس کرتے ہیں لیکن نسیم سحری جو دل کی کلیوں کے ساتھ مسیحائی کرتی ہے اور چمن کو حیات نو

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔قسم کیا ہوتی ہے۔ کن لفظوں سےہوتی ہے۔ اگر قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتائیے قسم کس طرح توٹتی ہے، کفارہ کس کو دینا ہوتا ہے یعنی اس کا مستحق کون ہوتا ہے؟ محمد یوسف میر حاجن سوناواری جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ۔۔ ۔۔ کفارہ ادا کرنا لازم جواب:۔قسم یا حلف کے شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی شخص کوئی بات کہے۔ مثلاً اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یا یوں کہے واللہ میں یہ کام نہیں کروںگا۔ تو یہ قسم ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ واللہ میں نے یہ کام نہیں کیا ہے حالانکہ اس نے یہ کام کیا ہو۔ تو یہ جھوٹی قسم ہےاور یہ گناہ کبیرہ ہے۔ یا کسی نے کہا اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اُس نے نہیں کیا ہے تو بھی جھوٹی قسم ہوئی۔ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔مثلاً کسی نے چوری کی ہے مگر اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چوری نہیں کی ہے۔ یا کسی نے نماز

مسلمان ا غیار کا نقال نہیں !

جب   تک مسلمان اپنی زندگی میں قرآن و سنت پر عمل کرتے رہے اور سیرت ِ طیبہ صلی ا اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے میں ہی اپنے لیے فخر محسوس کرتے رہے‘ تب تک وہ دنیوی اعتبار سے بھی ترقی کی راہوں پر گامزن رہے اور آخرت بھی سنور تی چلی گئی۔ اہل اسلام نے اپنے دین و شریعت ، اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر حکومت کی اور یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کی دیگر قومیںمسلمانوں کی نقالی کرنے میں اپنے لیے فخر محسوس کرتی تھیں اور یہ صورت حال تھی کہ مسلمان موثر تھے اور باقی اقوام متاثر تھیں۔ مسلمان اسلام کے ساتھ قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں گئے‘ انہوں نے دنیا کی متمدن کہلانی والی اقوام کی تہذیب و ثقافت بھی دیکھی اور انہوں نے وہ تاریخی شہر بھی فتح کیے جنہیں اپنی سینکڑوں سالہ پرانی شناخت پر بڑا ناز تھا لیکن جو آنکھیں سیرت ِ طیبہؐ کے سرمۂ بصی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:ـ۔اب چونکہ  وادی کے مسلمان کاریگر اور ہنر مند کاریگری کے مختلف امور سے دور بھاگ رہے ہیں اور عام انسان باہر کے کاریگر کو ہی اپنے گھروں راج مستری ،ترکھانی ، رنگ و روغن یا اور کوئی کام کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کیا ہم ان لوگوں کو مسجد پاک کے رنگ و روغن وغیرہ کے  کام پر استعمال کرسکتے ہیں، اس کے باوجود کی ہمیں ان کے مذہب اور عقائد کے بارے میں پورا علم نہ ہو۔؟ سوال:۔ فجر نماز کی دو رکعت فرض سے پہلے دو رکعت سنت کے علاوہ کیا اور کوئی نماز پڑھ سکتے ، مثلا تحیتہ المسجد اور تحیتہ الوضو وغیرہ؟ مشتاق احمد جانباز امیراکدل سرینگر غیر مسلم کاریگر سے مسجد میں کام کرانے میں شرعی ممانعت نہیں جواب:۔مسجد شریف کے تعمیراتی کام کے لئےا فضل اور بہتر یہی ہے کہ مسلمان اور دیندار مسلمان کاریگر اور مزدوروں سے کام کر ایا جائے۔ اس لئے کہ ایک مسلمان اور تقویٰ شعار مسلمان سے ی

انسان بمقابلۂ شیطان

اپنے   جس دشمن کو آپ پہچانتے ہیں اور اس کی تدبیروں سے با خبر ہو جاتے ہیں،اس کے شر و فتن سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے آپ کچھ نہ کچھ صورتیں اورطریقے بھی آزما لیتے ہیںلیکن اگر دشمن چھپا ہوا ہو اور اس کی خفیہ تدبیروں کا آپ کو پتہ نہ چلے تو آپ کے لئے زیادہ نقصان اُٹھانے کا اندیشہ رہتا ہے۔یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے کیونکہ یہ ہماری زندگی کو برباد کرنے کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ اگر شیطان ہمیشہ رہنے والا شرپسند اور فتنہ پرور ہے توپھر یہی دشمن کیوںہماری نظروں سے چھپا ہوا بھی ہے اور اس کی تدبیروں کا علم اور اس کو ہرانے کی فکر مندی بھی ہمیں کم ہی ہو تی ہے۔ روئے زمین کے تمام انسان کا سب سے بڑامسئلہ اسی دشمن کی زد سے اپنے آپ کو بچا نا ہے۔یہ مسئلہ کئی وجوہات سے انتہائی اہم ترین ہے۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اکثر وبیشتر انسان اپنی نادانی ، غفلت اور اپنے نفس کی اندھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھنے کا ثبوت حدیث میں ہے یا نہیں ، اگر ثبوت موجود ہے تو اُس کو حوالہ ضرور دیں؟ محمد یوسف خان وتر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا ثابت جواب:۔ وتر کی نماز کے بعد دو رکعت نما زپڑھنا احادیث سے ثابت ہے اور یہ دو رکعت بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہے اور کھڑے ہو کر پڑھنا بھی ثابت ہے۔ مسند احمد کے حوالے سے مشکوٰۃ شریف میں حدیث ہے ، حضرت ابو امامہ ؓسے روایت ہے کہ حضر ت نبی کریم ﷺ وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے اور اُن دو رکعت میں سے پہلی رکعت میں سور زلزال اور دوسری رکعت میں سورہ کافرون پڑھا کرتے تھے۔ مسلم شریف میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت نبی کریم ﷺ رات کو کتنی رکعات پڑھا کرتے تھے۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعات پڑھتے تھے۔ پھر تین وتر پڑھتے تھے پھر دو رکعت بیٹھ کر ادا فرمات

عمر فروخ، عقاد اور طہ حسین

  عمر  فروخ (۱۹۰۶ء- ۱۹۸۷ء)طہ حسین (۱۸۸۹ء-۱۹۷۳ء) عباس محمود عقاد (۱۸۸۹ء -۱۹۶۴ء) عربی کے نامورمعاصر ادیب  تھے۔طہ حسین اور عقاد مصری تھے تو عمر فروخ لبنانی۔ طہ حسین نے مصر کے علاوہ پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی تو عمر فروخ نے جرمنی سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جب کہ عقاد صرف ابتدائی درجات تک تعلیم حاصل کرسکے تھے مگر انہوں نے ایک سیلف میڈ ادیب کی حیثیت سے عربی ادب میں اپنا نام آب زر سے لکھوایااور اپنے علمی ورثے سے عربی ادب کو بے انتہا مالا مال کیا۔ عمر فروخ اور عقاد میں ایک مضمون کی وجہ سے عرصے تک کھٹ پٹ رہی۔ہوا یوں کہ عمر فروخ نے ابن الرومی کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے عقاد پر ہلکی سی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ایسالگتا ہے کہ عقاد اور بستانی نے ابن الرومی کے سماجی حالات کو مد نظر نہیں رکھا۔ بعد میں ان کی اس تحریر کو پڑھ کر عقاد نے مجلہ الرسالہ (شمارہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 صدر مفتی دارالافتاء  سوال:۱-میں ایک کالج اسٹوڈنٹ ہوں اور ماڈرن ہوں ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نماز پڑھنا شروع کردی ہے۔میں چونکہ تنگ وچست جینز پہنتاہوں اس لئے نماز کے وقت ٹخنوں سے موڑ دیتاہوں ۔ ایک صاحب نے مجھ سے یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا سمیٹنے اور موڑنے سے منع کیا ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نہ کپڑوں کو سمیٹوں اور نہ بالوں کو۔(بخاری) مسائل کی کتابوں میں لکھاہے کہ کپڑا موڑنا مکروہ ہے اس لئے پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ ہے اور ایسی حالتوں میں پڑھی ہوئی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے کیونکہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے موڑنا کیاہے؟ محمد محسن شیخ پائجامہ اور پینٹ موڑ کرنماز پڑھنا مکروہ نہیں    جواب:-ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہننے کے متعلق احادیث میں سخت ممانعت ہ

اسلام میں تعلیم وتعلم کا تصور

تعلیم   ایک ایسا عطیہ وتحفہ ہے جس کا مقصد انسان کو با اَخلاق اور اس کی سیرت سازی ہے۔علم ایک چراغ ہے جس سے انسان عمل کی منزل تک پہنچتا ہے۔علم و تعلم کا یہ مقدس اور اہمیت کا حامل فریضہ انسان کو جہاں ترقی کے منازل کو عبور کرنے میں معاون اور مددگار ہوتا ہے وہی اس پیشہ سے وابستہ افراد (استا اور شاگرد )کوآپس میں ادب و احترام، تواضع و انکساری اورایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کے ایک ایسے بندھن میں پروتا ہے کہ جہاں دونوں استاد اور شاگرد تعلیمی نظام کے دو اہم عنصر بن جاتے ہیں ۔استاد کی ذمہ د اری صرف سکھانا ہی نہیںبلکہ سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہیں ۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا:’’وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیںاس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے ‘‘(سورۃ ال

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کی مختلف قسمیں بہت تیزی سے رائج ہو رہی ہیں ۔نوجوان بہت تیزی کے ساتھ منشیات کاعادی ہوتے جا رہے ہیں ۔ شریف اور معزز خاندانوں کے بچے اس میں بُری طرح پھنس رہے ہیں ۔شراب اور دوسری منشیات کا پھیلائو بہت زیادہ ہے ۔شراب خانوں کے باہر  شراب لینے والوں کی لائینںلگی ہوتی ہیں۔ کہیں پر خفیہ اور کہیں پر کھلم کھلاشراب ، چرس اور دوسری منشیات کی فروختگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہاںجموں میں حال زیادہ ہی بُرا ہے ۔ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ منشیات کے متعلق قران اور حدیث کے مطابق روشنی ڈالیں۔میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ ایک ڈاکٹر ہوں میرے سامنے بہت شرمناک اور افسوسناک واقعات ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اشرف۔۔۔۔۔۔۔جموں منشیات کی خوفناک وباء............. نجات کےلئے انفرادی اوراجتماعی جد وجہد کی ضرورت جواب :۔ اللہ نے انسان کو جن مخصوص اور اہم نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں ایک

اسلام پیغامِ رحمت

امریکہ   سے ایک انسائیکلو پیڈیا چھپا جس کا نام ’’انسان اور اس کے معبود‘‘(MAN AND HIS GODS) ہے ۔اس میں مختلف مذاہب پر مقالے ہیں۔اسلام پر جو مقالہ ہے اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے عظیم نتائج کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں :’’اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے دھارے کا رُخ موڑا ہے ‘‘۔یہ ایک مستشرق کی زبان سے اسلام کی پیدا کردہ ان بنیادی تبدیلیوں کا گویا اعتراف ہے جنہوں نے اسلام کو باطل ادیان پر غلبہ پانااُسی طرح آسان کیا جیسے بارش کے بعد کھیتوں سے فصل اُگ آنا۔ تاریخ عالم شاہد ِعادل ہے کہ صرف اسلام ہی ایک انقلاب ہے جسے ہمہ گیر ،ہمہ جہتی اور اکمل ترین کہا جاسکتا ہے اور یہ انقلاب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے تئیس سال کے عرصہ میں جزیرۃ العرب میں برپا کیا۔ ا س سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسل

مرحوم مولانا اسرار الحق قاسمی

حضرت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رحمتہ اللّٰہ علیہ کے جنازے اور مٹی سے ابھی کچھ دیر پہلے گھر پہنچا ہوں۔ہمارے قافلے میں ضلع ارریہ کی بڑی بڑی شخصیات شریک جنازہ تھیں۔جنازہ عالم رُبانی حضرت مولانا انوار عالم صاحب نے پڑھائی،حضرت والا کے جنازے میں شریک ان کے شیدائی اور چاہنے والے انسانی سروں کا سمندر امڈ پڑا تھا،ہمیں ٹریفک کے پیش نظر تقریباً چار کلومیٹر پیدل چلنا پڑا،نظر جدھراٹھتی مردانہ وار قافلے کا قافلہ جنازہ میں شرکت کے لئے رواں دواں تھا،ہجوم کی وجہ سے جنازے کو کندھا تو نہ دے سکا، البتہ ہاتھ کا سہارا لگا کر ہی قلب ِمضطر کو سکون دے دیا۔بحمد اللہ لاکھوں کے مجمع میں نمازِ جنازہ کے بعد تین لپ مٹی دینے کی سنت بھی ادا کرنے کا موقع نصیب ہوا۔مٹی دینے کے بعد تین چیزوں نے حضرت والا کی عقیدت مندی میں مزید اضافہ کردیا ـ: ۱؍ حضرت والا کا گھر۔۲؍ حضرت والا کی مسجد۔۳؍ حضرت والا کا مدرسہ۔ جنازے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   سوال: گذارش یہ ہے کہ قرآن کریم بغیر وضو چھونے کی حدیث نقل فرمایئے۔ یہ حدیث کون کون سی کتاب میں ہے اور یہ بتائیے کہ چاروں اماموں میں سے کس امام نے اس کو جائز کہا ہے کہ قرآن بغیر وضو کے چھونے کی اجازت ہے۔ میں ایک کالج میں لیکچرار ہوں، کبھی کوئی آیت لکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ امید ہے کہ آپ تفصیلی و تحقیقی جواب سے فیضیاب فرمائیں گے ۔ فاروق احمد قرآن کریم کو بلاوضو چھونے کی اجازت نہیں جواب: بغیر وضو قرآن کریم ہاتھ میںلینا، چھونا،مَس کرنا یقینا ناجائز ہے۔ اس سلسلے میں حدیث ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم صرف باوضو انسان ہی چھوئے۔ یہ حدیث نسائی، دارمی، دارقطنی، موطا مالک صحیح ابن حبان،مستدرک حاکم اور مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شمبہ میں موجو د ہے نیز بیہقی اور معرفتہ السنن میں بھی ہے۔

علامہ انور شاہ کشمیری

ارشاد  باری ہے : ترجمہ: بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اور جو شخص اسلام کے بغیر کوئی اور دین لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔( سورہ آل عمران ۔۔۔آیت ۲۰ ) امام العصر اور محدث کبیر کا ذکر خیر ہو رہا ہو تو لامحالہ زبان پر بے ساختہ یہ شعر آتا ہے   ؎  زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا کہ نطق نے بوسے خود میری زبان کے لئے گوکہ علامہ کشمیری کی بلند پایہ علمی شخصیت اور ذات والاصفات سمیناروںاور مباحثوں سے بہت ہی بلند وبالا تر ہے، تاہم یہ بات عالم اسلام کیلئے بالعموم اور اہل کشمیر کیلئے بالخصوص قابل فخر ہے کہ علامہ انور شاہ کا  وطنی تعلق اسی وادیٔ کشمیر سے ہے ۔ غالباً ساتویں دہائی میں اوقاف اسلامیہ ( مسلم وقف بورڈ )کشمیر کے اہتمام سے سرینگر میں علامہ کے عظ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ محکمہ بجلی کے شیڈول کے مطابق بجلی میٹر والے علاقوں میں فل وولٹیج والی 24گھٹنے کی بجلی فراہم ہوناچاہئے لیکن ان میٹر والے علاقوں میں بھی بجلی کی لمحہ بہ لمحہ آنکھ مچولی سے عوام الناس بالخصوص درمیانہ اور غریب طبقوںکی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی کی اس آنکھ مچولی کے باوجود بھی بجلی کے بل توقع سے کئی گنازیادہ آتے ہیں ۔ اس صورت میں قلیل آمدنی والے ایک عیال دار شخص کی کمائی کا ایک اچھا خاصا حصہ بجلی فیس کی ادائیگی میں بے جا طور پر خرچ ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بجلی ہکنگ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے قلیل آمدنی والے عیال دار شخص کو کیا کرنا چاہئے؟ سوال:۔ جمعہ کو کون سی اذان ( یعنی پہلی یا دوسری) کے بعد کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم ہے؟ کئی کاروباری ادارے یا دکانیں دو مسجدوں کے درمیان واقع ہوتے ہیں اور ان اداروں یا دکانوں میں کام کرنے والے کارکنان بار ی

ذمہ دارانِ مدارس اور والدین سے

مالویہ نگر بیگم پور دلی علاقہ میں واقع وقف بورڈ کی مسجد ہے ،اس میں مدرسہ بھی قائم ہے، حال ہی میں ایک معصوم طالب علم کو کسی جھگڑے کے دوران شہید کردیاگیا۔اس الم ناک واقعہ سے قبل بھی مختلف علاقوں میں مدارس کے طالب علموں کے ساتھ مارپیٹ اور تشدد کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔افسوس صد افسوس مدارس سے محبت کرنے والے مخیر حضرات اگر اپنے قیمتی اوقات میں سے تھوڑی بہت فرصت نکال کر مدارس کا دورہ کریں ، ذمہ دارانِ مدارس سے صلح مشورہ کرکے طلباء کرام کی تعلیم وتربیت اور حفاظتی انتظامات میں دست ِتعاون پیش کریں ، اہل محلہ بھی ذمہ دارانِ مدارس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مدارس کی تعمیر وترقی میں مالی تعاون کے ساتھ ساتھ دیگر ہنگامی ضروریات کا بندوبست بھی ان کے شامل حال رہے تو بہت حد تک ایسے باگفتہ بہ حالات رونما ہونے سے رہ جائیں گے۔یہ بات محتاج تشریح نہیں کہ قوم کی تعمیر وترقی میں ہر فرد کی شرکت لازمی ہے ، محض

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:-نمازوں کے اوقات میں کافی وسعت ہے۔ اس وسیع وقت میں ہم اوّل وقت میں بھی نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور درمیانی وقت میں بھی اور آخری وقت میں بھی ۔ اب سوال یہ ہے کہ افضل کیا ہے ۔ کون سی نماز اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اور کون سی نماز دیر سے یعنی نمازکی تعجیل وتاخیر کے متعلق اسلام کا حکم کیاہے ؟ محمد یوسف شیخ سوپورکشمیر نماز میں تعجیل وتاخیر  جواب:-نماز کے اوقات کاوقت آغاز اور وقت اختتام دونوں کی تفصیل وتعین احادیث میں وضاحت سے بیان ہوئی ہے ۔ اوقات نماز میںچونکہ وسعت ہے کہ اوّل وقت سے لے کر آخر تک اتنا وقت ہوتاہے کہ ادائیگی نماز کے باوجود کافی وقت باقی رہتاہے ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتاہے کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے یا درمیانِ وقت میں یا آخری وقت میں ۔اس سلسلے میں بھی احادیث میں پوری تفصیل موجود ہے ۔ اس کا اجمالی بیان یہ ہے ۔ نماز فجر کی ادائیگی کا افضل وقت کیاہے

عبادت کی زینت تواضع اور اعتدال

اللہ  کاارشاد ہے :    ’’ہم (سب بندے)تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘(سورۃ الفاتحہ آیت:5)۔ اللہ خالق کائنات نے بے حد و شمار مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، بعض مخلوقات ایسی ہیں جن کا ہم ادراک کرسکتے ہیں اور بعض ایسی کہ جو ہماری قوتِ ادرک و قوتِ باصرہ  سے ماوراء ہیں لیکن ہر مخلوق کو اللہ نے کسی خاص مقصد کے لئے ہی پیدا فرمایا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جو بے فائدہ بے مقصد اور عبث ہو ۔ سورج چاند، زمین و آسمان، دن ، رات، حجر و شجر، بحر وبر سمیت جملہ مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، اُسے اَحسن طریقہ سے نبھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے کے لئے مسخر فرمایا ہے، تاکہ کائنات کا نظام بہترین ڈھنگ سے چل سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مخلوقات میں انسان کو اَشرف اور قابل احترام و لائقِ عزت بنایا ہے م

تازہ ترین