کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جسکی عورت کو خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہےاور اس کی مدت کتنی ہوتی۔ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہےکہ کون سے کام کرنا جائز ہے، کس کس کام کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہےنیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے۔ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں ؟ شمس الدین،شوکت احمد، محمد عارف سرینگر عدت کی اقسام اور مسائل  جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہو جائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلا

تحریک اسلامی

 22  فروری کی شب جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ وادی ٔ کشمیر کے کئی اضلاع اور تحصیلات میں متعلقہ پولیس نے امرائے جماعت کو اپنے گھروں سے گرفتار کیا ۔ یہ ایک ڈرامائی کارروائی تھی اور وردی پوشوں کے ہاتھ میں گرفتار شدہ گان کے خلاف کوئی دستاویز تھی نہ کوئی چارچ شیٹ۔ محبوسین کے گھر والے سراسیمگی کے ماحول میں جب یہ گرفتاریاں ہوتی دیکھتے تو حیرت کے عالم میں پولیس سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں ، جواب اتنا ہی ملتا کہ’’ اوپر سے آرڈر ہے، باقی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہے‘‘۔ گرفتار شدہ گان میں کئی زعمائواراکین عمر رسیدہ ہیں ، کئی ایک علیل ہیںاور کہیوں نے پولیس حکام سے بوجوہ گزارشیں بھی کیں کی کہ علی الصبح خود ہی تھانے میں رپورٹ کریں گے مگراُن کی ایک نہ سنی گئی۔ ایک ہفتہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ تادم تحریر وادی ٔ کشمیر کے علاوہ صوبہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال-کشمیر کی مساجد میں جو غسل خانے ہوتے ہیں۔یہ غسل خانے استجاء اور غسل کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی انسان مجبور ہوتاہے اور ان غسل خانوں میں پیشاب بھی کرتاہے ۔ چونکہ مساجد کے باہر پیشاب کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا اس لئے مجبور ہو کر ایسا کرناپڑتاہے اور بہت سارے لوگ مسجدوں کے باہر نالیوں میں سب کے سامنے پیشاب کرتے ہیں پھر مسجدوں کے غسل خانوں میں استنجاء کرتے ہیں مگر وہاں کچھ لوگوں کو دوبارہ پیشاب کے قطرے آجاتے ہیں ۔شریعت میں اس ساری صورتحال کا حل کیاہے ؟کیا مساجد میں پیشاب خانوںکاانتظام نہیں ہوناچاہئے ۔ فیاض احمد  تمام مساجد میں پیشاب خانوں کا انتظام انتہائی ضروری  جواب:-تمام مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ جیسے وہ مسجدوں کے لئے حمام ،گرم پانی ،وضوخانے، غسل خانوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح وہ مساجد میں پیشاب خانوں کا بھی انتظام کریں ۔اس

اسلام کا نظریۂ تعلیم

  بچوں  کی صحیح طریقہ پر تعلیم وتربیت ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جس کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشادہے : ’’اے ایمان والو!تم اپنے کو اور اپنے گھروالوںکو (دوزخ کی ) اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن (اور سوختہ )آدمی اور پتھر ہیں ۔جس پر تند خو(اور)مضبوط فرشتے (متعین ) ہیں ،جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو (فوراً ) بجالاتے ہیں۔( سورہ تحریم ،آیت نمبر ۶) چنانچہ آیت کریمہ اولاد کی تعلیم اور ان کی تربیت کی اہمیت کو بیان کرتی ہے ،اور اہل ایمان کو اپنے اہل وعیال کی تعلیم وتربیت کرنے اور انہیں اللہ کی اطاعت و فرمان برداری پر اُبھارنے اور اللہ کی نافرمانی وسرکشی سے باز رکھنے اور انھیں اچھی باتوں کی تلقین کرنے اور حسن ادب سے آراستہ کرنے کا حکم دیتی ہے تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ اس بھیانک او

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ پچھلے ہفتہ کے جمعہ ایڈیشن میں آپ نے کبیرہ گناہوں کی تفصیل شائع کی۔ اُن گناہوں میں ایک بڑا گناہ رشوت لینا بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رشوت کیا ہے؟ یعنی ہم کیسے کسی رقم کو رشوت کے زمرے میں لائیں گے جبکہ بعض دفعہ لوگ کسی کام کے بدلے میں رقم مانگ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری چائے ہے۔نیز یہ بھی بتایئے کہ رشوت کی شکلیں کیا کیا ہیں۔ بہت سارے ضروری کام رشوت دیئے بغیر نہیں ہو پاتے اور جب تک رشوت نہ دیں وہ کام لٹکے رہتے ہیں۔ کیا اس جگہ رشوت دینا بھی گناہ کبیرہ ہے تو پھر حل کیا ہے؟۔ اگر رشوت دیں تو یہ گناہ کبیرہ ہوگانہ دیں تو یہ کام نہیں بنے گا۔ اب مسلمان کرے تو کیا ۔رشوت خوری کے اس طوفان بدتمیزی سے بچنے کی تدبیر کیاہے۔حکومتیں رشوت خوری کو روکنے کےلئے قوانین بھی بناتی ہیں اور انسداد رشوت انٹی کرپشن ادارے بھی ہیں مگر عملاً نتیجہ صفر ہے۔ برائے مہربانی قرآن اور احادیث کے روشنی میں جواب عنایت فرم

اسلام کاگھریلو نظام

 اللہ  کی قدرت کا یہ کرشمہ ہے کہ جس مرد اور عورت میں کبھی ملاقات نہیں ہوتی کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ان کے دلوں میں نکاح کے ذریعے ایک دوسرے کے لئے محبت موجزن ہو جاتی ہے اور رحمت و ہمدردی کے سوتے پھوٹ پڑتے ہیں اور ایک دوسرے پر جان نثار ہو جاتے ہیں۔ یہ سب محض اللہ تعالی کی قدرت کا کرشمہ ہی تو ہے۔ ارشاد ربانی ہے: اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی یقینا غوروفکر کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔(روم،آیت:۲۱) نکاح زوجین کے مابین ایک معاہدہ ہے جس میں ایک طرف سے کفالت اور پرورش کی ذمہ داری ہے تودوسری طرف سے اطاعت وفرمان برداری ہے اور یہ نکاح درحقیقت ایک دائمی معاہدہ ہے جو اس عہد و پیمان سے اچھی طرح واقف ہوں تاکہ مستقبل میں یہ رشتہ مستحکم ثابت ہو۔دین اسلام میں نکاح کے ذریعے عورت او

دعائے خیر

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے   ؎  تو بچا بچاکے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ  گرشکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاہ آئینہ ساز میں   یہ بندہ ٔ مومن کا دل ہے جو اللہ کے حضور جتنا شکستہ اور نرم وملائم ہو اُتنا اس کی عبادت کو قبولیت اور دعا ؤںمیں اثر آفرینی آجاتی ہے ۔ دعا خدائے لم یزل کے بے حد ونہایہ خزانوں سے فیضیاب ہونے کا ایک نہایت ہی اہم ذریعہ ہے۔ دعا میں وہ طاقت ہے کہ لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل کردیتی ہے، آنے والے تمام مصائب کو دور کردیتی ہے ،مشکل حالات اورمصائب میں بندے کوگرفتار ہونے سے بچاتی ہے، رب العالمین کے ساتھ قرب بڑھاتی ہے۔  رسول اکر مؐ کا فرمان مبارک ہے کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے، لہٰذا دعاء میں عاجز مت بنو، اس لیے کہ دعا کے ساتھ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوسکتا۔(ابن حبان)۔ دعا ہر آئی ہوئی اور آنے والی مصیبت کے ازالے میں نافع ہوتی ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :۔ گناہ کبیر ہ کسے کہتے ہیں اسکی معافی کی کیا صورت ہے کسی ایسی کتاب کا نام بتائے جن میں گناہ کبیر کی ساری تعداد موجود ہو۔ اگر ایسی کوئی کتاب فی الحال دستیاب نہ ہو تو آپ خود گناہ کبیر کی مکمل تعداد تحریر فرما کر پوری امت مسلمہ پر اور خاص کر ہم اہل کشمیر پر احسان فرمائیے۔  محمد ادریس بٹ    گناہِ کبیرہ  جواب :۔ قرآن و حدیث میں جن کاموں کو سختی سے منع کیا گیا ہے یا جن کاموں پر اللہ کے غضب یا جہنم کی وعید سنائی گئی ہے وہ کام گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں۔ ان گناہوں کی تعداد مختلف علمائے امت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مختلف بیان فرمائی ہیں۔ اس کی مختلف علمی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ تعداد بیان کرنے میں رائیںمختلف ہوئیں۔ اہم گناہ کبیرہ کے متعلق سب کا اتفاق ہے۔ علامہ شمس الدین ذہبی ؒنے اپنی مشہور کتاب الکبائر اور علامہ ابن نجم مصریؒ نے گناہ ِ کبیرہ کی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

مثالی زندگی

 زندگی  تمام مخلوقات کے لئے بلاشبہ ایک نعمت ہے لیکن انسان کے لئے یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ انسان کو زندگی کا وہ اعلی مقام عطا کیا گیا ہے جہاںباقی تمام مخلوقات بے جان سے جاندار تک، ٹھوس سے گیس تک اور ذرے سے کہکشاںتک اسی کی خدمت کیلئے مسخر کئے گئے ہیں۔اللہ تعا لی فرماتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اللہ نے زمین اور آسمان کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اورچھپی نعمتیں تم پر تمام کر رکھی ہیں۔(لقمان ) کائنات کے ہر ایک چیز کی ساخت اور توازن ایک ایسی کامل اور بہترین کاریگری سے کی گئی ہے کہ بڑی سے بڑی اور باریک سے باریک نظربھی کوئی کمی محسوس نہیں کرسکتی ۔ستارے ،سیارے ،گردشِ ایام اور موسموںکا تغیر، قدرت کے یہ سارے مناظرایک تو انسان کی ذہنی و جمالیاتی حِس کو جلّا اور تقویت عطا کرتے ہیں اورساتھ ہی انسان کے سامنے اُس کامل توازن کی کُھلی کتاب بھی رکھ دیتے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔   مشتاق احمد جانباز امیرا کدل سرینگر تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل۔۔۔۔ پُرسا دینے کا شرعی طریقہ جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا تع

برائیاں اور گمراہیاں!

  ہمارے  معاشرہ کی مختلف برائیوں میں سے چند برائیاں کافی عام ہوگئی ہیں،ان کی ہمیں مشترکہ طور اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان برائیوں اور گمراہیوں کی ایک اجمالی تصویر  پیش خدمت ہے :   دینی تربیت کا فقدان :قرآن وحدیث میں علم کی اہمیت کا  بار بار احساس دلایا گیا ہے، حتی کہ پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’اقرأ‘‘بھی یہی رہنمائی کرتی ہے ۔ قرآن وحدیث میں جہاں بھی علم کا ذکر آیا ہے، وہاں وضاحت موجود ہے کہ اُسی علم وعرفان سے دونوں جہاں میں بلند واعلیٰ مقام ملے گا، اسی کے ذریعہ انسان اپنے حقیقی خالق ومالک ورازق کو پہچانے گا اوراسی کے ذریعہ دل میں جوابدہی کا احساس  اوراللہ کا خوف پیدا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ یہ خصوصیات پہلے قرآن وحدیث کے علوم ومعارف اور دوم دنیا کے علم ِنافع اور فنونِ صالحہ  کے امتزاج سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ آج کل ہم عصری تعلیم

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س:-ہماری شادی کوتین سال ہوگئے مگر ابھی تک بچہ نہیں ہوا۔ اس بارے میں کچھ نجی قسم کا مسئلہ ہے جس کو ظاہر کرنا بھی مشکل ہے ۔اب کچھ دوست ٹیسٹ ٹیوب کا مشورہ دیتے ہیں۔میں پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکاکہ یہ ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے ۔ کیسے ہوتاہے اور پھر اسلام میں اس کی اجازت ہے یا نہیں ۔ اب میرے ذہن میں یہ باتیں حل طلب ہیں : ٹیسٹ ٹیوب کیا ہوتاہے؟ یہ اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟ جاوید احمد جائز تولید میں سائنسی تکنیک کا سہارا لینا دُرست IN VITRO FERTILIZATION l شوہرکا نطفہ بیوی کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ جائز ہے۔ l اجنبی مرد کا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ l شوہر اور بیوی کا نطفہ اور بیضہ اجنبی عورت کے رحم میں رکھا جائے تو بچہ ناجائز ہوگا۔ جواب:- اللہ تعالیٰ کی تخلیق کاشاہکار خود انسان بھی ہے۔ اس کی تخلیق کا فطری طریقہ ہے کہ مرد وع

دیارِ حبیب ﷺ میں حا ضر ی

گھر سے مرادحضرت عائشہ ؓ صدیقہ کاحجرہ پاک ہے ،جس میں حضورپاک ﷺ کی مرقد مبارک ہے اورجوحضرت بی بی فاطمہ ؓ کے حجرہ کے پیچھے ہے ۔یعنی یہ جگہ حقیقت میں جنت کاٹکڑا ہے جواس دُنیامیں منتقل کیاگیاہے اورقیامت کے دن یہ ٹکڑاجنت میں چلاجائے گا۔اسی ریاض الجنتہ میں حضورسرورِکونین ﷺ کامصلیٰ بھی ہے ،جہاں آپ ﷺ کھڑے ہوکرامامت فرمایاکرتے تھے ۔اس جگہ آج ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے جومحراب مسجدِ نبوی ﷺ کہلاتی ہے۔حضوراکرم ﷺ کے وصال کے بعدمصلیٰ رسول جیسی متبرک جگہ کی تعظیم کوبرقراررکھنے کی غرض سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے حضورﷺ کی نمازپڑھنے کی جگہ سوائے قدم مبارک کی جگہ چھوڑکرباقی جگہ پردیواربنوادی تھی تاکہ آپ ﷺ کے سجدہ کی جگہ لوگوں کے قدموں سے محفوظ رہے۔ بعدمیں ترکوں نے بھی اس دیوارکی حدتک محراب بنوائی ۔ چنانچہ اب اگرکوئی حاجی مصلیٰ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوکرنمازپڑھے تواس کاسجدہ حضوراقدس ﷺ کے قدموں کی جگہ پڑتاہے۔

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ آج کل سردیوں کے موسم میں بہت سارے نمازی حضرات کو پریشانی رہتی ہے کہ بار بار وضو ٹوٹتا ہے۔ سردی کی شدت سے پیشاب آنے کی پریشانی رہتی ہے۔ پیشاب پھیرلینے کے بعد بھی قطرے آتے رہتے ہیں۔ کبھی پیشاب کیا، وضوکرنے بیٹھ گئے پھر قطرہ آگیا۔ کچھ لوگوں کو گیس کی شکایت رہتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص کیا کرے۔کیا معذور شخص اس طرح نماز ادا کرسکتا ہے۔ بار بار وضو کرنا بڑی مشکل بات ہے ۔شرعی طور پر اس کےلئے کوئی رخصت ہے کہ ایسے نمازی کو کوئی آسانی یا معافی میّسرآئے۔ شرعی طور پر یہ معذور ہے یانہیں؟ محمد عادل باغ مہتاب سرینگر قطروں کا عارضہ اور وضو کی بار بار ضرورت۔۔۔۔ ایک اہم مسئلہ  جواب:۔ شرعی طور پر معذور وہ شخص کہلاتاہے جس پر ایک نماز کا مل کا وقت اس حالت میں گذر جائے کہ اس کا عذر تسلسل سے اس طرح جاری رہے کہ وہ وضو کرکے طہارت ہی کی حالت میں نماز مکمل نہ پڑھ پائے۔

دیارِ حبیب ﷺ میں حا ضری

  سید المرسلین رحمتہ اللعالمین ﷺ  سرورِ کائنات ،فخرموجودات ،تاجدارمدینہ، سیدنامحمد ﷺ کے روضۂ پاک کی زیارت بالاجماع اعظم قربات اورافضل طاعات میں سے ہے اور روحانی ترقی ٔ درجات کا زینہ ۔خودرسالت مآب فخرعالم ﷺ نے اس زیارت کی ترغیب دی ہے اورباوجودقدرت کے زیارت نہ کرنے والوں کوبے مروت فرمایاہے ۔خوش نصیب ہے وہ شخص جس کواس دولت سے نوازاجائے اورکم نصیب ہے وہ جو باوجودقدرت و وسعت کے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رہ جائے ۔(ترجمہ): حضوراکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جوشخص میری زیارت کرے گا،قیامت کے دن وہ میرے پڑوس میں ہوگا۔((رواہ البیہقی فی شعب الایمان ،مشکوٰۃ )۔’’جس نے حج کیا پھرمیری قبرکی زیارت نہ کی،اس نے مجھ پرظلم کیا‘‘۔(رواہ ابن عدی البندحسن (شرح الباب) ’’جس نے میری قبرکی زیارت کی،اس کی شفاعت مجھ پرواجب ہوگئی ‘‘۔(رواہ الدارقطنی والبزار

دوطرفہ اعتماد !

حضوراقدس ﷺ کے جوامع الکلم میںآیا ہے’’ اعتماد میرا خزانہ ہے‘‘ ۔پیغمبر برحق ﷺ جس چیز کو خزانہ فرمادیں ،اُس کی وسعتوں کا عالم کیا ہوگا ، اُس کے سامنے تمام دنیاوی مال ومتاع ،منصب وعزت ،علم وآگہی، حکومت وسلطنت کچھ بھی نہیں ۔قیادت ہو یا ملت ،حاکم ہو یا رعایا،مبلغ ہو یا سامع، اُن کے درمیان اعتماد کے نام سے ایک نازک رشتہ مستحکم بنیادوں پر ا ستوارہوتو سب کچھ ٹھیک ٹھاک لیکن اگر اعتماد  کا یہ اٹوٹ رشتہ مفقود یا ڈھمل ہو تو یہ دوطرفہ تعلقات اکارت جاتے ہیں ۔اعتماد کا ماخذ عمد ہے جس کے معنیٰ ستون ہے ۔ہر عمل کی کامیابی کی شاہ کلید عدل ،دیانت ،سچائی اورقربانی ہے ۔ یہ چار ستون باہمی اعتماد کے اینٹ گارے سے بنتے ہیں۔جس قوم یاقیادت میں یہ ستون مضبوطی کے ساتھ موجود ہوں وہ صفحۂ ہستی سے ہرگز مٹ نہیں سکتی لیکن اگر ستون گر جائیں تو قوم اور قیادت کی کتنی بھی قربانیاں ہوں وہ منزل م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟ ارجمند اقبال…صورہ ،سرینگر اولاد اور زوجہ کاخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع ک

اخلاق وتواضع کے پیکر

ندوۃ  العلماء کے معتمد تعلیم، ہردلعزیز اُستاد ،مشہور عالمِ دین ،عظیم مفکر ،علم وعمل کے پیکر، زبان وادب کے میدان کی قدآورشخصیت، عربی زبان کے مایہ ناز ادیب، نیک سیرت وخوش کلام حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ؒ کے انتقال کی المناک وغم انگیز خبر16؍جنوری کو بجلی بن کر گری ۔اناللہ واناالیہ راجعون ۔سانحۂ ارتحال کی اندوہ ناک خبر سے دینی حلقے مغموم و متفکر ہوئے۔ مولاناواضح رشید حسنی ندوی ؒ کا انتقال سے نہ صرف ندوۃ العلماء سوگوار ہوا بلکہ پورا عالم اسلام ایک جید عالم دین، عظیم مفکر ، ماہر عربی زبان، مایہ ناز ادیب ،باکمال صحافی اورمحسن علم ِواد ب سے محروم ہوا ۔ مولانا 83؍برس کے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو علم وعمل دین وتقویٰ اخلاق وسلوک اوررواداری کی عظیم نعمتوں سے نواز ا تھا ،آپ دین کے سچے علمبردار تھے ، زندگی انتہائی سادگی وتواضع، فنائیت  واستغنا ء ،بے نفسی اوربے غرضی سے عبارت

نیک دل ملکہ زبیدہ خاتونؒ

طاقت  اقتدار کا حصول انسانی فطرت کا خوفناک ترین رنگ ہے جس کو بھی اقتدار کا حاصل ہو جائے اور وہ اقتدار کے چوبارے پر براجمان ہو جائے تو زیادہ تر انسان خود کو زمینی خدا سمجھ کر انسانوں کو جانوروں کے ریوڑ سمجھ کر ہانکتا شروع کر دیتا ہے ‘اقتدار کے جھولے پر سوار ایسے بے عقل حکمران سمجھتے ہیں کہ میں ہی پہلا اور آخر ی حکمران اِس دھرتی پر آیا ہوں ‘ جو اقتدار مجھے نصیب ہوا ہے اِس کا اہل صرف اور صرف میں ہی تھا ‘ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ جس مٹی سے اُس کی تخلیق ہو ئی باقی انسان بھی اُسی مٹی سے بنتے ہیں لہٰذا دھرتی پر آنے والا ہر مشت ِ غبار چاہے وہ بادشاہ ہو یا گدا گر‘ پیغمبر ولی تما م فانی کے جسم گردش شب و روز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بڑھاپے اور پھر موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ‘ جب بھی کو ئی انسان اقتدار پر قبضہ جماتا ہے تو وہ اِس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ

تازہ ترین