۔35اے اور الیکشن بائیکاٹ !

 پچھلے  کچھ مہینوں سے ۳۵A کے سلگتے موضوع پرجتنا کچھ کہا گیا یا لکھا جاچکا ہے ،اس سے ریاست کاکم سے کم پڑھا لکھا آدمی بھی اس آئینی دفعہ کی نوعیت ، اہمیت اور حساسیت سے تھوڑا بہت واقف ہوچکا ہوگا۔ تعصب اور تنگ نظری کا کھیل ایک طرف، اس دفعہ کے ساتھ عدالتی کارروائی کے ذریعے ممکنہ چھیڑ چھاڑکے خلاف جس قدراحتجاج ہوا ، اس پر پارٹی ، خطہ اور زبان ومذہب سے ماوراء ہوکر رائے عامہ ریاست میں جتنا برہم ہو ا،وہ کشمیر کی سیاسی تاریخ میں واقعی اپنی جگہ ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ غور طلب بات ہے کہ اس احتجاج اور برہمی میں بجز فرقہ پرست ٹولیوں کے باقی سارا جموں کشمیر لداخ متحد بھی ہے اور ہم خیال بھی ، آواز ایک ہے اور نعرہ بھی واحد ہے۔ حتیٰ کہ حریت کے جھنڈے تلے متحدہ مزاحمت نے بھی کم و بیش اس دفعہ کے دفاع میں اپنا بھاری بھر کم وزن ڈالا اور عوامی احتجاج کی پذیرائی میں کوئی بخل نہ کیا لیکن ہمیں یہ نہ ب

بھا جپا کی مہربانیاں!

  ابھی ۱بھی روس سے میزائل ٹیکنالوجی کا ڈالر میں سودا ہوا ہے۔ڈالر کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے ایک دن میں ملک کو ۲۵۰؍کروڑ کا چونا لگا ہے۔ اسی طرح رافیل کا سودا بھی ڈالر ہی میں ہوا ہے جو نہ جانے اب کہاں پہنچ گیا ہوگا؟ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں ۴؍ روپے کی گراوٹ کا مطلب ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا مزیدنقصان۔ان تمام نقصانات کا حساب مانگنا اب عوام کی ذمہ داری ہے۔اِس بار تو یہ کمال بھی ہو گیا کہ وزیر اعظم مودی بہ نفس نفیس روسی صدر پوتن کا استقبال کرنے یا اُنہیں لینے ائر پورٹ نہیں گئے اوربلکہ وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھیج دیا۔پوتن نے اس کا برا مانا یا نہیں یہ تو وہی جانیں لیکن وہ ائر پورٹ سے سیدھے وہ وزیر اعظم نواس گئے جہاں انہیں لنچ کرنا تھا۔مودی جوشیخ حسینہ تک کو لینے ائر پورٹ چلے جاتے تھے،اس بارپوتین کے ساتھ ایسا کیا ہو ا کہ اس سے احتراز کرنا ضروری سمجھا گیا ،یہ راز و نیاز سمجھنا کوئی

تازہ ترین