تازہ ترین

دلی کی غلطیاں!

ریاست  کے گورنر ستیہ پال ملک نے چار اکتوبر کو ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ نئی دلی کی غلطیوں کے سبب بھارت کشمیریوں کیلئے ایک قابض قوت ہے۔ریاست میں اب تک تعینات کسی بھی گورنر کی جانب سے اس طرح کا بیان سامنے آنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اُمید تو یہی جاگی ہے کہ گورنر صاحب کا بیان معنی کے لحاظ سے سمجھ آنے والے لفظوں کی قید سے باہر نہیں ہے لیکن شومیٔ بخت کہ اس انٹرویو کے ایک ہی دن بعد مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ریاست میں نقص ِامن اور جنگجو ئیانہ سرگرمیاں جاری رہنے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں سمیت جموں کشمیر کی پوری آبادی امن اور جمہوریت کے حامی ہیں اور ۹۰ فیصد لوگ لوکل باڈیز انتخابات میں حصہ لینے کے طرف دار ہیں۔ ایسا کہا جاسکتا ہے کہ راج ناتھ جی نے گورنر ملک کا انٹرویو نہیں پڑھا تھا یا پھر پڑھ کر اس کی اَن سنی کی گئی ہے۔ انٹرویو می

فیس بُک

جب  کمپیوٹر ایجاد ہوا، ہم نہال ہوئے۔ اسے فرو غ ہوا تو ہم کھل اٹھے۔ پھر اس میں شاخیں پھوٹیں تو گویا موسم گل آگیا ، یہاں تک کہ اس میں وہ شاخ نکلی جسے فیس بک کا نام ملا، کسی نے اس کا ترجمہ کیا’ کتاب چہرہ‘۔وہ ایجاد نہیں تھی، اعجاز تھا۔ ایک ایسا سادہ ورق جس پر ہر ایک کو حق تھا کہ اپنی بات لکھے۔ ہم جو خدا جانے کب سے پستیوں میں جی رہے تھے، اس خیال ہی سے سرشار ہوگئے کہ ہمیں اپنی بات کہنے کی آزادی ہوگی۔ ہم کہیں اور سنا کرے کوئی۔ گفتگو ہوگی،مکالمہ ہوگا۔ جواب طلب بات کا جواب آئے گا۔ بات جواب طلب نہ ہوئی تو رائیگاں بھی نہ جائے گی اور سنی جائے گی۔ بس،ان پستیوں میں رہ کر ہم اس سے زیادہ سوچنے کے اہل بھی نہ تھے۔ ہمیں کیا،ہمارے فرشتوں کے گمان میںبھی نہ تھا کہ یہی کمپیوٹر کے پردے پر جھلملانے والا یہ چہرہ ،یہی کتاب چہرہ آگے چل کر بد ہیبت، بد شکل بھی ہو سکتا ہے۔ پھر جو ہوا وہ کہتے ہوئ

انگر یزی کا غلبہ

برطانیہ کے مشہور تاریخ دان لارڈ مکالے 1834 سے 1838 تک ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بورڈ آف کنٹرول کے سیکرٹری تھے۔ 1835میں انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’ میں نے ہندوستان کے طول و عرض کا سفر کیا ہے اور ہندوستان کی فضا میں سانس لی ہے۔ میں نے اس دوران ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو بھک منگا اور چور ہو۔ اس ملک میں اتنی دولت دیکھی ہے، اتنی اعلیٰ اخلاقی قدریں دیکھی ہیں اور اعلیٰ قابلیت کے لوگ دیکھے ہیں۔ ہم اس ملک کو اس وقت تک فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم اس قوم کی ریڑھ کی ہڈی کو نہیں توڑتے جو اس کا روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے۔ لہٰذا اس ملک پر تسلط جمانے کے لیے ہمیں اس قوم کے موجودہ تعلیمی نظام اور اس کے کلچر کو تبدیل کرنا لازمی ہے تاکہ یہ قوم یہ محسوس کرنے لگے کہ غیر ملکی اور انگریزی تہذیب ان کے کلچر سے اعلیٰ ہے یوں یہ قوم اپنی خود داری کھو بیٹھے گی۔ لارڈ مکا

چاکِ گریباں!!!

چند  ایام قبل میں نے اپنے ایک کالم زیر عنوان ’’اپنی بات‘‘ کے اخیر میں لکھا تھا : البتہ یہ بتانے میںعار نہیں سمجھتا کہ دین کو ہم نے پکوڑے بناکر چبا ڈالا ہے اور اُسی وجہ سے غیر مسلم ہمارے سر پر سوار اور سینے پر مونگ دل کر مزہ لیتے ہیں۔ مندرجہ بالا سطور میں لفظ غیر مسلم پر ہمارے چند قارئین نے اعتراض کیا تھا کہ اس طرح سے بات فرقہ پرستانہ (communalize)ہوجاتی ہے ،یا بہ الفاظ دیگر اس جملے سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے ۔ٹھیک ہے آپ کا فرمانا بجا ہے مگر یہ تو فرمایئے کہ میں نے لفظ ہندوؔ کہاں لکھا تھا اور جب ہندو نہیں لکھا تھا تو پھر یہ بات آپ اپنی طرف کیوں موڑ رہے ہیں یا اِسے اپنی قوم کے ساتھ جوڑرہے ہیں۔ عیسائی،یہود،بودھ،کمیونسٹ،سکھ ،آدھی واسی ،جنگلی،ہندوستان کے کے نارتھ ایسٹ میںرہنے والی کئی ذاتیں اور ٹرائب نکسل وادی ،آریہ سماجی ،منگول،بوڈو ،اُلفا ، ظلمات یا ش

واہ رےسیاست!

ان  دنوں جب رافیل تنازعہ پر وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ گیا تو اچانک بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کوپاکستان کی یاد آگئی۔سیاست کی نیرنگیاں بھی عجیب ہیں۔ کون کب کہاں اور کس سے فائدہ اٹھا لے گا، یہ کہنا مشکل ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کو ید طولیٰ حاصل ہے۔ وہ خود کوایک دیش بھکت سیاسی جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے۔ اس کے نزدیک اس روئے زمین پر ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن اگر کوئی ہے تو وہ پاکستان( بمعنی مسلمان) ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سیاسی حریفوں کو زیر کرنے کے لیے اکثر و بیشتر پاکستان سے ہی مدد لیتی ہے۔ ہر آڑے وقت میں اور ہر مشکل گھڑی میں جب کوئی سہارا نہیں ہوتا تو وہ مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ دیتی ہے اور دنادن گولیاں چلانے لگتی ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان کی شان میں مغلظات کا ن

رہے نام اللہ کا!

کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ کوئی ملک آزاد بھی ہو اور غلام بھی، لیکن آج بھی ہم جدید دور میں کچھ ایسا دیکھ سکتے ہیں، کچھ ممالک ہیں جو زور آوروں کے غلام ہیں، کچھ طاقت ور اپنی انا کے غلام ہیں اور کچھ برتری کے زعم میں مبتلا ہیںاور کچھ حماقت کے سبب نقصان برداشت کر رہے ہیں، متعدد ایسے بھی ہیں جو عالمی ساہو کاروں کے اُدھار پر جی رہے ہیں، امن دشمن، انسانی حقوق کی پامالیوں پر اترانے والے، آگ  کے رسیا خون کے پیاسے، کھیت کھلیان بنجر بنانے والے ،باغات خاکستر کر نے والے، شفاخانے منہدم ، اسکول مقفل اور قبرستان آباد کر نے والے۔ اس کے باوجو امریکہ ان کا دوست نماآقا ، یہ امر یکہ کے جی حضوری ۔ لیکن انہیں علم نہیں کہ آج طاقت کا زمانہ نہیں ، علم، سائنس ، تہذیب کا دور اور مفادات کی نگہبانی کا وقت ہے ۔ابھی کل کی بات ہے کہ اوائل 2017ء میں جب امریکہ کے نئے صدر وائٹ ہاؤس میں تشریف لائے ، اپنی سپریم مل

ٹرمپ: صاف گوئی یا سمع خراشی؟

گزشتہ  دنوں امر یکی صدر ٹرمپ نے کھلے عام چیتاؤنی دی کہ اگر امر یکہ شاہانِ سعود کی محافظت اور مدد نہ کرے، ان کاقصہ ود ہفتوں میں تما م ہوگا ۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چپقلشوں اور شکر رنجیوں کے پس منظر میں ایک مبنی بر حقیقت اعلان ہے ۔عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ اور امریکہ کی طرف سے مسلسل لگائی گئی تجارتی پابندیوں کے باوجود مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ایران کے عزائم اور حوصلے ابھی تک سرد نہیں ہوئے ہیں ۔ اس نے روس کی مدد سے عراق شام لبنان یمن اور بحرین وغیرہ میں اپنی ملیشیاؤں کا ایک زبردست نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے تاکہ وقت آنے پر وہ اپنے عزائم کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکے۔ ایران کے مقابلے میں آل سعود کی کیا اوقات ہے، ا س بارے میں ٹرمپ کا حالیہ بیان چشم کشا ہے۔ جو لوگ حرمین شریفین کی حفاظت نہیں کرسکتے وہ مملکت حجاز کی کیا حفاظت کرسکتے ہیں ؟سن اسی کی دہائی میں ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ج