تازہ ترین

! دلی کی آغوش علی گڑھ کی بانہیں

 جامعہ ملیہ اسلامیہ اوکھلا کے جامعہ نگرعلاقے میںواقع ہے۔کیمپس زیادہ وسیع ویض تونہیں،البتہ عوام کے عبور و مرور کے لیے بنی سڑک کے اطراف میںمذکورہ یونیورسٹی کا احاطہ پڑتاہے۔ایک طرف ’’ایوانِ غالبؔ‘‘ اورسڑک کی دوسری جانب ’’باب ابولکلام آزاد‘‘ واقع ہے۔ شعبہ جات بکھرے پڑے ہیں۔’’ایوانِ غالب‘‘کے صدردروازے پرچچاغالبؔ کاپُتلا نصب شدہ ہے۔ حدتِ موسم ہو،بادِتندہویاموسلادھاربارشیں ،غالبؔ کاپتلاہاتھ میں’’کتاب‘‘ لئے علم کی پیاس بجھانے کی ترغیب دیتارہتاہے۔’’ایوانِ غالب ‘‘کے صحن میں طلباء و طالبات کا جم ِغفیررات دیر گئے تک کینٹین کا محاصرہ کئے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ کشمیر میں اگر ایسا منظر ہو تو انتظامیہ بھیڑ کی روح قبض کرنے کے لئے دفعہ۱۴۴؍ لگالیتی۔ یہاں چائے ، کافی، گرین ٹی کا غیرمخ

آخر کب تک؟

 تعلیم سرکاری اداروں میں دی جارہی ہو یا نجی اداروں میں، تعلیم ایک نور ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینے کے لئے زمین آسمان ایک کردیتے ہیں۔وہ اس کے لئے صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، اپنی جمع پونجی لُٹا دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے تعلیمی اداروں میں یہ تعلیم کون دے رہا ہے؟ ظاہر ہے اساتذہ۔ دینی اور دنیوی تعلیم کے لئے ادارے بھی الگ الگ ہیں اور اساتذہ بھی الگ الگ ہیں۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے۔ غالباً مغرب کی یہ سوچ کہ مذہب کو دنیوی امور سے الگ رکھنا چاہیے، ہمارے مذہبی شعور کا بھی حصہ بن گئی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک الگ موضوع ہے۔ دوسرا مسلہ سردست یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ  اپنے فرائض منصبی سے جی چُراتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کو بھی غیرسرکاری یا مشنری سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ ایک بیمار معاشرے کی زندہ مثال بھی۔ ایک استاد جس ادارے سے رزق

انصاف کا انتظار ہے

جسٹس   رنجن گوگوئی نے بھارت کے سپریم کورٹ کے چھیالیسویں (46)چیف جسٹس کی حیثیت سے حال ہی حلف اُٹھا لیا ہے۔ جسٹس گوگوئی رواں سال میں اُس وقت عوامی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے جب اُنہوں نے۱۲؍جنوری کو دیگر تین سینئر ججوں کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس میں اپنے پیش رو چیف جسٹس دیپک مشراپر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے عہدے اور طاقت کا غلط استعمال کرکے سپریم کورٹ آف انڈیا جیسے ادارے کی بنیادوںکو کمزور کررہے ہیں۔الزامات میں اہم ترین الزام یہ تھا کہ چیف جسٹس نہایت ہی حساس کیسز کو ادارتی ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ججوں کے مخصوص بینچ کے سپرد کرتے ہیں۔چار سینئر ججوں نے ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی ایسی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں براہ راست ہندوستانی عدلیہ کے سب سے بڑے منصب پر فائز فاضل جج پر نہ صرف تنقید کی گئی بلکہ اُن پر الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ ا

کشمیر ڈائیلاگ کے بغیر چارہ نہیں

   ۱۹۴۸ء میںوزیراعظم ہندجواہرلال نہرو نے اقوامِ متحدہ میں کشمیر مسئلہ حل کرنے کا جو تاریخی وعدہ دیا تھا، اسی وعدے کے پس منظر میں 27 ؍دسمبر 1962ء کو راولپنڈی میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ ذولفقار علی بھٹو اور سردار سورن سنگھ کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔یہ پہلا موقع تھا جب 1948ء میں کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی اور کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے استصواب رائے کے بارے میں قرارداد کی منظوری کے بعد دونوں ملک روبرو بات چیت کی میز پر تھے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان کئی بار ملاقاتیں ہوچکی تھیںلیکن ان میں کشمیر مسئلے پر کبھی گفت وشنید نہ ہوئی تھی۔بہرحال مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لئے بٹھو۔ سورن مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو 27دسمبر 1962ء سے لے کر 16مئی1963ء تک جاری رہا۔ان مذاکرات کے چھ ادوار راولپنڈی، دلی، کراچی، کلکتہ، کراچی اور

پڑیئے گر بیمار

اس   لیکن مرزا عبد الودود بیگ کااندازسب سے نرالا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ انھیں میری دل جوئی مقصود ہوتی ہے یااس میں ان کے فلسفہ ٔحیات و ممات ہونے کو دل نہیں چاہتا۔ تندرستی وبال معلوم ہوتی ہے اورغسل صحت میں میں تمام قباحتیں نظر آتی ہیں، جن سے غالبؔ کو فکر وصال میں دو چار ہونا پڑا   ع کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں، ہو تو کیوں کر ہو اکثر فرماتے ہیں کہ بیماری جان کا صدقہ ہے۔ عرض کرتا ہوں کہ میرے حق میں تو یہ صدقہ جاریہ ہو کر رہ گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے خالی بیمار پڑ جانے سے کام نہیں چلتا، اس لئے کہ پسماندہ ممالک میں ؎ فیضان علالت عام سہی، عرفان علالت عام نہیں ایک دن میں کان کے درد میں تڑپ رہا تھا کہ وہ آ نکلے۔ اس افراتفری کے زمانے میں زندہ رہنے کے شدائد اور موت کے فیوض و برکات پرایسی موثر تقریر کی کہ بے اختیار جی چاہا کہ انہی کے قدموں پر پھڑپھڑا کر اپنی جان آ