کر گل کے لئے وعدۂ فردا

 علامہ  اقبال کا یہ شعر ہم پر سوفیصد صادق آتاہے     ؎     ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دِیابھی  گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن  کوئی چار دہائی قبل جموں کشمیر ریاست لداخ سمیت سات اضلاع میں تقسیم ہوئی تھی۔پھر شیخ محمد عبداللہ کے دور حکومت (۱۹۷۷ء۔۱۹۸۲ء) میں وادی اور جموںکے چھ اضلاع کو دوگنا کرکے بارہ کردیا گیا اور لداخ ریجن (لیہہ) میں بھی کرگل نام سے ایک ا ور ضلع کا اضافہ کیا گیا تھا۔ تب اس طرح سے کل ملا کر ریاست میں ۱۴؍ اضلاع کام کرنے لگے تھے۔ آگے چل کر غلام نبی آزاد (۲۰۰۵ء تا ۲۰۰۸ء) کے دور حکومت میں کشمیر وادی میں چار مزید اور جموں صوبے میں بھی چار اضافی اضلا ع قائم کئے گئے۔ دستورِ حکمرانی میں وقت گزرجانے، علاقے (ملک) میں ترقی ہونے اور آبادی میں اضافہ ہوجانے کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط میں اصلاحات اور رقبہ جات کی نئے سرے سے

گمشدہ ستارے

خواجہ  عبدالغفار ڈار  1916ء میں موضع آسوز تحصیل کولگام کے خواجہ عبدالقادر ڈار کے یہاں پیدا ہوئے۔ آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب سے مولوی فاضل کیا۔ دوران تعلیم کشمیری طلبہ نے ایک سماجی تنظیم ’’بزم کشاہ مرہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا تھا۔ خواجہ عبدالغفار ڈار اس انجمن کے سیکرٹری مقرر ہوئے ۔ یہ انجمن کشمیری طلبہ کی فلاح و بہبود پر کام کرتیْ تھی۔ 1931ء کی تعطیلات میں گھر آئے ۔ اُنہی دنوں بجبہاڑہ میں مہاراجہ کے ظلم و ستم کے خلاف ایک جلسہ ہوا۔ مولوی عبدلواحد صاحب نے مہاراجہ کو للکارا اور ڈار صاحب نے ایک  انقلابی نظم پڑھی۔ شام کو گھر جاتے ہوئے ڈار صاحب کو اطلاع ملی کہ ڈوگرہ پولیس نے مولوی صاحب اور ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے ان دونوں کو روپوش ہونا پڑا۔ مولوی صاحب مظفرآباد میں گرفتار ہوئے، جہاں ڈوگرہ سپاہیو

بااختیار طبقہ ہمیشہ پاور میں رہتا ہے!

2001میں جب اُس وقت کے وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھانپ لیا کہ کشمیر میں پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس کے متبادل کے طور پروجیکٹ کیا جارہا ہے تو انہوں نے اولین فرصت میں ایک قانون منظور کروالیا جس کے تحت تمام سابق وزرائے اعلیٰ تاحیات سرکاری مہمان ہونگے اور ان کے سیکورٹی پروٹوکال پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اُسوقت اُن کے بہنوئی اور سابق وزیراعلیٰ جی ایم شاہ سفرحیات کے آخری زینے پر تھے۔ انہیں آناً فاناً زیڈ پلس سیکورٹی دی گئی اورسٹیٹ گیسٹ کے طور سرکاری بنگلہ میں شفٹ کیا گیا۔دوسرا فوری فائدہ یہ ہوا کہ 2002میں جب نیشنل کانفرنس سب سے زیادہ یعنی 28سیٹیں جیتنے کے باوجود پی ڈی پی کے ہاتھوں اقتدار سے بے دخل ہوگئی تو فاروق عبداللہ بھی سرکاری مہمان ٹھہرے۔ بعدازاں عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کا معاملہ بھی بیرون اقتدار اسی اصول پر چلا۔  دراصل کشمیرمیں اقتدار چاہے سیاستدان کے پاس ہو یا بیوروکریٹ

آرام طلب ’’مبصرین ‘‘سے دو باتیں....قسط 2

چلئے دو منٹ کیلئے اس لفاظیت کا ذائقہ بھی چکھتے ہیں کہ ہماے نوجوان ’’جذبات‘‘میں آکر اور ’’خوب و ناخوب ‘‘کی تمیز کئے بغیر بندوق کے ’’ہیرو ازم ‘‘ (Heroism)میں آکر اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔اگر ایسا بھی تسلیم کریں،حالانکہ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ یہ محض بہتان ہے ،پھر بھی کیا ایک آدھ مثال ایسی دی جاسکتی ہے کہ کسی ملی ٹنٹ نے آزادی پسند قیادت پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے بہکاوے میں آکر اس منزل کے راہی بن گئے یا ان کے والدین نے دبی زبان میں بھی اس قسم کی شکایت کی ۔بلکہ جیسا کہ اخباری رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی جدائی پر جہاں فطری طور غم زدہ ہوتے ہیں ،وہیں خود کو خو ش قسمت بھی سمجھتے ہیں۔خود بھارت کے متعدد صحافی کئی معروف کمانڈروں کے والدین سے اس طرح کے سوالات پوچھتے آئے ہیںلیکن ہر بار ان کو یہ

آخری آرام گاہ!

15؍ فروری  ۱۸۶۹ء کو دو شنبہ کے دن ظہر کے وقت مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کا بلّی ماران کے اس مکان میں انتقال ہوا، جس کے کچھ حصے آج بھی محفوظ ہیں۔ جنارے کی نماز دہلی دروازے کے باہر ہوئی اور غالبؔ کو اس قبرستان میں دفن کیا گیا، جسے بقول خواجہ حسن ثانی نظامی باغیچی انارکلی کہا جاتا تھا اور جو غالبؔ کے سسرال والوں کی ملکیت تھا۔ قبرستان میں غالبؔ کے سسر نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ، مرزا علی بخش خاں رنجورؔ، زین العابدین خاں عارفؔ وغیرہ مدفون تھے۔ غالبؔ کی وفات کے بعد اُن کی بیوی امراؤ بیگم اور مرزا باقر علی خاں کاملؔ بھی اس قبرستان میں دفن کئے گئے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں اس قبرستان میں بقول غلام رسول مہر ۲۳ قبریں تھیں۔ (غلام رسول مہر، غالب، طبع چہارم، لاہور، ص۳۹) غالبؔ کی قبر معمولی بنائی گئی تھی۔ اس پر چونے کا پلاسٹر تھا اور سرہانے سنگِ مرمر کی لوح نصب تھی۔ لوح پر میر مہدی مجروحؔ کا درج

درسِ حیات

اللہ   نے آدم ؑکو مٹی سے پیدا کیا اورنور سے پیدا ہو نے والی مخلوق یعنی فرشتوں کو حکم دیا کہ اس خاکی وجود کو سجدہ کر لو۔فرشتے حکم خداوندی کی تعمیل میں آدمؑ کے سامنے سجدہ ریز ہوئے مگر شیطان (جن)نے آدم ؑکو سجدہ کر نے سے انکار کیا اوراس کاجوازیہ دیا کہ میں نور سے پیدا ہوا ہوں اور آدم حقیر مٹی سے ۔باری تعالیٰ نے اس بے ہودہ بکواس کے جواب میں عزازیل کو ذلیل ورسوا کر کے قیامت تک کے لئے ملعون ٹھہرایا ۔ شیطان نے اللہ سے اجازت طلب کر لی کہ اللہ اُ سے پوری دنیا میں انسانی نسل کو اپنے پھندے میں لانے کی اجازت دے ۔باری تعالیٰ نے اجازت دی مگر ساتھ ہی یہ کہا کہ تم ہمارے نیک بندوں کو قطعی اپنے جال میں نہیں پھانس سکتے ۔قبل ا زیں آدم ؑکی تخلیق پرملائکہ نے کہا کہ اے پروردگار! تم انسان کو زمین پر بھیج دو گے تو یہ وہاںفتنہ وفساد بپا کرے گا۔پروردگار نے فرمایا: اے ملائکہ! جو میں جانتا ہوںوہ تم ن

فرقہ واریت پیڑ منافرت پھل !

جوں    جوں لوک سبھا کے انتخابات قریب آرہے ہیں، مرکز میں حکمران نریندرمودی سرکار کی زیرِقیادت بھاجپا اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں عوامی فلاح وبہبود کی کوئی کارکردگی نہ دکھانے کے باعث عوام الناس سے الگ تھلگ ہوچکی ہے اور آج کی تاریخ میں اس کی شناخت امیردوست اور غریب دشمن ہونے کی بنی ہے ،اس لئے اب یہ پیش آئند الیکشن  میں بازی مارنے کے لئے اپنے سیاسی ترکش سے نئے نئے تیر نکال کر آزما رہی ہے ۔ 2014کے انتخابات سے ماقبل ڈاکٹر منمومہن سنگھ کی سرکار کانگریس پارٹی کی غیر جمہوری، عوام کش اوربدعنوان پالیسیوں اور گھپلے گھوٹالوں کی وجہ سے اُسی طرح عوام سے اِلگ تھلگ ہوچکی تھی جس طرح ہم اور آپ آج کل مودی سرکار کو دیکھ رہے ہیں ۔ اُس وقت کانگریس مخالف صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرکے بھارتیہ جنتاپارٹی اور اُس کے قائد نریندرمودی اپنی لچک دار لفاظیت ،محاورہ بازی ،لچھے دار تقریروں ا

کرناہ سے کیرن تک

یہ  ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہر سال جب وادی ٔ کشمیرمیں برف باری ہو تی ہے تو سب سے زیادہ تکلیف دہ مسائل اور مشکلات کا سامنا سرحدی آبادی کو کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی وادی کے سرحدی علاقے ا س وقت برف کی موٹی چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں اور اُن کا رابطہ ہنوز باقی دنیا کے ساتھ کٹا ہوا ہے ،کہیں سڑکیں بند ہیں تو کہیں مسافر درماندہ ، کہیں بیمار ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ،کہیں قحط اور کال جیسی قیامت ٹوٹی ہے۔ان دور افتادہ علاقوں میں نوزائدہ بچوں کے لئے ڈبہ بنددودھ تک دستیاب نہیں ہوتا اوررسوئی گیس اورمٹی کے تیل کی قلت اس قدر گھمبیرتا اختیار کر چکی ہے کہ کئی گھرانوں کا چولہا ہی نہیں جلتا اور نوبت فاقہ کشی پر آتی ہے ۔ حد یہ کہ میڈیکل شاپوں پر ضروری ادویات بھی میسر نہیں ۔  کرناہ کی زندگی کا دارومدار نستہ چھل گلی پر ہے  کرناہ کپوارہ شاہراہ جب ٹریفک کے لئے کھلی ہوتی ہے تو

کشمیریوں کی معصومیت کا استحصال کب تک؟

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ پنے وقت کے  انسانوںکو جھنجھوڑ کران کے سامنے ماضی کے بڑے بڑے سانحوں کے وہ باب کھول کے رکھ دیتا ہے جنہیں وقت کی گردشیں یاداشت کے پردوں میں کہیں گم کرچکی ہوتی ہیں ۔ شاید فطرت اسی طرح سے ہر دور کے انسانوں کو ان فاش غلطیوں کا احساس دلاتی ہے جنہیں ان کی پچھلی نسلیں یکے بعد دیگرے دہراتی رہتی ہیں ۔ ہر نسل تباہی کی درد ناک داستان آنے والی نسل کے لئے تازیانہ عبرت کے طور پر چھوڑ جاتی ہے لیکن آنے والی ہر نسل پچھلی غلطیوں کو سدھانے کے نام پر پہلے سے بھی بڑی غلطیوں کا ارتکاب کرکے اگلی نسل کی وراثت میںدرد و کرب کی سوغا ت چھوڑ جاتی ہے ۔اکثر کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن یہ سوال کوئی کسی سے نہیں پوچھتا کہ کیوں دہراتی ہے ؟۔ تاریخ اپنے آپ کو اسی لئے دہراتی ہے کہ اپنی غلطیوں کو دہرانا انسان کے خمیر میں ہے اور اس کی ہر غلطی پہلے سے

عجلت میں غلطی یا سازش؟

کبھی  کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی دلی جان بوجھ کر ریاست جموں کشمیر میں تنارعات کو جنم دینا چاہتی ہے اور ایسا کرنے کے لئے کبھی وہ یہاں کی منتخب حکومتوں کو استعمال کرتی ہے تو کبھی گورنر کو۔ 2008 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کے ہاتھوں امر ناتھ زمین کا تنازعہ کھڑا کروایا گیا۔ کئی مہینوں تک وادی کشمیر اور جموں میں حالات انتہائی کشیدہ رہے۔ وادی میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور وادی اور جموں کے بیچ ایک ایسی دراڑ پیدا کی گئی جو شاید ہی کبھی بھر پائے گی۔ یہ سچ ہے کہ جموں اور وادیٔ کشمیر کے مابین کبھی مثالی تعلقات نہیں رہے ہیں اور اس کی وجوہات بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ کشمیریوں نے جموں کے ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی۔ ہندوستان کے آزاد ہوتے ہی مہاراجہ کو 1947 میں کشمیر چھوڑنا پڑا اور یوں جمہوری نظام کے آتے ہی اقتدار جموں سے سرینگر منتقل ہوگیا۔ جموں کی ہندو آب

رافیل سودا

رافیل   معاملت پر ایوان پارلیمٹن میں کامپٹرولر اینڈ آڈٹر جنرل آف انڈیا CAGکی رپورٹ کی پیش کر نے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ  ابھی کسی منطقی انجام پر نہیں پہنچی۔ رپورٹ میں این ڈی اے حکومت کے موقف کی حمایت کی گئی اور یہ انکشاف کیا گیا کہ این ڈی اے حکومت نے رافیل معاملت سے 335ملین یورو کی بچت کی ہے۔ یہ یوپی اے حکومت سے کئے گئے سودے کے مقابلہ میں 17.08% سستا ہے اور رافیل لڑاکا جیٹ طیارے یو پی اے حکومت کی مقررہ قیمتوں کے مقابلہ میں 2.86% کم ہیں۔   وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دعویٰ کیا ہے کہ CAG کی رپورٹ سے مہاگٹھ بندھن مہا جھوٹ بندھن ثابت ہوا۔ دوسری طرف اپوزیشن نے CAG کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا مسٹر راجیو مہہ رشی پر ہی کئی سوالات کھڑے کردئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر راجیو رافیل معاملت کے وقت فائنانس سکریٹری رہے اور وہ اس س

پلوامہ کانزلہ جموں پر گرا کیوں؟

جموں  سمیت دیگر ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری مسلم طلبہ و طالبات ، تاجرین وغیرہ پر پل پڑنے کی جنونی لہر کے خلاف17؍فروری ایتوار کو کشمیر اکنامک الائنس، کشمیرٹریڈرز فیڈریشن کی کال پر کشمیر بند ہو ا۔ ہڑتال کال کی حمایت ہائی کورٹ بار ایسوسی ا یشن سرینگر نے بھی کی تھی۔ بانہال میں بھی ایتوار کو اس حسا س مسئلے پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ یہ بند گورنر انتظامیہ کو احتجاج کی زبانی پیغام تھا کہ کشمیریوں اور جموی مسلمانوں کو تحفظ دیا جاسکتا جن پر خواہ مخواہ پلوامہ حملے کا نزلہ گریا گیا ۔ ہڑتال کا یہ اقدام اس تعصب وتنفر کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف عوامی ردعمل کہلاسکتا ہے ۔ مسلمانوںکو تنگ طلب کر نے کی شروعات 15؍ فروری سے ہی ہوئیں۔ قبل ازیں جنوبی کشمیر کے ہنگامہ خیز علاقہ پلوامہ میںجمعرات 14؍ فروری کو ایک خود کش حملے میں 49؍سی آر پی ایف اہل کار وںکی ہلاکت پر اپنا دکھ جتانے کے لئے 15؍فروری کوجموں چیمبر ا

! آوارہ کتے جینا حرام ہوجائے

گزشتہ  برس سوپور میں ایک ننھی بچی کو آوارہ کتوں نے اپنا لقمہ بنا کر اُس کے والدین کو مسلسل کرب میں مبتلا کردیا۔ یہ کوئی پہلا دلخراش واقعہ نہیں ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سات برسوں کے دوران بے شمار کشمیری آوارہ کتوں کے شکار بنے، ان میں سے کئی ایک کی موت بھی واقع ہوئی۔ جب کسی کو کتا کاٹ لیتا ہے، وہ نہ صرف متاثرہ فرد کیلئے عذابِ مسلسل ہوتا ہے بلکہ اُس کے اہل خانہ ہسپتالوں میں مطلوبہ ادویات مہیا نہ ہونے کی وجہ سے بھی مہینوں دھکے کھاتے ہیں۔حکومت نے مینکا گاندھی کی ’’جانور بچاؤ‘‘ مہم کی قدر کرتے ہوئے کشمیر میں آوارہ کتوں کو زہر دینے پر پابندی تو عائد کردی لیکن اس کا متبادل گزشتہ دس سال سے وجود میں نہیں آیا۔ شہامہ سری نگر میں کتوں کی نس بندی کے لئے چار کمروں کا ایک ہسپتال تو بنا لیکن وہاں بمشکل دن میں دو کتوں کی نس بندی ہوتی ہے۔ کتوں کی تعداد کے بار

خورشید احمد بسملؔ، شاعرانہ مزاج میں صوفیانہ رنگت

خورشید احمد بسملؔ ہمارے خطہ پیر پنچال (جموں و کشمیر)کے ایک باذوق اور رچے ہوئے شعری شعور کی نمائندہ آواز ہیں۔ان کی شاعری ایک پختہ ذہن شاعر کی شاعری معلوم ہوتی ہے اور وہ شاعر ی کو جذبات واحساسات کی ترسیل کا ایک موثر ذریعہ خیال کرتے ہیں۔بسمل ؔصاحب کا شعری مجموعہ’’ابرنیساں‘‘186صفحات پر مشتمل ایک میں جہاں اُن کا اردو کلام شامل ہے، وہیں ان کی پہاڑی شاعری بھی درج ہے۔’’ابر نیساں‘‘میں نظمیں زیادہ اور غزلیں کم ہیں۔ کتاب کی زینت اور شان حمد باری تعالیٰ،نعت رسول مقبول صلی ا للہ علیہ وسلم ،ماہ صیام کی برکتیںِ،شب قدر کی فضیلت بڑھاتی ہیں ، ان کے علاوہ اخلاقی،روحانی اور سماجی اصلاح کے جذبے سے سرشار بہت سی نظمیں قاری کو خوب سیرتی کا درس دیتی ہیں جو وقت کی ایک اہم ضرورت  ہے۔بہت سے لوگ شعر وادب کو ذہنی عیاشی اورتفریح طبع کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیںلیکن خو

لُوٹ کی یاں چُھوٹ دیکھو

ہم  نے تو سنا تھا سر منڈھاتے ہی اولے پڑے مگرڈوگر دیش میںسر منڈھانا تو دور کی بات سر دھونے کی جگہ نہیں تھی کیونکہ ہوٹل والا رات بھر میں ہی کرایہ دوگنا کر گیا تھا۔ اسے معلوم پڑا تھا کہ ملک کشمیر اور بھارت ورش کے درمیان اٹُوٹ انگوں کو جوڑنے والی سرنگ بند ہے۔اٹُوٹ کا رشتہ جگہ جگہ ٹوٹ کر جو آگرا تو چلنے پھرنے پر پابندی ایسی کہ باپ پسی کے اس پار بیٹا اس پار، شوہر چٹان کی آڑ میں بیوی دراز قد پیڑکی چھائوں میں ۔واویلا اس قدر کہ جان بچی لاکھوں پائے۔ پورا راستہ ہی جگہ جگہ اکھڑ گیا ہے پھر بے چارہ اَبِھن اَنگ کا اتیا چار  سہنے والا کشمیری جائے تو جائے کہاں؟ادھر وردی پوش کہ رُکنے کی اجازت نہیں دیتے ادھر گرتے پتھر کہ ٹکنے کی اجازت نہیں۔ وہی ہوا کہ نہ بھاگنے کا راستہ نہ پائوں ٹھہرانے کا ۔مطلب نہ جائے ماندن نہ جائے رفتن۔اسی لئے تو پانی پانی ہوئی تھی پتیلے میں جو دال ، وہ بھی کباب رستہ کے بھ

لداخ کا صوبائی درجہ

گزشتہ  ہفتہ ریاست جموں و کشمیر میں گورنر انتظامیہ کا ایک اور کارنامہ۔۔۔ ریاست میں ایک اور انتظامی ڈویژن کو معرض وجودمیں لانا۔۔۔  خطہ لداخ کو صوبائی حیثیت دینے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نیا صوبائی انتظامی یونٹ لداخ ڈویژن کے نام سے موسوم کیا گیا۔ریاست جموں و کشمیر میں عرصہ دراز سے دو ڈویژنل انتظامی امور چلا تے رہے ہیں۔ ان میں ایک تو جموں ڈویژن ہے اور دوسرا کشمیر ڈویژن ،جس میں لداخ بھی شامل تھا۔ریاست کے جغرافیائی خد و خال پہ نظر ڈالی جائے تو رقبے کے حساب سے لداخ کا مجموعی رقبہ کشمیر سے بھی کہیں زیادہ ہے اور جموں سے بھی، البتہ آبادی کے لحاظ سے یہاں بودوباش رکھنے و الوںکی تعداد انتہائی کم ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالاپہاڑی سلسلوں کے بیچوں بیچ لداخ میں سکونت اختیار کرنا ایک مشکل امر ہے۔یہاں کے انتہائی سرد موسم میں انسانوں کی اقامت گزیر ی لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ نیز پہاڑو سے

رہ گئی رسمِ اذاں

آج  سے گیارہ بارہ برس قبل جو حاجی صاحب بیت اللہ سے مشرف ہوچکاہو،اگر آج وہ حرم کعبہ میں داخل ہوگا تو بیت اللہ شریف کو پہچاننے کے سوا اُسے سارا ماحول، حرم شریف کا سارا بیرونی حدود اربعہ اور اِرد گرد کا جغرافیہ عجیب سا لگے لگا۔اندازہ کرنے اور انداز ے سے بتانے کے باوجود بھی صحیح تقدس مآب مقامات کے محل وقوع اورزم زم کی باولیاں ،صحن پاک سے ملحق خلیفوں کی دوکانیں ، بازار ، ہوٹل ، سڑکیں ، بستیاں ،بس سٹینڈ،ہسپتال وغیرہ کی نشاندہی نہیں کرپائے گا۔ سعی ٔ عمرے یا حج کا ایک خاص رُکن ہے ۔صفاؔ پہاڑی کے ایک سرے سے دوسری طرف مروہ ؔپہاڑی کے سرے تک جانا ،دوڑ لگانا،حضرت ہاجرہؑ کی اُس سعی کی یاد تازہ کرتی ہے جو اُنہوں نے ننھے دودھ پیتے بچے کے لئے پانی کے چند قطروں کی تلاش میں کی تھی ۔ حجاج کی سہولت کی خاطر صفاؔ پہاڑی سے مروہؔ پہاڑی تک سارا حصہ بہترین ماربل کے فرش سے مزین کیا گیا ہے۔ صفاؔ پہاڑی کا ای

شیخ سعدیؔ بہ حیثیت عرب شاعر

وہ  زمانہ رخصت ہوگیا جب ہندوستان میں فارسی کا طوطی بولتا تھا۔ ابھی ماضی قریب کی بات ہے دینی مدارس کے عربی درجات میں داخلے سے قبل کم از کم ایک سال طالب علم کو فارسی پڑھنا پڑتا تھا۔جن میں شیخ سعدیؔ کی’’ گلستاں بوستاں‘‘ کے علاوہ فارسی کی پہلی اور دسری کتاب، آمد نامہ، تیسیر المبتدی،وغیرہ کتابیں بڑے اہتمام کے ساتھ پڑھائی جاتی تھیں۔حتیٰ کہ عربی کی پہلی اور دوسری جماعتوں میں بھی صرف ونحو کی جو کتابیں پڑھائی جاتی تھیں وہ بھی فارسی میں ہی ہوتی تھیں۔ جیسے کہ پنج گنج، میزان منشعب، نحو میر، علم الصیغہ وغیرہ ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فارسی ادبیات کے زیر اثر شیخ سعدی جیسے ادیب وشاعر، دانشور حکیم اور صوفی منش انسان کی گلستاں بوستاں جیسی مشہور زمانہ اور نامی گرامی کتابوںکی تدریس کے بہانے بچوں کی اچھی خاصی خاموش اخلاقی تربیت ہوجاتی تھی۔لیکن اب یہ کتابیں ہندوستان میں تقریبا عنقاد

محمد مقبول بٹ مرحوم

 تاریخ  کشمیر نے 1931ء سے آج تک پُرآشوب اور ہولناک مناظر ہی دیکھے ہیں اور کشمیر یوں کودبانے کے لئے کشت وخون اور قتل وغارت گری کا جو سلسلہ 1931ء کو شروع ہواتھا ،وہ ابھی تک کشمیر کے طول وعرض میں جاری وساری ہے ۔یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ،وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مگر ہمیں یقین واُمید ہے کہ محمد مقبول بٹ مرحوم کا یہ خواب ایک دن ضرور پورا ہوگا ۔پچھلے 29 برس سے کشمیر میں سوا لاکھ سے زائد نہتے پیر جواں ، مردوزن جاں بحق کئے جاچکے ہیں اورجہاں تک لبریشن فرنٹ کے بانی قائد محمد مقبول بٹؒ کا تعلق ہے ،و ہ کشمیر حل اسی لئے چاہتے تھے تاکہ کشمیر قتل وغارت کا میدان نہیں بلکہ امن اور ترقی کا گہوارہ بنے۔مرحوم کا شمار ان چنیدہ برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وطن کی سربلندی کے لئے تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ اپنے پاک خون سے جلائے ۔ آپ پہلے محب وطن قائدہیں جس نے راہ ِحق میں اپنی متا

کانگریس بھی بھاجپا کی مقلد!

 مدھیہ پریش کے کھنڈوا میں مبینہ گئو کشی کے معاملہ میں تین مسلمانوں کو این ایس اے( نیشنل سیکورٹی ایکٹ ) کی دفعات کے تحت حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مدھیہ پریش میں برسر اقتدار آنے والی کانگریس حکومت بھی یوپی کی یوگی سرکار کے نقش قدم پر چلتی نظر آرہی ہے۔ کمل ناتھ حکومت نے گئو کشی کے۳/ملزمین ندیم، شکیل اور اعظم پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کا اطلاق کیا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی کی شیوراج سنگھ حکومت میں گئو کشی کے معاملہ میں ۲۲/مسلمانوں کو این ایس کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔این ایس اے دہشت گردی اور شاطر مجرموں کو جرم کرنے سے قبل روکنے کے ضمن میں کام آتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مبینہ گئو کشی معاملہ میں این ایس اے جیسے سخت قانون کا استعمال کیوں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے کانگریس ترجمان ریاستی حکومت کے دفاع میں کہتے ہیں کہ حکومت گائے کو لے کر سن

تازہ ترین