۔10؍دسمبر… کیا خاک منائیں

۱۰دسمبر  کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ۱۹۴۸ء سے پوری دنیا میں یہ دن بڑے ہی اہتمام سے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کی مناسبت سے انسانی حقوق کے بینر تلے مختلف قسم کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی علاقائی اور عالمی تنظیمیں دنیا بھر میں انسانیت کے ساتھ ہورہی ظلم و زیادتیوں کے حوالے سے رپورٹیں شائع کرتی ہیں، حکومتیں سرکاری سطح پر تقاریب کا اہتمام کرتی ہیں ، سمینارز و سمپوزیم کے ذریعے سے احترامِ آدمیت اور بشری حقوق کے تحفظ پر لیکچر دئے جاتے ہیں اورانسانی اقدارپر کار بند رہنے کے ضمن میںتجدید عہد کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سرگر میاںشرف ِ انسانیت کا احساس دلوں میں زندہ رکھنے کے لئے قابل تحسین ہیں مگر افسوس صدا فسوس کہ بشری حقوق کی پامالیوں کا بھدا سلسلہ لاکھ روکے بھی نہیں رُکتا ۔  تاریخ شاہد عادل ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں بڑے پیمانے پر تباہیوں اورانسانی جانوں کے

پانچ ریاستوں کے ممکنہ انتخابی نتائج

کم  و بیش ماہ بھر چلنے والا ۵؍ریاستوں کا اسمبلی الیکشن اختتام کو پہنچا۔ کل یعنی۱۱؍دسمبر کو نتائج آجائیں گے لیکن اس سے قبل جو قیاس آرائیاں ہورہی ہیںوہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔بیشترٹی وی چینل اورپرنٹ میڈیادونوں ہی صورتوں میں نریندر مودی اور بی جے پی ہی کو مضبوط بتا رہے ہیں جس سے گمان ہوتا ہے کہ وہاں (چینلوں پر)مودی کی مقبولیت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔دونوں ہی صورتوں سے مراد یہ ہے کہ اگر کانگریس ہار جاتی ہے توکوئی بات ہی نہیں۔پھر تو پانچوں انگلیاں گھی میںہیںاور ۲۰۱۹ء کا عام چناؤ جیتنے سے مودی جی کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن دوسری صورت میںاگر کانگریس کا پلڑا بھاری رہتا ہے تو بھی ۲۰۱۹ء کے عام چناؤ میں مودی کے مقابل راہل گاندھی ٹھہر نہیں سکتے اور اسی لئے ایک سلوگن ایجاد کیا گیا کہ ’’نریندر مودی سے بیر نہیں وسندھرا تیری خیر نہیں ‘‘۔اگرچہ یہ سلوگن راجستھان

دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت

کرتار  پور گلیارے کی تقریب ِسنگ بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت میں اگر عزم و حوصلہ ہو تو ہر مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔اس ضمن میں عمران خان نے کہا کہ اگر نئی دہلی امن کے حصول کیلئے ایک قدم بڑھائے تو پاکستان جواب میں دو قدم بڑھا کر استقبال کرے گا۔انہوںنے بھارت کو سارک کانفرنس کی منجمد شریانوں میں حرکت اور حرارت کا خون دوڑانے کیلئے اسلام آباد آنے کی پھر سے دعوت دی۔انہوں نے اس تاثر کو بھی زائل کردیا کہ اسلام آباد میں طاقت اور فیصلہ سازی کی دو متصادم قوتیں ہیں جیسا کہ نئی دہلی میں براجماں بھاجپا حکومت الزام عائد کرتی آئی ہے ۔عمران خان نے یقین دلایا کہ جی ایچ کیو(General Headquarters)اور ان کی سربراہی والی حکومت ایک ہی سوچ اور اپروچ رکھتی ہیں۔ امن و استحکام اور دوستی کی اس پہل کا بدقسمتی سے نئی دہلی نے سرد مہری سے جواب ہ

نہ رہی بھینس نہ بجی بانسری

کیا کہیں جناب !یہ کشمیر ہے نا بہت پہلودار ہے، زُلف ِخم دار ہے ، بے اعتبار و بے قرار ہے ۔ یاد ہے وہ بھی وقت تھا جب سیلابِ کشمیر کا ایک اَن دیکھا جلوہ گرہو ا۔ اُس دن سے موسم کا ڈھنڈورچی سونم لوٹس اپنے یہاں اتنا مشہور یا بدنام ہو گیا کہ لوگ شادی بیاہ کے لئے تاریخ مقرر کرنے سے پہلے اُن کی پیش گوئی سن لیتے ہیں۔ کوئی کوئی اُن سے کہتا ہے:بھائی صاحب! واللہ آپ کو بھی رستہ گشتابہ کھلائیں گے بلکہ ایک عدد وازہ ترامی بھی دفتر بھجوادیں گے جیسے ہم بجلی والوں کو بھیجتے ہیں تا کہ عین موقع پر بجلی بند نہ کردیں، بس ایک کرپاکریں ، یہ بتائیں،ذرا غور سے دیکھیں، نقشہ جاتِ افلاک کو ٹٹولیں،سٹیلائٹ چا ر چشمی عینک سے دیکھیں، فلاں تاریخ کو آسمان کہاں کہاں اَبر آلودہ ہو سکتا ہے ؟ بادل کس جانب محو پرواز ہوں گے؟ بدلیوں کا رنگ کالا ہوگا کہ گھورا ؟ دل والے کدھرہوں گے ؟ جگر کا کوئی ٹھکانہ ہوگا ؟مطلب عام خام ستاروں ک

کرتارپور:ہند پاک مفاہمت کا نیا موڑ!

سال  رواںمیں نومبر کے آواخر میں ہند پاک کشیدہ تعلقات اورسرد مہریوں کے بیچ سیاسی فضا میں یکایک بدلتی ہواؤں کے فضا کو قدرے خوش گوار کر ڈالا ۔کرتارپور صاحب راہداری کا کھلنا دو طرفہ تعلقات کو ایک مثبت ڈگر پہ ڈالنے کی موثر کوشش ماننا ہوگی۔اس نئی پیش قدمی کا خیر مقدم امریکہ سمیت چین نے بھی اپنے سفارتی اندازِ گفتار میں کر کے دونوں ملکوں کو عوام کا عوام سے رابطہ بڑھانے پر شاباشی دی ۔ اس اہم واقعہ سے کچھ ہی دن قبل ناروے کے کچھ رابطہ کاروں کو سرینگر میں حریت کانفرنس کے قائدین سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ ان رابطہ کاروں میں ناروے کے سابقہ وزیر اعظم کجل میگنی بونڈیوک (Kjell Magne Bondevik ) بھی شامل تھے۔اس رابطہ کاری کو سفارتی کوشش کے زمرے میں تولنا شاید مناسب نہ ہو چونکہ اس میں موجودہ ناروے سرکار کے زعماء شامل نہیں تھے بلکہ اسے ناروے کی غیر سرکاری اداروں کی سعی و کاوش ماننا ہو گا۔ناروے کے ان غ

مولانا محمد علی جوہرؔ

دنیا میںبعض شخصیتیں عہد ساز ہوتی ہیں ، ان کا وجود عوام کی طاقت اور توانائی کا مرکز و محور ہوتا ہے ، ان کی حرکات اور چشم ابرو کے اشارات افراد و اقوام کیلئے مہمیز کا کام انجام دیتی ہیں ۔ اقبال کا یہ شعر ا س بارے میں چشم کشا ہے   ؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر  فرد ہے  ملت کے  مقدر کا  ستارہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پر رئیس الاحرارمولانا محمد علی جوہرؔ کی شخصیت قائدین ملک و ملت کی صف میں کئی لحاظ سے منفرد تھی ۔ قائدانہ صلاحیت ، عزتِ نفس اور دولت استغنیٰ ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا ان کی دائمی خصلت تھی۔ وہ مخلص ،بہادر، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میں دوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے تھے۔دست قدرت نے مولانا محمد علی کو قیادت و سیادت ، ص

خواجہ احمد عباس

ایک  بڑے ادیب کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ پیش آتا رہا ہے ۔ہر دور میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ قارئین وناقدین نے کسی بڑے ادیب کے ادبی سرمائے کو ردوقبول کی نگاہ سے دیکھا ہے۔متن ومعنی اور تھیوری کا عمل دخل اپنی جگہ لیکن ادب اور ادیب کو ادبیت کے دائرے میں رہنا نہایت ضروری ہے۔خواجہ احمد عباس کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا تھا۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ کچھ افسانوں میںان کا فن مجروح ہوا ہے ۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک فن سے زیادہ مقصدیت کی ترسیل اہم مسلہ تھا ۔وہ سوسائٹی میں مساوات کے زبردست حامی تھے۔انھوں نے کشمیر کے حوالے سے بھی ایک افسانہ لکھا ہے جس کا عنوان ’’زعفران کے پھول ‘‘ہے۔افسانے کے عنوان سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ رومانی نوعیت کا افسانہ ہوگا لیکن اس کی قرات سے یہ منکشف ہوتا ہے کہ مذکورہ افسانہ ڈوگرہ حکمرانوں کے ظلم وتشدد کے خلاف کشمیری عوام کی صدائے احتجا

اَیودھیا کی شانتی!

ایودھیامیں 25؍نومبر2018ء کو 6؍دسمبر 1992ء کی تاریخ نہیں دہرائی جاسکی۔کوئی ہنگامہ نہیں ہوا۔ کسی مسلم گھر پر حملہ نہیں ہوا۔ امن شانتی رہی۔ممبئی سے خاص طور پر ایک اسپیشل ٹرین کے ذریعہ جو شیوسینک آئے وہ خاموشی سے واپس چلے گئے۔ شاید انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ شمالی ہند کے لوگوں پر جس طرح مہاراشٹرا میں شیوسینکوں نے حملے کئے تھے اور انہیں مار بھگایا تھا کہیں اس کا انتقام نہ لیا جائے۔ ویسے صحافیوں نے پریس کانفرنس کے دوران اس مسئلہ پر مسلم دشمنی یا نفرت کی وراثت اپنے باپ سے پانے والے اُدھو ٹھاکرے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ ایودھیا میں کہا جارہا ہے کہ ’’دھرم سنسد‘‘ ناکام رہی۔ کسی نے اُسے مسلمانوں کی دعائوں کا اثر قرار دیا تو کسی نے مسلمانوں کے صبر و تحمل کا نتیجہ قرار دیا۔ کتنے مسلمانوں نے امن کی دعا کی ہوگی‘ کن مسلمانوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اس کا تو اندازہ

’’اردو جریدہ‘‘

متحرک، فعال اور نمایاں شعبوں کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ علمی، ادبی اور سماجی طور پر نہ صرف سرگرم ہوتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً خموشی کے ساتھ ایسے کارنامے بھی انجام دیتے ہیں کہ لوگ متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ ہندوستا ن کی یونیورسٹیوں میں قائم چند ایک اردو کے شعبے اسی صف میں شامل ہیں ۔ مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، بمبئی یونیورسٹی اور پٹنہ یونیورسٹی کے نام اس لحاظ سے قابلِ ذکر ہیں ۔ اب جب کہ بہار یونیورسٹی کا ترجمان ’’اردو جریدہ‘‘ سے مترشح ہوتا ہے کہ اس صف میں شعبۂ اردو، بہار یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ ، شعبہ مختلف قسم کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے خبروں کی زینت بنا ہے جس کی ایک کڑی’’ اردو جریدہ‘‘ کی اشاعت ہے ۔ ’’اردو جریدہ ‘‘ بہار یونیورسٹی کا ترجمان بن کر پہلے ۲۰۱۱ء میں منظر عام پ

حضرت علی ؑ کی نظر میں

 دنیا کی دوغلی ماہیت: دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے کہ جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اُس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھنچتا ہے اور ہوش مند و دانا اُ س سے بچ کر رہتا ہے۔‘‘  (حضرت علی ؑ۔ نہج البلاغہ  )    حسین، دلکش، دلفریب، جاذبِ نظر دنیا ،دھوکہ باز، بے وفا، اور ہلاکت خیز ہے۔ بظاہر انسان کا مسکن مگر حقیقتاً اس کا مدفن ہے۔ اس کی بوقلمونی سے اکثر و بیشتر لوگ گمراہی کے شکار ہوگئے۔ اس کی اصل ما ہیت ظاہر کرتے ہوئے امام علی ؑ نے فرمایا: ــ’’اس دنیا کا گھاٹ گدلا اور سیراب ہونے کی جگہ کیچڑ سے بھری ہوئی ہے ،اس کا ظاہر خوشنما ، اور باطن تباہ کن ہے۔ یہ مٹ جانے والا دھوکا، غروب ہو جانے والی روشنی ، ڈھل جانے والا سایہ اور جھکا ہوا ستون ہے۔ جب اس سے نفرت کرنے والا اس سے دل لگا لیتا ہے اور اجنبی اس سے مطمئن ہو جاتا

سحر اور اس کے مضر اثرات

وہ جب جب کلاس میں آتا اس کے سر میں دردشروع ہوجاتا۔جب امتحان کا زمانہ آتا ایک دو مضمون کے امتحان میں وہ لڑکی بے ہوش ہوجاتی ۔ اس بچے کی بس جیسے ہی راجوری کی سرحدوں کوپار کرتی وہ شدید بیمار ہوکر گھر واپس آجاتا۔میں اس بچے کو بھی جانتا ہوں جس نے انجینئرنگ کا آخری سمسٹر مکمل نہ کرکے گھر میں خود کوبند کرلیااور تعلیم چھوڑ دی۔میں اس شخص کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی ہوتے ہوتے رُک جاتی ہے۔ میں اس بے چارے کو بھی جانتا ہوں جس کی شادی تو ہوئی مگر آج تک اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ میں ایسے ہی ایک اورشخص کو جانتا ہوں جس کی شادی ہوئی ، اولاد بھی ہوئی مگر اس کی اولاد نے نارمل بچوں کی سی زندگی نہیں جی لی۔ میں نے ایسے ہی ایک اورشخص کو بھی دیکھا ہے جس کی شادی تو ہوئی مگر اس کی ازدواجی زندگی پُرسکون نہیں۔ میں ایک اور بہت ہی قابل ڈبل ایم اے اورپی ایچ ڈی کے حامل نوجوان کو جانتا ہوں جو کم وبیش جنون کے عالم

امریکہ و چین کی سرد جنگ

گزشتہ  دو سو سال سے پوری دنیا میں مغرب کی غیر معمولی ذہانت اور علم کے چرچے ہیں۔ مشرق کے کروڑوں لوگ اہلِ مغرب کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ آسمان سے اُتری ہوئی مخلوق ہوں۔ مغربی انسان چاند پر پہنچ گیا اور مریخ پر جانے ہی والا ہے۔ مغربی انسان نے کائنات کے سربستہ رازوں کو جان لیا۔ اس نے ایٹم کو توڑ کر توانائی کا خزانہ دریافت کرلیا۔ مغرب کی ہزاروں ایجادات ہماری زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ ان تمام چیزوں کا اربوں انسانوں پر جادوئی نہیں ’’معجزاتی اثر‘‘ ہے۔ اس اثر کی وجہ سے اربوں لوگ مغرب کے علم اور ذہانت پر ’’ایمان‘‘ لائے ہوئے ہیں لیکن مغرب کی ذہانت اور علم کے اندازے کا ایک اور زاؤیہ ہے۔ سرمایہ دار مغرب سوشلسٹ روس اور اُس کے فلسفے کا دشمن تھا اور وہ چاہتا تھا کہ سوشلزم اور سوویت یونین زیر ہوجائیں۔ اس نے کمیونزم اور سوویت یونین کو کمزور

کاش وزیراعظم کامدار ہوتے!

 افسوس  کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم ہند نریندر مودی جی نے ایک اچھا موقع گنوا دیا۔عوام نے اُن پر بھروسہ کیا تھا اور بھاری اکثریت سے انہیں منتخب کیا تھا۔نہیں لگا تھاکہ مودی جی ان کی تقدیر سنواردیں گے لیکن  وہ خود اپنی کرسی کیپوجا لگے۔ایک اچھے مینڈیٹ کی گویا انہوں نے قدر نہیں کی ورنہ وہ چاہتے تو مدتوں وہ یاان کی پارٹی حکمرانی کر سکتے تھے۔کیونکہ ان کی محنت کی بدولت ملک بھر سے اِن چار برس میںجس طرح کانگریس کا صفایا ہوا،ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کانگریس کبھی سنبھل سکے گی۔وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان تمام برسوں میں کانگریس کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔یہ اور بات ہے کہ اسی کو استعمال کرتے ہوئے تمام انتخابات میں جیت حاصل کرتے گئے لیکن انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ کانگریس کو کوسنے کا عمل ہمیشہ تو ووٹ نہیں دلوا ئے گا ۔ایک دن ایسا آئے گا کہ ایسی باتوں س

کشمیر کے سیاسی لیل ونہار

نومبر  کے آخری عشرے میں ریاست میں ایک انوکھا سیاسی ڈرامہ کھیلا گیا۔ ایک جانب حکومت سازی کے دو متوازی دعویدار سامنے آئے ،دوسری جانب اسمبلی بہ عجلت تحلیل کی گئی۔ ظاہر ہے یہ ڈرامائی مناطر دیکھ کر لوگ بھونچکا رہ گئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست کے سیاسی منظر نامے پر الل ٹپ حیرت انگیز تبدیلیوں کا وقوع پذیر ہو نا نہ اچھنبے کی بات ہے نہ کوئی نئی بات۔ یہاں سیاست کے بنتے بگڑتے چہرے اور سیاست کاروں کے عروج وزوال کا سماں چشم ِفلک ایک زمانے سے یا س و حسرت سے دیکھتی آرہی ہے۔یہ نرالی کہانی کب کیا کروٹ لے، ا ُس بارے میں پیش بینی کر نا اَدلتے بدلتے موسمی حالات کی مانند بہت مشکل ہوتا ہے۔ خود سیاسی پنڈت بھی نہیں جانتے سیاست کے اُفق پر کب کیا چھا جائے،کب کس کے ستارے بلند ہوں ، کب کس کے نصیبے ڈوب  جائیں ۔ ان حوالوں سے ماہرین کی رائے زنیاں اور تجزیے زیادہ ترظن و تخمین سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ بالفاظ

بابری مسجد کے بعد

۔26سال قبل فیض آباد میں(جس کا حکومتی سطح پر نام بدل کر اب ایودھیا رکھ دیا گیا ہے) نہایت جنونی انداز سے بھارتیہ جنتا پارٹی، وشو اہند و پریشد اور بجرنگ دل کے کار سیوکوں نے چار سو نوے سال پرانی بابری مسجد مسمار کی تھی۔ جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ یہ مسجد، رام چندر جی کی جائے پیدایش پر قائم رام مندر کو مسمار کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ بابری مسجد کی مسماری کا مقصد ہندوتوا کے جذبات بھڑکانا تھا اور اس کے سہارے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو الیکشن جتانا تھا۔اب جب کہ اگلے سال کے عام انتخابات سر پر آن پہنچے ہیں، حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی، ایودھیا میں مسمار شدہ بابری مسجد کی متنازعہ زمین پر رام مندر کی تعمیر کا معاملہ اُچھالنے کی خوب کوشش کر رہی ہےلیکن اس وقت رام مند کی تعمیر کا کام شروع کرنا ممکن نہیں کیونکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے ڈھائی ایکڑ رقبہ کو تین دعوے داروں رام لیلا، ن

اے جی نورانی

گزشتہ جمعہ کی شام ہندوستانی پارلیمنٹ سے متصل کانسٹی ٹیوشن کلب میں12 ویں اصغر علی انجنیئر یادگاری خطبہ کا انعقادکیا گیا۔ بطور خطیب اے جی نورانی مدعوتھے۔ نامور ماہر آئین، سیاسی مبصر، کالم نگار، مورخ اور سپریم کورٹ اور ممبئی ہائی کورٹ کے  بڑے وکیل ،88سالہ نورانی صاحب کو سننے کے لیے دلی بے تاب تھی۔ شام ڈھلنے سے پہلے میں جے این یو کے اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ لیکچر ہال کے باہر لگے خوبصورت چشموں سے پانی کے پھوارے آسمان کو چومنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایسا گمان ہو رہا تھا کی یہ بھی اس بے حد خاص مہمان کے استقبال میں آج کچھ زیادہ ہی مسرور تھے۔یہ سرور آگیں مسرت بے جا نہیں تھی۔نورانی صاحب جیسا عظیم دانشورایک عرصہ کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی حق گو ئی میں صرف کی ہے۔ ان کی حیدرآباد، کشمیر، بابری مسجد سے متعلق تحقیق اور اہم دستاویزوں کی تدوین، تاریخ کے شعبہ میں لا

راندۂ درگاہ

کسی  زمانے کی وادی ٔ کشمیر خُلدبریں اور جنت بے نظیر مگر موجودہ وقتوں میں وہی وادی--------وادیٔ دل سوز ، کسی زمانے کی وادیٔ دل آراء مگر اب وادیٔ دل آزار ۔تب کی دل آویز مگر اب کی دل اُچاٹ۔کبھی کی دل افروز مگر اب کی دل فگار ۔ماضی کی دل چین مگر اب کی دل خراش۔کسی زمانے کی دل پسند مگر اب کی دل ریش۔اپنے اس عظیم مادر وطن کو دل فریب سے دل کبیدہ کرنے والے ،دلستان سے دل خستہ بنانے والے اور دل پذیر سے دل پژمردہ بنانے والے بیرونی عناصر کم جب کہ اندرونی طور پر ہم خود زیادہ ذمہ دار ہیں ۔اب اسی بات کو لے لیجئے کہ دریاؤںاور نہروں میںکوڑا کرکٹ اور پالی تھن کا کچرہ ڈال کر پانی کے دشمن ہم خود بن رہے ہیں ۔یہ پانی رگِ حیات ہے۔نہ صرف کھیت اور ساگ زار اس سے سیراب ہوتے ہیں بلکہ انسان بھی آسودہ ہوجاتے ہیںاور زندگی کی گاڑی کو آگے ہانکتے ہیں بلکہ یہ جنگلی جانوروں اور چرند و پرند کے لئے بھی اُسی اہمیت ک

پروفیسر رفیع العماد فینان

  ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۶ء کو ہم سب کے  Favourite Teacherپر وفیسر رفیع العماد فینان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے سے کم وبیش چار دہائی تک عربی زبان وادب کی خدمت کے بعد سبکدوش ہوگئے۔یہ خبرسن کر ایک بار پھر میں اپنی پرانی یادوں میں کھوگیا۔ ذہن کے پردے پر ان کی سنہری یادوں کی فلم چلے لگی اور میں انہی سنہرے دنوں کی تلاش میں سرگرداں ہوگیااور یہ تحریر معرض وجود میں آگئی۔ یہ ۱۹۹۱ــ-۱۹۹۲ء کی بات ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عربی شعبے کے بی اے آنرز اور ڈپلوما ان ماڈرن عربک میں ہمارا داخلہ ہوا تھا۔ پروفیسر ضیاء الحسن ندوی شعبے کے صدر تھے۔ پروفیسر زبیر احمد فاروقی ،پروفیسر شفیق احمد خان ندوی،پروفیسر فرحانہ طیب صدیقی، پروفیسر خالد حامدی اور ڈاکٹر ابو الحسنات کے علاوہ پروفیسر رفیع العماد فینان شعبے کے اساتذہ میں شامل تھے۔پروفیسر ضیاء الحسن ندوی کے علاوہ غالبا سبھی اساتذہ اس وقت لیکچرریا ریڈر ت

تھرڈ فرنٹ ؟؟؟

ریاست میں سیاست کی ہانڈی میں کب کیا اُبال آئے،اس بارے میں پیش گوئیاں کر نا دشوار ہوتاہے ۔ یہی ایک نادر نمونہ ہفتہ عشرہ پہلے ریاست میں سیاسی ہلچل کے حوالے سے  دنیا کے سامنے آیا۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دیر سے ہی سہی سیاسی تھیلی سے بلی بالآخر سے باہر آ ہی گئی اور ہم نے سر کی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ سیاسی حریف جو ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، حالات کے دباؤ میں باہم دگر ہاتھ ملانے پر مجبور ہوئے۔ اس سے ریاست کے سیاسی منظر نامے میں سب کچھ تلپٹ ہوگیا ۔ ویسے بھی سیاست میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی، وقتی تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق سیاسی فیصلے لئے اور بدلے جاتے ہیں ، یہاں دوستی اور دشمنی کی لکیریں بھی تغیر پذیر ہو نے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ ان حقیقتوں کے آئینے میں پیش آمدہ حالات پر اُچکتی نگاہ ڈالئے جو بالآخر اسمبلی کی تحلیل پر منتج ہوئے تو ہماری اقتداری س

مسلمانانِ جہاں سے!

آج  پوری مسلم دنیا ایک شدید انتشار و خلفشارمیں مبتلا ہے، ہر جگہ فساد ات برپا ہیں، قتل و غارت گری کا بازار چہار سُو گرم ہے، مسلمانوں کی دنیا آباد ہے نہ آخرت، مسلم حکمران انانیت، مفاد پرستی ، آپسی منافرت، بغض وعداوت ،تنگ نظری اور تعصب کے شکار ہیں۔ جس اُمت نے آپسی یگانگت و وحدت کے بجائے تفرقہ وانتشار کو اپنا لیا ہو، اس کے ہاتھ دنیا آتی ہے نہ آخرت۔ آج مسلم دنیا میں جہاں بھی دیکھا جائے غیر یقینی صورت حال درپیش ہے۔ مسلمان کہیں بھی امن و سکون کی زندگی نہیں گذار رہے ہیں، تمام مسلم ممالک قتل و غارت، تشدد ، بربریت، ناانصافی اور اغیار کے تسلط کے شکار ہیں۔ ایسے میں ہمیں سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ مسلمانوں پر آفتیں اور یہ مصائب و آلام کے پہاڑ کیوں ٹوٹ رہے ہیں، ہمیں مسلم دنیا میں پائے جانے والے تفرقات اور انتشار ات کی وجوہ جاننا ہوںگی ، اُن کے سدباب کے لئے قرآن وسیرت رسول ؐ سے رہبر

تازہ ترین