تازہ ترین

مسلمان بے اَمان کیوں ؟

 احمد نے اقبال کی معرکہ آراء نظم ’’شکوہ‘‘ کو مسلمانوں کے دل کا چور قرار دیا ہے یعنی اقبال نے شکوہ میں جو کچھ کہا ہے وہ مسلمانوں کے دل کی آواز ہے، مگر مسلمان اپنے دل کی آواز کو زبان دینے پر قادر نہ تھے۔ سلیم احمد کے استاد پروفیسر کرار حسین نے سلیم احمد کی کتاب ’’اقبال۔ ایک شاعر‘‘ میں ’’شکوہ‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکوہ انہیں کبھی بھی پسند نہیں تھی اور اسے وہ اپنے شعری ذوق کی پختگی خیال کرتے تھے، مگر شکوہ کے بارے میں سلیم احمد کی رائے پڑھ کر انہوں نے ’’شکوہ‘‘ کے سلسلے میں اپنی رائے پر نظرثانی کی۔’’ شکوہ‘‘ کے بارے میں سلیم احمد کی رائے اہم ہے مگر ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ کی معنویت کو اور زیادہ گہرائی میں د

سرسید احمد خاں

احمد خاں(۱۸۱۷ء۔ ۱۸۹۸ء) ایک مختلف الحیثیات شخص تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سیاسی، تعلیمی، ادبی، تحقیقی اورمذہبی غرض ہر قسم کے علمی اور قومی مشاغل میں حصہ لیا۔ انہوں نے نہ صرف علمی میدان میں اپنا گہرا نقش بٹھایا بلکہ ہر جگہ دیرپا اثرات چھوڑے ۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا سوال ہے تو وہ اردو کے اولین معماروں میں تھے۔ تعلمی معاملات میں ان کے خاص نظریات نے علی گڑھ تحریک کی صورت اخیات کی اور دینیات میں بھی انہوں نے فکر وتصور کے نئے راستے دریافت کئے۔ غرض علم و عمل کے تقریباً ہر شعبے میں ان کی عظیم شخصیت نے مستقل یادگار چھوڑی ہیں۔  سرسید کے کارناموں کی فہرست لمبی ہے۔ اردو زبان وادب سے ان کی دلچسپی سب سے زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو زبان کی حفاظت کی بلکہ اسے غیر معمولی ترقی دے کر اردو ادب کے نشو و نما و ارتقاء میں نمایاں حصہ لیا۔ انہوں نے اردو نثر کو اجتماعی مقاصد سے روشاس کرایا ا

پروفیسر فواد سیز گین

  فواد سیز گین علم و تحقیق کا ایک عظیم اسکالر تھے ۔وہ ۲۴/ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو ترکی کے ایک مشہور شہر بطلس میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم ارض روم میں حاصل کی ۔پھر استنبول کا رخ کیا اور وہاں سے انھوں نے ہجرت کر کے۱۹۴۷ء میںجامعہ استنبول میںگریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد انھوں نے وہی سے پروفیسر ہلمٹ رٹر (Helmut Ritter ((1892- 1971)کی نگرانی میں صحیح البخاری کے ماٰخذکے موضوع پر پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔انھوں نے اس میں ثابت کیا کہ امام بخاری کے وقت احادیث کے بہت سے مجموعے تحریری شکل میں موجود تھے اور ان کی نشان دہی بھی کی ۔)البتہ بعض لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ انھوں نے ابوعبیدہ کی کتاب ’’مجاز القرآن ‘‘ پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی( تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے کچھ عرصے تک درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا ۔ ۱۹۶۲ء میںانھوں نے فرینک فورٹ کی گوئٹے یونیورسٹی میں عرب

صنم خانے

 کیا ہے....................؟ لفظ صرف لفظ ہی نہیں بلکہ حقیقت میں ایک دنیا،ایک بحر ِ بیکراںہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی طاقت اور اس کے محیط کو سمجھا جائے اور اس کی گہرائی و گیرائی کو پہچانا جائے۔لفظ محض حروف کا مجموعہ،آوازوں کی بندش ،نکتوں اور حرکات کا مرکب ،مفہوم کی پہچان یا مطلب کی ادائیگی ہی نہیں بلکہ لفظ دنیا ئے رنگ و بو ،حیات و کائینات کا ترجمان ،زندگی کا جسم و جاں ،سماج کی تفسیر اور ترسیل و ابلاغ کی روح بھی ہے ۔ خالق کائنات ،مالک ِارض و سماوات یعنی رب ایک لفظ ہے ۔ اللہ،بھگوان ،گاڈ بھی انفرادی حیثیت میں الفاظ ہی ہیں۔یہ لفظ زبان پر آتے ہی انسانی ذہن مرعوب ہوجاتا ہے ۔زندگی کا نقشہ اور بعدالموت کی بیان شدہ اور سنے ہوئے تمام مراحل ذہن کے پردے پر اُبھرتے ہیں۔خالق کی سب سے بڑی فخریہ تخلیق اشرف المخلوقات یعنی انسان بھی ایک لفظ ہی ہے اور انسان کا تعارف مرد اور عورت کے طور پ

غیورؔ مرحوم

’’مرحوم سیّد غلام رسول غیورؔ کا تعلق اہلِ علم وفضل کی اُسی برادری سے تھا جس نے کشمیریوں کے روایتی بھائی چارے ،میل ملاپ اور رواداری کی اُن قدروں اور اصولوں کی آبیاری کی ،جنھیں ہر دَور میں آنے والے شعراء اور اہلِ علم وفضل نے اپنے اپنے انداز میں بخوبی پروان چڑھایا ہے۔ میں نے ذاتی طور مرحوم سیّد غلام رسول غیورؔ کو ایک اعلیٰ پایہ مفکر، دانشور ،ماہرِ تعلیم ،شاعر ، ادیب اورسیاستداں ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی اعلیٰ روایات اور قدروں کے علمبردار ہونے کا تجزیہ کیا ہے۔ اور وہ بین الاقوامی سطح پر ہر ایک معاملے کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ غیور صاحب کو علمِ لدّنی حاصل ہے‘‘۔ این، این، ووہرا۔۔۔سابق گورنر ،ریاست جموں وکشمیر ’’غیورؔ صاحب نہ صرف ایک اعلیٰ مفکر اور صحافی تھے، بلکہ ماہرِ تعلیم ، دانشور ، شاعر اور نثر نگار ہونے کے ساتھ

کولگام : بے لگام ہلاکتیں آخر کب تلک؟

۔  21؍اکتوبر کا دن کشمیر کی تاریخ میںایک اور سیاہ دن کااضافہ کر گیا۔ ا س روز کولگام میں موت کا فرشتہ واقعی بے لگام ہوا، نتیجہ یہ کہ یہاں پرجھڑپ میں پہلے کئی عسکری نوجوان جاں بحق ہوئے اور پھر جھڑپ کے فوراً بعد موقعٔ واردات پربے شمار کشمیری نوجوان باردوی سرنگ بلاسٹ کی نذر ہوگئے ۔ یہ سطور قلم بند کر نے تک بم بلاسٹ کی زد میں آنے و الے سات سوئلین لاشیں دفن کی گئی تھیں اورفی الحال یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ موت کے اس تانڈو ناچ میں اور کتنی جانیں تلف ہونا باقی ہیں کیونکہ بہت سارے شدید زخمی ابھی تک شفاخانوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ کولگام کے اس غم ناک المیے پر ارض ِ وطن کے اطراف وجو انب میں لوگ دُکھی ہیں ، رنج وغم کی شدت سے پورا وطن سوگوار ہے ، متاثرہ کنبے دُکھ اور افسوس کے عالم میں سینہ کو بیاںکرر ہے ہیں ،ماتم منارہے ہیں، آنسوبہارہے ہیں، آہیں بھر رہے ہیں مگر ہے کون جو ان کی شنوا

گجرات:باشندگان ِشمالی ہندکا جینا حرام!

تیری بزم میں ابھی اور گل کھلیں گے اگر رنگ یارانِ محفل یہی ہے مغربی ہندوستان کی ریاست گجرات جوکہ صنعتی اور تجارتی لحاظ سے ایک ترقی یافتہ ریاست سمجھی جاتی ہے، آج کے مودی دور کی بدولت نہیں بلکہ اس سے پہلے کے دور سے ہی اس ریاست کو یہ ا متیا زحاصل رہا ہے ،کیونکہ ان بڑے بڑے سرمایہ دار اور صنعت کار گھرانوں کا تعلق اسی ریاست سے ہے، جنہوںنے باقی ملک کی نسبت صنعت کے کارخانے اور تجارتی ادارے اس ریاست میں زیادہ مقدارمیں قائم کررکھے ہیں۔ اس لئے تلاش روزگار کے لئے شمالی ہندوستان خصوصاً بہار اور اُترپردیش کے محنت کش روٹی روزی کمانے کے لئے بڑی تعدادمیں اس ریاست میں جاتے ہیں اور رہائش رکھتے ہیں۔ ان محنت کشوں کی تعداد لاکھوں افراد پر مشتمل ہے۔ ان مزدوروں ، کاریگروں اور محنت کشوں نے نہ صرف اپنے روزگار اورروٹی روزی حاصل کرنے کے لئے اس ریاست سے عارضی طورپر اپنا مسکن بنایاہے بلکہ گجرات کی ترقی اور

بلھاکیہ جاناں میں کون ؟

اچھے افسانے کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ قاری کو آخر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے ۔ اگر یہ صفت افسانے میں نہ پائی جائے تو تخلیق کمزور مانی جاتی ہے ۔ مگر ایک افسانوی مجموعے کے پہلے افسانے کو پڑھ کر پورا افسانوی مجموعہ پڑھنے کو جی کرے اور یہ کشش و گرفت قاری کو آخر تک اپنے قابو میں رکھے، ایسا اتفاق کم ہوتا ہے ۔ کچھ ایسا ہی اتفاق میرے ساتھ اُس وقت ہوا جب میں نے ڈاکٹر اشرف آثاری صاحب کا افسانوی مجموعہ ’’ بلھاکیہ جاناں میں کون ؟ پڑھنا شروع کیا ۔ ڈاکٹر اشرف آثاری صاحب کے افسانوی مجموعے کی ادبی افادیت اپنی جگہ،  مجموعے کے اُنتالیس صفحات پر پھیلی تمہید کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے ۔ گرچہ میں اس قدر طویل تمہیدیں کسی اچھی کتاب کے لئے بہتر نہیں سمجھتا مگر ان اوراق میں پروفیسر حامدی کاشمیری ؔ ،نور شاہ ،عبدالغنی شیخ ،وحشی سعید ،محمد اسداللہ وانی ،عبداللہ خاور،دیپک بُدکی ،حسن ساہو اور پ

منان وانی کی کہانی

ڈاکٹر منان وانی کو جب اس زمین کے سینے میں اُتاردیا گیا جس کے ساتھ اس کا تعلق اتنا گہرا تھا کہ ہزاروں میل دور علی گڑھ میں اعلیٰ تعلیم کی بے پناہ مصروفیتوں میں بھی نہیں ٹوٹ سکا ۔اس کے آبائی گاوں میں ہی نہیں بلکہ پوری وادی میں اس نوجوان کا ماتم کئی روز جاری رہا ۔ لوگ محسوس کررہے تھے کہ پی ایچ ڈی کا سکالرجواس قوم کے لئے ا ایک بہت بڑا اثاثہ تھاکواتنی جلدی اور اس طرح بھری جوانی میں جدا نہیں ہونا تھا ۔عین اسی وقت ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک جھیل ڈل کے کنارے واقع ایس کے آئی سی سی میں قیام امن میں نوجوانوں کے کردار پر بات کررہے تھے ۔وہ کہہ رہے تھے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے انہیں صحیح سمت میں لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ستیہ پا ل ملک خود بہت جہاندیدہ انسان ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ ہر دور کے نوجوان اپنی سمت آپ متعین کرتے ہیں ۔ کوئی اوران کی سمت متعین نہیں کرسکتا ۔ جس طرح ہوا ک

ہوئے مر کے ہم جورسوا۔۔۔ قسط2

اب آپ نےاکثردیکھا ہوگا کہ گنجان محلوں میں مختلف بلکہ متضاد تقریبیں ایک دوسرے میں بڑی خوبی سے ضم ہو جاتی ہیں۔ گویا دونوں وقت مل رہے ہوں۔ چنانچہ اکثر حضرات دعوت ولیمہ میں ہاتھ دھوتے وقت چہلم کی بریانی کی ڈکار لیتے، یا سویم میں شبینہ فتوحات کی لذیذ داستان سنا تے پکڑے جاتے ہیں۔ لذتِ ہمسایگی کا یہ نقشہ بھی اکثر دیکھنے میں آیا کہ ایک کوارٹر میں ہنی مون منایا جارہا ہے تو رت جگا دیوار کے اس طرف ہورہا ہے اور یوں بھی ہوتا ہے کہ دائیں طرف والے گھر میں آدھی رات کو قوال بلّیاں لڑارہے ہیں، تو حال بائیں طرف والے گھر میں آرہا ہے۔ آمدنی ہمسائے کی بڑھتی ہے تو اس خوشی میں ناجائز خرچ ہمارے گھرکا بڑھتا ہےاوریہ سانحہ بھی بارہا گزراکہ مچھلی طرح دار پڑوسن نے پکائی اور مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبوآئی ۔اس تقریبی گھپلے کا صحیح اندازہ مجھے دوسرے دن ہوا جب ایک شادہ کی تقریب میں تمام وقت مرحوم کی وفات حسرت آی

زینب کو انصاف ملا

پاکستان  کے شہر لاہور کے قصور علاقے میں سات برس کی معصوم کلی زینب کے اغوا، عصمت دری اور بعد میں بڑی ہی بے دری کے قتل کیے جانے میں ملوث ملزم عمران علی کو واردات کے نو ماہ بعد پھانسی پر لٹکا کر اپنے انجام کو پہنچا دیا گیا۔ ملزم کو ۱۷؍اکتوبر کے روز صبح ساڑھے پانچ بجے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پھانسی دے کر اپنے منطقی انجامتک پہنچایا  گیا۔اس موقعے پر مقتول زینب کے والد محمد امین بھی موجود تھے، جنہوں نے سر کی آنکھوں سے اپنی معصوم کلی کو مسلنے والے درندہ صفت انسان کا عبرت ناک انجام دیکھ لیا ۔جنسی زیادتی اور قتل جیسے بھیانک جرائم کے مجرم کو اتنی قلیل مدت میں کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دنیا بھر میں پاکستانی عدالیہ کو خوب داد دی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے صارفین نے پاکستان میں جرائم کی حوصلہ شکنی اور بیخ کنی کے لئے قانون کی اس نوع کی بالادستی پر ملک کی عدالیہ کو خراج تحسین پیش

مساواتِ مردوزن

آج کل ’’می ٹو ‘‘بہت چر چے میں ہے جو مغرب کی تہذیب آذری پر ایک بڑا طمانچہ ہے ۔ حق یہ ہے کہ عورت کا سماج میں کیا مقام ہونا چاہیے اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ اس بارے میں اسلام نے پوری انسانیت کے لئے بہترین اور کامل ترین پیغام عالم انسانیت کو دیا ہے۔ ایک مسلمان خاتون کے لئے اپنے گھر میں رہتے ہوئے خانگی امور کی انجام دہی، اہل خانہ کی خدمت اور بال بچوں کی پرورش و پرداخت کرنا ہی اس کا باوقار اورسنجیدہ وظیفۂ حیات ہے۔ اسلام کا اعجاز اور کمال یہ بھی ہے کہ وہ عورت کو اپنے مناسب مقام پر رکھ کر اس کی فطری صلاحیتوں کے مطابق اس کا سماجی کردار متعین کرتا ہے جو اسے ہر اعتبار سے تعظیم و تکریم کا حق دار بناتا ہے، لیکن مغربی تہذیب نے عورت کو اس کے فطری دائرہ عمل سے باہر نکال کر مردوں کے دائرہ کار میں دھکیل دیا ہے، یعنی ایک طرح سے مغرب نے عورت کو مصنوعی مرد بناکر مساوات مردوزن کا

مرحوم عبدالسلام ملک

تحصیل ٹنگمرگ کی مثالی شخصیات میں مرحوم ومغفور عبدالسلام ملک کانام سرفہرست تھا۔ا سکولی ریکارڈ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش ۱۵؍ نومبر ۱۹۴۵ ء تھی۔ ٹنگمرگ دیوبگ کنزرکے ایک دین دار گھرانے میں آنکھ کھولی۔والدغلام قادر ملک زمیندار تھے۔ بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔۱۹۶۵  ￿ میں دسویں جماعت کا امتحان گورنمنٹ ہائی اسکول چندی لورہ ٹنگمرگ سے اول درجے میں پاس کیا۔ایک ذہین اور محنتی طالب علم ہونے کے ناطے پرائمری سے بی ۔ایڈ تک ہر امتحان میں ٹاپ رہے اور وظائف ملتے رہے۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۶۶ کو محکمہ تعلیم میں ان کا بہ حیثیت مدرس تقرر ہوا۔دوران ملازمت پڑھا ئی جاری رکھی ۔ مرحوم کی شادی ایک ہمسایہ گاؤں کٹی بگ میں ہوئی تھی۔ عہدشباب میں ان کا شمار نامور کرکٹ کھلاڑیوں میں ہوتا تھا، بلا بنانے میں انہیںکمال حاصل تھا۔ ۱۹۸۰  ￿ میں ان کی ملاقات پٹن کے محترم عبدالغنی موحد سے ہوئی جنہوں نے سوپورسے شائع ہونے

ادبی تنقیدیا بے ادبانہ تنقیص؟

ادبی  تنقید کی مختصر تشریح یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر ادبی تخلیقات کے معیار اور کوالٹی کو پرکھاجاتا ہے مگر اس کسوٹی کا استعمال کرنا بھی ایک مکمل فن ہے اور یہ فن مختلف اصولوں پر قائم ہے ،اس لئے ایک نقاد کا اس فن سے واقف ہونا لازمی ہے تاکہ کسی تخلیق پر اپنا جائزہ پیش کرتے وقت اُس سلیقے کو بھی زیر نظر رکھ سکے جو تنقید کے لئے ضروری ہے اور تنقید میں تخلیق کار کی ذات کو نشانہ نہ بنائے ورنہ دیکھا گیا ہے کہ یہاں کچھ لوگ ذاتی حملوں کو بھی تنقید کے ہی زُمرے میں لاتے ہیں۔ ادبی تنقید کی کچھ اپنی نزاکتیں ہیں اور کچھ اپنی نفاستیں ہیں اور ایک ماہر نقاد اُن سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے۔ تخلیق کار کے لئے ضروری نہیں کہ بہت زیادہ پڑھا لکھا ہو یا اُس کا مطالعہ وسیع ہو مگر نقاد میں ایسی قابلیت ہو تو وہ اُس کی تنقیدی بصیرت کو زیادہ معتبر بنادیتی ہے، کیونکہ نقاد اپنی قابلیت کی روشنی میں ہی کسی تخل

سعودی بادشاہت کا ناقد

سعودی مہاجر جمال خاشقجی جو ۲ ؍اکتوبر کو ترکی میں سعودی سفارت خانے میں پُر اسرار طو ر قتل کئے گئے ، کئی دن سے عالمی شہ سرخیوں میں ہیں ۔ گزشتہ دنسعودی عرب نے جمال خاشُقجی کے قتل کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں ان کے اور عملے کے مابین ہوئی تو تو میں میں جمال کا خون ہو ا۔ اس سلسلے میں سعودی بادشاہت کے چند اعلیٰ عہدیداروں اور ایک شاہی مشیر کو سبکدوش بھی کیا گیا ۔ مقتو ل شخص جمال خاشقجی سعودی عرب کے ایک معروف صحافی، تجزیہ نگار اور ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے ایک صحافی کے طور پر انیس سو اسی کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغازکیا۔ یمن میں سعودی عرب کی مداخلت کی شدید مخالفت کی اور بعد ازاں ۲۰۱۷ کو وہ سعودی عرب چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوئے اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔جمال خاشقجی 1958میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم سعودی عرب سے، جب کہ 1982میں امریکہ کی انڈیانا

گول مال ہے بھائی سب گول مال ہے

ہم ہم تو الیکشن میں اس قدر مصروف تھے کہ سمجھو دنیا و مافیہا سے بے خبر۔ بقول ایک ایکٹر ہم کھاتے پیتے الیکشن ، اُٹھتے بیٹھتے الیکشن ، دوڑتے ہانپتے الیکشن ،مرتے جیتے الیکشن تھے۔چلو ایک الیکشن ختم ہوگیا یعنی ہم آدھے جئے آدھے کا حساب لگانا باقی ہے۔الیکشن کے اس غل غپاڑے میں ہم نے وہ آواز ذرا ہلکی سنی جس کا شور بھارت ورش میں اونچا تھا۔سب کو’’میں بھی ‘‘ ) ( Me Too کے زلزلے میں بڑا جھٹکا منسٹر صاحب کو لگا، مگر ذیلی جھٹکے (After shocks) فلمی اداکاروں ،ڈائریکٹروں سمیت اوروں کو بھی لگے ۔اس چھینا جھپٹی میںبلدیہ انتخابات کا بھوت اتنا بھاری تھا کہ ویتال پچیسی کی بھوتیا لاش اشوک پیڑ سے اُتر کر بس اپنے کندھے پر سوار تھی۔اسی لئے ساری سرکاری مشینری گھوڑے کی طرح آنکھوں پر پٹ لگائے بس ایک ہی سمت دیکھ رہی تھی کہ اپنے ملک کشمیر میں بلدیہ اور دیہات کا سدھار ہو جائے ۔شہر شہر گائوں گ

ہندوتو ا دوقومی نظریہ کا جنم داتا!

برصغیر  ہند و پاک میں جب بھی دو قومی نظریے کا راگ چھیڑا جاتا ہے تو بات قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور فلسفہ ٔ سیاست پر آ جاتی ہے جنہیں اس نظریے کا موجد مانا جاتا ہے ۔اس کے ثبوت میں پاکستان کا ذکر کیا جاتا ہے جس کو ایک آزاد ملک کی حیثیت میں کو دنیا کے نقشے میں لانے میں قائد کا کردار کلیدی رہا۔ ہندوستان کے پس منظر میں دو قومی نظریے کا مدعا و مفہوم یہ رہا ہے کہ ہندو و مسلمان دو علحیدہ قومیں ہیں جن کا ایک ہی ملک میں ایک ساتھ رہنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ یہ مختلف المذاہب اور مختلف التمدن ہیں ۔  تاریخ کے گہرے مطالعے اورتجزیئے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے بہت پہلے دوقومی نظریے کے بیج بوئے جا چکے تھے اور اُنہوں نے یہ نظریہ ایک ایسی صورت حال میں اپنایا جب سیاسی طور پہ اُن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے قائد اعظم محمد عل

لندن کی بانہوں میں!

لنکنز ان وسطی لندن میں واقع ہے، یہ علاقہ چانسلری لین کہلاتا ہے، فنون لطیفہ کی یونیورسٹی بھی یہیں ہے، جب کہ رائل کالج آف سرجنز اور لندن اسکول آف اکنامکس بھی آس پاس ہی ہے۔ہم گوگل سے پوچھتے پچھاتے لنکنز ان پہنچے، دائیں بائیں عمارتیں نظر آرہی تھیں مگر ان میں سے کسی کے باہر کوئی نام نہیں لکھا تھا۔ ہم نے آنے جانے والوں سے پوچھا کہ لنکنز ان کہاں ہے، سب نے کندھے اُچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔ہم تکے سے ایک عمارت میں گھس گئے جہاں تعمیر کا کام جاری تھا، دروازے پر کھڑے گارڈ نے بتایا کہ یہی لنکنز ان ہے، اندر داخل ہوئے تو نوجوانوں کی ٹولیاں مخصوص سیاہ گائون پہنے گھومتی اور تصویریں کھنچواتی نظر آئیں۔ ایک جگہ Old Hall لکھا ہوا تھا، سیڑھیاں نیچے کو جارہی تھیں، ہم بھی وہیں چلے گئے، معلوم ہوا کہ آج خیر سے گریجوایشن کی تقریب ہے ۔ گویا وہ دن جب طلبا باقاعدہ بیرسٹر بنتے ہیں، تصاویر بھی اسی لئے کھنچوائ

’’می ٹو‘‘

 نانا   پاٹیکر کے خلاف سابق اداکارہ تنوشری دتا کے ذریعہ جنسی ہراسانی کا الزام عائد کئے جانے کے بعد جنسی ہراسانی کے خلاف ہندوستان میں شروع ہونے والی خواتین کی مہم’’می ٹو‘‘(میں بھی جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہوں) میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر کام کرنے والی کئی معروف خواتین اور صحافیوں نے اپنے تلخ تجربوں کا ذکر کیا ہے اور ذہنی اذیت دینے کی بات کھل کر بتائی ہیں۔ ایسے میں نت نئی اہم شخصیات کے ناموں کے انکشافات کے سبب ہلچل بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تک لاکھوں کی تعداد میں خواتین اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ردعمل کا اظہار کرچکی ہیں۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے، اس کا اندازہ تو اُسی وقت ممکن ہے جب الزامات کی گہرائی سے تفتیش ہوگی۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں جاری ہیش ٹیگ ’’می ٹو‘‘ مہم کے ذ

سرسید احمد خانؒ

سرسید  احمد خان کی تاریخ پیدائش ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء ہے ۔ آپ بمقام دہلی ایک معز ز ومحترم گھرانے میںتولد ہوئے ۔سرسید احمد خان کی تعلیمی بیداری علی گڑھ تحریک کی بنیادہے ۔ زمانہ گواہ ہے کہ سرسید کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز کثرت سے آئے جنہوں نے ان کی شخصیت کو تعمیر بھی کیا اور متاثر بھی کیا۔ اُ ن کی زندگی کا پہلا دوروہ ہے جس میں سرسید نے آنکھیں کھولیں۔ یہ زمانہ تاریخی تہذیبی اور اقتصادی غرض پر لحاظ سے ہنگامی و ہیجانی تھا۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم اور سخت موڑ تھا۔ یہ زمانہ مغل شاہی حکومت کی تیززوال پذیری۔ پرانی تہذیب کی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی قدروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کا زمانہ تھا۔ اقتصادی سرگرمیاں جو اب تک زمینوں اور جاگیروں کا مرکز تھیں، اپنی جگہ سے ہٹ رہی تھیں۔ مغل شاہی حکومت کی آخری ہچکیاں اور سرمایہ دارانہ نظام اور انگریزی کا تسلط اپنے پاؤں جمار ہاتھا ا