تازہ ترین

ٹھگز آف ہندوستان

ٹھگ  سنسکرت کے اصل لفظ ستھگہ سے ماخوذ اردو زبان ٹھگ مستعمل ہے ۔ اس کے معنی ہیں چھپا ہوا یا پوشیدہ۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ 1672ء میں عبداللہ قطب شاہ کے دیوان میں  اس کا حوالہ ملتا ہے۔ آج کے زمانے میں ٹھگ کا لفظ چالاک اور مطلب پرست آدمی سے لے کر دھوکے باز، جرائم پیشہ افراد تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی لفظ امریکہ میں ڈاکوؤں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اپنی شناخت یا نیت چھپانے کا تردد نہیں کرتے لیکن اصل ہندوستانی ٹھگ اپنے شکار پر آخر تک اپنی شناخت یا نیت ظاہر نہیں کرتے تھے۔ یہ لوگ بڑی ہوشیاری سے مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اگر ایک ٹھگ ناکام رہتا تو وہ اپنے شکار کو دوسرے علاقے کے ٹھگ کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔ ان کا بڑا ہتھیار رومال یا پھندا ہوتا تھا، جس سے وہ آناً فاناً اپنے شکار کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے۔ یہ لوگ کالی دیوی کے پچاری ت

سردار پٹیل کا فلک بوس مجسمہ!

 گزشتہ تقریباً ۵؍برسوں سے جب سے نریندر مودی کو وزیر اعظم کیلئے نامزد کیا گیا ،ملک عزیز کے مختلف شعبۂ حیات میں نمایاں من مانیاں دیکھنے کو تو ملتی ہی ہیں،ایک شعبہ ایسا بھی دیکھنے کو ملاجو ہے تو  انگریزی کا لیکن ہندی کے رنگ میں پوری طرح رنگاہوا۔میری مراد انگریزی کے قومی چینلوں سے ہے۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے انگریزی یا اردو کا اخبار ہندی رسم الخط میں خبریں اور تجزیے شائع کرے۔اشتہارات کی بات دیگر ہے لیکن یہ اُس وقت سے ہوا ہے جب ٹی وی کے مذاکرات میں بی جے پی کے علاوہ آر ایس ایس کے ترجمان شامل ہونے لگے ہیں۔ہندی میں کچھ کہنا یا بولنا کوئی خراب بات نہیں ہے لیکن جب یہ محسوس ہونے لگے کہ ہندی ہی مقدم ہے اور انگریزی دان بھی اس کے زُلفوں کے اسیر ہوتے جارہے ہیں یا مجبوری کے تحت یہ سب کر رہے ہیں تو یقیناًیہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ ہو نہ ہو’’ہندو،ہندی،ہندوستان‘‘

مولانا ابو الکلام آزاد

 مولانا  ابوالکلام آزادؒ ((1888-1958بیسویں صدی کے مایہ ناز مفکر تھے ۔ صاحب بصیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک متحرک شخصیت بھی تھے اور سحر بیان خطیب بھی ،جن کا ظہور روز روز ہر گز نہیں ہوسکتا ۔مولانا آزاد اختراعی قوت کے مالک تھے ۔ وہ کورانہ تقلید،اندھی راویات یا تقلید محض کے قائل نہیں تھے ۔انھوں نے قدامت پرستی اور تجدد پسندی کے بیچ میں ایک ایسا راستہ نکالا جو ایک طرف شریعت کا تابع تھا تو دوسری جانب عصری علوم وفنون اور معاصر زمانہ کے تقاضوں سے بالکل ہم آہنگ تھا ۔ اللہ تعالی نے انہیں بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا اورانھوں نے ہر فیلڈ میں کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ بہ حیثیت عالم دین، مفسر قرآن ، سیاست دان، صحافی، مصنف اور اصلاح کار آج بھی زمانہ ان کی خداداد قابلیتوں کا لوہا مانتا ہے ۔ بلاشبہ بشری تقاضوں کے تحت کسی اجتماعی معاملے کے فہم وادارک میں ان سے خطا اور چُوک بھی ہوئی ہو ،

کشمیر کے بکروال

اس سال نومبر کا مہینہ آتے ہی غیر متوقع طور پر آر پار کشمیر کے وسیع علاقوں میں برف باری ہوئی جس سے وادی کشمیر میں پھلوں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا اور بدلتے موسم کے ساتھ سفر کرنے والے بکروال بھی متاثر ہوئے۔ بکر والوں قدرت کی گود میں آزاد اور جفاکشی کی قابل رشک زندگی گزارتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش گرمیوں کے مہینے کشمیر کے پیر پنجال اور ہمالیہ کے بلند وبالا پہاڑی سلسلوں کی چوٹیوں پہ واقع گھاس کے بڑےبڑے میدانوں  جنہیں مقامی زبان میں بہک کہتے ہیں،میں بھیڑ بکریاں چرانے لے جاتے ہیں اور سردیاں پیر پنجال اور ہمالیہ کے پہاڑوں کے قریبی میدانی علاقوں میں گزارتے ہیں۔ خانہ بدوشی کا یہی روز وشب بکروالی زندگی کا خاصہ ہوتا ہے ۔ ان کا مال ومتاع بھیڑ بکرے اور گھوڑے ہوتے ہیں اور رہنے کے لئے خیمے۔ ہر سال موسم بہار سے پہلے ہی وہ میدانی علاقوں سے پیر پنجال اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی جانب اپناسفر شروع کرتے ہ

سرکاری سکولوں کے طلباء وطالبات

 وادی کشمیر میں تعلیمی سال کا آغاز نومبر سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں آٹھویں جماعت تک کے نتائج کا اعلان اکتوبر میں کیا جاتا تھا اور طلبہ میں کتابوں کی تقسیم بھی اسی مہینے میں انجام دی جاتی تھی مگر اس سال طلبہ کو ابھی تک سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں کو امتحانات سے ہی چھٹکارا ہی نہیں ملتا،جب کہ پرائیوٹ سکولوں نے نومبر کے آغاز سے ہی نئی کلاسز کی شر و عات کی ہوئی ہیں۔ امسال محکمہ تعلیم نے عقل وفہم سے ماوراء ایسے طور طریقے اختیار کئے جو نہ صرف وقت کے زیاں پر منتج ہوئے بلکہ ان سے یہاں کے طلبہ کا مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر جن جماعتوں کے امتحانات پندرہ اکتوبر سے پچیس اکتوبر تک ہوا کرتے تھے، امسال نومبر کے آخر ہفتے میں بھی اختتام ہونے کی اُمید نظر نہیں آتی۔ یہ اندھیر نگری چوپٹ راج نہیں تو اور کیا ہے ؟  اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ گیارہ نومبر کو

فدا ؔراجوروی کے ادبی سروکار ۔۔۔۔ قسط 2

زیر  نظر مجموعہ کلام اشاعت سے پہلے ان کی بالیدہ اور دور رس نگاہوں میں رہا ہے ۔گویا معلوم یہ ہوا کہ فداؔراجوروی اپنے بڑے بھائی کی علمی وادبی اور شعری بصیرت سے فیضیاب ہوئے ہیں ۔’’شہردل‘‘ میں ہمیں ایک ایسے شاعر سے ملاقات ہوتی ہے جو انسانیت کی کھیتی کو سرسبز وشاداب دیکھنے کا خواہاں ہے اور ان تمام جمہوری اقدار کی بحالی پہ زور دیتا ہے جو ذہنی خباثتوں اور طاغوتی نظام کی زد میں آچکی ہیں !آیئے اس سلسلے میں فداؔراجوروی کے ’’شہر دل ‘‘میں داخل ہوتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ انھوں نے کس طرح کے تجربات ومشاہدات اور حالات وواقعات کو شعری سانچے میں ڈھالا ہے ۔نمونے کے طور پر مندرجہ ذیل اشعار توجہ طلب ہیں ۔ملاحظہ ہوں: اب کوئی لفظ نہ باقی نہ معانی صورت سارا دفتر  ہے  فقط  ایک کہانی صورت پچھلی رُت خوب تھی جب لوگ تھے سارے واق

تھارے جیسا نہ کوئی!

یہ  لگ بھگ چالیس برس اُدھر کی بات ہے ۔میرے خالہ زاد بھائی کی شادی کے موقع پر اس کی ایک سابقہ رفیق کار پروفیسر آر تی رینہ دُلہن دیکھنے اُن کے گھر آئی ،جو اُنہی دنوں انگلستان سے چھٹیوں پر آئی ہوئی تھیں۔باتوں باتوں میں ہم نے اُن سے برطانیہ میں زندگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ ایک دن اُن کے ہاں ڈبل روٹی کے اندر سے کاغذ یا لکڑی کی ایک بہت چھوٹی سی کرچی نکلی ۔اُس بات کو خلاف توقع سمجھ کر انہوں نے ریپر پر لکھے ایڈریس پر اس کی اطلاع روٹی بنانے والے ادارے کو کردی۔تھوڑی ہی دیر بعد ادارے کے تین معزز اشخاص اُن کے گھر پر آئے ،اپنے ہیٹ عجز و انکساری کے ساتھ اُٹھا اٹھاکر معافیاں مانگنے لگے ۔اُنہوں نے کہا اگر یہ معاملہ سرکار کی نوٹس میں آتا ہے تو کمپنی یا بیکری کا بند ہونا تو حتمی ہے جس کا انہیں کوئی دُکھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ کوئی دوس

اندھی تقلید!

وادی  کشمیر کا یوں تو چپہ چپہ جنت نشان ہے لیکن پوری وادی میں جنوبی کشمیر کو خوبصورتی میں ایک خاص حصہ قدرت نے بخشا ہے۔ یہاں کے وافر آبی ذخائر اس قدرتی حسن و جمال میں چار چاند لگاتے ہیںاور بیشتر سیاحتی مقا مات کی اصل رونق وہ صاف و شفاف پانی ہے جسے کسی شاعر نے بجا طور پر بہتی ہوئے چاندنی سے تشبیہ دی ہے۔ ان سیاحتی مقامات میں بس چند ایک مقامات مشہور و معروف ہیں اور قدرتی حسن و جمال سے مالا مال بہت سی جگہیں قدرتی جمال کی متلاشی نگاہوں سے ا بھی پوشیدہ ہیں۔ اسی لئے جب کوئی قدرتی خوبصورتی کا قدر داں ان غیر معروف جگہوں میں سے کسی جگہ اپنے آپ کو پاتا ہے تو وہ ایک ایسی خوشگوار کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے کہ جس کا بیان الفاظ کے تنگ قالب میں نہیں سماسکتا۔چند سال قبل راقم الحروف کو بھی ایک ایسے ہی مقام تک اتفافاً رسائی نصیب ہوئی اوراسی بہانے حیرت انگیز مسرت و انبساط نصیب ہوئی ۔یہ علاقہ جنوبی کش

ٹیپو سلطان ؒ

 شیر میسورسلطان ٹیپو ؒ کی یوم پیدائش پر پھر سے زعفرانی لیڈروں نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھااور سلطنت خداداد کے خلاف بے بنیاد، بے ہودہ اور جہالت پر مبنی الزامات کے پہاڑ گھڑ تے جارہے ہیں۔ شہر میسور میں ٹیپو سلطانؒ کا یوم پیدائش ۱۰؍نومبر کو گزشتہ چار سال سے سرکاری سطح پر منایا جارہاہے،اس سے قبل عوام کئی سالوں سے ٹیپو جینتی منعقد کرتے آئے ہیں،لیکن بی جے پی جن متعصب اور نفرت بھرے نظریات کی حامل ہے ،ان میں ملک کی مایہ ناز اور اہم شخصیات کے خلاف بہتان بازیاں اور جھوٹے الزامات تراشنا اور ان کی امیج کو عوامی سطح پر مجروح وداغ دار کرناسر فہرست شامل ہے۔چنانچہ اسی نظریہ پر عمل پیرا ہوکر گزشتہ کئی سال سے یہ لوگ سلطان ٹیپوؒ جیسی محب وطن شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جس ٹیپوسلطان ؒ کو ہندتوا نظریہ کے مطابق ۱۹؍ویں صدی کا کٹر مذہبی حکمران اور ہندووں کا مخا

رشوت ۔۔۔ خاتمے کی بسم اللہ ہو!

 تیر ے وعدے پر جئے تو یہ جان جھوٹ جانا خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا غالبؔ جموںوکشمیر ریاست جہاں دیگر بڑے بڑے مسائل سے دوچارہے، وہاںرشوت ستانی اور بھرشٹاچار کامسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ جموںوکشمیر ایک ہاتھ غیر یقینی صورت حال کے باعث مختلف مصائب میں مبتلاء ہے اور ودسرے ہاتھ رشوت ستانی اور بھرشٹاچار نے بھی یہاںکے عوام کا دم ناک میں مبتلا کررکھاہے، لیکن آج تک کسی حکمران نے عملاً رشوت ستانی اور بھرشٹاچار کے انسداد کے سلسلہ میں کوئی انسدادی کا روائی عمل میں نہیںلائی اور عوام اس بدعت کے ذریعہ زبردست عذاب میںمبتلا ء ہیں۔ بے شک مسئلہ کشمیر ، شہری آزادیوں کی بحالی، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا مکمل نفاذ، فوج اور ملی ٹینٹوں کے درمیان تصادم، عام شہریوں کی ہلاکت اور دیگر کئی مسائل کے باعث جموںوکشمیر کے عوام انتہائی کر بناکی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان مسائل کاحل

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات

برائون لڑکے نے سگنل پر سڑک پار کرتے ہوئے برائون لڑکی سے کہا ’’سنو! کارل مارکس اب تک جدید فلاسفر ہے اور مارکسزم ایک جدید ترین نظریہ‘‘۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کہ میں نیویارک میں ہوں یا کلکتہ میں۔ کیونکہ کہیں اور اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے شاید آج بھی مڑ کر اپنے کاندھوں کے اوپر دیکھنا پڑتا ہو لیکن میں نے خزاں کی بارش کی پڑتی ہوئی ہلکی پھوار اور اس سے دُھلی سڑک اور اس پر اُڑتے زرد سرخ پتے اور ان پتوں میں ڈیموکریٹک خاتون امیدوار کلیٹیلینا کروز کی تصویر والے پھٹے پوسٹروں کے پنے دیکھے تو یاد آیا میں نیویارک میں ہوں اور وسط مدتی امریکی انتخابات کی پولنگ امریکی مشرقی ساحل پر کچھ لمحے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ ٹرمپ کی حکمراں ریپبلکن پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھ چکی تھی لیکن کانگریس میں ڈیمو کریٹک اکثریت سے آ چکے تھے۔ میرے علاقے میں کرشمہ یہ ہوا کہ چوب

گورنرملک کا ویژن کشمیر

ریاست جموں و کشمیر میں جیسے تیسے بلدیاتی انتخابات کا اختتام ہوا ۔ ا س کے نتیجے میں میونسپل کمیٹیوں کے جو ممبران بلامقابلہ یایکطرفہ مقابلہ کے بعد منتخب ہوئے ان میں کتنے لوگوں نے سکولوں کا دروازہ دیکھا ہے اور کتنوں نے نہیں اس کے مصدقہ اعداد و شمار ابھی آنے باقی ہیں تاہم ایسے ممبران کی تعداد اچھی خاصی ہے جو بہلا پھسلا کر اس میدان میں لائے گئے ہیں انہیں اتنی بھی خبر نہیں کہ میونسپل کمیٹی کسے کہتے ہیں۔بہر حال گورنر ستیہ پال ملک کی یہ پیشن گوئی صحیح ثابت ہوئی کہ سرینگر میونسپل کونسل کا مئیر ایک بیرن ملک پڑھا لکھا نوجوان بن جائے گا ۔جنید متو اب سرینگر شہر کے مئیر ہیں ان کے مقابلے میں پردیش کانگریس کا امیدوارغلام رسول حجام شکست کھاگیا ہے ۔حالانکہ کانگریس کو ممبران کی اتنی تعداد حاصل تھی کہ اس کا امیدوار جیت جاتا لیکن کہا جاتا ہے کہ اسے اپنوں نے ہی دغا دی ۔ایسا نہ ہونا تو بتہ مالو کا نائی سٹی

فدا ؔراجوروی کے ادبی سروکار

تہذیب فدا ؔراجوروی کا اصلی نام عبدالرشید ہے۔ شاعرانہ ذہن کے مالک ہیں،اس لیے اپنے نام کے ساتھ فد ا ؔتخلص کرتے ہیں ۔نہایت ذہین، محنتی،علمی وادبی اور شاعرانہ شخصیت کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں جانے جاتے ہیں۔زندگی کی 78بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ضلع راجوری،تحصیل تھانہ منڈی کے ایک دلکش گاوں بہروٹ میں رہتے ہوئے اردو،کشمیری،پہاڑی اور فارسی زبانوں کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔میں یہ بات بڑے وثوق اور ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ شاؔہباز راجوروی،عبدالسّلام بہار،فاروق مضطرؔ،نثار راہیؔ،خورشید بسملؔ اور فدؔاراجوروی جیسے سنجیدہ ،خوش مزاج و خوش اخلاق اوراردو ہی نہیں بلکہ پہاڑی اور کشمیری سے گہری دلچسپی رکھنے والے لوگ نئی نسل کے لیے بہت بڑا علمی وادبی سرمایہ ہیں۔ان کے رشحات قلم سے اردو کو اس خطے میں جو فروغ اور معیار حاصل ہوا ہے اسے ریاست جموں وکشمیر کی جدید اردو ادبی تاریخ ہرگز فراموش نہیں کرسکتی ۔فداؔراجوروی پیشے س

خداوندان ِ بورڈ آف ایجوکیشن سے

 کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی کا رازاُس کے نظامِ تعلیم اور نظریہ ٔ  تعلیم کی صحت مندی اور اس کے تئیں حکومت کی سنجیدگی میں مضمر ہے۔ ایک عوام دوست نظامِ حکومت میں حکمران طبقے کی زیادہ تر توجہ نوجواں نسل کی ذہنی نشوونما ء اور اُس کی صلاحیتوں کو اُبھارنے پر مرکوز رہتی ہے ۔ ہمارے یہاں اس کے بالکل اُلٹ ہورہاہے ۔ چونکہ تعصب اور سیاسی مفادات کی آلودگی سے کشمیر کا تعلیمی نظام چوپٹ ہے، جب کہ ہمارے سیاست دانوں کی نگاہ میں طلبا ء اور طالبات کی تعلیم و تربیت یااُن کے مستقبل کی تعمیر اُن کی سیاسی دوکانوں کے لئے بے معنی اور فالتو چیزیں ہوتی ہیں۔ بنا بریں یہاں ڈیٹ شیٹ سے لے کر امتحانی تاریخوں کاتعین ہونے تک ہر چیز پر سیاست کا ری کا سایہ دراز رہتا ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں میں سیاسی مفاد ات ، رشوت ستانیوں، دھاندلیوں، بے ضابطگیوںاور بد نظمیوں نے یہاں تعلیمی نظام کو تباہ و بر باد کرکے چھوڑا ہے۔ اس

آہیں بھریئے نہ آنسو بہائیے

گزشتہ  دنوں مقامی اخبارات میں یہ خبرشائع ہوئی ہے کہ ضلع کپواڑہ کے ترہگام علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک امام و خطیب کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ چارج شیٹ میں یہ ’’جرم ‘‘درج کیا گیا ہے کہ مذکورہ امام نے کسی جامع مسجد میں اپنے جمعہ خطاب سے ’’امن و امان‘‘ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں پلوامہ کے ایک مولوی صاحب کو بھی پابند سلاسل بنادیا گیا، کیونکہ اُنہوں نے ایک جان بحق عسکریت پسند کے نماز جنازہ کی پیشوائی کی تھی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی عسکریت پسندوں کے نماز جنازہ کی امامت کر نے یا اسی مناسبت سے منعقدہ تعزیتی تقریب میں موت و حیات کے فلسفے پر روشنی ڈالنے کی پاداش میں جب کسی مولوی صاحب یا مُقرر کو پابہ زنجیر کیا گیا ہو بلکہ ابھی تک درجنوں لوگوں پر اس حوالے سے پبلک سیفٹی ایکٹ(PSA) کا اطلاق کیا جاچکا ہ

علماء اور معاشرہ سے دوباتیں

دس سال پہلے کی بات ہے،ڈسٹرکٹ کورٹ سٹی منصف کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت ہورہی تھی۔ معاملہ میاں بیوی کے مابین تنازعے کا تھا۔ نوبت طلاق تک پہنچ چکی تھی ۔ ان کا نوزائیدہ بچہ باپ کی تحویل میں تھا اور ماں نے دعویٰ دائر کیا تھا کہ بچہ اس کی تحویل میں دیا جائے۔ بہرحال جموں کے ایک ڈوگرہ جج کی عدالت میں سماعت شروع ہوگئی۔ وکیل صفائی کے دلائل سننے کے بعد جج صاحب بولے کہ ’’کوئی حرج نہیں کہ بچہ باپ کے پاس ہی رہے، آخر وہ بھی تو باپ ہے اس کا ۔‘‘ اس پر خاتون کے وکیل نے جج صاحب سے کہا کہ بچے کی عمرڈیڑھ سال سے بھی کم ہے اور قران میں حکم ہے کہ میاں بیوی الگ الگ ہوجائیں تو نوزائیدہ بچے کو دو سے اڑھائی سال تک ماں کے پاس ہی رکھا جائے کیونکہ یہ مدت رضاعت یعنی دودھ پلانے کی عمر ہوتی ہے۔ جج صاحب بہت سنجیدہ اور زیرک تھے، انہوں نے وکیل سے کہا : ’’اگر قران میں حکم ہے تو آپ ل

دراس : یہ شہر ناپُر ساں ہے

  لداخ خطہ میں برف باری سے حسبِ توقع انبار در انبار عوامی مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ علاقہ دراس میں حالیہ دنوں تین سے چار فٹ برف ہوئی اور درجہ حرارت منفی بیس ڈگری تک چلا گیا۔اس سے عوام الناس شدید مشکلات سے دو چار ہو گئے ۔ سب سے پہلے علاقے میں بجلی اور پانی کی مشکلات پیدا ہوئیں جب کہ بہت سارے گاؤں قومی شاہراہ سے کافی دور ہونے کی بنا پر سب ڈویژن دراس سے کٹ کر رہ گئے۔ ٹھنڈ اور ٹھٹھراہٹ سے اسکولوں میں روزمرہ کی تدریسی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ پڑ گئیں۔ اس شدید صورت حال کے باوجود یہاں کے طلبہ و طالبات بے سروسامانی کے عالم میں بھی سالانہ امتحانات دینے پر مجبور تھے۔ ضلعی انتظامیہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کر تی رہی لیکن کیا کیجئے علاقہ دراس ابھی تک ان تمام سہولیات سے مکمل طور سے محروم ہے جو علاقے کی جغرافیائی اور زمینی صورت حال کے پیش نظر یہاں کے عوام کو ملنی چاہیے تھیں۔ دراس پو

می ٹُو ہیش ٹیگ

’’خدائی دبدبہ ‘‘ پانےکے نام پر جتنا استحصال عورت کا ہوا یا عورت نے خود ہونے دیا ،اتنا استحصال کسی اور نام پر عورت کا نہیں ہوا۔ مرد کی سب سے بڑی نفسانی خواہش عورت رہی ہے اورعورت خود محض خواہشات کا ایک جماو ہے۔ خواہشات کا یہی جماو اسے خوابوں کا پجاری بنا دیتا ہے اور وہ اپنے نہ ختم ہونے والے جاگتے کے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی خاطر ایک اور ایسا خواب دیکھنے لگتی ہے کہ وہ کسی ایسے مافو ق الفطرت اور عظیم طاقت کو پاسکے جو اُس کے خوابوں کو پورا کرتا رہے۔ عورت نفسیاتی طور احساسِ کم تری کا شکار ہوتی ہے۔ جب وہ جنم لیتی ہے تو مرد کو اپنے مقابلے میں مضبوط پاکر اُس میں لاشعوری طور یہ اثرات حاوی ہوتے رہتے ہیں کہ وہ مرد کے برابر نہیں ہوسکتی۔ یہی مغالطہ آمیز احساس اُسے مردانہ قدریں اختیار کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اُس کے لا شعور میں پنپتے ہوئے احساسِ کمتری

میں ایک میاں ہوں

میں  ایک میاں ہوں۔ مطیع وفرمانبردار، اپنی بیوی روشن آراء کو اپنی زندگی کی ہر ایک بات سے آگاہ رکھنا اصول زندگی سمجھتا ہوں اور ہمیشہ اس پر کاربند رہا ہوں۔ خدا میرا انجام بخیر کرے۔چنانچہ میری اہلیہ میرے دوستوں کی تمام عادات وخصائل سے واقف ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے دوست جتنے مجھ کو عزیز ہیں اتنے ہی روشن آراء کو بُرے لگتے ہیں۔ میرے احباب کی جن اداؤں نے مجھے محسور کررکھا ہے، انہیں میری اہلیہ ایک شریف انسان کے ليے باعث ذلت سمجھتی ہیں۔آپ کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ خدانحواستہ وہ کوئی ایسے آدمی ہیں، جن کا ذکر کسی معزز مجمع نہ کیا جاسکے۔ کچھ اپنے ہنر کے طفیل اور کچھ خاکسار کی صحبت کی بدولت سب کے سب ہی سفید پوش ہیں لیکن اس بات کو کیا کروں کہ ان کی دوستی میرے گھر کے امن میں اس قدر خلل انداز ہوتی ہے کہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔مثلاً مرزا صاحب ہی کو لیجئے، اچھے خاصے اور بھلے چنگے آدمی ہیں۔ گو م

محاصرے اور تلاشیاں!

وادی ٔ کشمیر میں گزشتہ اٹھائیس سال سے بہ طفیل افسپا جگہ جگہ فورسز کی طرف سے بستیوں کا گھیراؤ اور خانہ تلاشیاں ایک ایسی متواتر مہم کا عنوان لئے ہوئے ہیں جن میں کشمیر کی ریاستی مشینری شب و روز اُلجھی ہوئی نظر آتی ہے۔اِسے عام فہم زبان میںکارڈن اینڈ سرچ آپریشن Cordon and search operation ) ) کا نام دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں یہ اصطلاح زبان زد عام ہے ۔ میڈیا میں مختصراً CASOبولا اور لکھا جاتا ہے ۔ جھڑپوں اور خون آشامیوں کے حوالے سے یہ اصطلاح تقریباََ ہر روز اخباروں کی سرخیوں میں چھائی رہتی ہے ۔جہاں بھی فورسز اور سرکاری مشینری کو اپنے مختلف ذرائع سے اطلاع ملتی ہے یہ مقام جنگجوؤں کی پناہ گاہ ہو سکتا ہے، یا کسی جگہ جنگجو چھپے ہوئے ہیں، وہاں توپ وتفنگ کا گھیراؤ کیاجاتا ہے اور گھر گھر تلاشی مہم شروع ہو جاتی ہے جس میں حقوق البشر کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب ہونے پر ہاہاکار مچ جاتی ہے ۔ بالآ