تازہ ترین

سارک ا یک چراغِ سحری!

سارک  جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی علاقائی تنظیم ہے ٹمٹماتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی نظر آتا ہے کہ یہ تنظیم جان کنی کی حالت میں ہے۔اِس تنظیم کی ابتر حالات کا بنیادی سبب دیکھا جائے تو مسلٔہ کشمیر کا اُلجھاؤ ہے جس سے ہند و پاکستان کے باہمی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ہند و پاکستان سارک کے اہم ترین ممالک ہیں گر چہ اِس تنظیم میں جنوبی ایشیا کے کئی دوسرے ممالک بھی شامل ہیں جن میں بنگلا دیش،نیپال،سری لنکا، بھوٹان،مالدیپ و افغانستان کا نام لیا جا سکتا ہے۔ یہ سب ممالک مسلٔہ کشمیر کے ضمن میں ہند و پاک تنازعے کی وجہ سے علاقائی سطح پہ پامال نظر آتے ہیںچونکہ علاقائی سطح پہ روابط میں رخنے سے علاقے کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔علاقائی تجارت اور راہداری کا میسر رہنا سب ہی ممالک کیلئے جو کسی مخصوص جغرافیائی خطے سے وابستہ ہوتے ہیں حیاتی ہوتا ہے۔یہ حقیقت جتنی آج عیاں ہے اتنی ہی ازم

نواز شریف کی رہائی

نواز شریف کی ڈرامائی رہائی کے تمام پہلوؤں پر نظر ڈالنے کے بعد صاف محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کی رہائی کا فیصلہ عدالتی نہیں بلکہ ایک ڈیل کا حصہ ہے۔ یہ سال 2003 کی بات ہے مجھے حج کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ سفر کے دوران جب میں مدینہ سے مکہ واپس آیا تو تین بجے کا وقت رہا ہوگا میں ہوٹل کے کمرے میں اپنا سامان رکھ کر سیدھے حرم شریف کے سب سے اوپر والے حصے پر چلا گیا تاکہ کم بھیڑ میں قران کی تلاوت کر سکوں اور اوپر ہی طواف کر سکوں ۔ قران کی تلاوت کر رہا تھا تو میری نظر طواف کر رہے ایک شخص پر پڑی جس کے ساتھ ایک شاہی گارڈ تھا۔ میں نے جب غور سے دیکھا تو وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کا سابق وزیر اعظم نواز شریف تھا ۔ طبعیت میں عجیب بے چینی پیدا ہوئی اور نواز شریف کے طواف کا جب دوسرا چکر تھا تو میں نے بھی اپنا طواف شروع کر دیا ۔ گارڈ لوگوں کو ان کے قریب آنے سو روک رہا تھا پھر بھی لوگ مصافحہ کر ر

ارودزبان کی ناک نہ کاٹیں!

 ایک   زمانہ تھا جب بامحاورہ زبان کا چلن تھا۔ ایک سے ایک صاحب طرز ادیب، انشاپرداز اور صحافی پیدا ہوتے تھےلیکن سن سنتالیس کے بعد جس طرح ایک سازش کے تحت اردو زبان کو مٹانے کی مہم چلائی گئی اس نے اس زبان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ آج اردو کے بعض صحافی ہوں یا کئی اردو اساتذہ، غلط اردو بولنے اور لکھنے میں انھیں کوئی عار نہیں۔ حالانکہ زبان کی درستگی کے معاملے میں انہی دونوں پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم آج کے اخباروں کی بات کریں تو بعض اوقات بڑی کوفت ہوتی ہے۔ ہندی کے اخبار یا ہندی کے نیوز چینل غلط اردو استعمال کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اردو کے صحافی جب غلط زبان لکھتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے۔ چند مثالیں دینا چاہوں گا۔ آج کل اخباروں میں’’ رحم مادر‘‘ کو عام طور پر ’’مادرِ رحم ‘‘لکھا جا رہا ہے اور دھڑلے س

ایک سچی کہانی

 وہ ہر ملنے والے سے صرف ایک ہی درخواست کرتے تھے ’’آپ میرے لئے دعا کریں میرا خاتمہ ایمان پر ہو‘‘ لوگ انہیں خوش حالی‘ ترقی‘ صحت اور عہدے کی دعا دیتے تھے لیکن وہ اسے روک کر فرماتے تھے ’’آپ کی دعا سر آنکھوں پر لیکن مہربانی فرما کر آپ میرے لئے صرف اتنی دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے عبدالغفور جیسی موت نصیب کر دے‘‘ ہم حیران ہو کر پوچھتے تھے ’’سر یہ عبدالغفور کون تھا؟‘‘وہ ہمارا سوال ہنس کر ٹال دیتے تھے‘ عزیز صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ہر لحاظ سے نواز رکھا تھا‘ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے‘ 1970ء کی دہائی میں ہارورڈ یونیورسٹی سے بزنس کی ڈگری لے کر آئے تھے‘ وہ صاحب علم بھی تھے‘ کتابوں کے ڈھیر پر سوتے اور کتابوں کے کمبل میں جاگتے تھے‘ دنیا میں جو بھی اچھی کتاب شائع ہوتی تھی و

معرکۂ کربلا

 گزشتہ   ماہ وسال کے عمل سے ایک با پھر محرم الحرام کا مہینہ وارد ہوا،اور آج اس کا پہلے عشرہ کا آخری د ن ہے ۔ یہ اسلام میں ایک تقدس مآب مہینہ ہے جس میں انبیائے کرام علیہم السلام پر اللہ جل شانہ کی بے شمارر نوازشیں اور کرم فرمائیاں ہوئیں ۔ عاشورہ محرم کو البتہ واقعہ کربلا کی نسبت سے تاریخ اسلام میں اپنی ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔ عام قاعدہ ہے کہ انسانی تاریخ میں انسانی عظمت وشہرت کا حقیقت کے ساتھ توازن بہت کم قائم رہ سکا ہے۔ یہ بھی ایک عجیب وغریب امر  ہے کہ جو شخصیتیںعظمت وتقدس اور قبولیت وشہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہیں ،دنیا عموماً تاریخ سے زیادہ افسانہ اور تخیل کے اندرانہیں ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ اس لئے فلسفۂ تاریخ کے عظیم شارح ابن خلدون کو یہ قاعدہ بنانا پڑا کہ جو واقعہ دنیا میں جس قدر زیادہ مقبول و مشہور ہوگا ،اتنی ہی فسانہ طرازی اسے اپنے حصارِ تخیل میں لے لے گی۔

شہدائے کربلا ؑ

شہادت  انسان کی زندگی کا بہترین معاملہ ہے جو وہ خدا کے ساتھ انجام دیتا ہے ۔حقیقی طورانسان اپنی جان خدا کے پسندیدہ اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کے لیے دے دیتاہے اور بدلے میں جنت کا حق دار بنتاہے۔ دین کے حقیقی پیروکار ہی ایسی پاک روح اور ایسے پاکیزہ جذبٔ ایثار کے مالک ہوتے ہیں ۔وہ راہِ اسلام میں اپنی جان کی قربانی دینے سے کبھی نہیں کتراتے ۔ عاشورہ کے واقعہ میں امام حسینؑ کے باوفا ساتھیوںنے کربلا کے میدان میں اسی بلند مقصد کو پانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ خوشی خوشی پیش کیا ۔ان کے امام و سرپرست اور رہنماخود امام حسین ؑ اس کا مثالی نمونہ ہیں۔امام حسینؑ کی ذات گرامی تعارف کی محتاج نہیں ۔ یہ وہ حسین ؑ ؑہیں جنہوں نے سسکتی ہوئی امت  مسلمہ کو صراط مستقیم پر گامزن کرکے جینے کا سلیقہ سکھایا ،اسے عزت ، صداقت،عفت، مروت، عدالت، شجاعت وبصالت کے درس سے  نوازا ۔ یہ وہ حسینؑ ہیں جنہوں نے اپن

’’ہر کربلا کے بعد‘‘

 قاسم آج دس محرم الحرام اپنی خصوصیات و فضائل کے ساتھ اُمت مسلمہ پر جلوہ افگن ہے۔ اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ تاریخی لحاظ سے کئی حوالوں سے یادگار اہمیت کا حامل ہے ۔ دیگر فضائل و خصوصیات کے علاوہ اس ماہ کی ابتداء، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے یومِ شہادت سے ہوتی ہے اور پھر دس محرم الحرام، نواسۂ رسول ﷺ اور سردارِ نوجونانِ جنت حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا یومِ شہادت ہے۔\اسلامی تاریخ کے اس الم ناک سانحے کا اثر جہاں ایک عام مسلمان پر ہوا، وہیں مسلم و غیر مسلم شعراء و ادباء نے روایتی و غیر روایتی انداز میں مرثیے، نوحے، سلام اور نظم و نثر میں شہدائے کربلا ؓاور ان کی قربانیوں کو سلام عقیدت و نذرانہ محبت کے طورپیش کئے ۔ اردو میں مولانا جوہرؔ کا یہ شعر زبان زد عام ہے  ؎ قتلِ حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے\ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد\  اس شعرمیں ہرکربلا سے ہر ش

عقیدتِ حسینؓ

  بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جوشؔ کا پہلا مرثیہ جو ’’آواز حق ‘‘کے نام سے شائع ہوا‘ اور جس کے آخری بند میں واضح طور پر جوشؔ نے صدیوں کی تاریخ کا سلسلہ اپنے عہد کی سامراج دشمنی سے ملا دیا‘ ۱۹۱۸ء کی تخلیق ہے۔ اقبال کی شہرہ آفاق تصنیف رموزبے خودی بھی۱۹۱۸ء میں شائع ہوئی۔ یہ پہلی جنگ عظیم کے اختتام کا اور تحریک خلافت کے تقریباً آغاز کا زمانہ تھا۔ جوشؔ کا یہ بند ملاحظہ ہو جس میں وہ دعوت دیتے ہیں کہ اسلام کا نام جلّی کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علیؓ ہو   ؎ اے قوم! وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلّی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علیؓ ہو واضح رہے کہ ’’آواز حق &lsq

سرداد نہ داد دست در دستِ یزید

   اہل علم فرماتے ہیں کہ عاشورہ ٔ محرم کو اللہ تعالیٰ نے دس نبیوں ؑ پر دس کرامتوں کا انعام فرمایا۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی ، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر رُکی ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرقآب ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن وہ آسمان پراٹھائے گئے۔حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے خلاصی ملی اور اسی دن ان اُمت کا قصور معاف ہوا۔حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں سے نکا لے گئے، حضرت ایوب علیہ السلام کوبیماری سے صحت حاصل ہوئی،حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور آپ ؑ کے لئے نمرودی آگ سراسر گلزار ہوئی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک و سلطنت عطاہوئی۔  اسلامی سن ہجر ی کے آغاز کے بارے میں متعدد روایات ملتی ہیں ، جمہور مورخین کا اس بات پر

برطانوی ہند کا بٹوارہ

یوں  تحریک آگے کی طرف رواں دواں تھی، لیکن قصہ مختصر یہ کہ ایک میاں میں راج شاہی کے خلاف برسرکار دو تلواروں کا سمایا جا ناممکن نہیں ہوسکتا تھا اور یہی ایک آفاقی حقیقت دولیڈروں کے شخصی ٹکراؤکا نقطہ ٔ  آغاز بن گیا۔ اس دراڑ کو روکنا آسان کا م نہیں تھا اوریہ ٹکراؤ کشمیر کی تحریک ِآزادی کی راہ کا ایک بہت بڑا پتھر بن گیا۔تاہم تحریک میں جو دراڑ پڑگئی تھی، اُس سے اس کا رُخ موڑ دئے جانے کے اندیشے پیدا ہونے لگے تھے۔ جیسے جیسے الزامات کی بارشیں برستی رہیں، زمین بھی اس کا اثر قبول کرتی گئی ۔ اب مشکلات میں اس لئے بھی اضافہ ہونے لگا تھا کہ اسی مرحلے کے دوران برٹش انڈیا کے بٹوارے کی تحریک بھی چل پڑی اور جموں کشمیر کی تحریک برائے قیام ذمہ دار نظام حکومت کو دو قومی نظریے کے ساتھ بھی جوڑا جانے لگا تھا۔ ادھر جموں کشمیر مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر بھی آپسی رقا

مالیا ۔۔۔ بدعنوانی مخالف مہم بے اثر کیوں ؟

 سیاست  اور کرپشن یا بدعنوانی کے رشتے پر اگر بات کی جائے تو وہ لامتناہی گفتگو ہوگی ۔خاص طور پر آج کے دور میں سیاست کو کرپشن سے یا کرپشن کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اگر کوئی دونوں کے میل سے انکار کرتا ہے تو وہ حد درجہ جھوٹا ہے۔یہ اور بات ہے کہ وہ اِس کرپشن کو کرپشن ہی نہ سمجھے اور اپنے جھوٹ کو جھوٹ نہ مانے لیکن بہر حال ایک پیمانہ ہے جس سے یہ بات ایک عام آدمی کی بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ سب کیا ہے؟ممکن ہے کہ اپنے اس کرپشن کو وہ’شہری نکسل‘ اور ’فائیو اسٹار ایکٹی وِسٹ‘ کی طرح’کرپشن سے مبرا کرپشن ‘کا نام دے دے اور ماننے والے (بھکت) اسے تسلیم بھی کر لیں۔ملک کے حالات کے بگڑنے کی ایک انتہا ہو گئی ہے لیکن بھکتی کا یہ عالم ہے کہ ابھی بھی بخار نہیں اُترا ہے۔ ایک عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ مودی کی حکومت ،کانگریس یعنی یو پی اے کے دور میں ہوئے

برطانوی ہند کا بٹوارہ

گلشن پرست ہوںمجھے گُل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نبھاہ کئے جارہاہوں میں میرے جیسے ہزاروں، لاکھوں ہم وطنوں کا بہت پہلے سے یہی خیال رہا ہے کہ سوچی سمجھی کسی بڑی سازش کے تحت میر ے وطن کشمیر کی معطر اور رشک جناں آب وہوا کو سیاست کے گندے لباس میں محصورکردیا گیا ہے لیکن ہماری سوچ اور ہمارا انداز بیان کبھی دلی کی سڑکوں سے اور کبھی اسلام آباد کی پہاڑیوں سے ٹکراکرہمارے پاس لوٹ آتا تھا۔گزشتہ روز کشمیر کے نامور کالم نگار ایم اشرف کے ایک مضمون ( گریٹر کشمیر ۳۰ اگست) کا مطالعہ کرکے مجھے اپنے اس طرح کے خیال میں تبدیلی لانے میں مدد ملی ہے۔ زیر بحث مضمون کو پڑھنے کے بعد برصغیر کے بٹوارے کے مناظر اور جموں کشمیر کو بانٹنے کی گردان کو وسیع تر ماحول میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ حالانکہ بٹوارے کا عمل اور اس کے نتائج، جو حقیقت بن کر ابھی تک ہمارے سامنے ہیں، جوں کے توں اپنی ہی جگہ گھیرے ہوئے ہیں۔

خو شبو کی موت، اپنی بات

  جناب غلام قادر خان ( قلمی نام شہزادہ بسمل) ؔ کی یہ دلی محبت اورادب دوستی کی دلیل ہے کہ انہوں نے ناچیز کے لئے سر ینگر سے دراس کرگل اپنے تازہ ترین دو افسانوی مجموعے از راہِ کرم ارسال فرمائے:’ خوشبو کی موت ‘‘ اور’’ اپنی بات‘‘۔ اول الذکر کتاب میںان کی سترہ کہانیاں شامل ہیں جو غالبًا ملک اور ریاست کے روزناموں او ر رسالوں میں شائع ہوکر قارئین سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔اس کا پیش لفظ صدر جموں و کشمیر فکشن رائٹر س گلڈ ڈاکٹرنذیر مشتاق صاحب نے لکھا ہے جو اپنے آپ میں ایک مختصر مگرجامع تحریر ہے۔ اس میں انہوںنے مصنف کی ادبی زندگی کا خاکہ بہترین انداز سے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:’ ’جناب شہزادہ بسملؔ کا ہر افسانہ گویا سمندر ہے ، جو ہر سطر کے ساتھ پرت پرت کھلتا جاتا ہے اور اس کے اندر پوشیدہ لعل و گوہر کی چمک قاری کے ذہن و دل کی نظر کو خی

احساسِ شہریت…روبہ زوال

 اصول عمرانیات کے مطابق ایک اچھے شہری کی شناخت اس امر میں موجود ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک اپنے فرائض اور حقوق کی ادائیگی و پاسداری میں پابند ومستعد ہے ۔ وہ کہاں تک اپنی سماجی اورشہری ذمہ داریوں کو نبھانے میں فعال ہے ۔ وہ اپنے معاشرے کی اجتماعی فلاح وفلا ح میں کتنا فکر مندہے اور کیا وہ اپنے معاشرے کے افراد کے دُکھ درد میں شریک بھی ہے ۔اس نقطۂ نگاہ سے آج جب ہم اپنی اس وادیٔ جنّت نشان پر نظر ڈالتے ہیں تو صورت حال بالکل مختلف بلکہ تکلیف دہ دکھائی دیتی ہے ۔ ہمارا سماجی اور اجتماعی شیرازہ منتشر ہوتانظر آرہاہے۔ انفرادی سطح سے اجتماعی شعور تک ہر شہری ، دیہاتی ، دفتری ، عوام اور خواص، غرض معاشرے کے تانے بانے سے منسلک اجزا ء وافراد کے اندر شہریت ومدنیت کا احساس زوال واِدبار کی طرف گامزن ہے ۔نصف صدی سے زائد عرصے میں تعلیم ، تدریس اور تحقیق کے شعبوں میں کافی وسعت پیدا ہوگئی ۔شعبۂ تعلیم میں ب

لہوبولتا ہے

کوئی  بات ،واقعہ یا سانحہ تصور کرنے اور کھلی آنکھ سے مشاہدہ کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ دانت یا پِتے کا درد بہت اذیت رساں اور ہلاکر رکھ دینے والاہوتا ہے مگر اس بات کی شدت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جس نے دانت یا پِتے کے درد میں خود زمین چاٹی ہو،کپڑے پھاڑے ہوں اور بال نوچے ہوں۔اسی طرح جو واقعہ میں بیان کرنے جارہا ہوں ا س کو پڑھ کر کچھ لوگ اس کا کوئی خاص تاثر نہیں لیں گے اور تھوڑی دیر کے بعد بھول جائیں گے ،کچھ لوگ صرف ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ جائیں گے اور حساس طبیعت کے نرم دل لوگ اسے بہت محسوس کریں گے ،کلیجہ مسوس کر رہ جائیں گے جب کہ خواتین کے آنسو بھی نکل آ سکتے ، مگر اصل درد ،تڑپ ،جلن ،چبھن اور کرب اُسی نے محسوس کیا ہوگا جس پر وہ دل دوز سانحہ گزرا ہوگا ۔وہ قیامت پڑی ہوگی یا اپنے کلیجے کے ٹکڑے اُسی نے چبائے ہوں گے جس نے اُسے اپنی کھلی آنکھوں سے وق

مولانا عبد الباری ،بانڈی پورہ

مولانا   عبد الباری مرحوم کا نا م جموں  و کشمیر کی حد متارکہ کی دونوں اطراف سیاسی و تحریکی حلقوں میں خاصہ جانا پہچانا اور زبان زدِ خاص وعام ہے ۔وہ ۱۹۱۹ ء میں بانڈی پور میں مفتی عبد القدوس مرحوم کے گھر پیدا ہوئے ۔مفتی عبد القدوس کا شمار وادیٔ کشمیر کے اہم علماء اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اساسی ممبران میں ہوتا ہے ۔وہ فاضل دیوبند اور علامہ انور شاہ کشمیریؒاور مولانا حسین احمد مدنیؒ ؒکے مایہ ناز شاگرد اور وادیٔ کشمیر کے اہم ملی و دینی رہنما تھے ۔ آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں جب ڈوگرہ راج کے خلاف تحریک مزاحمت عروج پر تھی تو ان دونوں باپ بیٹوں نے اس میں اہم رول ادا کیا ۔ شیخ عبد اللہ اور چودھری غلام عباس مفتی عبد القدوس کا بہت احترام کرتے تھے ۔وہ متحدہ ریاست جموں و کشمیر میں مسلم کانفرنس کی پالیسی ساز کمیٹی مجلس عاملہ کے رکن تھے ۔ ۱۹۳۸ ء میں جب شیخ عبد الل

اُستاد تہذیب وشرافت کاہمالہ

 اُستاد  کو سماج میں بہت سے ذی عزت نا موں سے پکارا جا تا ہے، جیسے معلم، مدرس، گرو، مو لوی صا حب، ما سٹر جی، پرو فیسر۔ اس سے سماج میں اُستاد کے کردار ، اُس کی ذمہ داریوںاور اس کی اہمیت کا اندازہ ہو تا ہے۔ہر شخص کو زندگی کے ہر موڑ پر کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے لئے ایک تجربہ کار رہبریا استاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طرح سماج میں اُستاد کی ذمہ داریاں وسیع  المعنیٰ ہیں ۔ بچہ پیدا ہو تا ہے تو ماں اس کی جسمانی نشو و نما شروع کر تی ہے اور بچے کا اُستاد سب سے پہلے اس کی ماں ہوتی ہے ۔ بچہ ما دری زبان اپنی ماں، اپنے گھر اوراپنے ما حو ل سے سیکھتا ہے۔اس طر ح یہ سب اس کے لئے گویا استا دہی ہوئے ۔ جتنی اچھی تر بیت بچے کو گھر میں ملتی ہے ،اتنا ہی سماج میں اس کا رول اچھا بنتا ہے۔ لگ بھگ ہر مذہب اپنے پیروؤں کو استاد کا احترام کرنا سکھاتاہے ۔آج کے دور میں بچوں کو بہت ہی کم عمر میں مدرسوںیا سکول

بھا جپا کا سیاسی مستقبل

نہ گورِ سکندرنہ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے بھاجپا لیڈر ایک بار لفاظی ، محاورہ بازی اور جملہ سازی کے ذریعے برسر اقتدار کیاآگئے کہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھتے ہی اُن کا ذہن خددپسندی سے اتنابھر  گیاہے کہ وہ جمہوریت کی زبان سے ناآشنا ہو کر بے جا دعوؤں اور ربت ِپندار میں تاریخ کی عبرتیں تک بھول گئے ۔ وہ اقتدار کے نشہ میں اس قدر مد ہوش ہیں کہ طرح طرح کے راگ الاپ کر خود کو ناقابل تسخیر جتاتے ہیں۔ ان کی گز بھر زبانوں سے کہیں ہندو راشٹر کے قیام کا اعلان ہورہاہے، کہیںہندو سماج کو اکیلے شیر سے تشبیہ دے کر باقی سماجوں کو’’ کتے‘‘ سے مشابہت دے رہے ہیں، کہیں بھیڑ بازی کے ذریعہ اقلیتوں اور دلتوں کے قتل کو جائز ٹھہرارہے ہیں ، کہیں اُن سے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو ملک بدری کے فیصلے سنائے جارہے ہیں، کہیں جمہوریت نواز دانشوروںاور سیاسی تبدیلی کے داعی

ا قوام متحدہ

مجلس  اقوام اور اقوام متحدہ کی تاریخوں کا معروضی لیجئے تو عیاں ہوگا کہ ان عالمی اداروں کے پس پردہ ناپاک عزائم اور صدیوں پرانی خباثتیں کا رفرما رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کے لئے یواین او نہ صرف ان کی آزادی، خودمختاری بلکہ ان کی سلامتی اور وجود کیلئے بھی ایک بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ ادارہ عالمی اقتدار (One World Government)کے حصول کے صدیوں پرانے یہودی منصوبے پر عمل پیرا ہے اوراس کی پلوٹھی کی اولاد (اس کے پر تاثیر شکم سے جنم لینے والے ) دوسرے تمام ذیلی ادارے بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ان کا مشن تمام افکار، عقائد، اقدار، تمام مذاہب اور حکومتوں کو تہہ و بالا کرکے عالمی اقتدار کا حصول ہے ۔اگر اقوام متحدہ کے منشور میں معمولی ردوبدل کے بعد اسے ایک سپر گورنمنٹ بنا دیا جائے تو اس کے ذیلی ادارے خود بخود وزارتِ تعلیم، وزارتِ صحت، وزارتِ محنت، وزارتِ انصاف، وزارتِ خوراک بن جائیں گے۔کافی

بائیکاٹ سیاست

ریاست جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان گزشتہ ستر سال سے کشاکشی کے جتنے بھی دور گزرے ہیں ،ان میں ایک بات مشترک ہے کہ ہر کشاکش کی پہل نئی دہلی سے ہوئی ۔شروعات 1953ء میںہوئی جب منتخب وزیر اعظم اور مقبول عوامی رہنما شیخ محمد عبداللہ کو معزول کرکے گرفتار کرلیا گیا۔کشمیر سازش کیس۔شیخ صاحب کی حکومت گرانے کے مہرے بخشی غلام محمدکی کامراج پلان کے تحت راتوں رات حکومت سے محرومی ۔شمس الدین نامی گمنام شخص کو وزیر اعظم بنانا ۔ تحریک موئے مقدس ۔غلام محمد صادق کو اقتدار کی مسند پر بٹھاکر ان کے ہاتھوں وزیر اعظم کو وزیر اعلیٰ اور صدر ریاست کو گورنر بنانے کے بعدان کی جگہ سید میر قاسم کو وزیر اعلیٰ بنانا اور پھر قاسم صاحب کواندراعبداللہ ایکارڈ کی بھینٹ چڑھا کر اقتدار شیخ محمد عبداللہ کے سپرد کرنا ۔ شیخ محمد عبداللہ کیخلاف عدم اعتماد۔ شیخ صاحب کے بعد وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی انہی کے بہنو