۔ ۳۵؍ الف ایوانِ عدل میں

چند  ماہ پہلے دفعہ 35-A عدالت عظمیٰ میں جنوری 19؍کی تاریخ اگلی پیشی کیلئے مقرر کی گئی تھی۔ سرینگر بار ایسوسی ایشن کے بعض لوگ اشارہ دے چکے ہیں کہ تادم تحریر 19؍جنوری کی پیشی ابھی تک لسٹ نہیں ہوئی ہے۔لسٹ میں وہ مقدمات آتے ہیں جن کی پیشی کسی روز کے لئے مقرر کی گئی ہو۔یہ اطلاع راقم الحروف کو ایتوار 13؍جنوری کو حاصل ہوئی تھی ۔ دو دن بعد 15جنوری کو جب اپنا یہ کالم قلم بند کر نا شروع کیا تو خبر آئی کہ دفعہ 35-A؍ کی پیشی ایک دن پہلے یعنی 18؍جنوری کے لئے لسٹ ہوئی ہے۔ تاہم اس خبرکی تصدیق ہوناباقی ہے۔عین ممکن ہے کہ سنچروار کو جب یہ کالم آپ کی نظروں سے گذرے ، تاریخ ِ پیشی کے بارے میں کوئی حتمی خبرسامنے آ گئی ہو۔بہر صورت مقررہ تاریخ یعنی 19؍جنوری سے ایک دو دن پہلے یا ایک دو دن بعد دفعہ 35-A کے ضمن میں عدالتی پیشی توجہ طلب ہے۔ اس اہم ترین دفعہ کے قانونی جائزے کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی مضمرات

سیاستِ کشمیر

۔1947سے ہی وادیٔ کشمیر کئی  لیڈر نما تاجروں اور سیاست سوداگروں کے لئے کی ایک وسیع تجربہ گاہ رہی ہے۔ 1990 سے آج تک اس جنت نما سر زمین کے گلی کوچے معصوموں کے لہو سے نہلائے جا رہے ہیں لیکن سیاست کی تجارت کر نے والے مستی میں مزے لے رہے ہیں۔ آج تک یہاں سوالاکھ کشمیریوں کی جانیں تلف ہوئیں ، ہزاروں لوگ زیر حراست گمشدگی کے اندھے کنوئیں میں دھکیل دئے گئے ، ہزاروں عورتوں کی عصمت لوٹ لی گئی، کھربوں روپے مالیت کی جائیداد ئیں خاکستر کی گئیں، جیل خانے اور عقوبتی مراکز کا بے دریغ استعمال ہو ا،اور اب بھی کشمیر کی فضائوں میں صرف ایسے کالے بادل منڈلا رہے ہیں جو کسی نہ کسی بہانے برسنے کے تاک میں ہیں۔ ۷۰ ؍ سال سے یہاں کی سیاست اسی چیز کے محور پر چلی آرہی ہے ۔ الحاق ہند پر مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط ثبت ہوتے ہی جموں کشمیر کے سیاست دانوں کو دلی نے کبھی بھی اپنے بھروسے کے قا بل ہی نہ سمجھا۔ اُس وقت کش

طلسم ہوش رُبا

کسی  زمانے کی وادیٔ گلپوش اور جنت بے نظیر میں بیسویں صدی کے تقریباً چھٹے دہے تک قصۂ حاتم طائی ، قصۂ چہار درویش ، قصۂ عمرعیار ،قصۂ طوطا مینا ، سند بادجہازی کے کارنامے اور الف لیلیٰ کی داستانیں بڑے ذوق وشوق سے پڑھی ،سنی اور سنائی جاتی تھیں ۔ سردیوں کے دوران خاص طور پر گھروں میں کافی رات گئے تک محفلیں جمتی تھیں ۔کہیں کہیں جنگ نامے پڑھنے اور سننے سے لطف اندوز ہواجاتا تھا۔ چائے اور قہوے کے سماوار خوشبو دار بھاپ اُگلتے رہتے تھے ۔ جنگ ناموں کی ابتداء ہی اکثر وبیشتر چائے کے مطالبے سے ہوتی تھی جسے    ؎ ولو ساقیا چاؤ چائے لطیف ونن چُھم میہ جنگ محمد حنیفؓ عام طور پر وہ داستانیں پریوں ،جنوں ، جادوگروں ،شہزادوں اور شاہزادیوں کی ہوا کرتی تھیں اور جو حصہ عام آدمی سے متعلق ہوتا تھا وہ زیادہ اثر انداز رہتا اور اُن کرداروں کے ساتھ سامعین کو زیادہ ہمدردی رہتی تھی۔ اُن محی

سیاسی جنگ میں فلمی ہتھیار

عام  انتخابات کے لئے بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی کامیابی کے لئے ہر قسم سے تیار کررہی ہیں۔ حکمران جماعت نے اونچی ذات والوں کے لئے ملازمتوں اور داخلوں کے تعلق سے عام زمرہ میں دس فی صد ریزرویشن کا بل پارلیمان کے دونوں ا یوانوں میں منظور کرواتے ہوئے اپنی دانست میں پہلی ’’کامیابی ‘‘حاصل کی ہے۔ یقیناًاس کے اثرات انتخابات اور اس کے نتائج پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے سیاسی پارٹی ایک بار پھر فلم کا سہارا لینے لگی ہے کیوں کہ الیکٹرانک میڈیا (ٹیلی ویژن چینلس) اور سوشل میڈیا عوامی اعتماد سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ فلم ہمیشہ عوامی سوچ پر اثر انداز ہوتی رہی ہے، چاہے اسے دیکھنے والے تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ۔کسی بھی شخصیت کی امیج مبالغہ آمیز طریقے پر بہتر بنانے یا اسے مسخ کرنے کے لئے فلموں کا سہارا لیا ج

جرأت و بے باکی!

دو  الفاظ ہم آپسی گفتگو میں کثرت سے سنتے رہتے ہیں :’’بے باکی‘‘ اور ’’بہادری‘‘۔ یہ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں اور دونوں کامیابی کے بنیادی رکن شمار ہوتے ہیں۔یقینا ’’بے باکی‘‘ گستاخی اور لاپروائی سے مختلف چیز ہے‘ اسی طرح ’’بہادری‘‘ اور ’’بے قاعدگی‘‘ میں بہت فرق ہے۔بے باکی اور بہادری‘ مردانگی کی علامت ہیں اور بہت سارے امور میں یہ دونوں چیزیں کامیابی کے لئے ایک پل کی حیثیت رکھتی ہیں،بلکہ مختلف النوع ترقیاں اور معاشرتی اور فکری انقلابات بے باکی اور بہادری کے بغیر ممکن ہی نہیں۔بزدل اور ڈرپوک افراد سردی کے مارے ٹھٹھر تے پرندوں کی طرح ایک گوشے میں چھپ جاتے ہیں‘ اپنے لوگوں یا غیروں کے خوف سے کوئی کام اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔ ایسے لوگ ناقا

اسلام اللہ کا انعام

اسلامی  معاشرے کا تصور اس قدر جامع اور ہمہ جہت ہے کہ جس میں انسان کی تمام  روحا نی ومادی ضرورتوں کی پوری کائنات سمائی ہو ئی ہے۔ اس حوالے سے اسلام ایک ایسے مثالی معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جو ہر انسان اور ہر انسانی سماج کے لئے ہر لحاظ سے اور ہر زمانے میں فائدہ بخش ہے۔ دین اسلام اوریگر ادیان کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو دین ِ خداوندی کا اجتماعی پہلواور بھی زیادہ روشن و تاب ناک دکھائی دیتا ہے۔ د یگر ادیان انسان کے معنوی اور انفرادی پہلو کی کسی حد تک توتشفی کرتے ہیں مگر ان میں اخلاق کریمانہ اور عدل اجتماعی کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ملتا ہے گویا ان کے وہاں مذہب ایک ذاتی اور انفرادی چیز ہے۔ممکنہ طور بعض مذاہب فلسفی ، نظریاتی،معنوی اعتبار سے مالا مال دکھائی دیں مگر ان میں معاشرتی پہلو کا فقدان صاف طور  دِکھتاہے۔ اسلام چونکہ دین عدل و اعتدال ہے، اس میں انفرادی اور اجتماعی د

مولوی نذیراحمد

مولوی  نذیر احمدؔ (۱۹۱۲۔۱۸۳۱ء) نوآبادیاتی صورت حال کے ایسے دورمیںجہاں ہندوستانی اہلِ فکرونظر میںبرطانوی سامراج کے خلاف بیداری پیداہورہی تھی اوروہ کسی نہ کسی شکل میںاپنے احتجاج کااظہارکررہے تھے۔نذیراحمد جیسے دانش ور اس احتجاج کی مخالفت اوربرطانوی حکومت کی پرزور حمایت پرکمربستہ نظرآتے ہیں۔وہ برطانوی حکومت کوہندوستان کے لئے سودمند خیال کرتے تھے ۔انھوںنے اس حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کے باغیانہ فکروعمل کی مذمت کی اوراپنی کتاب ’’الحقوق والفرائض‘ میںاطاعت ’’ممانعت غدرونقص عہد‘ ‘ اور’’بغاوت وفساد کی ممانعت ‘‘جیسے موضوعات پرقرآن کی متعدد آیتیں اوراحادیت پیش کیں لیکن گاہ بہ گاہ انھوںنے سامراجی حکومت کے ہاتھوں ہندوستانی عوام کے استحصال کوہدفِ تنقید وملامت بھی بنایااوراس کی نوآبادیاتی معاشی پالیسی پرنکتہ چینی بھی کی۔ سرسیّ

کشمیر حریت اور’ مین اسٹریم‘ کے بیچ

 کشمیر  سے متعلق زمینی سطح کی حقیقت ابھی تک یہی ہے کہ یہاں ہر دن ایک نیا کربلا بن کر طلوع ہوتا ہے اور ہر شام ایک اور شامِ غریباں میں ڈھل کرتاریکیوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہے ۔ اس بیچ سیاسی اقتدار کے بھوکے لیڈروں اور کشمیر حل کے لئے محو جدوجہد قائدین پر تنقیدیں ہورہی ہیں کیونکہ پہلے طبقے کے پاس  صرف کرسی کا قصہ اور استحصالی ہتھکنڈوں کا گیم پلان ہے اور دوسرا طبقہ حالات کا رونا رونے کے سوا کوئی اور لائحہ ٔ  عمل نہیں رکھتا ۔ اُدھر ہم سب سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ہندوستان ہر سال جنرل ڈائر کے ایک جلیانوالہ باغ قتل عام کی یاد یں سینے سے چمٹا کر ساری دنیا کو اس خونین واقعے کی سرگزشت سناتا ہے لیکن خودافسپا کے شانوں پر سوار وردی پوش کشمیر میں قریہ قریہ، گاؤں گاؤں ، شہر شہر ہر روز ایک نئے انداز کا جلیانوالہ باغ تخلیق کرکے افسپاکی جنونی تسکین کا سامان کس دھڑلے سے کررہے ہیں،

اونچی ذات کے لئے ریزرویشن!

 اس میں تو اب کوئی شبہ نہیں ہے کہ کسی بھی حکومت یا پارٹی کا یک نکاتی نصب العین رہ گیا ہے کہ وہ کام کیا جائے جس سے ووٹ مل سکیں کہ وہ جوں توں اقتدار میں رہ سکے یا اسے حاصل کر سکے چاہے اس کیلئے کتنی ہی حدیں کیوں نہ پھلانگنی پڑیں۔ابھی حا ل ہی میں مودی جی نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے خاتمے سے ایک دن پہلے ایک ایسا بل پیش کردیا جس کی رُو سے سرکاری نوکریوں اور سرکاری تعلیم گاہوں میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کو۱۰؍فیصدریزرویشن ملے گا۔ میڈیا نے اسے مودی کا ایک اور’ ’ماسٹر اسٹروک‘‘ کہا ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کرکٹ کی زبان میں اسے چھکا گردانایعنی سب لوگ جیسے بے تاب تھے کہ مودی جی کوئی ایسا چمتکار انجام دیں جس سے ان کی جان میں جان آئے۔جب دیکھا کہ تین طلاق بِل راجیہ سبھا میں یکسر دم توڑ دے گا کیونکہ لوک سبھا میں بھی جس تعداد سے یہ بل پاس ہوا تھا وہ  بھی کوئی حوصل

پی ڈی پی:قلم ٹوٹا، سیاہی سوکھ گئی

پی ڈی پی کی شکست و ریخت جاری ہے ،یہاں تک کہ نظر آتا ہے کہ اب یہ پارٹی محض ایک ڈھانچہ رہ چکی ہے جس میں سیاسی روح اور نظریاتی قدر ختم ہوچکی ہے ۔ اب تازہ ہی چاڈورہ سے جاوید مصطفی میر بھی اس پارٹی کو داغ مفارقت دے گئے ۔اسی طرح سے حسیب درابو ،عمران انصاری ،عابد انصاری ،محمد عباس وانی ،محمد یاسر ریشی ،سید بشارت بخاری وغیرہ اس پارٹی سے نکل کر دیگر سیاسی چراگاہوں کی طرف چل پڑے ہیںاگر چہ حسیب درابو ابھی کنارے پر نظر آتے ہیں اور ان کے سیاسی عزائم نہیں لگتے ہیں ۔پی ڈی پی سے تخلیہ کرنے والا بیشتر سیاسی مال پیپلز کانفرنس کے کھاتے میں گیا ہے جو اب کم ازکم صوبہ کشمیر میں موجودگی کا بھرپور اظہار کرنے لگی ہے ۔دوسری جانب پی ڈی پی کے خاتمہ سے این سی میں تازگی نظر آرہی ہے کیونکہ اس جماعت کی مبینہ حریف سیاسی جماعت ریت کے گھروندے کی طرح ڈھہ رہی ہے ،اس لئے خوشی تو ہوگی ہی۔پی ڈی پی کا اس طرح سے خاتمہ کیوں

یک جماعتی حکمرانی کی ضرورت

کسی  پر بھروسہ کیا جائے اور کس کس کو جانے دیں، توازن برقراررکھنے کا نام ہے زندگی۔ پچھلی ایک صدی کے دوران ، جب دنیا بھر میں تیغ و تفنگ سے لیس آمریت کو جمہوریت کے پروانوں نے محض نعرے پھونک پھونک کردیس بدر کردیا ہے، جموں کشمیر ریاست واحد ایسا خطۂ ا رض ہے، جہاں جمہوریت نام کے صندوق کو بندوق کے تابع کیا گیا ہے۔ تاایں دم ہماری ریاست کے بیرون میں بھی جمہوریت کو گلے سے پکڑے جانے کے ماحول میں،جموں کشمیر کے موجودہ گورنرستیہ پال ملک سے لے کر بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی تک سب کا یہی ماننا ہے کہ ماضی میں انڈین کانگریس پارٹی نے کشمیر کی سیاست سے کھلواڑ کر کرکے حالات کو موجودہ خون آشام سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ اگرچہ یہ سب اپنے کہے کو کچھ اپنا اپنا معنی ومفہوم بھی دیتے ہوں ، پھر بھی اٹل حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر کے سیاسی حالات کو پہلے کے زمانوں سے بھی زیادہ پیچیدہ موڑ ان کرم فرماؤں کے ہاتھ د

’’ لہوبولتا بھی ہے‘‘

لہو  بولتا بھی ہے‘‘ عنوان سے نئی دلی میں اجراء شدہ کتاب جنگ آزادی ٔ ہند میں مسلمانوں کے کردار اور قربانیوں کی مکمل عکاس ہے ۔ تاریخی اہمیت کی اس کتاب کا اردو ایڈیشن اس کے ہندی ایڈیشن کے مقابلے ہر لحاظ سے بڑھ کر ہے۔ اردوایڈیشن کارسم اجراء ہفتہ 5؍جنوری 2019کونئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا میںدلی حکومت کے نائب وزیراعلیٰ اوروزیرتعلیم منیش سسودیا کے ہاتھوں ہوا۔ ا س موقع پرانہوںنے بجاطورکہاکہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی اورآزاد ہندو ستان کے استحکام میں مسلمانوں کے نمایاں کردار کی نفی کی جاری ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف تاریخ کی گواہیاںمٹانے کے لئے مہم جاری ہے۔ تاریخ پہلے مورخین لکھاکر تے تھے ،پھر فاتحین نے لکھنا یالکھوانا شروع کیا اوراب یہاں تاریخ انتخابی ایجنڈے کے تحت لکھوائی جارہی ہے۔ بزرگ سماجوادی رہنما سید شاہ نواز احمد قادری اورسینئر فلمسازا ورمصنف کرشن کلکی کی کتاب ’&r

شاہ فیصل کا فیصلہ کتنا معقول؟

واقعی ایک خبرساز فیصلہ ہے، لیکن یہ خبر جب پرانی ہوجائے گی تو شاہ فیصل اپنی پارٹی یا پارلیمنٹ میں اپنی ریلوینس کے لئے محوِ جدوجہد ہونگے۔اس جدوجہد کے دوران وہ اہل کشمیر اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ہمدردی کے دو بول بھی بول دینگے، لیکن مجموعی طور پر ان کا یہ فیصلہ کوئی تاریخی تبدیلی لانے والا نہیں۔ گزشتہ آٹھ سال کے دوران جس طرح شاہ فیصل کے خیالات نے حکومت کو ڈسٹرب کیا اور جس انداز میں سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، وہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ان کا یہ فیصلہ معقول ہے یا انہوں نے بھی جنون میں آکر  ’’وقاروں کے قبرستان‘‘Graveyard of reputations   میںچھلانگ مار دی۔ یہ بات سمجھنے کے لئے اُس پس منظر کا احاطہ کرنا ہوگا جس میں شاہ فیصل کی شخصیت پروان چڑھی۔  شاہ فیصل جب ڈاکٹری ترک کرکے سول سروس کی تیاری میں مصروف ت

رہبر نے مل کر لوٹ لیا رہزنوں کے ساتھ

 حیران اور ششدر ہوں ۔سمجھ میں نہیں آتا کیسے اور کس طرح اس ہوس پرست سیاست کاری پر تبصر ہ کروں جس کو یہاںکے اقتدار نواز لیڈروں نے اپنی زندگی کے رگ و پئے میں اُتار کے رکھ لیا ہے ، جس کو متاع ِ عزیز سمجھ کر وہ اس پر مر مٹنے جارہے ہیں،جس کے عشق میں وہ سب کچھ ،ہاں ’سب کچھ ‘بیچ کھانے پر تیار ہی نہیں ،تلے ہوئے ہیں۔ میکاولی طرز سیاست میں مکر و فریب کے جتنے حربے گنوائے گئے ہیں،ان سب کو انہوںنے مات کیا ہوا ہے ۔چانکیہ نیتی میں جھوٹ ،خوشامد ،دغا بازی کے جتنے ہنر سکھائے گئے ،وہ یہ اپنے پچھواڑے سے چھوڑکے آئے ہیں۔سچ مانئے جس سیاست کاری کی انہوں نے نیو ڈالی ہے ، اور جس کو وہ آئے روزاپنی ہوسِ اقتدار کی امرت پلائے جارہے ہیںاور جس کی چاہت میں وہ اپنے ہی لوگوں کو کٹ مروانے اور ان کی آرزئوں اور تمنائوں کا خون کرنے میں جعفر اور صادق کی شرمناک تاریخ دہرا تے آئے ہیں،اس ’’ا

۔۱۹۴۷ء سے ماقبل!

 دنیا کے سارے شہر اور اُن کی عمارتیں محض اینٹ مصالے اور پتھر کی ہوتی ہیں لیکن شہروں کو شرف صرف ان کے مکینوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ستھر سال قبل جموں کی کہانی بھی اس شہر کی ان عظیم المرتبت شخصیات کے ساتھ وابستہ ہے جنہیں آج اس شہر کے نئے باسی بہت کم جانتے ہوں گے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کا جموں شہر گمٹ کے دروازے سے پنج تیرتھی تک ڈھلوان پر آباد تھا جس میں اگر چہ ہندوئوں کی اکثریت غالب تھی لیکن مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی تعداد میں وہاں رہتی تھی۔ جموںشہر میں مسلمانوں کی چھوٹی بڑی 25مساجد تھیں۔ اُس دور میں تعلیمی اور اقتصادی طور پر بھی مسلمانوں کی حالت کشمیری مسلمان کے مقابلے میں کافی بہتر تھی ،اگر چہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہی روا رکھا جاتا تھا تاہم اپنی ذاتی کوششوں اور تگ و دو کے باعث اکثر جموی مسلمان خوش حال اور کھاتے پیتے لوگ تھے۔ مغربی پنجاب کی قربت کی وجہ سے وہاں کے ما

تقسیمِ ریاست کی سازش؟؟؟

حصۂ کیف بہاراں کی پڑی ہے سب کو اور بجلی ہے کہ رقصاں ہے گلستاں کے قریب جموں کے انگریزی روزنامہ میںایک دانش ور ، قلم کار اور ماہر قانون اے جی نورانی کا ایک آرٹیکل 7؍جنوری کے شمارے میں شائع ہوا ہے جس میںاُنہوںنے انکشاف کیا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی اور دائیں بازو کے عناصر جموں و کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اوران کی پُشت پناہی میں مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ پیش پیش ہیں۔ یہ انکشاف اگرچہ تشویش ناک ضرور ہے لیکن حیران کن نہیں،کیونکہ بھارتیہ جنتاپارٹی اور جموں وکشمیر میں اس کی پیشرو تنظیمیں پرجا پریشد اور جن سنگھ شروع سے ہی ایسے نعرے بلند کرتی رہی ہیں اور ایسے مطالبات کرتی رہی رہیں بلکہ ایسی ایجی ٹیشن چلاتی رہی ہیں جن کا مقصد اور نتیجہ تقسیم جموں وکشمیر کی تقسیم ہی ہوسکتاہے۔ اگرچہ باقاعدہ طورپراُنہوں نے کبھی تقسیم ریاست کا مطالبہ کھل کر نہیںکیا۔،دفعہ 370کو حذف کرن

آصفہ ا لمیہ ایک سال بعد

 گزشتہ  سال کی ابتدائی ما ہ میں کٹھوعہ کے رسانہ گائوں میں آٹھ سال کی معصوم کلی آصفہ کے ساتھ انسانیت کو شرمسار کردینے والا ایک ایسا درد ناک ، خوفناک ،شرمناک ،دلسوز اور انسانیت سوز ناپاک سانحہ پیش آیا جس نے انسانیت کی مٹی پلید کر کے رکھ دی یہاں تک کہ بیرون ممالک کے لوگ ہندوستان کو’’ ریپستان‘‘ کہا گیا ۔ آصفہ کے ساتھ مودی بھگتوں نے جو کچھ کیا اس نے گنگا جمنی تہذیب کے دلداہ ملک  کودنیا بھر میں داغدر کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی ۔ ملک کی جمہوریت کے منہ پر اُس وقت کالک پوت دی گئی جب جموں میں بھاجپا کے بڑے بڑے لیڈروں، لاور وڈیروں نے اپنی انتہا پسند تنظیم’’ ہندو ایکتا منچ‘‘ کے بینر تلے ہاتھوں میں ترنگا جھنڈے لئے آصفہ قتل کیس اور عصمت دری میں ملوث گدھ نما قصورواروں کے حق میں بھر پور احتجاج کیا اور بزبان قال وحال بتایا کہ انہیں

والدہ ٔ مرحومہ کی یاد میں

کافی  عرصے سے بہت کچھ لکھتا رہا ہوں ۔ ہر موضوع پر ، ہر واقعے پر اور ہر صورتحال پر لکھتا رہا لیکن 21ڈسمبر کو مجھ پر وہ سانحہ گزرا جس نے میرے جسم و ذہن کی ساری قوتوں اور صلاحیتوں کو ماوف کرکے رکھ دیا ۔ میں اپنی ماں کی محبت و شفقت سے محروم ہوگیا ۔اس سانحے نے مجھے کچھ ایسے تجربوں سے آشنا کردیا جن کے سامنے دنیا کے کسی بھی موضوع کی کوئی حقیقت نہیں ۔اس لئے میں آج انہی تجربوں کو آپ کے ساتھ بانٹوں گا ۔یہ ظاہری طور میری اپنی بات ہے اور  مجھے یہ حق ہے کہ ایک بار اپنی بھی بات کروں لیکن میری اس بات میں زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کی گہرائیوں میں وہ راز پوشیدہ ہیں جوبہت سے درپردہ رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔ سب کی طرح میرا بھی ایمان ہے کہ کل نفس ذائقہ الموت ۔ پھر میرے ساتھ وہ سب کچھ کیوں ہوا جس پر میں اب بھی حیران ہوں ۔ میں پچھلے دو ہفتوں سے ایک حرف بھی نہ لکھ سکا ۔کیوں نہیں لکھ سکا یہ میں بھ

کوڈے دان میں کچرے کی سیاست

کچھ  ہی سال قبل نیشنل کانفرنس کے طاقتور متبادل کے طور اُبھری پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہے۔ ابھی تک چھ سابقہ ایم ایل اے، جن میں سے تین پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط سرکار میں وزارت کے عہدوں پر بھی رہے تھے،پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ان کے علاوہ کئی اور سرکردہ لیڈر بھی پارٹی چھوڑچکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جوں جوں انتخابات قریب آتے جائیں گے، ٹوٹ پھوٹ کا یہ سلسلہ بھی چلتا رہے گا۔ اپنے والد اور سابق ریاستی وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی تیسری برسی کے موقعے پر اس ٹوٹ پھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی میں شمولیت اختیار کریں کیونکہ ’پی ڈ ی پی اب کچرے سے پاک ہوگئی ہے‘۔گویا بہ الفاظ دیگر محبوبہ مفتی کا ماننا ہے کہ پارٹی سے جو قا ئدین نکل گئے ہیں، ان کی حیثیت کچرے سے زیادہ نہیں تھی اور ’کچ

اسٹیشن سے شفاخانے تک

اگر  ہم سفر باذوق ہے، تو بہت کچھ اس سے سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے جس سے سفر آسان ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی علم میں اضافہ بھی۔ زندگی کی شاہرائوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جو بظاہر ہمارے ساتھ چند لمحوں یا گھنٹوں کے لیے رہتے ہیں مگر ان سے جڑی باتیں اوریادیںہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ میںدہلی ریلوے اسٹیشن پر کھڑا انتظار کررہا تھا۔ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی، جوشایدآنے والے مہمان کی آمدکا ارشارہ تھی۔ ان رم جھم بوندوں میں اس قدر ادب و احترام کا خیال تھا کہ سنبھل کرزمین پر دبے پائوں چلی آتیں۔میں اس جنت نشاں موسم کا دل کھول کر نظارہ کررہاتھا کہ اتنے میں لکھنؤمیل کی آمد کا اعلان کیاگیا ۔گاڑی آتے ہی جلد ہم پروفیسر جمال نصرت سے مل گئے ۔ سلام ومصافحہ اور خبرو خیرت کے بعد چائے نوشی ہوئی پھر اس کے بعد ایک آٹومیں بیٹھ کر ہم اپنی منزل کی طرف بڑھے کہ سعادت حسن منٹو،ان کے ہم عصر اور ان کے معز

تازہ ترین