تازہ ترین

رنگ و بو میں اندھا نہ بنو

ہم سب لوگ سُن رہے ہیںاور دیکھ بھی رہے ہیںکہ کرونا کی وجہ سےآج پوری دنیا میں ہاہاکارمچی ہوئی ہے،ہر فردکو جان کے لالے پڑےہیں،ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے ،ہر سو ہُو کا عالم ہےاوراحتیاطی تدابیر کے نام پرہر ملک لاک ڈاؤن کے نام پر ٹھپ پڑا ہے۔ہر ملک اپنے قوم وملت کی تحفظ کیلئے حتی المقدور کوششیںکررہا ہےاور ہر قوم اپنے اپنے معبودوں کی ناراضگی دور کرنے اور اُنہیں منانے میں جُٹ گئی ہے لیکن ایسامعلوم ہوتاہے کہ کسی کو بھی کروناؔ پر قابو پانے،اسے دور بھگانے یا اسے نجات حاصل کرنے میں کوئی مثبت کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ سب بےبس دکھائی دے رہے ہیںاور سب کچھ بے کار ثابت ہورہا ہے۔آسمانوں پر کمندیں ڈھالنے والے ، سمندروں کی تہہ تک جانے والے،اپنے مہلک ہتھیاروں سے دنیا کو منٹوں میں تباہ کرنے والےاور خود کو سب سے اعلیٰ اور سب سے بر ترو بالا سمجھنے والے ممالک ،حکمران اور لوگ ،عام لوگوں کی ہی طرح بے کس اورلاچار

یہ دردِ ہجرت ان کا مقدّر تو نہیں ہے

اس وقت پوری دنیا ایک انجانے خوف میں جی رہی ہے کہ اس وبا سے نجات دلانے کی اب تک کوئی دوا نہیں بن پائی ہے ۔بس اس سے محفوظ رہنے کا ایک ہی نسخہ ہے کہ ہر آدمی اپنے نقل حرکت کو کچھ دنوں کے لئے بند کر دے اور اپنے اپنے گھروں میں قید ہو جائےکہ اب تک اس مہلک وبا سے بچنے کیلئے اسی کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ حکومت نے بھی اس وقت عالمی برادری کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام کو ضروری سمجھا اور اپنے ملک میں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔لیکن اس حقیقت کو بھی قبول کرنا چاہئے کہ دیگر ممالک اور اپنے ملک ہندوستان کی سماجی اور معا شی حالت میں بہت زیادہ فرق ہے ۔یورپ میں آبادی کے لحاظ سے بود و باش کی صورت الگ ہے اور روزگار فراہم کرنے میں وہاں کی حکومت صد فی صد کامیاب ہے اور اگر نہیں ہے تو ہر شہری کو زندگی جینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔اس لئے یوروپی ممالک کی طرز عمل کو ہ

تحقیقی اور فکری لٹریچرکی اہمیت

امت مسلمہ دنیائے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کی داعی ہے جو پوری نوع انسانی کے لئے وجود میںلائی گئی ہے ۔اس کا نصب العین انسانیت کو کفر و شرک ،گمراہی اور انسان کے بنائے ہوئے مذاہب و نظریات سے نکال کر راہ حق کی طرف دعوت دینا اور دنیا کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آنا ہے  اس عظیم الشان فریضے کو انجام دینے کے لئے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی بے حد تاکید کی گئی ہے ۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(اے نبی ؐ) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو ،حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہتریں ہو ۔(النحل :۱۲۵) اس آیت میں مسلمانوں کو بالعموم اور علماء و دانشوروں کو بالخصوص یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو حکمت ،موعظہ حسنی اورجدال بالا حسن (علمی و عقلی دلایل) سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیںنہ کہ اپنی ذاتی خواہشات ،ذوق اور مذاق کی بنیاد پر۔اس کے علاوہ اس

کرونا وائرس کی یلغار | ترقی یافتہ ممالک نے ہتھیار ڈال دیئے

’کورونا وائرس‘ جسے Covid-19کا نام دیا گیا ہے، سے مُراد دسمبر۲۰۱۹ء میں اِس انفیکشن سے پیدا ہونے والا نمونیا ہے۔ ’کورونا ‘لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’تاج‘ہے۔ چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام ’کورونا وائرس‘  رکھا گیا ہے۔ اس وائرس کی دریافت۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہوئی تھی، جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہو کر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ’ہیومن کورونا وائرس‘( E229 اور OC43 )کا نام دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔ (ویکیپیڈیا) عالمی ادارہ صحت(WHO) کے ذریعے نامزد کردہ(Covid-19) نامی ’کورونا وائرس‘ کی ایک نئی وبا ۳۱دسمبر۲۰۱۹ء کو چین میں عام ہوئی۔ جو کہ آہستہ آہستہ اب عالمی وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب

توکل وتدبیرکی اہمیت

یہ دنیا عالم اسباب ہے اور سنت اللہ کے عین مطابق ان ذرائع واسباب میں مختلف قسم کی تاثیر یں پنہاں ہیںلیکن ان تاثیرات کے ظاہر ہونے یا نہ ہونے کوحق تعالی نے اپنے حکم سے وابستہ فرما رکھا ہے۔ گویا کہ اختیارِاسباب کا حکم بجالانے کے باوجود مطلوبہ نتائج کا حاصل ہونایا نہ ہونا مشیت الہی پر موقوف ہے۔ممکن ہے کہ مطلوبہ نتائج ہی حاصل ہوں،ممکن ہے کہ برعکس نتائج سامنے آئیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نتیجہ ہی بر آمد نہ ہو۔لہٰذا بندے کو اسباب اختیارکرنے کا حکم پورا کرنا چاہیے البتہ نتائج کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پرکامل اعتماد اور مکمل بھروسہ رکھنا چاہے،اسی کا نام توکل ہے۔بالفاظ دیگر توکُّل دراصل انسان کی باطنی کیفیت کا نام ہے جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے اور عمل کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔’’توکُّل‘‘ کا ذکر قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پرمختلف انداز میں کیاگیاہے نیز اس کے اختیار

لاک ڈاؤن ، ٹھہری ہوئی زندگی اور خوف

اسمرتی آدتیہ نے ڈین  آر کنز کے حوالہ سے دی آی  وف ڈارکنس کتاب کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب کی مانگ مارکیز کی کتاب وبا کے دنوں میں محبت کی طرح بڑھ گئی ہے۔دراصل 1981 کے آس پاس لکھی گئی اس کتاب میں ایک انفکشن کا ذکر ہے اور اس کا نام ووہان 400 ہے۔ یعنی ، تقریبا 40 سال پہلے اس وائرس کا ذکر کتاب میں ہوا تھا۔ ناول ایک ایسی والدہ سے شروع ہوتا ہے جو اپنے بچے کو ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ بھیجتی ہے لیکن سارا عملہ ہلاک ہوجاتا ہے .بعد میں کچھ اشارے ملتے ہیں تو ماں اپنے بچے کے زندہ رہنے یا نہ ہونے کی تلاش شروع کرتی ہے اور وہ امریکی اور چینی ممالک سے ان حیاتیاتی ہتھیاروں کے بارے میں بہت کچھ جان لیتی ہے جو انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنے۔ اس پوری کتاب میں عجائبات اپنی جگہ پر ہیں ، لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا جس کورونا وائرس سے پریشان ہے ، اس کتاب میں نہ صرف اس کا ذکر ملتا ہے بلکہ چین کی اصلیت او

کورونا وائرس کا قہر | اجتماعی فیصلہ قوم وملّت کے مفاد میں

اب جب کہ طبّی اور سائنسی تحقیقات نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کورونا جیسی مہلک وباء سے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی سے پرہیز کریں اور انفرادی زندگی صبر وسکون کے ساتھ گذاریں توایسے وقت میں مذہبی فریضہ کو بھی انفرادی طورپر کما حقہ پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور سرکاری احکامات کی مکمل طورپر پابندی کی جائے ۔ کیوں کہ یہ سرکاری احکامات کسی خاص فرقہ واحد کے لئے نہیں ہے بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے ہے۔ جہاں تک مذہبِ اسلام میں اجتماعی عبادت کا سوال ہے تو ایسے حالات میں اس سے پرہیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ البتہ مسجدوں میں نماز قائم رکھنے اور پابندی سے اذان دینے کی لازمیت کو پورا کرنا ہے ۔ مگر بڑی جماعتوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ تمام مسلک کے علمائے کرام نے اپنے اپنے اعلانیہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ پیغام دیا ہے کہ اس قدرتی وباء سے تحفظ

ڈپریشن کو بڑھاوا مت دیجئے

اس دنیا میں رہتے ہوئے جہاں خوشیاں ہیں وہاں غم بھی ہیں،جہاں تونگری و ثروت ہے وہاں غربت و افلاس ہے،جہاں صحت و تندرستی ہے وہاں بیماریاں بھی ہیں۔لیکن ان تغیرات کو نیہ میں مرد میدان وہی ہوتا ہے جو اپنے خالق حقیقی کے قضا وقدر پر مکمل راضی ہو کیونکہ فطراتاً جس جگہ دھوپ کی تپش کی مار ہوتی ہے وہی ہاذن اللہ سایے بھی جلوہ افروز ہوا کرتے ہیں ۔اسی طرح انسان بھی کبھی کبھار بلکہ اکثر بار اوقاتِ غم کے تنائو میں زندگی کے نشیب و فراز طے کرتا ہے لیکن دین اسلام میں اس بات کی رہنمائی فرمائی گئی کہ ان دیگر گوں حالات میں انسان اپنی صحت کا کس طرح خیال رکھ سکتا ہے۔میری مراد صحت اور صحت بدن ہے تاکہ صحت ایمان کے اعتبار سے مزید اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے اور صحت بدن کے اعتبار سے ذہنی تنائو جیسی بیماری سے بچ سکیں ۔جہاں تک پریشانیوں اور مصائب کا تعلق ہے تو ہر ایک انسان کو لا محال اس سے دوچار ہونا ہے کیونکہ اللہ ت

آیۃ الکُرسی:قرآن کریم کی عظمت والی آیت

ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہے (جس کو کبھی موت نہیں آسکتی) (ساری کائنات کو) سنبھالنے والاہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون شخص ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے سامنے شفاعت کرسکے، وہ جانتا ہے ان (کائنات) کے تمام حاضر وغائب حالات کو ، وہ (کائنات) اُس کی منشا کے بغیرکسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے، اُس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کو ان (زمین وآسمان) کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے‘‘۔یہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے جو عظمت والی آیت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور بعض اہم صفات کا ذکر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا بھی ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے اس آیت کو آیت الکرسی کہا جاتا ہے۔ آیت الکرسی کی فضیلت

سمجھدار قوم ناکام قوموں سے عبرت لیتی ہے

عموماً ہر انسان کو اپنی زندگی میں تین حالتوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔بچپن ،جوانی اور بڑھاپا، بچپن کھیل کود میں گزر جاتا ہے۔ جوانی زینت وتفاخر میں چلی جاتی ہے اور بڑھاپا مال واولاد کی کثرت کی کوشش میں نکل جاتا ہے ۔انسان جب دنیا سے جاتا ہے تو خالی ہاتھ ہی جاتا ہے ،بچپن ،جوانی اور بڑھاپا تینوں اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوتے ہیںبلکہ جن چیزوں پر وہ فخر کیا کرتا تھا وہ بھی اسے ایک لمحے کے لئے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ جتنا جلدی ہوسکے اسے مٹی میں دفن کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی کہانی ختم کر دیتے ہیں ۔اب وہ صرف اور صرف بھولی بسری یادیں بن کر رہ جا تا ہے ۔ انسانی زندگی تین حالتوں سے گزرتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے،اس میں اسے تین زمانوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ماضی ،حال اور مستقبل جو لمحات اسے چھو کر جا چکے ہیں وہ اس کا ماضی کہلاتے ہیں ،جن لمحات سے وہ گزررہا ہے وہ اس کا حال ہے اور جو لمح

کرونا وائرس: دنیا جرثوموں کی زد میں!

دنیا لرزہ بر اندام ہے اور کائنات کے ہر گوشہ ٔ زمین میں رہنے والی انسانی مخلوق دہشت زدہ ، کروناوائرس نے اودھم مچا کے رکھدی ہے۔ ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور اَن گنت تشخیصی عمل سے گذرتے ہوئے بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ کہیں اِن کے خون کے نمونوں کی جانچ انہیں بھی وائرس زدہ بتلاکر وادی ٔ موت میں جانے کا پیغام نہ سنادے۔ ماضی میں ڈینگی کانگو، ننگلیریا نے ہاہا کار مچادی تھی اور اب ’’کرونا‘‘ زور آزمائی کرتے ہوئے ہر انسانی بدن پر لرزہ طاری کئے ہوئے ہے۔ دیکھا جائے تو پہلے پہل ان ہلاکت خیز وباؤں کے مراکز غریب ، پسماندہ، اقتصادی لحاظ سے کمزور اور طبی سہولیات سے محروم ممالک رہا کرتے تھے لیکن اسے کیا کہیے کہ اب کے ’’کرونا ‘‘نے مادی لحاظ سے مستحکم ملک چین میں ڈیرے ڈال دئے اور پھراٹلی اور ایران میں اپنے پنجے گاڑھ کر سبھی کو ہیبت زدہ کرکے رکھ

انسان اپنے رب سے رجوع کرے

 کرونا وایرس کی ناگہانی بیماری نے اب ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور ہر سُو خوف و دہشت چھایا ہوا ہے۔ ہر چہرے پر سوالیہ نشان اس بات کی وضاحت ہے کہ انسان کتنا بے بس اور لاچار ہے۔آسمانی فیصلوں کے سامنے آج سا?ینس و ٹیکنالوجی کا غرور حرفِ افسوس کی تسبیح میں محو عمل ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کی بے بسی اور کمزوری کی حقیقت سر عام ظاہر ہورہی ہے۔ ڈر اورخوف کا ماحول ابن آدم پراس قدر طاری ہے کہ وہ اپنی پرچھا?یوں سے بھی ڈرنے لگا ہے۔ جس ملک اور جس شہر کو دیکھو، لاچاری کی درد بھری آہوں سے پکار رہاہے کہ فضا میں یہ کیسا جنون ہے۔ وہ لوگ جو ہر بات کو سائنس کے ترازو میں تولتے تھے یا وہ لوگ جو ہر طوفان کو مٹھی میں قید کرنا جانتے تھے، آج ان کے ہونٹ مقفل اور چہروں پر لاچاری کی داستان عیاں ہے۔یہ ہمارے ان خطا?ؤں کا پھل ہے جو اس دن ہم نے کتاب زندگی میں رقمطراز کردئے تھے جب ہم نے اپنے سے کم طاق

اللہ کاعذاب کب اور کیوں آتا ہے؟

’’ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ، اے برادران قوم!اللہ کی بندگی کرو اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ میںتمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ (اعراف:۵۹)’’آخر کاراُن لوگوں نے کہا کہ اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔اب تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔نوح نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی لائے گا اگر چاہے گا اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اُسے روک دو۔‘‘ (ہود: ۳۲ /۳۳ ) ’’نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔یہ سارے کے سارے اب ڈوب

اسلام اور مغرب کے مابین تصورِ آزادی

فکری یلغار اور نظریاتی جنگ وہ ہے جو آلاتِ حرب توپ، میزائیل ، ٹینک ، گولے بارود کے بجائے دیگر ایسے ذرائع سے لڑی جاتی ہے۔ غیر معمولی منصوبہ بند اور انتہائی منظم طریقے سے اقوام و ملل کی ذہنیت، تعلیم و تربیت معاشرت و معیشت، تہذیب و تمدن اور خیالات و نظریات تبدیل کیے جاتے ہیں، گویا یہ وہ کارزار ہے جس میں انسان کے جسم کے بجائے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا ہے، جس کے اثرات صدیوں جاری رہتے ہیں، نسل در نسل تقویت کے ساتھ فروغ پاتے رہتے ہیں، دل دماغ، انداز فکر و نظر، یکسر تبدیلی کا شکار ہوکر ارتداد کی لہروں میں گم ہوجاتے ہیں۔ جن افکار میں معصیت کو خوشنما اور دلفریب بناکر پیش کیا جاتا ہے، طبیعتوں کو ہرقیدوبندش سے فرد کو ہر ذمہ داری اور جوابدہی سے آزاد باور کروایا جاتا ہے۔ چنانچہ مغربی افکار میں تو مطلق آزادی اور بے قیدی کی کھلی تبلیغ کو فروغ دیا گیا۔ زندگی سے پورے تمتع، مطالبات نفس کی پوری تک

اغیار کی نقالی !!

تہذیبوں کی آویزش ،ثقافتوں کاٹکراؤاور روایتوں کا تصادم کوئی انوکھی بات نہیں۔روزاول سے یہ سلسلہ بام عروج پرہےاور تاقیامت جاری رہےگا ۔ بالخصوص اسلامی تہذیب کوہرزمانے میں نت نئے چیلنجز درپیش ہوئے۔صلیبیوں،یہودیوں اور تاتاریوں کے ہاتھوں متعددمرتبہ اسلامی تمدن و حضارت پرشب خون مارنےاورچوطرفہ یلغار کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیںمگرہربار یا تو اسلام کےمتوالے اپنی تہذیب کے آگے سدسکندری بن کر کھڑے ہوگئےیا پھرکعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں میسر آتے رہے ۔اس وقت بھی اسلامیان برصغیر کے لیے ہندوانہ تہذیب،کشمکش کا ایک ایسا دوراہا ہے،جہاں آکرعوام کی اکثریت قلادۂ اسلام گلوں سے نکال پھینکتی ہےاور اغیار کی نقالی کو قابل فخر کارنامہ سمجھنےلگتی ہے۔کتاب وسنت کی اصطلاح میں اسی کو تشبہ کہاجاتاہےیعنی اپنی ہیئت و وضع تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع قطع اختیار کرلینا،اپنے تہذیبی ورثہ سے دست کش ہوکر دوسروں کی روایات کو

احتیاطی تدابیر کیساتھ رجوع الی اللہ بھی ضروری!

یہ زلزلے، طوفان ،آندھیاں ،آسمانی آفتیں و مصیبتیں اور وبائی امراض کی ہلاکت خیزیوں کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں مگر حقیقی اور اہم سبب انسانوں کےنیک و بد اعمال ہی ہیں کیونکہ اللہ کا ضابطہ ہے کہ جب انسان روئے زمین پر شترِ بے مہار کی طرح انسانی حدود وقیود سے آزاد ہوکر ،احکام خداوندی وسنت نبوی سے بغاوت کرکے نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہےاور فحاشی وعریانیت کا بازار گرم ہوجاتاہے، تو اس قوم پراللہ کا عذاب اس طرح مسلط ہوتا ہے کہ اس کی وجوہات وحل اور ان بیماریوں کے ادویات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن سا معلوم ہونے لگتا ہے۔وقت کی سپر پاور طاقتیں اور ان کی ٹکنالوجی بھی فیل ہوجاتی ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے،،فاتاھم العذاب من حدیث لایشعرون ،فاذاقھم اللہ الخزی فی الحیاۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اکبر(ترجمہ )’’تو ان پر اللہ کا عذاب اس طرح آیا کہ انہیں احساس بھی نہیں ہوا،پھر اللہ

جھوٹ بولنے کے نتائج مہلک ہوتے ہیں

مغربی تہذیب کی بے ہودہ رسومات میں سے ایک رسم اور روایت اپریل فول (April Fool) منانا ہے۔ اس کی ابتدا اگرچہ یورپ سے ہوئی لیکن اب پوری دنیا میں یکم اپریل کو جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور لوگوں خاص کر بوڑھوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، غرضیکہ جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا یہ تہوار ہے۔ امن وسلامتی کا علم بردار مذہب اسلام ہمیشہ ایسی برائیوں سے معاشرہ کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے جو معاشرہ کے لیے ناسور ہوں۔ قرآن وحدیث میں بار بار سچ بولنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں معاشرہ کی مہلک بیماری جھوٹ سے بچنے کی نہ صرف تعلیم دی گئی بلکہ جھوٹ بولنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لئے جہنم تیار کی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب آیت ۷۰ ۔ ۷۱ میں ایمان والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سی

رسول ِ رحمتؐ کا ضابطہ قانون

حضرت موسیٰ علیہ السلام جو دنیا کے بڑے قانون سازوں میں سے تھے، آسمانی احکام لے کر آئے ،جن کی رو سے قتل و غارت گری ،چوری اور بدکاری کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ان کے بعد دوسرے پیغمبر ؑ اعلیٰ خیالات کی تبلیغ لے کر آئے اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔چونکہ اللہ کے پیغامات انسانوں تک پہنچانے کے لئے آپؐ آخری نبی تھے کیونکہ آپ ؐ کے پیغامات اور قوانین کو ہر زمانے اور ہر مقام کے لئے مفید اور کارآمد بنانا تھا ۔اس لئے آپؐ کے دائرہ عمل کو بھی ان کے پیش روئوں کے مقابلے میں وسیع تر رکھنا تھا ،لہٰذا وہ زماںو مکاںکی بندشوں سے قطع نظر انسانی زندگی کے تقریباً سبھی پہلوئوں پر اثر انداز ہے اور آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ضابطۂ قانون ایک مکمل دستاویز بن گیا ہے۔آپؐ نے وحی الٰہی کے زیر ہدایت جن اصول و فروغ کو بیان فرمایا ،اُن کی حیثیت مستقل اور دائمی ہے۔ چنانچہ دین اسلام

کوروناوائرس:خوف کا دوسرانام

ٓٓٓٓٓٓٓآدمی ایک حقیر ذرّہ ہے دشت میں کائنات کی ہُو کا جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے گلی سڑی ہوئی مٹی سے اپنی روح ڈال کربنایا،جس کو اس نے اپنی نیابت سے بھی نوازا ، اس نے دنیاوی تاریخ میںجہاں کچھ اچھے کام کیے وہیں اس نے کچھ ایسے کام بھی کیے ہیںجنہیں دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے ۔غور کیجیے !پچھلے 300سالوں سے دنیا کے ممالک پر بطور ِ قوت حکمرانی کی۔ سائنس اور دنیا وی علم میںاِتنی زیادہ ترقی کی کہ وہ اب دوسرے سیّاروں میں بستیاں بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اِن شیطانی قوتوں نے ایسے جنگی سازو سامان بنائے کہ لاکھوں انسانوں کی جان چند منٹوں میں لی جاسکتی ہے۔ انھوں نے جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر پوری دنیا کو اس سے ڈرا رکھا ہے۔ایسی ایسی ایجادات کی ہیں جنھیں دیکھ کر عقل حیران اور پریشان ہو جاتی ہے۔ 1915 میں برطانیہ کے ایک فوجی جنرل نے کہا تھاکے ہم آج اتنے طاقتور ہیں کہ

کیا کائنات اپنے آپ چل رہی ہے؟

حضرتِ انسان اللہ کی اس زمین پر ایک نادر منفرد اور عجیب وغریب مخلوق ہے،اس کے حرکات و سکنات ساری مخلوقات جمادات،نباتات اور حیوانات سب سے مختلف ہیں۔مگر آج کا پڑھا لکھا عجب انسان خود اپنے آپ کو جانوروں میں شامل رکھنا پسند کرتا ہے بلکہ خود کوجانوروں کے ایک کلاس(خاندان)ممالیہ کا حصّہ بناکر مسرور و مطمئن ہے۔ہے ناعجب انسان ! یہ اپنے آپ کو آسمان سے زمین گرا کر اپنی ذلّت محسوس تک نہیں کرتا۔ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا،کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا۔کیا یہ حیرت انگیز عجوبہ نہیں تو کیا ہے؟بَھلا جنت میں پیدا ہونے والے اور زمین پرپیدا ہونے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ اللہ ربُّ الحکیم نے سب کو حکم دیا کہ انسان کو سجدہ کرو،کہا کہ میں اس کو اپنانائب بنا کر زمین پر بھیج رہا ہوں! مگر یہ نرا نائب نہیںتھا،مقصدصرف سجدہ کر وانایااشرف قرار دینا نہیں بلکہ اِس نے عملاً انسان کو اس کائنات میں جو چ