اسلام کی تعبیر وتشریح کے لئے

 اُمت  مسلمہ دنیائے انسانیت کے لیے خیر وفلاح کی داعی ہے جو پوری نوع انسانی کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔اس کا نصب العین انسانیت کو کفر وشرک، گمراہی اور انسان کے بنائے ہوئے مذاہب ونظریات سے نکال کر راہ حق کی طرف دعوت دینا ہے اور دنیا کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آنا امت مسلمہ کا بنیادی فریضہ ہے۔ اس عظیم الشان فریضے کو انجام دینے کے لئے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرنے کی بے حد تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، و حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ (النحل: ۱۲۵) ابن کثیر ؒنے اس آیت کی وضاحت یوں کی ہے: ای فیہ من الزواجر والوقائع بالناس ذکرہم بما لیحذروا بأس اللہ تعالی۔  (حافظ عمادالدین بن کشیر، تفسیر القرآن العظیم، دارالا

العالم ا لفقہ

محمد  بن ادریس امام الشافعیؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپؒ کا سلسلہ نسب بنو ہاشم سے ملتا ہے اور آپؒ کے جد اعلیٰ شافعی کے نام سے مشہورتھے جنہوں نے رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ پایا ۔ امام محمد الشافعی ؒکی ولادت ۱۵۰ھ میں غزہ میںہوئی۔ آپ ؒنے سات برس کی عمر میں قرآن مقدس حفظ کیا اور دس برس کی عمر مبارک میں امام مالک ؒ کی موطا یاد کی۔آپؒپندرہ سال کے ہوئے تو آپ ؒ کو اپنی والدہ ماجدہ نے تحصیل علم کے لئے مدینہ منورہ بھیجا جہاں آپؒ نے امام مالکؒکے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ امام مالکؒ اُس وقت مدینہ کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے تھے۔امام الشافعیؒ  توبچپن سے ہی ذہین وفطین اور بے شمار اوصاف کے مالک تھے، بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا اور  قلب وذہن میں اشعار کا سیل رواں امڈ آتا تھا ۔ روایت ہے کہ ایک دن آپؒ کعبہ شریف کے سائے میں تنہا بیٹھے تھے کہ ایک غیبی ند

تازہ ترین