پردۂ سیمیں

دنیا  میں کتب بینی کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اُتار چڑھائو بھی آئے۔ عہدِ حاضر میں ایک طرف ہمارے ہاںجہاں ٹیکنالوجی نے اپنا طلسم جگایا تو وہیں کتاب سے دوری بھی پیدا ہوئی۔ کتب بینی اور تخیل کے درمیان مضبوط رشتہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ مطالعہ کو کلیدی حیثیت حاصل رہی، لیکن پھر بتدریج مختلف النوع کی ٹیکنالوجی نے قارئین کی توجہ کو منتشر کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ اب دراز ہوتاچلاجارہا ہے۔،جس کو سوشل میڈیا کے استعمال سمیت دیگر میڈیمز کی شکل میں دیکھاجاسکتاہے۔ابتدا میں ریڈیو کی آمد ہوئی، لیکن اس سے بہرحال سامع کا تصوراتی تعلق برقرار تھا، کسی بھی کہانی یا ڈرامے کوسماعت کرکے تخیل کی مدد سے اس میں اپنے تصور کا رنگ بھرا جاتا تھا، سماعی حد تک یہ بات قابل قبول تھی، پھر ٹیکنالوجی نے جب کئی بصری درجات طے کیے، یعنی ٹیلی وژن کی آمد آمد ہوئی، توکتاب سے قاری کا

ایک عیاش بادشاہ کی کہانی

اسکول   میں جب ہم معاشرتی علوم پڑھتے تھے تو غالباً آٹھویں جماعت میں ایک باب مغل سلطنت کے زوال کے اسباب سے متعلق ہوا کرتا تھا، مجھے یہ بہت پسند تھا کیونکہ ہر سال اِس سے متعلق ایک سوال ضرور آیا کرتا تھا، اِس عظیم سلطنت کے زوال کی جو وجوہات ہمیں پڑھائی گئیں اُن میں سے ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ مغل بادشاہ عیش و عشرت میں پڑ گئے تھے، گانے بجانے کی محفلیں برپا کرتے تھے، محلات میں کنیزیں اور لونڈیاں ہوا کرتی تھیں جن کے ساتھ ان کے شب و روز گزرا کرتے تھے اور یوں وہ سلطنت کے امور سے غافل ہو گئے اور رفتہ رفتہ اقتدار اِن بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اُس وقت یہ وجہ ہم نے رَٹ لی اور جب امتحان میں سوال آیا تو خوب مرچ مصالحہ لگا کر لکھا۔ کئی برس بعد یونیورسٹی میں ایک استاد سے اِس موضوع پر بحث ہوئی تو اُس مردِ عاقل نے یہ باریک نکتہ سمجھایا کہ برخوردار دنیا کا ہر بادشاہ عیاش ہوتا ہے، اگر و

کا میابی کی کنجی فلاحِ انسانیت

اکثر وبیشتر اہل ِدنیا وسائل کی کمی کو پریشانی کا سبب مانتے ہیں اور دن رات ​ اس سے نجات حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں لیکن بہت سارے ملکوں میں وسائل کی بہتات ہونے کے باوجود سکون غائب ہے۔ حق یہ ہے کہ انسان چاہے کتناہی بڑی کوششیں کرنے میں لگارہے ،وہ نہ ہی دنیا کوسکون میسر کر سکتا ہے اور نہ ہی  پرت پشانیوں سےبچ سکتا ہے۔ ساری دنیا میں تباہی اور جنگی ماحول جیسے عدم استحکام سےچھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جو بغیر کسی تعصب کے ہو اور انسان ذات پات، رنگ و نسل اور مذہبی ​امتیازات سے اُوپر اٹھ کر عظمت انسانی کے کام انجام دینے میں معاون ثابت ہو۔ دنیا کے بیشتر نظریات چاہیے وہ سرمایہ دارانہ نظام ہو، اشتراکی نظام ہو، یا پھر کوئی اور نظریہ ہو، انسانیت کی فلاح کے لئے کام کر نے میں ابھی تک ناکام ہی ر ہے ہیں۔اگر دنیا کے سربراہان عالمی سطح پر امن و استحکام اور اتحاد قائم کر نے ک

تازہ ترین