تازہ ترین

ستر ہویں لوک سبھا

جس   کا ڈرایک فیصد تھا وہ سو فیصد کے ساتھ سامنے ہے۔ناقابل یقین، تمام سیاسی پنڈتوں کے اندازوں، قیاس آرائیوں،زمینی رپورٹ،حقیقی سروے،سیاسی سروے اور دیگر گراؤنڈ رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی تین سو سے زائد سیٹوں کے ساتھ دوبارہ برسراقتدار آگئی ہے۔ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا محض نام رہے گا کیوں کہ این ڈی اے کی جیت میں مکمل طور پر بھارتیہ جنتاپارٹی کی محنت، منشا،بوتھ منیجمنٹ، گھر گھر جاکر لوگوں کو قائل کرنا اور ان کی محنت شاقہ شامل رہی ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی جماعتوں کی محنت نکال دیں تو بی جے پی کی اتحادی کی بہ مشکل دو چار سیٹیں ہی آتیں۔ کیوں کہ بی جے پی اتحادی جماعتوں کو بھی صرف اور صرف مودی کے نام پر ووٹ ملا ہے۔ورنہ کسی کی کوئی اوقات نہیں تھی کہ وہ لوک سبھا کے موجودہ الیکشن میں وہ کامیابی اتنی کامیابی حاصل کرتے۔ بہار میں ہی 40میں سے 39

غیربھاجپائی حکومتوں کے لئے خطرات؟

 یوں  تو مرکز میں جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے یا کوئی حکومت دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو وہ تمام ریاستی حکومتوں کے لئے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ نئی مودی حکومت کے انتخاب سے قبل کئی ریاستوں میں بھاجپائی اقتدار کا خاتمہ بھلا آر ایس ایس، بی جے پی اور مودی و امیت شاہ کو کیسے پسند آسکتا ہے، چنانچہ کرناٹک، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس نے بھاجپا سے اقتدار چھین لیا تھا اور ان تمام ریاستوں میں کانگریس سے پہلے بھاجپا کا ہی اقتدار تھا۔ چار ریاستوں میں اقتدار کا کھو جانا بھاجپا کیلئے ایک بڑا صدمہ اور چیلنج ہے۔ دوسری جانب مشرق میں ممتابنرجی کی مغربی بنگال میں حکومت مرکزی حکومت کے دل میں ایک کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ ممتابنرجی دوران ِانتخابات بھی اور انتخابات سے قبل بی جے پی کی بدترین سیاسی مخالف رہی ہیں۔ بی جے پی جس طرح ریاست میں اپنے لئے ہندو ووٹ بنک کو مضبوط کرنے کی کوشش ک

کیا کیا بتائوں؟

جس  گھر میں ، میں نے فون کال وصول کی، فون رکھنے کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے فون پر ایسا کیا سُنا جو میں خوش دکھائی دے رہا ہوں۔ جب میں نے اُن کو بتایا کہ ہمارے گھر میں فون لگا ہے تو وہ حیران ہوگئے اور میں ان کی حیرانگی پر حیران ہوا۔ اُس دن تو وہ بات کو گول کر گئے مگر کچھ دنو ں کے بعد باتوں باتوںکے دوران وہ مجھ سے کہنے لگے کہ فون لگنا کوئی اتنی بڑی خوشی کی بات تو نہیں ۔ یہ ایک عام سی معمولی بات ہے جیسے گھر میں ٹی وی لایا،گلدان رکھ دیا، یا ایک ڈیکوریشن پیس خریدکر لایا۔ یہاں( ممبئی میں) فون ہر گھر، ہر گلی اور ہر دوکاندار کے پاس ہوتا ہے ، یہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے۔ میں نے اُن کو بتایا کہ ہماری وادی میں محلے میں مشکل سے ایک آدھ فون ہوا کرتا تھا اور دوکاندار وں میں فون صرف بڑے تھوک بیوپاریوں کے ہاں ہی ہوتا تھا۔ دور و نزدیک کے دیہات میں یہ سہولت بہت کم میسر تھی۔ یہ صرف سن

آیت اللہ روح اللہ خمینی ؒ

 بیسویں صدی کے عظیم قائدو رہنما اور سب سے بڑھ کر بانی انقلابِ ایران ل محرک اول مرحوم و مغفور حضرت آیت اللہ سید روح اللہ خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلاب ایرا ن فروری۱۹۷۹ء کو سر زمین ایران میں رونما ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔آپؒ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشایت کے نام سے مطلق العنان حکومت قائم تھی ۔ اس آمرانہ، ظالمانہ،جابرانہ اور وغیر جمہوری حکومت کا خاتمہ امام خمینیؒ کی والہانہ سر براہی اور روحانی قیادت میں۱۹۷۹ء میں تکمیل کو پہنچا۔اپنی مثالی انقلاب آفرین قیادت اور تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں موصوف اپنی ایک خود نوشتہ کتاب میں مرحوم امام خمینیؒ رقم طراز ہیں:’’ ہم تمام اسلامی ملکوں کو اپنا سمجھتے ہیں، تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ملکوں میں ایسا ہی انقلاب اسلامی بر پا ہو جائے اور

کرنل سید علی احمد شاہ

 پاکستان   کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میر پور شہر کے چوک شہیداں کے عقب اور سادات کالونی کے خاموش اور پر سکون مکان میں خوبصورت نورانی شکل و شباہت کے ایک بزرگ لمبے عرصہ سے صاحب ِفراش اور گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔میرے قیام میر پور (۱۹۸۲  ء تا۱۹۸۶ ء )کے دوران احباب کی مجالس میں اکثران کا تذکرہ بڑے احترام سے سننے کا موقع ملتا تھا،جب کسی مجلس میں ان کا تذکرہ آتا تو سب لوگ سنجیدہ ہو کر ان کی قصیدہ خوانی کرتے اور ’’آزاد کشمیر ‘‘کے اس وقت کے سیاست دانوں اور حکمرانوں پر تنقید کی بوچھاڑ کر دیتے ،اس بزرگ کی سیرت اور کردار کے حوالے سے میر پور کے دوستوں و بزرگوں کی باتیں سن سن کر میر پور کے خوشحال مادہ پرست ماحول میں اس وقت یہ ایک عجوبہ سا لگتا تھا ،تاہم اس شخص کے تذکرے اور حیرت انگیز کردار کی باتیں سن کر میں نے انہیں تلاش کرنے اور ملاقات کی ٹھان ل

بھاجپا اب سیکولر پارٹی ؟

۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کے نو منتخب اراکین سے پارلیمنٹ میں  اپنے پہلےخطاب میں کہا کہ ’’ملک کی اقلیتوں کے ساتھ فریب ہوا ہے۔ بد قسمتی سے ملک کے اقلیتوں کو اس فریب میں خوف اور بھرم میں رکھا گیا ہے۔ اس سے اچھا ہوتا کہ اقلیتوں کی تعلیم، صحت کی فکر کی جاتی۔ 2019 میں آپ سے اُمید کرنے آیا ہوں کہ ہمیں اس فریب (چھل) کو بھی توڑنا (چھیدنا) ہے۔ ہمیں اعتماد جیتنا ہے۔‘‘ابتدا میں لگا کہ نریندر مودی کی یہ تقریر صرف زبانی جمع خرچ ہے، لیکن گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ وہ صرف لفاظی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا بیان تھا۔ اس تقریر کے بعد سے ہی بی جے پی کا مزاج کچھ بدلا بدلا سا نظر آ رہا ہے۔ مودی کی اس تقریر کے کچھ ہی دن بعد کی بات ہے جب بی جے پی لیڈر گری راج سنگھ نے نتیش کمار اور افطار پارٹی کے حوالے سے م