تازہ ترین

بھاجپا حکمرانی کے پانچ سال

 اس خرابے میںکچھ آگے وہ جگہ آتی ہے جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے کشمیر سے باہر کب، کہاں اور کس نے کشمیری زباں کے وہ مزاحیہ دو ایک جملے سنے ہوں گے، جن میں’’ شِلوت، گِلوت ، توتہِ گِلوت‘‘ کو استعمال میں لاکر ’’میں نہ مانوں‘‘ کلاکاری کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں پچھلے پانچ سال کے دوران کیا کیا نہ بدلا۔ سب کچھ تو بدلا بدلا سا نظر آتا ہے ۔ خالص’’ میں نہ مانوں‘‘ کی تان نہ ٹوٹ سکی۔ نئی حکومت قائم کرنے کیلئے پارلیمانی انتخابات کے اس عالم میں جب حکمران جماعت بی جے پی کو اپنی پانچ سالہ کارکردہ گی کا خلاصہ کرنے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے اُٹھائے جارہے سوالات کا جواب دینا تھا، حکمران طرح طرح کے جملوں کی اُوٹ میں سوال کرنے والے اپنے مخالفین کے ما

صیام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟

تقریباً بیس بائیس سال پہلے جب ہمارے یہاں معاشی حالت بہتر ہونے لگی تھی اور عام لوگوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن کا چلن عام ہو اتھا، لوگ تعلیم یافتہ بھی ہونے لگے تھے، ٹی وی چینلز کی تعداد بھی بڑھنے لگی تھی۔ اب ہم لوگ کچھ کریں نہ کریں، عالمی خبروں اور تبصروں میں ضرور لگے رہتے تھے ۔ پھر ٹی وی چینلز کی باڑھ نے ہمیں ایک طرف جہاں اخلاقی طور پر بے کار کر دیا، دوسری طرف صحت بھی ناکارہ کر دی ۔اخلاقی طور پر ناکارہ ہونے اثرات آپ اور ہم معاشرے میں جا بجا دیکھ ہی رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کی ا شتہار بازیوں سے تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکا، منشیا ت وغیرہ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ دیدہ دلیری یہ کہ اس غلط کاری کے جواز میں کئی لوگ کہتے ہیںیہ حرام تھوڑے ہی ہے، زیادہ سے زیادہ مکروہ کہہ سکتے ہیں۔اس کٹ حجتی سے لوگ جابجا صحت کے مسائل سے جھوج رہئ ہیں ۔ اکثر مسجدوں میں کرسیوں کی تعداد بڑھنا اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ گھٹنے

یادوں کے جھروکے سے

  گزرے  دنوں  کی  یاد   برستی  گھٹا  لگے گزروں جو اس گلی سے تو ٹھنڈی ہوا لگے قتیلؔ شفائی مسلسل پانی کا قطرہ ٹپکنے سے تو پتھر میں بھی گڑھا بن جاتا ہے، گوشت وپوست کا انسان صدمات کی یلغار سے کیسے نہ ٹوٹے؟ بہرحال وقت گزرجاتا ہے کیونکہ وقت گزرنے کا ہی نام ہے اور عمر بھی گزر جاتی ہے کیونکہ عمر بھی گزرنے کا ہی عنوان ہے۔ خیر آگے بڑھتے ہیں۔ میں جب دسویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے اسلامیہ ہائی سکول راجویری کدل چ شہر خاص سری نگر میں ڈبیٹ سیکریٹری کے لئے چناؤ ہوا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ زمین کے اس خطے پر چناؤ وہی جیت لیتا ہے جو اس کے اہل نہیں ہوتا یا کسی کام کا ہوتا ہی نہیں۔ چنانچہ اس چناؤ میں بھی یہی ہوا، مجھے ووٹ زیادہ ملے اور میں جیت گیا اور ڈبیٹ سیکریٹری بنا۔ مجھے سکول والے اکثر صبح کی دعا (Prayer) کے بعد سٹیج پر بلاتے اور میں وہاں جمع طلب

کہیں مخمصے ہیں کہیں قہقہے

یہ  تو وہی بات ہوئی کہ روؤ ں میں دل کو یا جگر کو پیٹوں میںکہ اپنے ملک کشمیر میں پھول جیسی ننھی بیٹیاں بھی محفوظ نہیں کسی، کے ہاتھوں اٹھارہ ماہ کی ہبہ نثار جیسی دہشت گرد شکار بنی ۔کہیں آٹھ سال کی آصفہ ہتھے چڑھے اور اب تین سالہ ایمن پر حملہ ہوا۔ان ننھے پھولوں کو تو بس زبانی جمع خرچی اور کاغذی میزائل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔بھلا ہو کیوں نہ یہ ننھی کلیاں تو ووٹر ہیں نہیں پھر ان کی فکر کاہے کو۔ووٹرہوتیں تو کل کو جتا دیتیں ۔اسمبلی پارلیمنٹ بھیج دیتیں ۔سیاست کے وارے نیارے کردیتیں اور وہ جو سخت قانون کی باتیں کرتے پھر رہے ہیں اب انہیں کون بتائے کہ سیاست کار صاحب یہ تو آپ کا کام تھا، وقت پر کیا کیوں نہیں ؟سمجھ نہیں آتا جب اپنے ہی بیگانے ہوئے تو کس پر بھروسہ کیا جائے؟ ابھی ابھی الیکشن ہوا تو اپنے سیاست کار نماز دعا میں مصروف ہیں کہ ائے کار ساز دو جہاں ہمارا دلی والا جہاں کسی