تازہ ترین

بھاجپا حکمرانی کے پانچ سال

 اس خرابے میںکچھ آگے وہ جگہ آتی ہے جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے کشمیر سے باہر کب، کہاں اور کس نے کشمیری زباں کے وہ مزاحیہ دو ایک جملے سنے ہوں گے، جن میں’’ شِلوت، گِلوت ، توتہِ گِلوت‘‘ کو استعمال میں لاکر ’’میں نہ مانوں‘‘ کلاکاری کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں پچھلے پانچ سال کے دوران کیا کیا نہ بدلا۔ سب کچھ تو بدلا بدلا سا نظر آتا ہے ۔ خالص’’ میں نہ مانوں‘‘ کی تان نہ ٹوٹ سکی۔ نئی حکومت قائم کرنے کیلئے پارلیمانی انتخابات کے اس عالم میں جب حکمران جماعت بی جے پی کو اپنی پانچ سالہ کارکردہ گی کا خلاصہ کرنے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے اُٹھائے جارہے سوالات کا جواب دینا تھا، حکمران طرح طرح کے جملوں کی اُوٹ میں سوال کرنے والے اپنے مخالفین کے ما

صیام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟

تقریباً بیس بائیس سال پہلے جب ہمارے یہاں معاشی حالت بہتر ہونے لگی تھی اور عام لوگوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن کا چلن عام ہو اتھا، لوگ تعلیم یافتہ بھی ہونے لگے تھے، ٹی وی چینلز کی تعداد بھی بڑھنے لگی تھی۔ اب ہم لوگ کچھ کریں نہ کریں، عالمی خبروں اور تبصروں میں ضرور لگے رہتے تھے ۔ پھر ٹی وی چینلز کی باڑھ نے ہمیں ایک طرف جہاں اخلاقی طور پر بے کار کر دیا، دوسری طرف صحت بھی ناکارہ کر دی ۔اخلاقی طور پر ناکارہ ہونے اثرات آپ اور ہم معاشرے میں جا بجا دیکھ ہی رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کی ا شتہار بازیوں سے تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکا، منشیا ت وغیرہ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ دیدہ دلیری یہ کہ اس غلط کاری کے جواز میں کئی لوگ کہتے ہیںیہ حرام تھوڑے ہی ہے، زیادہ سے زیادہ مکروہ کہہ سکتے ہیں۔اس کٹ حجتی سے لوگ جابجا صحت کے مسائل سے جھوج رہئ ہیں ۔ اکثر مسجدوں میں کرسیوں کی تعداد بڑھنا اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ گھٹنے

یادوں کے جھروکے سے

  گزرے  دنوں  کی  یاد   برستی  گھٹا  لگے گزروں جو اس گلی سے تو ٹھنڈی ہوا لگے قتیلؔ شفائی مسلسل پانی کا قطرہ ٹپکنے سے تو پتھر میں بھی گڑھا بن جاتا ہے، گوشت وپوست کا انسان صدمات کی یلغار سے کیسے نہ ٹوٹے؟ بہرحال وقت گزرجاتا ہے کیونکہ وقت گزرنے کا ہی نام ہے اور عمر بھی گزر جاتی ہے کیونکہ عمر بھی گزرنے کا ہی عنوان ہے۔ خیر آگے بڑھتے ہیں۔ میں جب دسویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے اسلامیہ ہائی سکول راجویری کدل چ شہر خاص سری نگر میں ڈبیٹ سیکریٹری کے لئے چناؤ ہوا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ زمین کے اس خطے پر چناؤ وہی جیت لیتا ہے جو اس کے اہل نہیں ہوتا یا کسی کام کا ہوتا ہی نہیں۔ چنانچہ اس چناؤ میں بھی یہی ہوا، مجھے ووٹ زیادہ ملے اور میں جیت گیا اور ڈبیٹ سیکریٹری بنا۔ مجھے سکول والے اکثر صبح کی دعا (Prayer) کے بعد سٹیج پر بلاتے اور میں وہاں جمع طلب

کہیں مخمصے ہیں کہیں قہقہے

یہ  تو وہی بات ہوئی کہ روؤ ں میں دل کو یا جگر کو پیٹوں میںکہ اپنے ملک کشمیر میں پھول جیسی ننھی بیٹیاں بھی محفوظ نہیں کسی، کے ہاتھوں اٹھارہ ماہ کی ہبہ نثار جیسی دہشت گرد شکار بنی ۔کہیں آٹھ سال کی آصفہ ہتھے چڑھے اور اب تین سالہ ایمن پر حملہ ہوا۔ان ننھے پھولوں کو تو بس زبانی جمع خرچی اور کاغذی میزائل کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔بھلا ہو کیوں نہ یہ ننھی کلیاں تو ووٹر ہیں نہیں پھر ان کی فکر کاہے کو۔ووٹرہوتیں تو کل کو جتا دیتیں ۔اسمبلی پارلیمنٹ بھیج دیتیں ۔سیاست کے وارے نیارے کردیتیں اور وہ جو سخت قانون کی باتیں کرتے پھر رہے ہیں اب انہیں کون بتائے کہ سیاست کار صاحب یہ تو آپ کا کام تھا، وقت پر کیا کیوں نہیں ؟سمجھ نہیں آتا جب اپنے ہی بیگانے ہوئے تو کس پر بھروسہ کیا جائے؟ ابھی ابھی الیکشن ہوا تو اپنے سیاست کار نماز دعا میں مصروف ہیں کہ ائے کار ساز دو جہاں ہمارا دلی والا جہاں کسی

کشمیر ۔۔۔ حل صہیونی فارمولے میں مضمر نہیں

 تجزیہ کاروں میں کچھ ایسے بھی حلقے ہیں جن کا یہ ماننا ہے کہ کشمیر میں جن سیاسی مسائل کا بھارت کو سامنا ہے اُس کا بہترین حل یہی ہے کہ اسرائیل نے جیسے فلسطینی آبادی کو یہودیوں کی نو آباد کاری سے نرغے میں لے لیا ہے، ویسے ہی بھارتی افواج کے وہ فوجی جو ریٹائر ہو چکے ہیں،اُنہیں کشمیر کی سرحدوں پہ بسایا جائے جس سے مزاحمتی قوتوں کو نرغے میں لے کے اُن کی حوصلہ شکنی ہونے کے ساتھ ساتھ سرحد پار کی گھس پیٹھ پہ روک لگائی جا سکے۔ان تجاویز کو پیش کرنے والوں میںجہاں کئی دوسرے اہل نظر و صاحب فکر حضرات ہیں وہی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پہ اکثر و بیشتر دیکھائی دینے والے سبرامنیم سوامی بھی اِس نظریے کے زبردست پرچارک بنے ہوئے ہیں۔کشمیر کو اسرائیلی رنگ میں رنگنے کی جو کوشش سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم نوا افراد کر رہے ہیں وہ کچھ تو تاریخی حقائق سے نابلد ہونے کی وجہ سے ہے اور کچھ اغراض و

ریاست میں اُردو

یہ   ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا لیکن ابھی تک انگریزی زبان کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے مثلاََ ہیڈ ماسٹر ، فیس، فیل ، پاس وغیرہ۔ ’’گنتی‘‘ ابھی ’’کونٹنگ‘‘ میں تبدیل نہیں ہوئی تھی اور ’’پہاڑے‘‘ ابھی ’’ٹیبل‘‘ نہیں کہلائےتھے۔ 90 کی دہائی میں چھوٹے بچوں کو پڑھے لکھے گھروں میں ’’خُدا حافظ‘‘ کی جگہ ’’ٹاٹا‘‘ کہنا سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے ’’ٹاٹا‘‘ کہلوایا جاتا۔زمانہ آگے بڑھا تو مزاج اور تبدیل ہونے لگے۔ عیسائی مشنری سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی ۔ سالانہ امتخانات کے موقع پر کچھ پرائیویٹ ا سکولوں میں’’ پیپر ‘‘

مرعوبیت سے خود ناشناسی تک

راقم الحروف کے ایک دوست جو پیشہ سے ڈاکٹر ہیں چند سال قبل کسی اہم کام کے سلسلے میں بیرون ِملک ہو کر جب واپس لوٹے تو میںبھی ان کی خیر و خبر دریافت کرنے اور سفری حالات و کوائف سے آگاہی کے لئے بصد اشتیاق ان کے گھر گیا۔چنانچہ میں نے جب سفر کا حال و احوال پوچھا تو انہوں نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ اپنے سفر کا مدعا و مقصد بیان کیا اور سفر کی تفصیلات میں جانے کے بجائے راقم سے کہا کہ میں نے وہاں سے ایک ایسی چیز لائی ہے کہ جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے اس شئے کا نام بتائے بغیر جب یہ کہا کہ ’’ بلاشبہ میرے ہاتھ ایک ایسا انمول موتی آیا ہے کہ جسے اگر میں حاصل ِ زندگی کہوں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے‘‘تو راقم کے ساتھ ساتھ کمرے میں بیٹھے ڈاکٹر صاحب کے دیگر احباب و اقارب یہ جاننے کے لئے بے تاب ہوگئے کہ آخر کیا شئے ہو سکتی ہے کہ جسے ڈاکٹر صاحب متاعِ حیات سمجھتے ہیںتھوڑی ہی دیر کے بع

پانی نعمتِ لافانی

ہم  سب کو ہمارے بچپن میں ایک نرسری کی نظم یاد ہو گی اس کے چند میٹھے بول ہیں: مچھلی جل کی رانی ہے جیون جس کا پانی ہے ہاتھ لگاؤ تو ڈر جائے گی  باہر نکالو تو مر جائے گی پانی صرف مچھلی کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ زمین پر موجود ہر جاندار کی اہم ضرورت ہے۔زمین پر زندگی کی تسلسل کے لئے پانی اہم ہے۔ یہ سب انسانوں کی سب سے بنیادی ضرورت ہے (انسان، جانور، پودے اور دیگر مائکروجنزم)۔پانی زندگی کا منفرد ذریعہ اور لازمہ ہے، پانی کے بغیر ہم یہاں زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ہیں۔پانی کی غیر موجودگی کی وجہ سے دوسرے سیارے پر زندگی ممکن نہیں ہے۔اسے دیگر معروف آسمانی اداروں میں سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔زمین کا تقریبا تین چوتھا علاقہ پانی سے احاطہ کرتا ہے اور یہ تقریبا 60-70٪ زندہ دنیا کا حامل ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پانی زمین پر لامتناہی قابل تجدید ذریعہ ہے کیونکہ یہ بارش کے ذریعہ زمین

نیوزی لینڈ کے بعد سری لنکا

نیوزی لینڈ کے عیسائی دہشت گردانہ واقعے نے مسلمانوں کو عالمی سطح پر مظلوم بنایا تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے اس موقع جو تاریخی کردار ادا کیا تھا، اس نے اسلامی تہذیب کا حقیقی اور خو صورت چہرہ مغربی دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو عالمی کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان پر الزامات، اتہامات کے تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ مسلمان زمانے بھر کا تشدد بھی سہہ رہے تھے اور انہی کو ظالم اور دہشت گرد بھی بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ داعش جیسے سفاک گروہوں کو مسلمانوں کا نمائندہ اور علامت بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ داعش کا نام مسلمانوں جیسا تو ضرور ہے مگر اس کا شجرہ ٔ نسب مشکوک ہے۔ عرب دنیا میں اس گروہ نے اسلام کے نام پر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہا کر اپنے بارے میں شکوک کے سائے گہرے کیے ہیں۔ وقت ثابت کر چکا ہے کہ داعش امریکا اور اسرائیل کی ایجاد کردہ تنظیم تھی

محمد مارڈیوک پکتھال | پہلامسلم انگریز ترجمہ کار

دنیا میںکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دین اسلام کی سربلندی اور پھیلائو کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو کفر و شرک کی دنیا سے نکال کر ایمان واطمینان کی دولت عطا کر کے ایسا کام لیتا ہے جو ہمارے لیے ہر لحاظ سے قابل تقلید اور قابل رشک ہوتا ہے۔ ان ہی درخشاں ستاروں میں سے ایک نمایاں ستارہ برطانیہ کے مسیحی گھرانے کے چشم وچراغ محمد مارڈیوک پکتھال ہیں۔ محمد مارڈیوک پکتھال نے ایک ناول نگار، معلم، سیاح اور ایک مشہور ومعروف مترجم قرآن کی حیثیت سے نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ یورپی دنیا میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ محمد مارڈیوک پکتھال ۱۷؍ اپریل ۱۸۷۵ء میں لندن کے ایک عیسائی پادری ولیم پکتھال کے گھر میں پیدا ہوئے۔ محمد پکتھال بچپن سے ہی مذہبی رجحان کے حامل تھے، ان کی دو بہنیں بھی چرچ میں راہبات (Nuns)کی حیثیت سے مذہبی ذمہ داریوںپر فائز تھیں۔ انہوں نے تکمیل تعلیم کے بعد ۱۸۹۴ء میں ف

زندگی کی حقیقت | معبود حق کی عبادت

’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمہارا اور تم سے پہلے لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت سے ہو سکتی ہے۔‘‘ اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے، مگر اس دعوت سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے۔ لہٰذا قرآن کے سورۃ البقرہ میں پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کر دیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اُٹھا سکتے۔ اِس کے بعد تمام نوعِ انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے، جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے۔ یعنی ’’عبادت‘‘ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ ’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمہارا اور تم سے پہلے لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے۔&lsq

رمضان ہمدردی اور ایثار کا مہینہ

 رمضان ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس کا تقاضا ہے کہ معاشرے کے غریب اور سفید پوش طبقات کی جانب توجہ دی جائے، اپنے پڑوس اور محلے میں دو  وقت کے کھانے سے محروم فاقہ زدہ خاندانوں کو تلاش کرکے ان کی مدد کی جائےتاکہ ان کی سحری و افطاری بھی ہو سکے اور وہ نعمتیں جو مال دار طبقہ کو قدرت نے نصیب فرمائیں ،ان سے غرباء کا دسترخوان بھی سج سکے۔ حضور ﷺ  کا  ارشاد ہے کہ جو شخص بھوکے کو کھانا کھلاۓ یا ننگے کو کپڑا پہناۓ یا مسافر کو رات گزارنے کی جگہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی سختیوں سے محفوظ فرما دے گا۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا : اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے نہیں کھلایا تو وہ کہے گا کہ اے میرے رب! میں تجھے کیوں کر کھلاتا جب کہ تو سب لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے؟ اللہ کہے گا کہ تجھے خبر نہی

ایغورمسلمان

علامہ  اقبالؒ نے عرب کے ساتھ اور ہندوستان سے قبل چین کا ذکر کیا ۔ یہ محض ایک رعایتِ شعری بھی ہوسکتا ہے لیکن حال میں چین کے اندر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں چینی مسلمانوں نے یہ ثابت کردیا کہ وہ عربی و ہندی مسلمانوں سے زیادہ جری و دلیر ہیں۔ ہوا یہ کہ چین کے خود مختار علاقے نینگشیا کی مقامی حکومت نے جامع مسجد 'ویزہووکے انہدام کا فیصلہ کیا۔ یہ معاملہ بابری مسجد کی شہادت سے قدرے مختلف تھا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے وقت ایک پرتشدد ہجوم کو اکسایا جارہا تھا جسے ملائم سنگھ یادو ایک بار اس کے ناپاک منصوبے میں ناکام بنا چکے تھے ۔ صوبائی حکومت بظاہر اور مرکزی بباطن قانون شکن بلوائیوں کی حمایت کررہی تھی مگر عدالت عظمیٰ میں بابری مسجد کےتحفظ کا ڈھونگ بھی رچا رہی تھی۔ عدالت کاجھکاو بابری مسجد کے تحفظ میں تھا ۔ مسلمانوں نے آنکھ موند کر ان اداروں پر بھروسہ کیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے

سنکیانگ جبرو قہر کے نشانے پر!

  سنکیانگ میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں گاہ بگاہ بہت سارے اخبارات و جرائد میں شایع ہوتی رہتی ہیں لیکن ابھی تک مسلم ممالک کی طرف سے کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔حال میں ہی سنکیانگ میں مسلمانوں پر روزے اور پردے پر پابندی عائد کرنے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں ۔سنکیانگ میں اندر ہی اندر ایک بھیانک منظر چھپا ہوا ہے جس کی منظر کشی پر چین نے سخت قسم کی پابندی عائد کی ہے۔یہ بھیانک مناظر ایغور مسلمانوں کی مظلومیت سے عبارت ہے۔ائبوٹا سریک ایک مسلم قزاق نژاد چینی خاتون ہے جس کے والد کو پچھلے سال ماہ فروری 2018 میں پولیس نے زیر حراست لیا تھا لیکن تا ہنوز اس کا کوئی اَتہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہے؟ یا ماراجاچکا ہے ؟بی بی سی کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں اس خاتون نے بتایا کہ’’مجھے نہیں معلوم، میرے والد کو پولیس نے کیوںمحبوس کر کے رکھا ہے، نہ تو انہ

شیخ پاری محلہ کپواڑہ

 ہر  دور کی مرکزی حکومت گائوں دیہات کی ترقی پر زوردیتی چلی آ رہی ہے کیوں کہ تعمیر و ترقی کا اُجالا گاؤں دیہات تک پھیلائے بغیر ملک کی  ہمہ گیر ترقی کا خواب ادھورا رہنا طے ہے۔ سچ یہ ہے کہ اسی قابل تعریف خواب کی تعبیر میںپسماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پچھڑے گاؤں کو مختلف اسکیموں کئے دائر ے میں لانے کے adopt کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور مرکز ی اسکیم سانسد آدرش گرام یوجنا کے تحت موجودہ وزیر اعظم نے اپنے پارلیمانی حلقہ ورانسی کے ککھراہیا گائوں کو گود لیا تھااور’’اکنامکس ٹائمس‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جیا پو ر اور ناگ پور بھی گود لئے ہیں ۔ مذکورہ یوجنا کے تحت سیاسی لیڈران کئی ایک گائوںگود چکے ہیں لیکن ریاست جموں و کشمیر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ضلع کپواڑہ کی تحصیل کرالہ گنڈ سے ایک کلو میٹر کی مسافت پر واقع شیخ پاری محلہ کے نام س

ثانوی سطح پر اُردو زبان کی تدریس

اس  حقیقت سے مفر نہیں کہ ابتدائی اور ثانوی تعلیمی اداروں میں ہی طلبہ و طالبات کی اعلیٰ تعلیم کا اصل ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ان کی شخصیت ، سیرت اور مزاج کی تعمیرکا کام یہی سے شروع ہو تا ہے ۔ بچے کے اعضائے بدن اور حواس خمسہ پہلی مرتبہ شعوری طور پر اسی سطح پر حرکت میں آتے ہیں ۔اسی مرحلے میںان کا ذہن عملی طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور ذہنی وسعت شروع ہونے لگتی ہے اور ان کے مستقبل کاتاروپود شروع ہوتا ہے ۔ثانوی سطح پر زبان اُردو اگراس غرض سے پڑھائی جائے تاکہ طالب علم کا ذہن پختہ کار ہو جائے، تواس کے لئے صرف نظم ونثرکی تفہیم کافی نہیں بلکہ زبان و بیان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ عبارات واشعار کے محاسن کا بھی انہیں احساس دلانا ضروری ہوتا ہے ۔اگر اردو پڑھنے والے طالب علم میں زندگی گزارنے کے اصل مقصد کی معرفت پیدا کر نا مطلوب ہو تو وہ اسی مرحلے میں کیا جا سکتا ہے اورمذہبی معاملات ہوں یا سیاسیات،اقتصاد

مسلمانانِ ہند

’’ ہندوستانی  مسلمانوںکا صفایا کیسے کیا جائے ‘‘‘یہ ہفت روزہ’’ دلت وائس‘‘بنگلور۱۶۔۳۱مئی ۱۹۹۹  کے اداریے کا عنوان تھا جو اُس کے ایڈیٹر وی ٹی راج شیکھر(پیدائش ۱۹۳۲) نے ۲۰؍سال قبل لکھا  تھا ۔۱۹۸۱سے جاری دبے کچلے ہوئے محروم و مقہور ہندستانیوں کی طاقت ور آواز شمار کیا جانے والا یہ ہفت روزہ میگزین ۲۰۱۱ میں بند ہو چکا ہے اور اگرچہ وی ٹی راج شیکھر ابھی ماشا ء اللہ حیات ہیں ،لیکن ان کا کوئی نیا مضمون عرصہ ء دراز سےقارئین کی نظروں سے نہیں گزراہے ۔ ذیل میں مذکورہ اداریے کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں:’’مسلمانوں نے اندلس (موجودہ اسپین )میں ۷۱۲ عیسوی سے ۱۴۹۲ ء تک سات سو اسی برس حکمرانی کی ۔اس کے باوجود آج اسپین میں مسلمان نہیں ہیں ۔تاہم اسپینی زندگی کے ہر پہلو پر اسلام کی چھاپ صاف نظر آتی ہے ۔اسپینی زبان

ندی کے گھائو۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط2

اُردو اُردو ہی وہ واحد زبان ہے جس نے ہندوستانیوں میں بلا تفریق مذہب و ملت ایک سیاسی شعور پیدا کیا ،ا فرادو اجتماع کو بیدار کیا اور جدو جہد آزادی میں پیش رو کی حیثیت اختیار کرلی۔اسی زبان نے ہندوستانی قوم کو ترانہ ہندی دیا جو آج بھی سلوگن کے طور پر گلی کوچوں میں،جلسے جلوسوں میں ،کالجوں اور سکولوں میں گایا جاتا ہے اور ہرچھوٹی بڑی تقریب کا حصہ بنتا ہے ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ وہ لوگ اُردو زبان کے دوست یا چاہنے والے کیسے بن سکتے ہیں ،جنہوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ برعکس اس کے انگریزوں کے حلیف بن کر مجاہدین آزادی کی مخبری کرکے اُن کو پھانسیاں ،قیدیں اور جیلیںدلوائیں؟ اب ایسا بھی نہیں کہ اُردو زبان بڑی آزادی کے ساتھ آزادانہ فضائوں میں سانس لے رہی ہے ۔ساون میں جھولے جھولتی ہے اور ہر پینگ پر میر ؔو غالبؔ و ذوقؔ کے ساتھ ساتھ داغؔ و جگرؔ و فراقؔ کے شعر گنگناتی

کشمیر اور فلاحی ایکٹوازم

امدادِ غرباء کے نام پر اب ہمارے یہاں باقاعدہ انڈسٹری قائم ہوچکی ہے، اس کی ذیل میں ایک مافیابھی ہے، لیکن فی الحال اُسے رہنے دیجئے۔ایسا نہیں کہ بہت سارے فلاحی ادارے کوئی اچھا کام نہیں کررہے، لیکن دینی جوش اور انسانیت کا جذبہ رکھنے والے سینکڑوں نوجوان اور جواں سا ل کارکن جو کام کررہے ہیں اس کی سمت کا تعین آج تک نہیں کیا جاسکا۔ہر طرف ویلفیئر ٹرسٹ کے بورڈ آویزان دِکھتے ہیں، اور سڑک پر چلنے والی ہر بیسویں گاڑی کسی نہ کسی این جی او کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔غریبوں کی مدد کے نام پر باقاعدہ تحریک چل رہی ہے اور اس تحریک کے رہنما ہر سال اہل اقتدار کو بلا کر سالانہ محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں، صحافیوں کوعطیات سے نوازتے ہیں، اور تقریر کی لت کے ماروں کو سٹیج بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس ساری بھاگ دوڑ میں بعض محتاجوں کو ادویات اور کچھ نقدی بھی مل جاتی ہے، لیکن کیا صرف یہی کرنے کے لئے سینکڑوں ٹرسٹ اور انجمنیں

آغا حشر کاشمیری

آغا حشر  جہاں اپنے ڈراموں سے عوام کی تشنگی بجھانے کا کام کررہے تھے وہیںانھوں نے اصلاح معاشرہ میں بھی اہم کار ہائے نمایا ں انجام دیے۔ ماقبل میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ آغا حشر کے شروع کے ڈراموں کا حال وہی تھا جو اس دور کے ڈراموں کا تھامگر آغا کے یہاں تبدیلی روز بروز ترقی کے ساتھ ہوتی رہی۔ اس لیے بعد کے ڈرامے بدلتے انداز اور انفرادیت میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آغا حشر ڈرامے کو صرف تفریحی فن تصور نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ذریعے سماج کو بیدار رکھنا اور اس میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اس لیے بعد کے ڈراموں میں اصلاحی جذبہ زیادہ حاوی ہے۔ اس دور میں سیتا بن باس(1928ء)رستم و سہراب(1929ء)مزید اس کے بعد دھرمی بالک،بھارتی بالک،دل کی پیاس، فرض عالم، ٹاکیز میں شریں فرہاد، عورت کا پیار،چندن داس بھیشم کوحشر مکمل نہ کرسکے-ان کے ڈراموں میں کشمش کا عالم چھیارہتا ہے۔  ڈرامہحشر بلا کے مناظر