راہل کا ’’سنیاس‘‘

مودی   کی زیر قیادت بی جے پی‘ الیکشن2024ء کی تیاری شروع کرچکی ہے اور کانگریس ابھی تک ا ستعفوں‘ بیان بازی‘ تنقید اور الزام تراشیوں میں مصروف ہے۔ الیکشن 2019ء سے پہلے بھی ایسا ہی ہوا۔ دو الیکشن ہارنے کے باوجود اس سے سبق سیکھا نہیں گیا۔راہول گاندھی نے استعفیٰ دل برداشتہ ہوکر دیا یا بقول ذویا حسن (MINT) بی جے پی کو مخالف نہرو گاندھی پریوار پر حملوں سے روکنے کے لئے حکمت عملی اختیار کی۔ اس سوال کے جواب پر غور تقریباً سیاسی تجزیہ نگار اور پنڈت کررہے ہیں‘ مگر کانگریسی قائدین وقت ضائع کرتے ہوئے بی جے پی کو موقع فراہم کررہے ہیں کہ اس نے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا جو نعرہ لگایا‘ جو مہم شروع کی تھی‘ اسے حقیقت کا روپ دے سکے۔ کرناٹک کی صورت حال سامنے ہے۔ کانگریس ہائی کمان‘ راہول گاندھی کے بغیر ’’بغیر سر کے جسم&lsqu

اَماں کو کبھی سچ نہیں بتا سکا

میری والدہ کا پھر مجھے فون آیا ہے۔ فون کی بابت بتانے سے پہلے ضروری ہے کہ میں اپنی والدہ کا تعارف کروا دوں۔ میری والدہ کی عمر 84برس ہے۔ 60کی دہائی میں بہت کم ایسی خواتین تھیں جنہوں نے ڈبل ایم اے کیا۔ امی نے پہلے فارسی اور پھر اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ فارسی کی پروفیسر ہو گئیں۔ فلسفہ مولانا رومؒ، سعدی ؒکی حکایتیں، غالب کا فارسی کلام، اقبالؒ شناسی ہم نے ان سے سیکھی۔ حافظ شیرازیؔ، نظیریؔ، فردوسیؔ، مومنؔ، میر تقی میرؔ، سوداؔ اور ذوقؔ کے بارے میں بھی انہوں نے ہی بتایا۔ ہمیں بچپن میں اگر ڈانٹ پڑی تو کسی لفظ کے غلط تلفظ پر، شعر غلط کہنے پر یا لفظ کے غلط املا پر پڑی۔ میرے والد اور والدہ کی ملاقات اورینٹل کالج میں 1962ء میں ایم اے فارسی کے زمانے میں ہوئی۔ اس زمانے میں وٹس ایپ کی سہولت میسر نہ تھی، اس لئے خط لکھے جاتے تھے۔ میری والدہ نے میرے والد کے وہ خط بہت سنبھال کر رکھے اور شادی

نشہ بازی ! ہوشیار خبردار

حال  ہی میں ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق ہمارے یہاں منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود معتدبہ تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جب کہ قلیل التعداد اَن پڑھ بھی اس بیماری سے متاثر ہیں۔ نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و اینڈنیرو سائنس کے حوالے سے یہ حیران کن انکشاف بھی ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے ۔ دستیاب ا عدادوشمار سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا خاص نشانہ پڑھے لکھے نوجوان بنے ہوئے ہیں۔ اس خبر سے کسی بھی باضمیر اور حساس دل انسان کی نیند غائب ہوسکتی ہے ۔ لوگ یہ سوچ کر لازماً اُداس ہو نے چاہیے کہ آخر ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے؟ کون اسے اس زہر ناک ذلت کے دلدل میں دھکیل رہا ہے ؟ یہاں خیال ہی خیال میں ایک معصوم سی صورت میری نگاہوں کے سامنے رقصاں ہورہی

یادوں کے جھروکے سے منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

رضی اختر شوقؔ کی غزل کے چند اشعار سے یادوں کے حوالے سے اس قسط کی ابتدا کررہا ہوں    ؎ خوشبو ہیں تو  ہر دور کو مہکائیں گے ہم لوگ  مٹی ہیں تو پل بھر میں بکھر جائیں گے ہم لوگ  کیا ہم سے بچو گے کہ جدھر جائیں گے نظریں  اس آئینہ خانے میں جھلک جائیں گے ہم لوگ  کہنا ہے یہ ناقدریٔ ارباب ِ جہاں سے  اک بار جو بکھرے تو نہ ہاتھ آئیں گے ہم لوگ  بیٹھو کہ ابھی ہے یہ گھنی چھاؤں میسر  ڈھلتا ہوا سایا ہیں گزر جائیں گے ہم لوگ  ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان  کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ  آج میں دوستوں کو پھر نصف صدی پہلے کے اسی زمانے میں لئےچلتا ہوں جب میں اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا اور شعر لکھا کرتا تھا۔ اس سے پہلے کہ اپنی شاعری کے سفر کے کچھ تجربات بیان کروں اور ان تجربات کو اش

رشوت ہے اَمارت کی ضمانت میرے ہمدم

کرناٹک میں سیاسی ناٹک کھیلا گیا اور لوگ کہتے ہیں اس کا نردیشن خود شاہ پادشاہ نے کیا۔ادھر گوا میں پوری گائے دوہی گئی اور لوگ کہتے ہیں کہ گئو ماتا کے ساتھ کنول برادری کا پرانا یارانہ ہے بلکہ ٹانکا بھی بِڑا ہے ۔اس ناٹک کے کچھ سین ممبئی کے ہوٹل میں کھیلے گئے ۔سمجھو پورے بھارت ورش میں بس ایک ہی شور ہے کہ اس پارٹی کے ممبر دَل بدل کر سمندر کا سارا جل ایک گھونٹ میں پینے جا پہنچے۔یوں اس دل کی سرکار گری یا گرنے والی ہے۔پھر الزام تراشی ہے کہ اس نے خریدا ، یہ بکا۔اس نے اونچی بولی دی وہ اسی کی جھولی میں گرا ۔اسی لئے تو شاعر نے کیا خوب کہا   ؎ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں  گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں ممبران سر بہ سر اور اس خرید و فروخت کے موسم میں ہم یہ سوچتے رہے کہ اگر نیو زی لینڈ کے پانچ چھ کھلاڑی ٹیم بدل کر ٹیم انڈیا میں شامل ہوں تو کیا بھارتی ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں پروی

قطر میں امریکہ ۔طالبان مذاکرات

پچھلے  دنوں میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکراتی عمل میں تیزی آ گئی ہے۔ یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں۔دوحہ میں طالبان کا ایک سیاسی و سفارتی دفتر واقع ہے۔ اس دفتر نے پچھلے کئی سال سے امریکہ کے لئے طالبان کے ساتھ سفارتی رابطہ ممکن بنایا ہے۔قطر کے شاہی خاندان نے طالبان کے سیاسی دفتر کیلئے امکانات فراہم کر کے مذاکراتی عمل کیلئے زمین ہموار کی ہے۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ساتھ رابطہ قائم کر کے کئی عالمی طاقتیں افغان مسائل سے روشناس ہونے اور اپنے تحفظات کی رکھوالی کیلئے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف رہیں ہیں ۔ اِن عالمی طاقتوں میں امریکہ پیش پیش رہا ہے چونکہ امریکی فورسز افغانستان میں کئی دَہائیوں سے اپنے مملکتی تحفظات کیلئے مصروف عمل ہیں۔افغانستان میں امریکی افواج کے علاوہ امریکہ کے مغربی حلیفوں کی افواج بھی مختلف اوقات میں مختلف تعداد میں رہیں ہیں۔ اپنے

ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر

 ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ کشمیر گزشتہ دو دہائیوں سے بارہمولہ میں جہاں فکری اور علمی بنیادوں پر کام انجام دے رہا ہے وہی سماجی خدمات پر مبنی مختلف نوعیت کے کام بھی کر رہا ہے۔اس ہمہ جہتی کام میں ایک طرف تفہیمِ قرآن کلاسز، دروس قرآن، ورکشاپس، مختلف موضوعات پر لیکچرز، اعلٰی معیاری اسکول ’’عارفین اسکول آف ایکسلنس بارہمولہ‘‘کا قیام اورکشمیرمیںاپنی نوع کامنفرد تحقیقی ادارہ’ ’مرکز برائے تحقیق وپالیسی مطالعات ‘‘کا قیام شامل ہے۔ دوسری طرف قصبہ بارہمولہ کے قریب ۵۰۰ کمزور اور مستحق کنبوں کی ماہانہ اعانت، درجنوں غریب بچیوں کی شادی بیاہ کے اخراجات اور سینکڑوں ضرورت مند بیماروں کی ا مداد بھی شامل ہے۔یہ ہمہ جہت کام اللہ کے فضل  وکرم سے اور لوگوں کے تعاون سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ ادارہ روزاول سے ہی اس سلسلے میں کسی بھی سرکاری، نیم سرکاری یا غ

۔13؍جولائی ۔۔۔۔۔ چشم دید رُوداد

جامع   مسجد کے جلسہ میں شیخ صاحب ( ماسٹر محمد عبداﷲ) نے خوش الحانی سے تلاوت کی اور ترنم سے آغا حشر کاشمیری اور مولانا سالک کی نظمیں پڑھیں ۔ عجیب سماں پیدا ہوا۔ اس کے بعد دو ایک جلسوں نے کا یا پلٹ دی۔ جلسوں میں نعرے تو بلند ہوتے تھے مگر حاضرین کو یہ معلوم نہ تھا کہ جواب کیا دینا چاہیے۔ ایک صاحب جموں کے منشی محمد حسین تھے۔ ( جو بعد میں’’ ترجمانِ کشمیر ‘‘کے نام سے ہفتہ وار اخباربھی نکالتے تھے)، اُنہوں نے جلسہ کے دوران نعرۂ تکبیر کی آواز بلند کی۔ حاضرین نے بھی جو اباً نعرۂ تکبیر کہا۔ پھر رفتہ رفتہ لوگوں کو سمجھایا گیا کہ نعرہ ٔ کا مطلب کیا اور جواب کیا دینا چاہئے، پھر تکبیر اور نعرۂ حیدری کی گونج عا م ہوئی ۔ ان جلسوں میں جہاں توہین کرنے واالوں کی مذمت کی جاتی تھی، وہاں حقوق اور مطالبات کا تذکرہ بھی ہوتا تھااور اس طرح شہرو دیہات میں ایک ہلچل سی بپا ہوئ

اسلام کی تعبیر وتشریح کے لئے

 اُمت  مسلمہ دنیائے انسانیت کے لیے خیر وفلاح کی داعی ہے جو پوری نوع انسانی کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔اس کا نصب العین انسانیت کو کفر وشرک، گمراہی اور انسان کے بنائے ہوئے مذاہب ونظریات سے نکال کر راہ حق کی طرف دعوت دینا ہے اور دنیا کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آنا امت مسلمہ کا بنیادی فریضہ ہے۔ اس عظیم الشان فریضے کو انجام دینے کے لئے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کرنے کی بے حد تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو، و حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔ (النحل: ۱۲۵) ابن کثیر ؒنے اس آیت کی وضاحت یوں کی ہے: ای فیہ من الزواجر والوقائع بالناس ذکرہم بما لیحذروا بأس اللہ تعالی۔  (حافظ عمادالدین بن کشیر، تفسیر القرآن العظیم، دارالا

العالم ا لفقہ

محمد  بن ادریس امام الشافعیؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپؒ کا سلسلہ نسب بنو ہاشم سے ملتا ہے اور آپؒ کے جد اعلیٰ شافعی کے نام سے مشہورتھے جنہوں نے رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ پایا ۔ امام محمد الشافعی ؒکی ولادت ۱۵۰ھ میں غزہ میںہوئی۔ آپ ؒنے سات برس کی عمر میں قرآن مقدس حفظ کیا اور دس برس کی عمر مبارک میں امام مالک ؒ کی موطا یاد کی۔آپؒپندرہ سال کے ہوئے تو آپ ؒ کو اپنی والدہ ماجدہ نے تحصیل علم کے لئے مدینہ منورہ بھیجا جہاں آپؒ نے امام مالکؒکے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ امام مالکؒ اُس وقت مدینہ کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے تھے۔امام الشافعیؒ  توبچپن سے ہی ذہین وفطین اور بے شمار اوصاف کے مالک تھے، بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا اور  قلب وذہن میں اشعار کا سیل رواں امڈ آتا تھا ۔ روایت ہے کہ ایک دن آپؒ کعبہ شریف کے سائے میں تنہا بیٹھے تھے کہ ایک غیبی ند

اسلام اور جمہوریت

روئے   زمین پر جتنے نظام پائے جاتے ہیں وہ اپنے نصب العین اور دعاوی کے لحاظ سے مکمل ہوا کرتے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ اس نظام سلطنت کی بنیاد، کسی اصول طراز کی فکر پر قائم ہوتی ہے اور اسی فکر کے مطابق نظامِ سلطنت کی توسیع و تکمیل ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اکثر اصول طراز اور سیاست دانوں نے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر فوقیت دے کر اُسے ہی کل مان لینے پر اصرار کیا ہے؛ چوں کہ ایسے بے شمار سیاسی نظریے وجود میں آئے ہیں جن میں کبھی تو سیاسی عمل پر عقل انسانی کے اثرات کا پورے شدومد کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس، کہ سیاست و سیادت میں انسانی عقل کا کوئی حصہ نہیں؛ بلکہ یہ چیز بعض قوموں کا ذاتی ورثہ ہے جو ازل سے انھی کے لیے ہے اوراس باب میں انہی کی رہنمائی قابل قبول ہوتی ہے ، سیاست اور نظام کے باب میں یہی بنیادی نقطئہ نظر ہے جو کمیونزم،سوشلزم، ریشنلزم، کمرشیلائزیشن، سی

جنگلات کی بحالی کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت

گزشتہ کئی ہفتوں سے انسانی بستیوں میں جنگلی جانوروں کی دراندزی کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں، بلکہ رواں ہفتہ کے دوران وادی اور خطہ چناب میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جب ہر دم نایاب ہوتے ہوئے برفانی چیتوں اور انکے بچوں کو بستیوں کے اندر گھومتے ہوئے پایا گیاجبکہ کئی علاقوںمیں ان جانوروں کو لوگوں کے گھروں کے اندر سے برآمد کرکے محکمہ وائلڈ لائف کے سپر دکیا گیا،جنہوں نے بعد اذاں انہیں واپس اپنی آماجگاہوں میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح سرینگر ، گاندربل اور ٹنگمرگ کے متصل کچھ بستیوں میں بھی ریچھو ں کی گھس پیٹھ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑی علاقوں میںان وحوش کے لئے غذا کے وسائل محدود ہو جاتے ہیں اور وہ قریبی بستیوں کی طرف رُخ کرتے ہیں۔یہ صورتحال ماضی میں بھی پیش آتی رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس نہایت ہی تواتر کے جنگلی حیات کی

سب کا وشواس

۱۹۴۷ء میں متحدہ ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک حصہ کی بنیاد سیکولر ازم پر پڑی اور دوسرا حصہ مذہبی بنیادوں پر معرض وجود میں آ گیا ۔ بھارت نے گنگا جمنی تہذیب (سیکولر ازم) کا  راستہ اختیار کر لیا جس کے زیر سایہ اب اس وقت لگ بھگ بیس کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ملک کی سب سے بڑی مسلم اقلیت جی رہی ہے ۔اس کے مقابلے میں پاکستان میں محض ۴؍ فی صد غیر مسلم رہ بس رہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ نہ پاکستان میں ایک دن کے لئے عملاً اسلام بحیثیت نظام نافذ نہیں ہو ا اور نہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجودسیکولر ازم پر عامل ہوسکا ۔ بلاشبہ آئین وقانون کی رُو سے انڈیا میں ہر چھوٹی بڑی اقلیت کو اپنے مذہب پر قائم رہنے اور اپنے عقائد کی تبلیغ واشاعت کی آزاد ہے مگر عملاً یہ آئینی حق ہمیشہ  تا رتار کیا جاتارہا ہے۔ بایں ہمہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہاں ک

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

پرندوں پرندوں کا بادشاہ عقاب اپنی جسامت، طاقت، بھاری سر اور چونچ سے دیگر شکاری پرندوں سے مختلف ہوتا ہے۔اس کے پر بھلے ہی چھوٹے نظر آتے ہوں لیکن ان پروں کی لمبائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور چوڑے پر ہوتے ہیں۔ اس کی پرواز زیادہ سیدھی اور تیز ہوتی ہے۔ عقاب کی بعض نسلیں محض نصف کلو وزنی اور 16 انچ لمبی ہوتی ہیں جبکہ بعض اقسام ساڑھے چھ کلو سے زیادہ وزنی اور 39 انچ لمبی ہوتی ہیں۔لیکن دیگر شکاری پرندوں کی مانند اس کی چونچ مڑی ہوئی ہوتی ہے تاکہ شکار سے گوشت نوچنے میں آسانی ہو۔ ہتھیاروں سے لیس وجود: مزید یہ کہ اس کی ٹانگیں زیادہ مضبوط اور پنجے نوکیلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عقاب کی انتہائی تیز نگاہ اسے بہت فاصلے سے بھی شکار کو دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ عقابوں کے گھونسلے عموماً بڑے درختوں پر یا اونچی چٹانوں پر ہوتے ہیں۔ عموماً مادہ چوزہ نر سے بڑی ہوتی ہے۔ والدین چھوٹے بچے کو بچانے کی کوئی کوشش

تعلیم: بنیادی مقاصد کلیدی واہداف

تعلیمی   پالیسی کیسی ہونی چاہیے اوراس کے خدوخال کیسے ہونے چاہئیں، اس کا سبھی لوگ انتظار کررہے ہیں۔ اگرچندخاص تعلیمی اداروں کو چھوڑدیں تو فی الوقت ملک میں موجودہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔ بے روزگاری اندھے کنویں کی طرح منہ کھولے پھررہی ہے اور انگریزی تعلیم کے حصول کا یہ عالم ہے کہ لوگ انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے لیے ہر حدسے گزرنے کو تیارہیں۔ اگروہ آج کی صحیح صورت حال کوسمجھ لیں توشاید ان کے خیالات تبدیل ہوجائیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک کو ہنر کے فروغ کی بھی ضرورت ہے۔ آج تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے سرپرست کئی خانوں میں منقسم ہیں۔ پہلے ایک توخط افلاس سے نیچے کے کنبے کے بچے ہوتے تھے، جو دوچارکلاس تک پڑھے پھر کوئی ہنرسیکھ کر اپنے خاندان کی کفالت میں ہاتھ بٹانے لگے یا پھر اعلیٰ طبقے کے بچے جو ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بننے کی تگ ودو میں لگ جاتے تھے۔ متوسط طبقہ کے بچے

ہوگا نہ پردہ فاش

زمانہ سلف کی بات ہے ،کہتے ہیں یمنؔکی ملکہ صباؔ  جب حضرت سلیمانؔ علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئی تو تخت تک پہنچنے کے لئے اُسے فرش کے ایک ٹکڑے سے ہوکر جانا تھا جس کو بادشاہ نے ایک شفاف اور خوبصورت شیشے سے بنوایا تھا مگر دیکھنے والے کو وہ شیشہ نہیں لگتا تھا ،البتہ شفاف پانی اور پانی میں تیرتی ہوئی مچھلیاںہی دکھائی دیتی تھیں۔ملکہ بھی غش کھا گئی ،اُس نے سوچا کہ پانی میں سے ہوکر جانا ہے ،اس لئے پاجامہ یا تہبند جو بھی اُس وقت پہنا وا رہا ہوگا،بھیگ جائے گا ۔اس وجہ سے آبگینے یا پانی سے بھرے حوض کو پار کرنے کے لئے ملکہ نے اپنا پاجامہ یا پہناوا اوپر چڑھالیااور پیٹ کے پاس اُسے اُڑس لیا ۔پیٹ کے پاس نا ڑے میں پاجامے کو اُڑسنے کے عمل کو پایچہ بھاری کرنا کہتے ہیں۔اُس واقعے کو ایک بذلہ سنج شاعر نے اس طرح سے نظم کیا ہے     ؎ کرتے نہ بھاری پایچہ ہوتا نہ پردہ فاش  ناحق

سڑکوں پر مرگِ ناگہانی کیوں؟

شومیٔ  قسمت کہ کشمیر کے جو بھی مسائل ہیں وہ سبھی موت پر منتج ہوتے ہیں۔ سڑک حادثات بھی ایسا ہی ایک مسلہ ہے۔ سڑک حادثوں میں اموات کے کئی محرکات ہیں۔ ٹریفک پولیس کی راشی روایت، شاہراہوں پر ٹراما ہسپتال نہ ہونا، سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس پچیس سال سے بھی پرانی گاڑیوں کا پہاڑی راستوں پر موت کا رقص کرنا، نوجوانوں میں جوکھم بھرے بائیک سٹنٹ کرنے کی مہلک لت اور ہر منزل پر اپنی ہی گاڑی سے جانے کی نفسیاتی مجبوری۔  گزشتہ ہفتے کشتوار سے کیشون آرہی منی بس پہاڑی سے لڑھک گئی تو نوزائد بچہ، اُسکی ماں ، ڈرائیور اور تیرہ خواتین سمیت پینتیس افراد مارے گئے۔ اس سے قبل شوپیان میں مغل روڑپر نو لڑکیوں سمیت گیارہ طالب علم سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ پچھلے سال رام بن میں سڑک حادثہ ہوا تو دو درجن مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو یا این سی آر او نے چند ماہ قبل ایک سروے جاری کیا تھا

چاروزہ مسلم تعلیمی کانفرنس

آلا للہ  نے ان کے اس کام کو قبول فرمایا اور اس میں خوب برکت عطا فرمائی۔ خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کے نام اور ان کی درگاہ سے منسوب دنیوی تعلیمی ادارے وجود میں آنے کے بعد آج ان اداروں نے خود مختار حیثیت سے خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی (K.B.N) کی شکل اختیارکرلی ہے جس سے جنوبی ہی نہیں شمالی ہندوستان کے بھی ہزار ہا طلبا مستفیض ہو رہے ہیں۔ وفد نے درگاہ میں عقیدت و احترام کا نذرانہ بھی پیش کیا اور ان اداروں بطورِ خاص K.B.N یونیورسٹی کا معائنہ بھی کیا ادارے کے وائس چانسلر محترم پٹھان صاحب جو اس سے قبل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں، ان سے خصوصی ملاقات بھی ہوئی، یہاں آکر وقت کی تنگ دامنی کا احساس ضرور رہا۔ دریں اثناء اس شہر میں واقع غریب بچیوں کے یتیم خانہ ’’زہرہ اسکول‘‘ کی عمارت اور اساتذہ و انتظامیہ سے ملاقات نے بھی مسرور کیا، یہ

اقبال اور تہذیبِ مغرب

 اس   کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال مادی ترقی کے سرے سے مخالف ہیں ۔شیخ محمد اکرام ’’موج کوثر‘‘میں لکھتے ہیں:’’اقبال پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں کہتا ہے ؛اسلا م کی روح مادے کے قریب سے نہیں ڈرتی، قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔ ‘‘ عقلیت پرستی: اقبال کے نزدیک مغربی تہذیب کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس کی بنیاد عقلیت پرستی پر ہے یہ عجیب بات ہے کہ جدید ترین تمدن انسانی افعال و افکار کو عقل کے علاہ کسی اور کسوٹی پر پرکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی موزوں پیمانہ نہیں اس ناموزوں پیمانے سے حاصل شدہ نتائج ہمارے لیے حتمی درجہ نہیں رکھتے۔ اگرچہ مغرب کے سارے فلسفی عقل پرستی کا شکار ہیں لیکن اقبال اس کے مخالف ہیں    ؎ عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں 

خبر لیجے زباں بگڑی!

چند   دن قبل عبدالمتین منیری ؔنے بھارت کے ایک بڑے عالم مولانا ڈاکٹر عبیداللہ قاسمی، سابق استاذ دارالعلوم دیوبند، حال پروفیسر دہلی یونیورسٹی کا تبصرہ ہمارے کالم پر ارسال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو اتنے بڑے عالم کی ہماری ناپختہ اور کچی پکی تحریروں پر توجہ اور انہیں کسی تبصرے کے قابل سمجھنا ہی ہمارے لیے باعثِ شرف ہے، جس کا بے حدشکریہ۔ ہم نہ عالم نہ اُستاد، تاہم مؤدبانہ عرض ہے کہ ان کا پہلا اعتراض ہے ’’جاری و ساری‘‘ میں ’’ساری‘‘ کو غلط کہنا اور اس کا معنی سرایت کرنے والا قرار دینا بجائے خود غلط ہے۔ ایسا کہنا عربی زبان سے ناواقفیت کی دلیل ہے جہاں سے یہ لفظ آیا ہے۔ ساری کا معنی عربی میں وہی ہے جو جاری کا ہے۔‘‘ محترم! ہمارے مذکورہ کالم کو ایک بار پھر پڑھ لیجیے۔ ہمیں عربی دانی کا کوئی دعویٰ نہیں۔ دارالعلوم دیوبند کو صرف اند

تازہ ترین