! لندن کی کشمیر کانفرنس

5فروری  کو’’ یوم یکجہتی ٔ کشمیر ‘‘کی مناسبت سے پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں برطانوی پارلیمان میں ۴؍ فروری کو ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی ہے، جس میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور برطانوی ارکانِ پارلیمان کے علاوہ آرپار کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ لندن روانگی سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے حریت کانفرنس کے دو سینئر لیڈروں سیّد علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے اُنہیں کشمیریوں کی جدوجہدبرائے حق خود ارادیت کی بھرپور انداز میں سیاسی، سفارتی اوراخلاقی مدد دینے کے اپنے قومی مؤقف کا اعادہ کرنے کے علاوہ کشمیری عوام کے ساتھ دُکھ کی ان گھڑیوں میں یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ مر کزی حکومت نے شاہ محمود قریشی کی ان فون کالزپر کافی اعتراض کیا، اور اس موضوع پر اپنے پرائم ٹائم میں بات کا بتنگڑ بنانے والی

ہمارامقصدِ حیات

یہ  دنیا کیوں تخلیق کی گئی ہے؟ دنیا میں انسان کا ہمارامقصدکیا ہے؟ یہ سوال انسان اپنے آپ سے کرتا ہے یا نہیں مگر بہ حیثیت مسلمان ہمارے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ہماری دنیوی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ زندگی کا مقصد ہی ہے جو انسان کو جانوروں اور چوپایوں سے ممیز کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم سے نواز کر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جن لوگوں کی زندگی کا کو ئی مقصد نہیں ہوتا ان کی مثال  عقل سے عاری جانوروں کی سی ہے جن کی زندگی کا مطمح نظر صرف اور صرف چارہ پانی ہوتاہے، البتہ جن لوگوں کی زندگی کا کوئی متعین مقصد ہو،اُن کی مثال اس چرواہےکی سی ہے جو اپنےریوڑ کو خطرات سے محفوظ رکھتا ہےاور ان کی پل پل رہنمائی کرتا ہے۔بلاشبہ دنیا کے ہر کام کے پیچھے انسان کاکوئی نہ کوئی مقصد کار فرما ہوتا ہے، اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ سر گرم عمل رہتا ہے ۔اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے کہ’’کیا

چھوٹے چھوٹے کاموں سے بھی ا ﷲ خوش ہوتا ہے

احقر نے ابتدائی تعلیم جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے تحت چلنے والے اسکول ’’درس گاہ اسلامی‘‘ تارہ بل، شہر خاص سری نگر میں پائی ہے ۔ان اسکولوں کو 1975 میں شیخ محمد عبدﷲ سرکار نے بہ حیثیت وزیراعلیٰ بند کرایا۔ پابندی کی وجہ یہ بتائی جا رہی تھی کہ صرف جماعت اسلامی نے ہی اندرا ۔عبدﷲ ایکارڈ کی مخالفت کی اور پھر شیخ محمد عبد ﷲ اور مرزا محمد افضل بیگ کے خلاف اسمبلی الیکشن بھی لڑا۔شیخ محمد عبدﷲ کے خلاف حلقہ ٔ  گاندربل سے محمد اشرف صحرائی اور حلقۂ انتخاب سرنل اسلام آباد سے مرزا محمد افضل بیگ کے خلاف حکیم غلام نبی نے الیکشن لڑا۔اگر چہ ان کو الیکشن جیتنے کی کوئی اُمید نہیں تھی لیکن تاریخ کشمیر میں وہ یہ بات درج کرانا چاہتے تھے کہ شیخ محمد عبدﷲ وطن میں غیر متنازعہ شخصیت نہیں ہیں۔گاندربل کے انتخابی معرکے میں حریف نیشنل کانفرنس کے حامیوں نے ڈوڈہ جموں کے رُکن ِجماعت سعدﷲ صا

محمد مقبول بٹ مرحوم

کشمیر  کاز کے حوالے سے بعض دوستوں اور دشمنوں نے یہ ایک فرضی بیانیہ بنارکھا تھا کہ یہ تحریک پامردی اور عقل و خرد سے محروم رہی ہے اور یہ بھی کہ پڑھے لکھے لوگوں نے کبھی بھی بڑی تعداد میں اس میں حصہ نہ لیا ۔اگرچہ مابعد ۹۰ء کشمیری نوجوانوں نے اپنی بے پناہ قربانیوں اور جہد مسلسل کے بل پر اس غلط بیانیے کو ہر سطح پر جھٹلادیا جس کے ہم سب عینی گواہ ہیں مگر ستر کی دہائی میں بھی محمد مقبولؒ بٹ نام جیسے جیالے اور سرفروش کشمیری قائدنے اپنی سعی وکاوش کی بنیاد پر اہل کشمیر کے بارے میں ایسے مفروضوں کو عملاً جھوٹا ثابت کردیا تھا۔ خوش قسمتی سے راقم الحروف کو مقبولؒ بٹ کے کچھ قریبی ساتھیوں سے ملاقاتیں کرکے مرحوم کی پامردی،استقامت،تعلیمی استعداد،عقل و خرد اور سب سے بڑھ کر صاف و شفاف زندگی سے متعلق رُوداد سننے کا موقع ملا جنہیں افادہ ٔ عام کے لئے مختصراً سپرد قلم کر رہاہوں۔ محمدمقبولؒ بٹ کے ایک ساتھی ا

تماشوں کے آگے طمانچوں کاسرگم

شی۔ چپ ۔ خاموش۔ کسی سے کہنا نہیں ، یہ راز کی بات ہے کہ بھارت ورش کی کنول برادری نے جمہوریت کا نیا فنڈا نکالا ہے۔اس نے دلی دربار ہی نہیں بلکہ ملک کشمیر کے وائسرائے سے گٹھ جوڑ کرکے اپنے ملک کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کیا ہے اور اب اپنے یہاں جمہوریت اس قدر طاقت ور ہوگئی ہے کہ اتفاق اور انڈے میں جو طاقت ہے وہ اس کے سامنے ہیچ ہے۔ یقین نہ آئے تو ان کے بیانات سن لو جو یہ لوگ میزائلوں کی مانند داغ رہے ہیں بلکہ یہاں کی سیاسی پارٹیوں کے اندر باہر سرجیکل اسٹرائک کر رہے ہیں ۔ مودی شاہ  پرائیویٹ لمیٹڈ ایک طرف ، کنول برادری اینڈ کمپنی کی ریاستی اکائی دوسری طرف سینہ ٹھوک کے، پیر دبا کے اور بازو لہر اکے اعلان پہ اعلان کرتی جا رہی ہے کہ جمہوریت کی ٹانگوں میں کیلشم کے انجکشن انہوں نے بھروائے۔ اس کے بازئوں میں وٹامن ڈی کا بنڈیج انہوں نے  ہی لگوایا ، اس کی ہڈیوں میں جمہوری پلستر انہوں نے بندھو

تازہ ترین