دو مرحلے کی پولنگ کے بعد دیدی کی نیند اڑی:مودی

ایٹہ// اترپردیش میں ایس پی۔ بی ایس پی۔ آر ایل ڈی اتحاد کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ذاتی مفاد کے خاطر سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور بی ایس پی نے اتحاد کیا ہے لیکن 23 مئی ان کے اتحاد کا آخری دن ہوگا۔مسٹر مودی نے رام لیلا میدان میں منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوا کا رخ بتایا ہے کہ انتخابی لڑائی طے ہوچکی ہے ۔ دہلی میں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ کوئی لہر نظر نہیں آرہی ہے ۔اے سی کمروں میں بیٹھ کر عوام کے مزاج کو نہیں پہچاناجاسکتا ہے ۔ پہلے دو مرحلوں کی ووٹنگ کے بعد جو مودی کو گالی دیتے تھے اب ان کا چہرہ لٹک گیا ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ انتخاب ذاتی مفادات کے تحت ملک کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر بانٹنے والے اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے والوں کے درمیان ہورہا ہے ۔مودی نے کہا کہ ایس پی۔بی ایس کے جھنڈے الگ ہیں لیکن ان کی نیت ایک جیسی ہے ۔حکومتیں تبدیل ہ

کانگریس نے 50 برسوں میں ملک کے لئے کچھ نہیں کیا:گڈکری

اورنگ آباد// مرکزی وزیر برائے سڑک و نقل وحمل اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے سینئر لیڈر نتن گڈکری نے سنیچر کو کہا کہ جب سے بی جے پی کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے ترقی کے کئی پروگراموں کو انجام دیئے گئے ہیں جنہیں کانگریس ملک میں 50 برسوں کے اپنے دور اقتدار میں مکمل نہیں کرپائی تھی۔مسٹر گڈکری نے مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع ہیڈکوارٹر سے 60 کلومیٹر دور سنت ایکناتھ مہاراج شہر پیٹھان میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے (کانگریس نے ) اپنے دور اقتدار میں ملک میں ترقیاتی کوئی کام ہی نہیں کئے ۔ وہ جالنہ پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی۔شیوسینا ۔ریپلکن پارٹی آف انڈیا گٹھ بندھن کے امیدوار راؤ صاحب دانوے ، جو مسلسل پانچویں مرتبہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کی کوشش کررہے ہیں کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کرنے آئے تھے

پرینکا کی امیدواری ، وارانسی ملک کی نظریں اپنی جانب مبذول کراسکتا ہے

وارانسی// 2019 کے عام انتخابات میں وارانسی پورے ملک کی نظر اپنی جانب مرکوز کرسکتا ہے اگر کانگریس جنرل سکریٹری و مشرقی اترپردیش سے کانگریس کی انچارج پرینکا گاندھی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترتی ہیں۔پرینکا کے مود ی کے مقابلے میں وارانسی سے انتخابی میدان میں اترنے کی چہ میگوئیاں کافی تیز ہوگئیں ہیں۔یو پی قانون ساز کونسل کے رکن دیپک سنگھ نے سنیچر کو کہا کہ اگرچہ محترمہ گاندھی نے وزیر اعظم کے خلاف وارانسی سے انتخابی میدان میں اتارنے کا ذہن بنا لیا ہے لیکن اس کا حتمی فیصلہ کانگریس صدرراہل گاندھی اور یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کو کرنا ہے ۔انہوں نے کہا‘‘ پرینکا ایک ‘آئرن لیڈی’ ہیں اور کافی حد تک اپنی دادی اندرا گاندھی سے مماثلت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مودی کے خلاف انتخاب لڑنے اور ووٹروں کو یہ پیغام دینے کا ذہن بنا لیا ہے کہ تبدیلی کا وقت آگیا ہ

مودی نے سرکاری کمپنیوں کا حق چھینا، نجی شعبہ کو فائدہ پہنچایا :کانگریس

نئی دہلی//کانگریس نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی پانچ برس کی مدت کار کے دوران سرکاری شعبہ کی کمپنیوں کو نظرانداز کیا اور نجی شعبہ کی چنندہ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کیا ہے ۔کانگریس کے لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے سنیچر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس میں کہاکہ مسٹر مودی نے اپنی مدت کار کے دوران سرکاری کمپنیوں کا حق مارکر اپنے کچھ دوستوں کی کمپنیوں کو کام دیا اور ان کو مالا مال کیا لیکن پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو کنگالی کی دہلیز پر لاکر کھڑا کردیا۔ اس دوران جن اڈانی اور امبانی گروپ کی کمپنیوں کو الٹے سیدھے طریقہ سے سرکاری کمپنیوں کو ملنے والے ٹھیکے دے ئے گئے ، ان کے بدلے ان سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے کروڑوں روپے کا چندہ حاصل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس مدت میں مسٹر مودی تقریباََ 55ممالک کے دوروں میں اپنے چہیتے سرمایہ داروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے اور انہی

ملک کی عدلیہ پرخطرات منڈلا رہے ہیں: جسٹس رنجن گگوئی

نئی دہلی // سپریم کورٹ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے خلاف سپریم کورٹ کی ایک سابق ملازمہ کو جنسی طور ہراساں کرنے کے الزامات کی سماعت کے لئے ایک بینچ مقرر کیا۔چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ارون مشرا اور سنجیو کھنہ پر مشتمل عدالت عظمی کی ایک بنچ نے کہا کہ ایک دوسری بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ ادھر  چیف جسٹس نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی عدلیہ پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔عدالت عظمی نے اپنے طور پر بعض ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر غور کیا جن میں کہا گیا ہے کہ ایک عورت (سی جے آئی کے سابق اسسٹنٹ ) نے چیف جسٹس پرجنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ سپریم کورٹ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے اس معاملے ذکر کرنے پر اس معاملے پر غور کیا اور کہا کہ یہ ایک "سنگین اور زبردست عوامی اہمیت کا معاملہ" ہے ۔ بنچ نے بہر حال کوئی حکم جاری نہیں کیا اور میڈیا سے کہا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کے تح

تازہ ترین