تازہ ترین

تھنہ منڈی کے سبھی طبی مراکز میں طبی عملے کی قلت

تھنہ منڈی// میڈیکل زون تھنہ منڈی کے تمام طبی مراکز میں ڈاکٹروں کی 13میں سے 9اسامیاں خالی ہونے سے مریضوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی سطح پر علاج کی سہولت نہ مل پانے پرانہیںمجبوراً ضلع ہسپتال راجوری کارخ کرناپڑتاہے ۔اس میڈیکل زون میں 3 پرانی طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹرجبکہ 3 جدید طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹر ہیں ۔ان میں سے نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سنٹر لیراں والی بائولی میں ڈاکٹروں کے دو اسامیاں منظور ہیں جن میں ایک اسامی خالی پڑی ہے۔اسی طرح سے نئی طرز کے پرائمری ہیلتھ سنٹر ڈھوک میں ڈاکٹر کی ایک ہی اسامی منظور ہے جوکئی عرصہ سے خالی پڑی ہے ۔چونکہ یہ طبی مرکز قصبہ تھنہ منڈی سے 8 کلو میٹر دور پہاڑی پر واقع ہے جہاں کوئی میڈیکل آفیسر ڈیوٹی دینا پسند بھی نہیں کرتا۔وہیں پرائمری ہیلتھ سنٹرلاہ میں ڈاکٹروں کی دو اسامیاں ہیں جن میں 1خالی ہے جبکہ قومی صحت مشن کے تحت بھی ڈاکٹر کی ایک اسامی خالی ہے

مینڈھر کی متعدد سڑکیں بند ، بجلی اور پانی کی سپلائی بھی متاثر ،لوگ مشکلات کے بھنور میں

مینڈھر//گزشتہ دنوں کی طوفانی برف باری اور بارشوں کے دوران اسمبلی حلقہ مینڈھر کی کئی سڑکیں بند ہوگئیں جبکہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچا اور پانی کی سکیمیں بھی بند پڑی ہیں جس کے نتیجہ میں مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔مینڈھر کے مختلف علاقوں کے عوام نے شکایت کی کہ برفباری کو ہوئے کئی دن گزرگئے ہیں مگر انتظامیہ کی طرف سے بحالی کے اقدامات سست روی سے کئے جارہے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ سڑکوں پر پسیاں پڑی ہوئی ہیں جن کا ملبہ نہیں ہٹایاگیا اور انہیں میلوں کاسفر پیدل طے کرناپڑرہاہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی جگہوں پر ابھی بھی بجلی کی لائنیں ٹھیک نہیں کی گئیں جس کے باعث معمول زندگی درہم برہم ہیں اور طلباء کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ۔معروف مغل اورمحمد کفیل خان نے بتایاکہ پہاڑی علاقوں کے عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فوری طور پر اقداما

میر کی قیادت میں کانگریس کا کنونشن

سرنکوٹ //سرنکوٹ میں کانگریس کا یک روزہ کنونشن منعقد ہواجس کی صدارت پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے کی ۔ اس موقعہ پر شکیل خان ،مولہ رام اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے ۔کنونشن میں بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔اس موقعہ پر مقررین نے کارکنان پر زور دیاکہ وہ آئندہ چنائو کیلئے تیار ہوجائیں اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کریں ۔ یہاں جاری بیان کے مطابق ا س دوران نیشنل کانفرنس کے کئی کارکنان نے کانگریس میں شمولیت کااعلان کیا ۔اپنے خطاب میں غلام احمد میر نے کہاکہ علاقے کے عوامی مسائل کا حل کیاجائے گا اور ان کے جذبات و احساسات کی قدردانی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کو کامیاب بنانے کیلئے سخت کوششیں کی جائیں اور کانگریس پارٹی ہی ریاست کو ایک مستحکم و سیکولر حکومت فراہم کرسکتی ہے ۔ اس موقعہ پرسابق ممبراسمبلی سرنکوٹ چوہدری اکرم نے خطہ پیر پنچال کیلئے علیحدہ صوب

سڑک کی خراب حالت پر اڑگی کے لوگ برہم

راجوری//راجوری کے اڑگی ، دلہوڑی اور دیگر علاقوں کی عوام نے محکمہ تعمیرات عامہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کے علاقے کو جانے والی سڑک پر تارکول نہیں بچھایاگیاجس کے باعث اس کا حلیہ ہی بگڑ گیاہے ۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے اڑگی ، دلہوڑی ، سگوٹ اور گردونواح کے لوگوں نے بتایاکہ سڑک کی حالت انتہائی خراب ہے اور انہیں روزانہ مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔ان کاکہناہے کہ پہلے یہ روڈ محکمہ تعمیرات عامہ کے پاس تھی جسے چند برس قبل پی ایم جی ایس وائی کی نگرانی میں دیاگیاہے اور اس کی کشادگی کا منصوبہ بھی بنایاگیا۔مقامی شہریوں کلبیر کمار، سنجیت کمار، محمد شاکر وغیرہ نے بتایاکہ سڑک کی کشادگی کا کام بہت ہی سست روی سے آگے بڑھ رہاہے اور اس کشادگی سے سنگل لین روڈ ہی بہتر تھی جس پر کم از کم گاڑیاں تو اچھی طرح سے چلتی تھیں۔انہوں نے بتایاکہ اس سڑک پر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آمدورفت کرتے ہیں

مشن آل آئوٹ مستعدی سے جاری :وبودھ گپتا

راجوری//بھارتیہ جنتاپارٹی لیڈر وممبرقانون ساز کونسل وبودھ گپتا نے کہاہے کہ جنگجوئوں کے خلاف مشن آل آئوٹ مستعدی سے جاری ہے ۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق دھنون، کلر، اگراتی، سسلکوٹ، شاہپور ، ڈونگی علاقوں کے دورے کے دوران وبودھ گپتا نے کہا’’مشن آل آئوٹ پوری مستعدی سے جاری ہے اور بہادر ہندوستانی فوج دہشت گردی کی جڑیں ختم کردے گی جس نے دراندازی کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کو کشمیر میں کم کردیاہے ‘‘۔انہوں نے کہاکہ بات چیت اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ بات پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کے ذریعہ سمجھابھی دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا کے دور میں سرحدوںکو محفوظ بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں اور سرحدی علاقوں کے عوام حقیقی معنوں میں قوم کی اصل طاقت ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی پالیسی سرحدی علاقوں کے عوام کو بااختیار بنانے کی ہے

سرحدی آبادی کو جوڑنیوالا پل گرنے کی دہلیزپر

منجاکوٹ //منجاکوٹ سے دیری دہاڑہ، منگناڑ اور دیگر سرحدی علاقوں کو جوڑنے والا پل گرنے کی دہلیز پر ہے جس کی وجہ سے کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونماہوسکتاہے۔سرحدی علاقوں کی ایک بہت بڑی آبادی کا گزر اسی پل سے ہوتاہے اور سکولی بچے بھی یہیں سے گزر کر سکول آتے جاتے ہیں۔ تاہم اس کی حالت اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ یہ اِدھر اُدھر ہچکولے کھانا شروع ہوجاتاہے اور چونکہ اس کی اونچائی بھی کافی زیادہ ہے اس لئے اس سے گرنے کا خطرہ رہتاہے۔ایک طالب علم نے بتایاکہ اس کا روازنہ پل سے گزر ہوتاہے اور جب وہ ہلنے لگتاہے تو خوف طاری ہوجاتاہے۔ مقامی شہری محمد فاروق نے بتایاکہ یہ پل لگ بھگ بیس پچیس سال قبل تعمیر کیاگیاتھا جس کی حکام نے مرمت کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھا۔انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ رونما ہوجائے ، پل کی مرمت کی جائے ۔مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ فوری طور پر کام شروع کرکے اس کی مر

سرسید ایجوکیشن مشن کے زیر اہتمام تقریب

ْپونچھ// آئی پی ایس آفیسر بسنت رتھ نے کہاکہ نوجوان تعلیمی میدان میں اپنانام پیدا کریں لیکن وہی شعبہ اپنائیں جن میں ان کی دلچسپی ہو ۔ اپنے دورہ ٔ پونچھ کے دوران انہوں نے سرسید ایجوکیشن مشن کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کوتعلیمی میدان میں آگے بڑھناچاہئے تاہم انہیں اسی شعبے میں آگے بڑھناچاہئے جس میں ان کی دلچسپی ہو ۔ ان کاکہناتھاکہ اگر سبھی پڑھ لکھ کر آئی پی ایس ہی بنتے رہیں گے تو کھانا پکانے والا کون رہے گا۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ جس میدان میں ان کی دلچسپی ہے اسی میدان میں وہ آگے بڑھیں۔بسنت رتھ نے کہا کہ وہ پونچھ سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں وہ ایس ایس پی کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں اس لئے وہ یہاں کے نوجوانوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کس صلاحیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو راستہ دکھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ تعلیمی مید

مزید خبریں

احتجاج سے قبل صوبائی درجہ دیاجائے:پی ڈی پی لیڈر جاوید اقبال مینڈھر//پی ڈی پی لیڈر ایڈووکیٹ ندیم رفیق خان نے انتباہ دیاہے کہ اگر خطہ پیر پنچال کو صوبے کادرجہ نہیں ملاتو عوام سڑکوںپر نکل آئیں گے ۔ مینڈھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاستی گورنر کو سب سے پہلے خطہ پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ دینا چاہیے تھا کیونکہ اس خطے کا اس درجے کیلئے حق بنتاہے۔ان کا کہنا تھا کہ راجوری اور پونچھ اضلاع 19تحصیلوں پر مشتمل ہیںاور یہاں کی آبادی لداخ سے کئی گنا زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ لداخ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مانگ بھی کرتے ہیں کہ خطہ پیر پنچال کو بھی صوبے کادرجہ دیاجائے ۔ندیم نے کہاکہ راجوری پونچھ کے لوگوں نے تین بڑی جنگیں لڑی ہیں اور ہزاروں کنبے جنگوں کے دوران ہجرت کرنے پر مجبو ر ہوئے ۔ان کا کہنا تھا کہ ملی ٹینسی کے دوران بھی یہاںبڑے پیمانے پر