تازہ ترین

آگ کی الگ الگ وارداتوں میں تین رہائشی مکان خاکستر

 سرینگر/وادی کشمیر میں بدھ کو آگ لگنے کے الگ الگ واقعات میں تین رہائشی مکانات خاکستر ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نوہٹہ سرینگر میں دو مکان جبکہ شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ میں ایک مکان خاکستر ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق رنگہ حمام نوہٹہ میں منظور احمد بٹ کے مکان سے آگ نمودار ہوئی جس نے سلیم چالو کے مکان کو بھی زد میں لایا۔ ذرائع کے مطابق فایئر اینڈ ایمرجنسی سروس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا گیا تاہم آگ لگنے سے دونوں مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ٹنگمرگ میں دو بھائیوں، فاروق احمد ملک اور عبد الحمید ملک کا مشترکہ مکان آگ کی نذر ہوگیا۔یہ واقعہ ٹنگمرگ کے کامپورہ گائوں میں پیش آیا۔  

پاکستانی کشمیر میں کشمیری طالب علموں کو داخلے سے روکنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ:میرواعظ

 سرینگر/حریت کانفرنس (ع) کے چیئر مین میرواعظ عمر فاروق نے بدھ کو کہا کہ کشمیری طالب علموں کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے کالجوں میں داخلے سے روکنا   غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ ایک بیان میں میرواعظ نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ کشمیری طالب علموں کے تعلیمی کیریئر کے ساتھ سیاست کھیلنے سے اجتناب کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ''غیر دانشمندانہ حکمنامے'' کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ تعلیم کو سیاست زدہ بنانے کے مترادف ہے اور اس سے طالب علموں کے اس حق کی خلاف ورزی ہورہی ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ میرواعظ کا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے سے اُن طالب علموں کا کیریئر دائو پر لگ گیا ہے جو پہلے ہی پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں زیر تعلیم ہیں۔    

بڈگام کی خاتون سسرال والوں کے ہاتھوں قتل: احتجاج کے دوران رشتہ داروں کا الزام

سرینگر/بڈگام ضلع کے کرالہ پورہ کی خاتون، جو گذشتہ روز اطلاعات کے مطابق زہر کھانے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئی تھی، کے رشتہ داروں نے بدھ کو الزام عاید کیا کہ مذکورہ خاتون کو اُس کے سسرال والوں نے قتل کیا ہے۔ جاں بحق خاتون ،یاسمینہ اختر دختر محمد رمضان کمار ساکنہ کرالہ پورہ کے قریبی رشتہ داروں نے آج کرالہ پورہ کے مقام پرچرار شریف روڑ پر دھرنا دیتے ہوئے  انصاف کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل جاں بحق خاتون کی ایک قریبی رشتہ دار نے خبر رساں ایجنسی جی این ایس کو بتایا''یاسمینہ نے خود کشی نہیں کی،یہ ایک تیار کی گئی بے بنیادکہانی ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ یاسمینہ کو اُس کے سسرال والوں نے جان سے مار ڈالا۔'' یاسمینہ کے رشتہ داروں کے مطابق وہ چار ماہ سے حاملہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ یاسمنہ چرار شریف میں اپنے شوہر کے گھر میں 13اور14مئی کی درمیانی رات کے دوران مرگئ

عدالت عالیہ نے سمبل سانحہ کا نوٹس لیا، پولیس کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

سرینگر/ریاستی عدالت عالیہ نے بدھ کو سمبل سانحہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو اس ضمن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ریاستی چیف جسٹس، جسٹس گیتا متل اور جسٹس تاشی بان پر مشتمل ایک ڈویژن پینچ نے آئی جی کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ آنے والے جمعہ کو رپورٹ پیش کرے۔ ضلع بانڈی پورہ کے سمبل میں 8مئی کو ایک تین سالہ بچی کی مبینہ عصمت دری کا سانحہ پیش آیا جس کیخلاف وادی بھر میں شدید رد عمل سامنے آرہا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے کیس کی فاسٹ ٹریک تحقیقات کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔  

سمبل سانحہ کیخلاف ضلع بڈگام کے بعض حصوں میں ہڑتال

سرینگر/وسطی کشمیر کے بڈگام اور ماگام قصبہ جات میں بدھ کو سمبل سانحہ کیخلاف ہڑتال سے معمولات متاثر ہوئے ہیں ۔ سمبل میں8مئی کو ایک تین سالہ بچی کی مبینہ طور عصمت ریزی کا شرمناک واقعہ پیش آگیا جس کیخلاف وادی بھر میں صدائے احتجاج بلند ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بڈگام اور ماگام میں کاروباری سرگرمیاں معطل ،جبکہ تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دونوں قصبہ جات میں سڑکوں سے ٹریفک بھی غائب ہے۔ دونوں قصبوں میں حکام نے حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی ہے۔ اطلاعات میں یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ فورسز نے دونوں قصبوں کے اندر لوگوں کی نقل و حمل پر پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ حکام نے ضلع بڈگام میں انٹر نیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے۔  

سمبل سانحہ کیخلاف مظاہروں پر قابو پانے کیلئے کشمیر کے بیشتر تعلیمی ادارے بند

سرینگر/سمبل سانحہ کے ملزم کو موت کی سزا سنانے کے مطالبہ کے بیچ، حکام نے بدھ کو وادی کشمیر کے اکثر کالجوں اور ہایئرسیکنڈری سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ فیصلہ سمبل سانحہ کیخلاف زور دار احتجاجی لہر کو قابو کرنے کیلئے لیا گیا ہے جوگذشتہ کچھ روز سے جاری ہے۔ حکام نے سرینگر کے دو کالجوں ،بانڈی پورہ ، گاندربل ،بارہمولہ، سوپور، اننت ناگ، کپوارہ، بڈگام اضلاع میں قائم کالجوں اور ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولوں کو آج بند رکھنے کا فیصلہ لے لیا۔ واضح رہے کہ منگل کو سمبل سانحہ کیخلاف طالب علموں کے مظاہروں میں شدت آئی تھی یہاں تک کہ سرینگر کے دو کالجوں کے باہر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ حکام کا فیصلہ ضلع گاندربل میں ایک اور مبینہ عصمت دری کا واقعہ پیش آنے کے بعد لیا گیا تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جاسکے۔ طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ سمبل سانحہ کے ملزم کیخلاف قان