تازہ ترین

نامکمل تعمیراتی پروجیکٹوں کی مالی دشواریاں، مرکزسے استثنیٰ طلب کرینکا فیصلہ

سرینگر//ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت گورنر این این ووہرانے ریاستی منصوبہ بندی، ترقی و نگرانی محکمہ کو اُن تمام پروجیکٹوں کی جامع تفصیلات تیار کرنے کی ہدایات دی ہیں جو مالی دشواریوں کے سبب التواء میں پڑے ہیں اور جن کی لاگت میں اب اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ان پروجیکٹوں کو اگلے دو برس کے اندر مکمل کرنے کے لئے پروجیکٹوں سے متعلق مالی معاملات کی تفصیلات تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مختلف پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ چیف سیکرٹری نے پروجیکٹوں سے متعلق جائزہ لیا ہے اوروہ مرکزی حکومت کو یک وقتی مالی استثنیٰ کی گذارش کریں گے تا کہ اس طرح کے تمام پروجیکٹوں پر اب تک ہوا کام ضائع نہ ہو۔گورنر کے مشیر بی بی ویاس اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم اس میٹنگ میں موجود تھے۔گورنر نے کہا کہ اُن کے حالیہ مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران

۔35اے پر 60صفحات پر مشتمل رپورٹ

 بڈگام// نیشنل کانفرنس نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ سابق اتحادی جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان آج بھی ملی بھگت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے آج تک دفعہ 35 اے سے متعلق تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل نہیں کی گئی ہے اور 60صفحات پر مشتمل مذکورہ تفصیلی رپورٹ آج بھی سول سکریٹریٹ میں لاء سکریٹری کے میز پر ایک سال سے پڑی ہوئی ہے۔جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دفعہ 35 اے کے خاتمے کے لئے پی ڈی پی اور بی جے پی میں برابر اشتراک تھا اور پی ڈی پی زبانی جمع خرچ سے گمراہ کررہے تھے جبکہ عملی طور پر اس قانون کے دفاع کیلئے برائے نام اقدامات اُٹھائے جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس تفصیلی جواب کو سپریم کورٹ میں داخل کرتے لیکن ان کو کرسی پیاری تھی اور اس جماعت کے لیڈران بھاجپا کو ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

معاملہ35اے کا: مزاحمتی قیادت کی سر جوڑ کر مشارت

 سرینگر // مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ سماج کے سبھی طبقوں کو اعتماد میں لیکر لوگوں سے مشاورت کرے گی تاکہ  دفعہ 35A کا دفاع کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ قیادت  27اگست کو اگلی سماعت سے قبل وکلاء، تاجروں، ٹرانسپورٹروں، ڈاکٹروں، ہوٹل مالکان اور صنعت کاروں سے اس اہم معاملے میں انکا نکتہ نظر جاننے کی کوشش کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام میر واعظ اور ملک، حیدر پورہ میں گیلانی کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے دفعہ 35Aکا دفاع کرنے کے معاملے پر مشارت کی۔کئی گھنٹوں تک مشاورت کرنے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ سماج کے سبھی طبقوں کو اعتماد میں لیا جائیگا جس کے بعد ریاست کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش کا  مقابلہ کرنے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔میٹنگ

مطالبات کے حق میں اساتذہ پھر سڑکوں پر آگئے

 سرینگر //پولیس نے سروسکھشا ابھیان( ایس ایس اے) اساتذہ کے سیول سیکریٹریٹ گھیرائو کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک سو سے زیادہ مدرسین کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ایس ایس اے اساتذہ اپنے دیرنہ مطالبات کے حق میں ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی (ایجیک ) کے بینر تلے ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے اور پولیس نے جمعرات کو شیر کشمیر پارک میں جمع ہو ئے ایس ایس اے اساتذہ کے سکریٹریٹ مارچ کو ناکام بناتے ہوئے رنگین پانی کی بوچھار کی۔ پولیس نے قیوم وانی سمیت سو سے زائد اساتذ ہ کو حراست میں لیا ۔ ایس ایس اے، رمسا اور ہیڈ ٹیچرس نے7ویں پے کمیشن کی مانگ کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ اُن کی فراغ دلی کو کمزروری نہ سمجھا جائے ۔ ایس ایس اے  اساتذہ نے پروگرام کے مطابق شیر کشمیر پارک میں جمع ہو کر سکریٹریٹ گھیرائو کا پروگرام بنایا تھا،احتجاجی اساتذہ نے جیسے ہی پارک سے نکل کر سکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی ت

عوامی اتحاد پارٹی کا احتجاج

سرینگر //عوامی اتحاد پارٹی کے احتجاجی مارچ کو پولیس نے ناکام بنایا اور انجینئر رشید سمیت کارکنان کی گرفتاری عمل میں لائی۔عوامی اتحاد پارٹی نے جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ،طالب حسین کی گرفتاری اور دفعہ 370کے دفاع میں احتجاج کیا ۔احتجاجی ریلی میں موجود پارٹی ورکر ’جموں کے مسلمانوں کو تحفظ دو، طالب کی کردار کشی بند کرو ،اقوام متحدہ بیدار ہو،رائے شماری سب سے بہتر‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ انجینئر رشید کی قیادت میں نکالی گی ریلی میں موجود ورکروں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر بھی اٹھا رکھے تھے ۔جن پر مختلف اقسام کے نعرے درج تھے ۔احتجاجی ورکرجب شیر کشمیر پارک سے لالچوک پریس کالونی پرتاب پارک کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی موجود پولیس نے ریلی میں موجود کارکنان کوروک کر آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی ا،جس کے بعد پولیس نے انجینئر رشید سمیت متعدد کارکنان کی گرفتاری عمل میں لائی

رفیع آباد جھڑپ ختم،جاں بحق جنگجوئوںکی تعداد5

بارہمولہ// بارہمولہ کے ڈونی واری رفیع آباد جنگلات میں دور روز سے جاری جھڑپ میں ایک اور جنگجوجاں بحق ہوا ۔اس طرح جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے ۔ ڈونی واری کے وجی ٹاپ جنگلات میںبدھ کو 4جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔فوج کے مطابق پانچوں جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کر لی گئی ہیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے ۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ فوج نے ابھی تک کوئی بھی لاش پولیس کے سپرد نہیں کی ۔ جمعرات کو دوسرے روز بھی وجی ٹاپ کے گھنے جنگلات میں تلاشی کارروائی جاری رہی ۔اس دوران مزیدجنگجوئوں کو تلاش کرنے کیلئے ہیلی کاپٹروں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ۔ ادھر پولیس سربرہ ڈاکٹرایس پی وید نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ فوج  نے جمعرات کو ایک اور جنگجو کو ہلاک کیا۔  

ہتھیار لائسنسوں کی اجرائی

سرینگر//حکومت نے ہتھیاروں کی لائسنس کی اجرائی کے معاملے کی تحقیقات کے لئے دلی سپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ کے اختیارات ریاست جموں وکشمیر کو تفویض کئے ہیں۔ ریاستی محکمہ داخلہ کی جانب سے گزشتہ شام اس سلسلے میں باضابطہ طور ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں مختلف معاملات کی تحقیقات کو منظوری دی گئی ہے ۔  

بٹھنڈی جموں میں ہلاکت کاواقعہ

سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جموں رہائش گاہ پر ایک نوجوان کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت پر بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی پولیس سربراہ اور آئی جی جموں کو4 ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر مامور فورسز کی فائرنگ سے4اگست کو  ایک شہری لقمہ اجل بن گیا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ مرفد شاہ ساکن گلاتر مینڈھر پونچھ نے جموں کے بٹھنڈی علاقے میں سیکورٹی حصار کو توڑتے ہوئے اپنی کارایکس یو وی 100 زیر نمبر-0568 JK02BW فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے اندر گھسنے کی کوشش کی۔ تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے فائرنگ کی ،جس میں وہ ہلاک ہوگیا ۔آئی جی جموں زون ایس ڈی سنگھ جموال کا کہنا تھاکہ فاروق عبداللہ کے گھر میں مراد شاہ نے زبردستی گھسنے کی کوشش کی اور وہ وی آئی پی گیٹ سے زبردستی ایس یو وی سے جا رہا تھا۔ اس کے پ

رام مادھو ریاست میں پھر سرگرم

سرینگر//بھاجپا کے جنرل سیکریٹری اور کشمیر امور کے انچارج رام مادھو نے ایک بار پھر حکومت سازی کے حوالے سے مشاورتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔سرینگر میں انہوں نے سابق وزیر سجاد غنی لون کیساتھ بند کمرے میں کئی گھنٹوں تک میٹنگ کی،جس کے بعد رام مادھو پی ڈی پی کے باغی ممبران سے ملے ۔ذرائع کے مطابق رام مادھو بدھ کو سرینگر پہنچے،جس کے بعد انہوں نے سابق بھاجپا وزراء کے ساتھ2گھنٹوں تک چلنے والی میٹنگ کے دوران حکومت سازی سے متعلق مشاورت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ کیوندر سنگھ کی سرکاری رہائش گاہ واقع چرچ لین میں2 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں ریاستی صدر ست شرما،سابق وزیر سنیل شرما،ڈاکٹر نریندر سنگھ،بالی بھگت اور پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری(نظم) اشوک کول نے بھی شرکت کی۔معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں بھاجپا لیڈروں سے ریاست کی زمینی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ ح