تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

27 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی

کورونا وائرس سے فوتیدہ مسلمان

غسل، کفن، جنازہ اور تدفین کے مسائل اور انکا شرعی حل

سوال: کورونا وائرس کی اس خطرناک وبائی بیماری کے نتیجے میں جو طرح طرح مسائل ہمارے سامنے ہیں ان میں ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اس مرض کا شکار کوئی شخص اگر فوت ہوجائے تو اس کے غسل سے لیکر کر دفن کے مسائل کے متعلق شرعی احکام کیا ہونگے یاد رہے کشمیر میں اس طرح کا حادثہ پیش آچکا ہے کہ ایک دین دار مسلمان اس مرض کا شکار تھا اور وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اب اس سلسلے میں سوالات یہ ہیں:
۱۔ اگر اس مرض کا شکار فرد فوت ہو جائے تو اس کا غسل کیسے دیا جائے اگر ڈاکٹروں کی رائے میں غسل دینے کی کوئی شکل نہ ہو تو کیا تیمم کرا سکتے ہیں یا نہیں؟
۲۔ یہ کہ اس کو کس طرح کا کفن پہنایا جائے اگر طبی طور پر اس کو کسی پلاسٹک کے مضبوط کور میں لپیٹ دیا گیا ہو اور اس کور کے کھولنے کی اجازت بالکل نہ ہو تو کیا اس پلاسٹک کور کو کفن کا درجہ دیا جائے گا یا نہیں؟
۳۔ تیسرا مسئلہ نماز جنازہ کا ہے کہ اس کا جنازہ کب تک کس طرح اور کتنے فاصلے سے ادا کیا جائے اگر ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق میت کے نزدیک جانا بھی خطرے سے خالی نہ ہو تو کیا صورت ہوگی؟
۴۔ چوتھا مسئلہ اس کو دفن کرنے کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟
شوکت احمد فردوس آباد بٹہ مالو سرینگر
جواب:
کرونا وائرس کی اس وبا سے متاثر کوئی شخص جب فوت ہو جائے تو انشاء اللہ حدیث کے صراحت کے مطابق اس کا درجہ شہید کا ہوگا۔ بشرطیکہ وہ راضی بالقضاء اور اس مرض کا شکار ہونے کی وجہ سے اللہ کے فیصلے پر شکوہ کناں نہ ہو۔ اس کے فوت ہونے کے بعد جو مسائل زیر عمل آئیں گے ان کا جواب لکھنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ اصول ملحوظ رکھا جائے۔ کہ شریعت اسلامیہ ایسے تمام مسائل جن کے لئے ماہر ڈاکٹر حضرات اور دین دار اطباء کی رائے اہم ہوتی ہے ان مسائل میں شریعت ان کی رائے کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔ چنانچہ روزے کے مسائل میں مثلاً آنکھ، کان ،ناک میں دوائی ڈالنے کا مسئلہ کہ اس سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں اس کے لئے شریعت ماہر اطباء خاص طور پر تشریح الاعضاء (Anatomy) کے ماہرین کی رائے کو بنیاد بناتی ہے ۔ اس طرح سے انجکشن اور گلوکوز چڑھانے سے روزہ ٹوٹنے کا مسئلہ طب اور میڈیکل سائنس کو ملحوظ رکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سرجری کے بہت سارے مسائل نجس اشیا سے تیار کردہ دواؤں کے مسائل، خون اور اعضاء عطیہ دینے کے مسائل ،وینٹیلیٹر کے استعمال کے مسائل وغیرہ اسی طرح زیر بجث مسئلہ میں بھی اصولاً ڈاکٹر حضرات کی رائے کو بنیاد بنایا جائیگا اگر ان کی رائے یہ ہو کہ ایسے میت جو اس وبائی مرض کا شکار ہوکر فوت ہوا ہے اس کے جسم میں پائے جانے والے وائرس مرنے کے بعد  بھی دوسرے کو منتقل ہو سکتے ہیں۔ تو اس رائے کی بنیاد پر مسائل درج ذیل ہونگے:
پہلا مسئلہ: اگر ڈاکٹر حضرات ایسے میت کو غسل دینا غیر مضر قرار دیں تو پھر غسل دیا جائے گا۔ اور اگر وہ اس طرح کے تمام احتیاط جو جو ایسے مریض کے علاج و معالجے کے دوران وہ خود اختیار کرتے رہے اس احتیاط کو لازم قرار دیںتو غسل کرنے والے اس کا احتیاط کرنا لازم ہوگا۔اگر میت کے قریب جانے سے ضرر ہونے کا خدشہ ہو اور ڈاکٹر اس کی اجازت دیں کہ مناسب فاصلے سے اس پر پانی پھینکا جا سکتا ہے۔ تو پھر اس فاصلے سے احترام اور شفقت کے ساتھ میت پر پانی پھینکا جائے اور یہ اتنا پانی پھینکا جائے کہ میت کا جسم تر ہو جائے اور یقین ہو جائے کہ غسل میں جتنا پانی میت پر ڈالا جاتا ہے اتنا پانی میت پر گر چکا ہے۔ اس طرح سے غسل کا عمل مکمل ہوگا۔ اگر ڈاکٹر حضرات کی رائے یہ ہو کہ میت کو کچھ وقفے تک انتظار میں رکھنے اس سے اس کے وائرس ختم ہو جائیں گے تو پھر ایک محدود وقت تک انتظار کیا جاسکتا ہے اور اگر اس کو ایک خاص درجے کے گرم حرارت والے روم میں رکھنے سے وائرس ختم ہونے کی توقع ہو تو اس پر عمل کیا جائے اس طرح اس  وقفے کی مقدار ایک دن اور رات تک ہو جائے تو مضائقہ نہیں۔ کم سے کم ایک دن اور ایک رات گزرنے کے بعدغسل دیا جائے۔ اس پر سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس سے تو تدفین میں تاخیر ہوگی۔ جو کہ شرعاً غیر پسندیدہ ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین مبارک میں اتنا یا اس سے زیادہ وقفہ ثابت ہے۔ اگر ڈاکٹر حضرات یہ کہیں کہ تاخیر کرنے کے باوجود وائرس ختم نہیں ہونگے یا جس پلاسٹک کور میں مردے کو لپیٹا گیا ہے اس کو کھولنے کی ہرگز اجازت نہیں تو پھر اس میت کا تیمم کرایا جائے، تیمم کرانے والا شخص اپنے چہرے پر مخصوص غلاف،  ہاتھوں میں ڈاکٹروں کا تجویز کردہ گلاوز استعمال کر کے پھر مٹی سے تیمم کر ائے۔ اس سے انشاء اللہ وائرس مسح کرانے والے تک منتقل ہونے میں حفاظت ہوگی لیکن اگر ڈاکٹروں نے میت کا چہر ہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں دی تو پھراس پلاسٹک کور کے اوپر سے تیمم کرایا جائے اور اس تیمم میں اگر چہ یہ بات طے ہے کہ میت کے جسم کے ساتھ تیمم کرنے والے کا ہاتھ مس (Touch) نہیں کرے گا حالانکہ مسح اسی کا نام ہے مگر ایسی مجبوری کی صورتحال میں جبکہ یا تو بغیر غسل اور بغیر تیمم کے میت کو رکھنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں جنازہ بھی نہیں ہو سکے گا اس لئے آخری درجے میں اس کا حل یہ ہے کہ اس کے لئے خفین اور جبیرے کا مسح مقیس علیہ قرار پائے گا،اور اس طرح اس پلاسٹک یا پالیتھین کور پر کیا جانے والا مسح تیمم کا مطلوب مسح اگرچہ کامل نہ صحیح مگر مسح قرار پائے گا۔ اس کے بغیر اور کوئی صورت نہیں۔ اس طرح سے میت کا غسل اور تیمم کا مسئلہ حل ہوا۔ 
دوسرا مسئلہ :اس کے کفن پہنانے کا ہے اگر ڈاکٹر حضرات اس پلاسٹ  یا پالیتھین کور کو  کسی بھی صورت میں کھولنے کی اجازت نہ دیں تو پھر اس کور کو میت کے جسم کے ساتھ برقرار رکھ کر اس کے اوپر کفن کی چادر کا ایک لفافہ باندھا جائے جیسے عام میت کو قمیص اور ازار کے اوپر ایک چادر لپیٹی جائے اور یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کسی شہید کے جسم سے کپڑے نہیں نکالے جاتے اور اوپر سے صرف ایک بڑی چادر جو سر سے لیکر پاؤں تک ڈھانپ سکے لپیٹ دی جائے۔ اس طرح سے اس کے کفن کا مسئلہ ہوگا۔
تیسرا مسئلہ :اس کے جنازہ پڑھنے کا ہے جنازہ پڑھنا چونکہ فرض کفایہ ہے اس لئے میت کے اہل خانہ اور متعلقین لازماً اس کا جنازہ پڑھیں۔ اور اگر ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق میت سے فاصلہ رکھنا ضروری ہو تو اتنا دوری اپناناضروری ہوگا لیکن اگر ڈاکٹر حضرات جنازہ پڑھنے والوں کو ماسک، گلاوز یا اس طرح کے پالیتھین کے وہ لفافے جو پورے جسم کو ڈھانک سکے جنازہ پڑھنے والوں کے لئے لازم کریں تو اس کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی میت جنازے کے بغیر دفن کر دیا گیا تو اب اس کی قبر پر تین دن تک جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔
آخری مسئلہ :اس میت کے تدفین کا ہے اس سلسلہ میں شریعت اسلامیہ کا واضح اصول یہ ہے کہ میت کو صرف دفن کیا جائے اگرچہ سمندر کے اندر فوت ہونے والے مسلمان کو سمندر میں بھی ڈالنے کی اجازت ہے مگر وہ ہمارے خطے میں عملاً ممکن نہیں اس لئے سوائے مٹی میں دفن کرنے کے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں اگر اطباء شریعت کی مقرر کردہ قبر سے زیادہ گہرائی والی قبر بنانے کا اصرار کریں تو اس پر عمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس سلسلے میں آخری چیز یہ ہے کہ اگر کسی جگہ کی انتظامیہ میت وارثوں کے حوالے کرنے سے انکار کرے تو خود انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے میت کو اسلامی اصولوں اور آداب جو اوپر نقل کئے گئے کے مطابق اپنے مسلمان کارکنان اور مسلمان ڈاکٹروں کے زیر نگرانی تدفین کرائیں۔
نوٹ: درج بالا مسائل از قبیل نوازل ہیں اور نوازل کے متعلق صراحتاً حکم موجود نہیں ہوتا اس لئے غور خوض کر کے ہی کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ اور اس رائے میں غلطی کا بھی امکان ہوتا ہے اوپر نقل شدہ مسائل پوری دنیا میں ان ان جگہوں میں در پیش ہونگے جہاں مسلمان آباد ہیں اور خدانخواستہ کوئی اس وبا کا شکار ہو جائے۔ اس لئے عالمی سطح پر جب تک محقق علماء کی آراء ان مسائل  کے متعلق سامنے نہیں آئے گی اس وقت تک ان جوابات کوحتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر آئندہ کی تحقیقات اور مستند و معتبر محقق علماء کی رائے کے مطابق اوپر ذکر شدہ مسائل درست ہوئے تو الحمد للہ اور اگر ان میں کوئی سقم پایا گیا تو اس کو دور کرنا خود دین کا حکم ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ نئے مسائل سمجھنے اور بیان کرنے میں خطا سے حفاظت ہو۔ 
آمین۔
���
 
 

توحیداور تقدیر کے عقائد مسلمان کیلئے وجہ تسکین

بیماری میں طب و علاج کی تدابیر اختیار کرنا ضروری

سوال:آج کل وائرس کے پھیلائو کی بنا پر یقیناً پوری دنیا میں جو پریشانی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ اس بارے میں اسلام ہم سے کیا کہتا ہے ؟۔دین اسلام مکمل دین ہے اس میں ہر مسئلہ کا حل اور حکم موجود ہے۔براہ ِ کرم تفصیل سے اس بارے میں شرعی ہدایات ،تعلیمات اور احکامات بیان فرماویں۔
محمد خلیل لون۔گریز حال بانڈی پورہ کشمیر
جواب:اسلام جن بنیادی عقائد کو تسلیم کرتا ہے اُن میں عقیدہ ٔ توحید اور عقیدہ تقدیر بھی اہم اور انسان کی پوری زندگی پر گہرے اور محیط اثرات ڈالنے والے عقیدے ہیں۔ہر صاحبِ ایمان مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ موت و زندگی عطا کرنے والا اللہ ہے۔اُس کے فیصلے اور مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا ہے ۔دنیا میں جہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیت اور امر سے ہوتا ہے ۔کائنات میں ہر ہر چیز کی نقل و حرکت اللہ کے علم میں بھی ہے اور اُس کے حکم کے تابع بھی ہے۔جیسے موت و زندگی کا سارا نظام اللہ کے قبضہ و اختیار میں ہے، اسی طرح بیماری و صحت بھی اور مرض و شفا بھی اُس کی مرضی اور اُس کے حکم کے تابع فرمان ہے۔قرآن میں جگہ جگہ اللہ نے اپنی قدرت ،طاقت ،حکمت ،رحمت اور کائنات کے چلانے میں اپنی تدبیر کے محکم و مستحکم ہونے کو بیان کیا ہے ۔اس عقیدۂ توحید کا ثمرہ یہ ہے کہ ہر صاحب ِایمان اللہ کے ہر ہر فیصلے کو ہر وقت قبول کرنے کو بھی تیار رہتا ہےاور ہر فیصلہ کو اللہ کی مشیت سمجھ کر اُس کے آگے سر جھکادیتا ہے۔نہ دل میں اُس کے متعلق شکوے کے جذبات ابھرنے دیتا ہے اور نہ زبان پر حرفِ شکایت لاتا ہے۔عقیدۂ تقدیر کی بنا پر ہر صاحبِ ایمان کو یقین ہوتا ہے کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے ،وہ میرے مقدر میں لکھا ہوا ہے ۔جس وقت میری موت کا وقت لکھا ہوگا ،اُس وقت مجھے موت آئے گی ،چاہے بظاہر جسم ہر طرح کے امراض سے محفوظ ہو اور جب تک موت کا وقت نہ آئے اُس وقت تک میں ہرگز موت کا سامنا نہیں کروں گا ،چاہے کتنی ہی بیماریاں اور موت کے ظاہری اسباب کتنے ہی جمع کیوں نہ ہوجائیں۔قرآن کریم میں صاف و صریح طور پر موجود ہے کہ جب اُن انسانوں کی موت کا وقت آجائے تو ایک لمحہ آگے ہوگا نہ پیچھے۔اس لئےہر مومن کو جب یہ یقین ہوتا ہے کہ موت اپنے وقت پر ہی آئے گی تو وہ ہر مصیبت ،پریشانی اور بیماری کے متعلق یہ سوچتا ہے کہ اگر اِسی میںہی میری موت لکھی ہوگی تو وہ یقیناً آئے گی اور اُس کو روکنا کسی کے بس میں نہیںاور اگر اِس میں موت نہ آنا طے ہے تو پھر وہ اُسے نہیں آسکتی۔اس سوچ کے بعد وہ نہ پریشان ہوتا ہے اور نہ اضطراب میں مبتلا ہوتا ہے۔
غرض کہ عقیدۂ توحید اور عقیدۂ تقدیر ایک مسلمان کے یقین و اطمینان اور دل و دماغ کے لئے کامل وجہ تسکین ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان کو ہر ہر معاملے میں جو ضروری تدابیر ہیں اُن کو اختیار کرنا چاہئے اور اِس میں یہ بھی ہے کہ اگر بیمار ہوجائے تو علاج معالجے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنی چاہئے ،چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے اللہ کے بندو ! علاج و معالجہ کراتے رہنا ۔اس لئے کہ اللہ نے ہر بیماری کے لے کوئی نہ کوئی دوا پیدا کی ہے۔خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امرض میں علاج بھی کرائےاور احتیاطی تدابیر بھی اختیار فرمائی۔اس لئے جو تدابیر بطور احتیاط اختیار کرنے کی تجویز طب و علاج کے ماہرین بیان کریں اُن کو ضرور اختیار کیا جائے ،یہ خود اسلام کی تعلیم ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری صرف بیماری نہیں ہے بلکہ یقیناً یہ عذاب الٰہی ہے اور پھر عذاب کو عذاب نہ سمجھنا مرید مستحقِ عذاب بنانے والا طرز عمل ہے۔
سارا عالم اللہ کی نافرمانیوں سے بھر چکا ہے ۔جو اللہ کو نہ ماننے والے ہیںاُن کی زندگی جیسے عیش و عشرت تک بلکہ صرف فحاشی اور عیاشی تک محدود ہے ،وہی حال اُن لوگوں کا ہے جو اللہ کو ماننے والے ہیں ۔پوری دنیا ظلم ،استحصال ،زنا کاری ۔منافقت ،رجل و فریب ،غدر اور عہد و میثاق کی پامالی ،پوری قوم کو لوٹنے،برباد کرنے،امن و انصاف کے نام پر لاکھوں انسانوں کا قتل عالمگیر کرنے اور انفرادی و اجتماعی جرائم سے زمین کا بحرو بر لبریز ہوچکا ہے ،اس لئے اللہ کی طرف سے یہ عذاب آیا ہےاور اگر انسانوں میں سدھار نہ آیا اور انسان اللہ کی طاقت تسلیم کرنے اور جرائم سے توبہ کرنے پر تیار نہ ہوا تو یہ عذاب اور پھیلے گا اور ہزاروں لاکھوں نہیں کروڑوں کو بیمار کرنے کا ذریعہ بنے گا۔اس لئے ظاہری تدابیر کے ساتھ جب تک اصل مرض کا علاج نہ کیا جائے اُس وقت تک یہ عذاب نہیں ہٹے گا۔
لہٰذا اللہ کو ماننے والے بن جائیں اور اللہ کو ماننے والے اللہ کے فرمان بردار بن جائیں اور اُس کی نا فرمانی سے مکمل پرہیز کریں۔تقویٰ و طہارت والی زندگی اختیار کریں۔انفرادی و اجتماعی توبہ کریں ،الحاد ،فحاشی ،عیاشی ،ظلم و استحصال سے دور ی اختیار کریں اور نبیوں کی زندگی کو اپنا رول ماڈل بنائیں تو پھر اُس کے بعد جو ظاہری تدابیر ہیں وہ مفید ہونگی۔اسلام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم دیتا ہے اور اُس سے پہلے بنیادی خرابیوں جو اس عذاب کا اصل سبب ہے کہ اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ دنیا میں جو کچھ ہونا ہے اللہ کے امر اور مشیت سے ہوتا ہے ،موت کا وقت مقرر ہے ،وہ نہ ایک لمحہ پہلے آئے گی نہ بعد میں۔احتیاطی تدابیر ،حفظان ِ صحت کے اصول اپنانا ضروری ہے مگر اُس کے بعد بھی یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ اللہ کا فیصلہ اگر شفا اور حفاظت کا ہوگا تو تدابیر کارگر ہونگی اگر اللہ کا فیصلہ کسی کو موت دینے کا ہو تو تمام تدابیر ناکام ہونا طے ہے۔حفاظتی تدابیر میں مسجدوں کو بند کرنا ،نمازیں موقوف کرنا ،اور فرائض کو ترک کرنا ہرگز درست نہیں ہے ۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آگ بجھانے کے لئے یہ سوچ کر پٹرول ڈالا جائے کہ پانی کی طرح یہ بھی آگ کو بجھا دے گا ۔اللہ کی نافرمانی پر آنے والا عذاب مزید نا فرمانی کرنے سے کم نہ ہوگا بلکہ اور بڑھ جائے گا ۔اللہ کے غضب ناک ہونے کی واضح علامت ہے کہ اب انسان اللہ کو سجدہ کرنے اللہ کے گھر کا طواف کرنے سے محروم کردئے گئے۔ ���