تازہ ترین

کوروناوائرس:خوف کا دوسرانام

مرنے کا خوف نہایت اذیت ناک ہوتا ہے

26 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

حنیف ترین
ٓٓٓٓٓٓٓآدمی ایک حقیر ذرّہ ہے
دشت میں کائنات کی ہُو کا
جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے گلی سڑی ہوئی مٹی سے اپنی روح ڈال کربنایا،جس کو اس نے اپنی نیابت سے بھی نوازا ، اس نے دنیاوی تاریخ میںجہاں کچھ اچھے کام کیے وہیں اس نے کچھ ایسے کام بھی کیے ہیںجنہیں دیکھ کر شیطان بھی شرما جائے ۔غور کیجیے !پچھلے 300سالوں سے دنیا کے ممالک پر بطور ِ قوت حکمرانی کی۔ سائنس اور دنیا وی علم میںاِتنی زیادہ ترقی کی کہ وہ اب دوسرے سیّاروں میں بستیاں بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اِن شیطانی قوتوں نے ایسے جنگی سازو سامان بنائے کہ لاکھوں انسانوں کی جان چند منٹوں میں لی جاسکتی ہے۔ انھوں نے جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر پوری دنیا کو اس سے ڈرا رکھا ہے۔ایسی ایسی ایجادات کی ہیں جنھیں دیکھ کر عقل حیران اور پریشان ہو جاتی ہے۔
1915 میں برطانیہ کے ایک فوجی جنرل نے کہا تھاکے ہم آج اتنے طاقتور ہیں کہ اگر آسمان بھی ہم پر گرنے والا ہوتو اسے ہم اپنی سنگینوں سے اٹھا لیں گے مگر پھر کیا ہوا یہ دنیا جانتی ہے۔ دو جنگی ہزیمتوں نے انگریزوں (انگلینڈ) کو کس حال میں پہنچادیا، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ اتنی لمبی تمہید کے بعد میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ’کورونا وائرس‘ دنیا کے170 ملکوںمیں پھیل چکا ہے۔تقریباً دنیا میں 14 ہزار لوگ اب تک مر چکے ہیں۔آدمی کتنی ہی ترقی کر لے مگر وہ قدرت کے ہاتھوں اپنے کومجبور اوربے بس پاتا ہے جیسا کہ پچھلی تاریخوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ’کورونا وائرس‘ کا یہ مِنی ایٹم بم اتنا ڈراؤنا بن چکا ہے کہ آج ڈونالڈڈٹرمپ امریکیوں سے اور پوری دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ خدا سے دعا کرو کہ ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچا ئے۔ اس وباکی سنگینی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ 15تاریخ کو واشنگٹن ڈی سی میں اس عالمی وبا سے بچنے کے لیے ایک کانفرنفس کے بعد امریکی ماہرین نے خبردار کیا کہ امریکہ کے 65 فیصد آبادی اس بیماری سے متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے ادارے ’سینٹر فار ڈِسیز کنٹرول اینڈ پروینشن‘ نے انتباہ جاری کیا ہے کورونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں بھی حالات سنگین ترین حد تک پہنچ سکتے ہیں۔ایک کانفرنفس کی رپورٹ کے حوالے سے  امریکہ کے مشہور اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میںشائع ہوا ہے، جس میںامریکہ کے ماہرین وبائیات نے شرکت کی تھی، اس میں انھوںنے کہا کہ21 کروڑ 40 لاکھ لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔تاہم اگر اس سے متعلق فوری اقدامات کیے جائیں اور اسے روکنے کی پوری کوشش کی جائے تویہ تعداد کم ہو کر صرف 30 لاکھ لوگوں تک محدود کی جا سکتی ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان بھی پوری طرح اس کی زد میں آچکاہے۔ اب تک 8لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں اور 410سے زائد لوگوں اس مرض میں مبتلاہوچکے ہیں ۔ اس کا سب سے زیادہ اثرمہاراشرمیں دیکھاجارہاہے، جہاں پر بہت تیزی سے لوگ اس کی چپیٹ میں آرہے ہیں۔ مرکزی اورریاستی حکومتوں نے اس کے مقابلے کے لیے لوگوں سے گھروں میں رہنے کامشورہ دیاہے بلکہ دہلی سمیت کئی شہروں کو تو ’لاک ڈاؤن‘ بھی کردیاگیاہے۔گزشتہ روز وزیراعظم نریندرمودی کے ’جنتاکرفیو‘ کی اپیل پرپورے ملک نے ایک ساتھ کھڑے ہوکر اس جان لیوا بیماری سے مقابلہ کرنے کاپیغام دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ’کوروناوائرس‘ کے جراثیم ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اس کی علامت کھانسی، شدیدبخار اوربدن درد کے طور پر سامنے آتی ہے۔اس میں بچاؤ کے لیے سب سے اہم نسخہ یہ بتایاجاتاہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو صابن وغیرہ سے اچھی طرح صاف کیاجائے کیوں کہ اس بیماری میں جراثیم ہاتھوں کے ذریعہ بدن میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ 
’کورونا وائرس‘ دسمبر 2019میںجب چین کے ووہان میں پھیلناشروع ہوا اور وہاں بہت سے لوگ مرنے لگے تواس وقت امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں نے چین پر الزام لگایا کہ کوروناکے جرثوما ت حیاتیاتی ہتھیار بناتے وقت چین کے ووہان کی کسی لیب سے نکلا ہے، اسی لیے اسے ’19ـــــــــــــــــــــــــ کووِڈ ‘کہتے ہیں مگر ساڑھے 3مہینے بعد چین نے اب امریکہ پر یہ الزام لگایا ہے کہ یہ وائرس ان امریکی فوجیوں کی وجہ سے پھیلا ہے جو اگست میں ووہان میں مشترکہ فوجی مشق میں شامل ہونے آئے تھے۔ چین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ وائرس 2011 میں بنی ایک امریکی فلم کی طرح ہیںجس میں حیاتیاتی ہتھیار کے ذریعہ دشمنوںکے کروڑوں لوگوںکو مار دیا تھا اور یہ وائرس چمگادڑوں سے پھیلا دکھایا گیا تھا۔چینی کہتے ہیں کے اس طرح کے حیاتیاتی ہتھیار مغرب کی شیطانی طاقتوں کی حرکت ہو سکتی ہے کیوںکی پچھلے 300 سال کے دوراقتدار میںانہوں نے وہ ظلم و زیادتی غریب ملکوں کے ساتھ کی ہے کہ جس کو پڑھ کررونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ یہ وہ قوم ہے جنہوں نے Sylphlis Ganorrhea(سفلس گانوریہ) ہی نہیں بلکہ اور بہت سی بیماریوں کی دوائیںبنانے کے لیے افریقیوں اور بہت سی ایشیائی ملکوں پر ایکسپریمنٹ ہی نہیں کیے بلکہ یہ وہ قومیں ہیں جو دنیا میںفساد پھیلا کر دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔ دنیا کے خطرناک ترین نئے ہتھیاروں کے تجربات بھی ہمیشہ دوسرے غریب ملکوں میںکیے ہیں۔ امریکہ کے ذریعہ افغانستان میں کیا جانے والاMother of all bombsکا تجربہ دنیا کے سب سے خطرناک بم کا تجربہ ہے۔یہ تجربات اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ مغربی قوموںکے نزدیک انسان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔اپنے مقاصد کے لیے دوسری قوموں کے کتنے ہی انسانوں کو مار دینا پڑے،انھیںفرق نہیں پڑتا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ ان ہی طاقتوںکی وجہ سے لاکھوں لوگ عراق ،لیبیاافغانستان وغیرہ میں مر چکے ہیں۔آج شام میں تقریباً 5 لاکھ لوگ مرچکے ہیں اورلاکھوںبے گھر ہیں،ان معصوم اورنہتے لوگوںکی بربادیوں میں کس کا حصّہ ہے ؟ نئی وبا’کوروناوائرس ‘اسی طرح کی کسی شیطانی غلطی سے آج ہم پر قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔
’کوروناوائرس‘بہت ہی خطرناک بیماری ہے۔یہ قدرت کی جانب سے غیرفطری اورانسانیت سوز حرکتیں کرنے والوں کے لیے ایک الارم ہے ۔ اگر یہ اب بھی سوئے رہے اور ان کی  انسانیت نہیں جاگی تو یاد رکھیے کہ دنیا کی تباہی بہت قریب ہے۔ آج دنیاکے بیشترحکمراں ایسے جابروظالم ہوگئے ہیںجو قوم، رنگ ، نسل اورمذہب وغیرہ کوہتھیار بنا کر  اپنے ظلم وتشدد کے ذریعہ انھیںخوف میںمبتلاکیے ہوئے ہیں،بلکہ حد تویہ ہے کہ کئی ملکوں میں یہ اپنی ان ہی ناپاک سازشوں کے ذریعہ ان معصوموں کا خون بھی بہا رہے ہیں  گویا یہ اپنے غیرانسانی حرکتوں سے فطرت کو چیلنج کررہے ہوں۔دنیا ان ہی کی حرکتوں سے آج عذاب میںگرفتار ہوچکی ہے،مگر ان ظالموں کواب بھی ہوش نہیںآیا اوریہ اپنی شیطانی حرکتوں سے مگن ہیں۔تویادرکھیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ کہاں اورکیسے ان کے سروںکوپھوڑدے، اس کا اندازہ کرنامشکل ہے۔ ہماری دعاہے کہ اللہ پوری دنیا کو اس عذاب سے بچا لے اور ان شیطانوں میں انسانیت پیدا کر دے۔ آمین !
خوف میں ڈوبیں کیوں، جاگتی بستیاں  
ہے ’کورونا‘ کی دہشت کا ہر سو سماں
کیا ہے ناراض دنیا سے اللہ میاں
فلسفی ہو کوئی، یا کے سائنس داں 
کہ رہا تھا خدا کو جو بس ایک گماں
اب وہ محفوظ اس کی پناہوں میں ہے
جو نا دیکھا تھا اس نے نگاہوں میں ہے
 Hanif Tarin
   صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
9971730422
tarinhanif@gmail.com