شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔۔۔

افسانہ

22 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

استوتی اگروال
میں ہمیشہ اپنے والد کے ساتھ مندر جایا کرتی تھی جہاں میرے والد تقریباٌ تین سال سے کچھ غریب بچوں کو پڑھایا کرتے تھے اور ان سے پیسے نہیں لیتے تھے کیونکہ میرے والد کا ماننا تھا بس بچے میں شوق پیدا کر دو اس کے بعد وہ ترقی کر ہی لیتا اور ہمیشہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے ساتھ ساتھ ان بچوں کو ایک اچھی تعلیم (education)مل سکے جو اس کے ضرورت مند ہیں ۔اس وجہ سے پاپا ہمیشہ بچوں کو پڑھایا کرتے اور ساتھ ہی انہیں نئی نئی باتیں بتاتے ،کبھی کوئی ہندی رسالہ آتا تو وہاں لے جاتے کہ وہ بچے پڑھ سکیں اور یہی وجہ ہے کہ پہلے بچے اے بی سی ڈی بھی نہیں جانتے تھے اور آج وہ سب کچھ  پڑھ لکھ سکتے ہیں ۔جب بھی میں پاپا کے ساتھ جاتی تو مجھے ان بچوں کو دیکھنا  اوروہ کس طرح پڑھ رہے ہیں، یہ سب چیزیں غور سے دیکھنے میں بڑا لطف آتا تھا ۔میرا بھی یہی ماننا تھا کہ تعلیم آج کے دور کے لئے بہت زیادہ ضروری چیز بن چکی ہے ۔تعلیم ہی انسان کو انسان بناتی ہے۔ اگر لوگ تعلیم یافتہ نہ ہوں تو ترقی کا کوئی راستہ نہیں لیکن تعلیم صرف یہ نہیں ہے کہ ہمیں صرف کتابی باتیں معلوم ہوں ،بلکہ ہمیں ہر بات کا علم ہونا ضروری ہے اور صرف علم ہی نہیں ،بلکہ اسکے توسط سے ہماری تربیت ہونی چاہئے۔ بقول مشہور سائینس داں البرٹ آئینسٹین (ALBERT EINSTEIN) ۔۔۔۔۔۔۔
    "EDUCATION IS NOT THE LEARNING OF FACTS,BUT THE TRAINING OF MIND TO THINK".  
   میں اپنے پاپا کے اس کام سے بے حد متاثر تھی ،لیکن کبھی کبھی میری امّی پاپا سے خفا ہو جاتیں تھیں اور ان کا ماننا تھا کہ وہ ان بچوں پر اتنے پیسے کیوں خرچ کر رہے ہیں اور اس بات پر پاپا سے لڑائی بھی ہو جاتی تھی ۔وہ پاپا سے کہتیں کہ ان بچوں کو پڑھانے کا کوئی مطلب نہیں وہ ہمیشہ جاہل ہی رہیں گے اور مجھے اس بات پر بہت غصہ آتا کیونکہ اگر آپ اچھے کام نہیں کر سکتے تو آپ اچھے انسان بھی نہیں ہو سکتے ۔ کبھی کبھی امّی سے میری لڑائی ہو جاتی اور میں ان سے کہتی ۔۔۔۔۔
  ’’امی۔۔۔۔آپ ایسی باتیں بالکل مت کیا کرو ۔مجھے ایسی باتیں بالکل پسند نہیں ہیں ۔کیا ان بچوں کا کوئی مستقبلfuture نہیں ہے ؟ کیا ان بچوں کو پڑھنے کا حق نہیں ہے ؟ اگر آپ لوگ ہی ایسی باتیں کریں گے تو پھر دوسرے لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔۔۔۔بتائیے آپ ۔۔۔۔۔؟؟؟ اور میری ماں جیسے ہی میری باتیں سنتیں اپنی غلطی پر پچھتاتیں کیونکہ وہ بھی نہایت ہی نرم دل خاتون ہیں ۔وہ اوپر سے تو سخت نظر آتی ہیں لیکن بہت ہمدرد ہیں ۔کسی کی تکلیفیں ان سے دیکھی نہیں جا سکتیں۔ اب ممی بھی پاپا اور میرا supportکرنے لگیں تھیں اور کبھی کبھی کچھ پرانے کپڑے بھی دے دیا کرتیں تھی کہ ان بچوں کو دے دینا ۔
   میرے پاپا نے مجھے ایک کیمپ چلانے کو بھی کہا تھا جس کی وجہ سے ان بچوں کی بھی مدد ہو جائے اور لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہو ۔ میں نے بھی پاپا کی بات پر غور کیا اور کچھ وقت میں ہی اپنی سبھی سہلیوں کو اپنا contributionدینے کو کہا۔ سبھی لوگوں نے مدد کی ، جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ۔کبھی کسی کے گھر سے کپڑے لے آتی اور کبھی کوئی اپنی ایسی لکھی ہوئی کاپیاں دے دیتا جس کے کچھ صفحات خالی رہتے اور بچے ان صفحات پر لکھ لیا کرتے تھے ۔ دھیرے دھیرے وقت گزرتا گیا ۔میں بھی اپنی پڑھائی میں مشغول ہو گئی اور یہ سب کام کرنے کا ہوش ہی نہیں رہا، جس پر آج بھی مجھے پچھتاوا ہوتا ہے ۔
  اب میں بھی پاپا کے ساتھ بچوں کو پڑھانے جاتی تھی کیونکہ مجھے بھی بچوں کو پڑھانے میں مزہ آتا تھا ۔میں انہیں سکھاتے سکھاتے بھی بہت کچھ سیکھتی۔ آج جب میں گئی تو قریب میں واقع ایک کھیت کو گھومنے گئی۔ مجھے کھیتوں میں پر ننگے پائوں چلنا بے حد پسند تھا اور جب نرم ملائیم گھاس پر شبنم کے قطرے صبح صبح بکھرے نظر آتے اور جیسے ہی میں ان پر اپنے پیر رکھتی تو ایسا محسوس ہوتا جیسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں مجھے اپنی اور کھینچ رہی ہوں اور آسمان سے کوئی فرشتہ آکر مجھے ہوا کے دوش پر لے جا رہا ہو  ۔مجھے ایسے سبھی مناظر اور تاثرات کو اپنی ڈائری پر لکھنے کی عادت تھی اور بچوں سے گھنٹوں باتیں کرنا ،پیڑوں کے نیچے بیٹھے رہنا ،کوئل کی میٹھی سریلی آوازیں سننا میری عادت بن چکی تھیں ۔ مجھے اپنے جھوٹے سے گائوں میں رہ کر اتنی خوشی ملتی، جو میں بیان نہیں کر سکتی کیونکہ یہاں نہ ہی بڑے بڑے کارخانے ہیں جس کی وجہ سے پولیوشن ہے نہ ہی بڑی بڑی گاڑیاں جو ہر دم ہر طرف دھواں بکھیرتی رہتی ہیں۔ جب بھی بارش کے موسم میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو آتی تو میں ایک دم ترو تازہ ہو جاتی اور خوشی سے ناچنے لگتی ۔مجھے بارش میں بھیگنا بہت خوشگوار لگتا تھا ۔میں جب بھی چھوٹی سی غریب بستی میں جاتی مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سیکھانے کا بھی موقع ملتا کیونکہ کسی کا قول بھی ہے ۔۔۔۔۔
   ’’اچھی نصیحتیں جہاں سے بھی ملیں انہیں لے لینا چاہیئے ‘‘۔ 
  اور میں اِس قول پر عمل کرنے کی بھی پوری کوشش کرتی۔ان بچوں میں ایک لڑکی، جس کا نام بسنتی تھا، پڑھنے لکھے میں بہت کمزور تھی ،لیکن کوشش کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتی۔ پڑھنے کی بھی بہت زیادہ شوقین تھی۔ جہاں سے بھی کتابیں ملتیں انہیں پڑھ ڈالتی اوراگر اُس کے امتحان کم نمبر آتے تو دوبارہ کوشش کرتی ۔ایک بار وہ امتحان میں فیل ہو گئی اور اُس کے ماں باپ نے اُس کی پڑھائی چھڑوا دی اور اس سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
   ’’لڑکیوں کو پڑھانے لکھانے کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بس وہ تو چولہا چوکا ہی کر سکتی ہیں ۔اِس کے آگے اور کچھ نہیں ان کی تقدیر صرف روٹیاں سینکنا اور سسرال والوں کی خدمت کرنا ہے۔بیٹیاں صرف ایک بوجھ ہوتی ہیں جو صرف گھر کی چار دیواری میں ہی اچھی لگتی ہیں ‘‘۔
   بسنتی نے کہا ،’’ نہیں پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں پڑھنا چاہتی ہوں اور بڑے ہوکر IASفسر بھی بنوںگی ۔یہ میرا شوق ہے ‘‘۔ 
  لیکن اس کے پاپا نہیں مانے اور اس کا اسکول سے نام کٹوادیا ،لیکن جب مجھے پتہ چلا تو میںنے اسے پڑھایا اور پھر سے اس کا داخلہ کالج میں کرایا اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا جب وہ سوٹ پہنے گاڑی سے باہر نکلی اور سبھی لوگ اُسے سیلیوٹ کرنے لگے تواس کے والدین نے فخر سے سینا چوڑا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
   ’’بسنتی، ۔۔۔۔تو نے کمال کر دیا ۔تو ہم جیسے ماں باپ کے لیئے ایک مثال بن گئی ہے اور یہ ہمارے منہ پر طمانچہ ہے جو ہم جیسے لوگ لڑکیوں کو پڑھنے نہیں دیتے ۔ہمیں فخر ہے تجھ پر جو تو ہماری بیٹی ہے ‘‘۔بسنتی اب آئی اے ایس آفیسر بن گئی تھی۔
  میں بغل میں کھڑی یہ سب باتیں سُن رہی تھی اور میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے اور آخر میں میری زبان سے یہ جملہ نکلا کہ کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ‘‘۔ 
  PROUD TO BE A GIRL" "
���
سرونج ، مدھیہ پردیش،موبائل نمبر؛9575089694

تازہ ترین