تازہ ترین

بندشوں سےہُو کا عالم | پبلک ٹرانسپورٹ معطل،سڑکیں سنسان نظر آئیں

21 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(   عکاسی: حبیب نقاش    )

سٹی رپورٹر
سرینگر//کورنا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر جمعہ کوشہر سرینگر میں سخت ترین بندشیں عائد رہیں جس دوران شہر میں جابجا سڑکوں کو سیل کردیا گیا تھا اور پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا جس دوران پبلک ٹرانسپورٹ کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔شہر میں داخل ہونے والے راستوں کو صبح سے ہی سیل کردیا گیا تھا اور شہر کی طرف آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا۔شہر میںلوگوں کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی ۔کئی علاقوں میںصبح سے ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے اعلانات کئے گئے کہ لو گ گھروں میں رہیں۔شہر کے سول لائنز ،پائین شہر اور دیگر علاقوں میں پولیس اور فورسز نے سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تار نصب کی تھی اور گاڑیوں کو روکا جارہا تھا ۔شہر میں دن بھر بازار بندرہے اور سڑکیں بھی سنسان نظر آرہی تھیں۔ پائین شہر کے نوہٹہ چوک میں صبح سے ہی پولیس اور فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم لوگوں کو چلنے پھرنے سے نہیں روکا جارہا تھا ۔نالہ مار روڈ پر متعدد مقامات پر خار دار تار نصب کی گئی تھی اور یہاں سے گذرنے والی نجی گاڑیوں کو بھی روکا جارہا تھا ۔قمر واری میں پل کے قریب سڑک پر خار دار تار نصب کی گئی تھی جبکہ نور باغ ،عید گاہ اور صورہ میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔شہر میں دفعہ 144کے تحت عائد پابندیوں کی وجہ سے لوگ زیادہ تر گھروں میں ہی رہے ۔کئی مقامات پر تعینات پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی اور صرف لازمی سروسز اور ہسپتال جانے والی گاڑیوں کو ہی چھوڑا جارہا تھا ۔ شہرمیں عائد پابندیوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دفعہ 144 نہیں بلکہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے، سڑکوں پر خار دار تار بچھا دی گئی ہے، گلیوں کو بند کیا گیا ہے اور دیگر اضلاع کو شہر سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں کو سیل کیا گیا ہے، راہگیروں کو بھی روکا جارہا ہے بلکہ ان سے پوچھ تاچھ بھی کی جاتی ہے'۔ سول لائنز میں تاریخی لالچوک سمیت تمام بازار مکمل طور پر بند رہے اور لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لئے بڑی تعداد میں جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات دیکھے جاسکتے ہیں۔کئی مقامات پر پولیس اہلکاروں کو لائوڈ اسپیکر کے ذریعے شہریوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کی گذارش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔۔اس طرح کل پورے شہر میں ہو کا عالم رہا اور لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔