بویاپیڑ ببول کا ۔۔۔

آم کہاں سے آئے ؟

15 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرعبدالمجیدبھدرواہی
عامر اورسعیدہ کی شادی قریباً چھ ماہ قبل ہوئی تھی ۔ دونوں خوش وخرم تھے۔دن رات ہنسی خوشی گذرتے تھے۔کسی کوبھی انکے ایسے ماحول میں زندگی گذارنے پہ رشک آسکتاتھا جوبھی رشتہ دار ،یاردوست ،انکے ہاں آتے وہ ضرورکہتے۔ اللہ کرے! آپ دونوں کوکسی کی نظرنہ لگے۔
عامرایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جونیئر آفیسر تھا۔ سعیدہ پڑھی لکھی تھی مگر نہ اسکو اورنہ ہی عامرکو اسکی ملازمت کرنے میں کوئی دلچسپی تھی ۔
عامرکی پروموشن کئی مہینوں سے زیرغورتھی۔ اسکی فائل ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل بھیجی جاتی ۔کبھی اس میٹنگ میں توکبھی دوسری میٹنگ میں اسکے فیصلے کایقین دلایاجاتا۔
اس وجہ سے عامر کبھی کبھی بڑاپریشان ہوجاتا مگرسعیدہ اسکویہ کہہ کرتسلی دیتی کہ وہی ہوتاہے جومنظورخداہوتاہے ۔ہمارے پریشان ہونے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہرکام کااللہ نے ایک وقت مقررکررکھاہے۔
ایک روزصبح سویرے جب عامرکچھ سوداسلف لینے بازارنکلاتواس نے اپنے کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر مسٹرنگیش کوسیرسے واپس آتے دیکھا۔ دعاء سلام کے بعد عامرنے اسکواخلاقاً ایک کپ چائے انکے ساتھ پینے کوکہا۔
بڑے اصرار کے بعدوہ افسرمان گیا۔
چائے پینے کے بعداس نے چائے اورمہمان نوازی کی بڑی تعریف کی۔ جتنی دیروہ وہاں پررہا وہ باربارسعیدہ کوکنکھیوں سے دیکھتارہا۔مگرسعیدہ نے اس کاکوئی نوٹس نہ لیا۔
وہاں سے نکلنے سے پہلے اس افسرنے دوتین بارچائے کی تعریف کی۔چائے پینے کے دوران افسرنے سعیدہ سے کہا۔ عامرکی پروموشن اورالائونس کی فائل جودفتری طوالت کی وجہ سے اٹکی ہوئی ہے وہ آج یاکل Clear کردوں گا۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوگا۔اب سعیدہ اسکی نیت سمجھ گئی۔ وہ چاہتی تھی کہ اب یہ جتناجلدی ہوسکے یہاں سے نکل جائے۔
دفترمیں بھی ایک روزاس نے عامرکوکہا کہ بھئی! آپکی بیوی چائے بہت اچھی بناتی ہے۔ اس پرعامرنے بڑی سادگی سے کہاکہ جناب! جب بھی آپ سیرسے واپس آئیں۔ آ پ ضرورتشریف لاکرچائے پیاکیجئے ۔میری خوش قسمتی ہوگی۔
مہینہ میں یہ افسرضروردوچاربارکافی یاچائے پینے آجایاکرتاتھا۔
جب عامردودن کی چھٹی لیکرکہیں باہرگیاہواتھا۔یہ افسرصاحب سیرکے بعدکافی پینے کے بہانے اندرآیا۔یہ جانتے ہوئے کہ سعیدہ گھرمیں اکیلی ہے کیونکہ عامر کی چھٹی اسی افسرنے منظورکی تھی۔
خیر!اس نے چائے کافی لی۔
اسی دوران اس نے سعیدہ سے پہلے ناشائستہ کلام شروع کیااورپھردست درازی شروع کی۔
پہلے توسعیدہ نے صرف اتناہی کہاکہ یہ کیا؟ ۔آپ تومیرے والد کی عمرکے ہیں اورمیں آپ کواپنے والد کی جگہ سمجھتی ہوں۔
آپ فوراً باہر نکل جائیں۔ ورنہ میں شورمچاکرسارے محلے والوں اورفلیٹ والوں کواکٹھاکروں گی۔مگرافسرنے شایدسوچا کہ یہ بس یونہی کہہ رہی ہے،اس نے جب سعیدہ کواپنی بانہوں میں جکڑناچاہا توسعیدہ نے اسکا گریباں اور سارے کپڑے پھاڑڈالے۔اسکوبالوں سے پکڑکراِدھرسے اُدھراوراُدھرسے اِدھر پٹخ دیا۔ جب وہ نیچے گراتواس کاسرمیزکے کونے سے ٹکرایا۔اس کے سرسے خون جاری ہوا۔جتنی دیروہ خون صاف کررہاتھا اوراپنے آپ کوسنبھال رہاتھاسعیدہ نے موقع غنیمت جان کرمیزپرپڑی سیاہی کی بوتل کی ساری سیاہی اسکے منہ پرانڈیل دی۔اب اسکے کپڑے جوپہلے ہی پھٹے ہوئے تھے۔سیاہی سے اورزیادہ نمایاں ہوئے۔
چہرہ سیاہی کی وجہ سے بالکل ہی پہچانانہیں جاسکتاتھا۔
اب وہ باہرنکلے توکیسے؟۔
وہ سعیدہ کے پائوں پڑکرمعافی مانگ رہاتھا مگرسعیدہ نے ایک نہ مانی۔
قمیض کے دامن سے اپنامنہ قدرے صاف کیا۔پھرکسی طرح چھپتے چھپاتے باہرنکلا۔رکشاپکڑااوراپنے مکان کی طرف نکلا۔
اسی دوران رکشاوالے نے بھی اس کوپہچانا۔ گھرکے چپراسی اورفلیٹ کے کچھ لوگوں نے اس کواس حالت میں کسی کپڑے پھٹے ہوئے ،بال بکھرے ہوئے۔ اور چہرے پرسیاہی پتی ہوئی، دیکھا تو وہ سب حیران ہوگئے کہ یہ کیامعاملہ ہواہے اوریہ سب کس نے کیاہے؟ اتناتوسمجھ میں آیاکہ کچھ سنگین گڑبڑہوئی ہے۔
بات فلیٹ سے نکل کردفترپہنچی۔
ادھرعامربھی چھٹی سے واپس آیا۔گھرمیں سعیدہ کوبہت پریشان دیکھا ۔کرسی اِدھر۔میزاُدھر ۔سب کچھ بکھراپڑاتھا ۔پوچھنے پرسعیدہ نے پوری کہانی سنائی۔ اس نے آئودیکھانہ تائو سیدھے دفترگیا۔
ابھی یہ افسردفترنہیں آیاتھا۔عامراوراسکے دفترکے ساتھی کمپنی کے مین گیٹ پراس افسرکاانتظارکررہے تھے۔عامر نے پوری کہانی دفتروالوں کوسُنائی۔ جونہی افسرآیاتوعامرنے اس کاگریبان پکڑا۔ گالیوں کی بوچھاڑکردی۔باقی سارے ملازم بھی اس پرٹوٹ پڑے۔اسکی حالت خراب کردی۔ وہ اب وہاں سے بھاگنا چاہتا تھا مگرانہوں نے سارے راستے بندکردیئے تھے۔ لگتاتھاکہ یہ ابھی بے ہوش ہوکر گرپڑے گا۔
ان تمام ساتھیوں نے احتجاجاً اس کے Officeکومقفل کردیا۔ اب نہ وہ باہر نکل سکتاتھااورنہ کوئی اندر۔
دفترمیں ہنگامہ ہوا۔ آخرکاروہ معافی مانگتاہواوہاں سے کسی طرح بھاگ نکلا۔
ہیڈکوارٹرپرجب یہ خبرپہونچی توانہوں نے اس کوآناً فاناًمعطل کردیااورجبراً سبکدوش کرنے کی سفارش بھی کی اورفوراً ہی اسکی جگہ دوسراافسرتعینات کردیا۔ جس نے پوری انکوائری کے بعدالزام کوصحیح پایا اوریہ بھی پایاکہ یہ افسرجان بوجھ کرعامرکی فائل کوالتواء میں رکھتاتھا کیونکہ اس نے اسکی بیوی کی ایک جھلک دیکھی تھی اورتب سے ہی موقعے کی تاک میں تھااوراس کے ساتھ نارواسلوک کرتاتھا۔
برطرفی کے بعدفلیٹ بھی خالی کرناپڑا۔ کمپنی کی طرف سے جومراعات حاصل تھیں وہ بھی ختم ہوگئیں۔ نئے افسرنے عامرکی فائل کودوسرے تیسرے دن کلیئرکردیااوراس نے پایاکہ اسکے حقوق جان بوجھ کرروکے رکھے گئے تھے۔
عامرکوترقی دے کرپٹی جنرل منیجر بھی بنایااوراس کابونس، جورُکاپڑاتھا، بھی ریلیزکردیا ۔
کافی سال گذرگئے کیونکہ یہ توخودکہیں ملازمت کیلئے اپلائی نہیں کرسکتاتھا۔وہ پچھلی کمپنی سے نکلنے کی وجہ پوچھتے تھے ۔اسکواب زندگی گذارنے کے لالے پڑگئے۔
مجبوراًاسکی بیوی کوایک دفترمیں بڑی تگ ودو کے بعدجونیئر اسسٹنٹ کی نوکری مل گئی۔ وہاں بڑ ی مشکل سے تین چارمہینے گزارے۔
کہاں توافسرکی بیوی جواوروں پرحکم چلاتی تھی اورکہاں یہ خوداوروں کے حکم کی غلام۔بڑی تنگ پڑگئی تھی۔اورتواوراس کا افسراسکوبلاوجہ بارباربلاتاتھا ۔کبھی اس بہانے توکبھی اس بہانے۔
پھرایک دن اُس افسرنے فائل لیتے وقت اس کاہاتھ زورسے دبایا۔اس طرح اپنی محبت کااظہارکیاجس سے یہ اورزیادہ پریشان ہوگئی۔اس نے نوکری چھوڑدی کیونکہ وہ پہلے ہی اس نوکری سے ناخوش تھی۔
گھرپہنچ کر اس نے اپنے خاوندکویہ بات بہت بڑھاچڑھاکراس طرح بتائی کہ وہ افسردن میں بڑی دفعہ کمرے میں بلاتاہے ۔کبھی ادھرہاتھ لگاتاہے توکبھی اُدھر۔ کبھی پلوکھینچتاہے توکبھی ہاتھ مروڑتاہے ۔
اس نے کہا۔اب نہیں جائوں گی۔لعنت ایسی نوکری پر۔
میں دیکھ لوں گا اس ذلیل کو۔
یہ کہتے ہوئے نگیش سیدھے تھانے گیا۔ وہاں بیوی سے چھیڑکھانی کی رپورٹ درج کروائی ۔
باتوں باتوں میں تھانے کے منشی نے کہاکہ دیکھو! کیازمانہ آگیا ہے کوئی کسی کو ماں بہن نہیں سمجھتاہے۔کسی کی مجبوری کاناجائزفائدہ اُٹھاتے ہیں۔آج تک یہاں ایساکبھی نہیں ہواہے ۔ یہ وبا توشہروں میں عام ہے ۔یہاں تو ایسی حرکتوں کانام تک نہ تھا۔یہاں ہرکوئی ہرکسی کی ماں بہن بیٹی کواپنی ماں بہن بیٹی سمجھتاہے۔اب یہ بیماری یہاں بھی آپہنچی ہے۔
بہت پہلے سناتھا کہ فلاں کمپنی کے جنرل منیجرکو اپنے ملازم کی بیوی سے دست درازی اورچھیڑخانی کی شکایت پر نوکری سے برخاست کردیاگیاتھا۔
یہ سنناتھاکہ یہ دونوں میاں بیوی وہاں سے چپکے سے باہرنکلے۔
باہرنکلتے ہی بیوی نے خاوندسے کہاکہ اگرتم یہ ناجائزحرکت نہ کرتے آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اتنی ذلالت نہ اٹھانی پڑتی۔
وہ شکایت کوبھول گئے کیونکہ اسکو اپنی کرتوت یادآئی۔اب ہوش ٹھکانے لگے۔سچ کہاہے کسی نے   ؎  
سب کچھ لٹاکے ہوش میں آئے توکیاکیا؟
شکرکرو ہماری کوئی اولاد نہیں ہے ورنہ اسکوہرجگہ طعنے سننے کوملتے اوراس کاجینامحال ہوجاتا۔
’’دوسروں کی عزت کرو بالکل اسی طرح جس طرح تم اپنی عزت کرواناچاہتے ہیں‘‘۔سچ کہاہے بزرگوں نے۔
موبائل نمبر؛8825051001

تازہ ترین